اتوار، 19 جولائی، 2026

بارش کیسے برستی ہے؟ آبی چکر کی پیچیدہ سائنس اور کائناتی نظام

بارش کیسے برستی ہے؟ آبی چکر کی پیچیدہ سائنس اور کائناتی نظام
تحقیق و ترتیب:
طارق اقبال سوہدروی

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اربوں ٹن وزنی پانی بادلوں کی صورت میں ہمارے سروں پر کیسے تیرتا رہتا ہے اور وہ سارا پانی ایک ہی دم زمین پر کیوں نہیں گر جاتا؟ ہم عام طور پر بارش کو محض پانی کا بخارات بن کر اڑنا اور پھر برس جانا سمجھتے ہیں، لیکن جدید موسمیاتی سائنس (Meteorology) بتاتی ہے کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور کائناتی توازن پر مبنی نظام ہے جس پر زمین کی حیات کا انحصار ہے۔

اس عظیم الشان نظام کی شروعات سورج کی تپش سے ہوتی ہے، جو سمندروں کے کھارے پانی کو صاف بخارات میں تبدیل کرتی ہے۔ فضا میں بلند ہونے والے یہ بخارات عام حالات میں بادل بننے کے لیے عموماً ہوا میں موجود دھول، سمندری نمک کے ذرات اور دھوئیں کے خردبینی ذرّات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان باریک ذرات کو سائنسی زبان میں 'کلاؤڈ کنڈینسیشن نیوکلیائی' (Cloud Condensation Nuclei) کہا جاتا ہے، جو پانی کے قطروں کو جڑنے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

پانی کے بخارات ان ننھے ذرات کے گرد جمع ہو کر پانی کے انتہائی باریک قطرے بناتے ہیں۔ یہ ننھے قطرے بہت آہستہ نیچے کی طرف گرتے ہیں، جبکہ زمین کی سطح سے اوپر اٹھنے والی گرم ہوائیں (Updrafts) اور ہوا کی مزاحمت انہیں فضا میں معلق رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بھاری پانی بھی بادلوں کی شکل میں ہمارے سروں پر باآسانی تیرتا رہتا ہے۔

جوں جوں یہ بادل فضا میں مزید بلندی کی طرف دھکیلے جاتے ہیں، درجہ حرارت تیزی سے گرتا ہے۔ بلند بارشی بادلوں کے اوپری حصوں میں، جہاں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے، پانی کے یہ قطرے برفانی کرسٹلز میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ گہرے اور طوفانی بادلوں (Cumulonimbus) کے اندر شدید رگڑ سے برقی رو پیدا ہوتی ہے جو آسمانی بجلی کا سبب بنتی ہے۔ جب پانی کے یہ قطرے اور برف کے ذرات جڑ کر اتنے بھاری ہو جاتے ہیں کہ ہوائیں انہیں معلق نہ رکھ سکیں، تو یہ بارش یا ژالہ باری کی صورت میں برستے ہیں۔

قرآن مجید نے کائنات کے اس حیرت انگیز مظہر کو انتہائی فصیح انداز میں بیان کیا ہے تاکہ انسان اس نظام میں پوشیدہ حکمت پر غور کر سکے۔ سورۃ الروم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(سورۃ الروم: 48)

"اللہ ہی تو ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اسے آسمان میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے اس کے درمیان سے نکلتے ہیں، پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے انہیں برساتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔"

اس آیت میں بادلوں کے لیے 'کِسَفًا' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا لغوی مفہوم بادلوں کے ٹکڑوں، جُھنڈوں یا ان کی تہہ دار ساخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جدید موسمیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ بارش بادل کے اندر ہونے والے پیچیدہ طبعی عمل کے نتیجے میں بنتی ہے، اور قرآن کی یہ آیت ایک مومن کو اس حیرت انگیز نظام میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

حاصلِ کلام
قرآن انسان کو کائنات کے مظاہر میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، جبکہ جدید سائنس انہی مظاہر کو مشاہدے اور تجربے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ دونوں زاویے ایک مومن کے لیے علم اور تدبر کے سفر کو مزید گہرا بنا سکتے ہیں۔

ہفتہ، 20 جون، 2026

*یومِ والد (Father's Day): عظمتِ پدر اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار

*یومِ والد (Father's Day): عظمتِ پدر اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار*
از: الطاف احمد آمبوری
9952391661
​والد ایک ایسا گھنا اور سایہ دار درخت ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے لیکن اپنے بچوں کو ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ وہ خاندان کا وہ ستون ہے جس پر پورے گھرانے کا سکون، تحفظ اور وقار قائم ہوتا ہے۔ ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو دنیا بھر میں "یومِ والد" منایا جاتا ہے تاکہ اس عظیم ہستی کی قربانیوں، محبت اور محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ والد کی عظمت کسی ایک مخصوص دن کی محتاج نہیں ہے۔
​​اسلام دینِ فطرت ہے، جس نے رشتوں کے حقوق اور ان کے احترام کو ایمان کا حصہ بنایا ہے۔ جہاں قرآن و حدیث میں ماں کے قدموں تلے جنت بتائی گئی ہے، وہاں والد کو "جنت کا دروازہ" قرار دیا گیا ہے۔
​جنت کا بہترین دروازہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
​"والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے بہترین دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ (اس کی نافرمانی کر کے) اس دروازے کو ضائع کر دو یا (اس کی فرمانبرداری کر کے) اسے محفوظ رکھو۔" (جامع ترمذی)
​اللہ کی رضا والد کی رضا میں: ایک اور جگہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ:
​"اللہ کی رضا والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔" (ترمذی)
​قرآنِ کریم کی تاکید: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے:
​"اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔" (سورہ بنی اسرائیل: 23)
حتیٰ کہ والدین کو اف تک کہنے سے روکا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ والد کا احترام اور اس کی خدمت ہر حال میں لازم ہے۔
​ایک باپ اپنی اولاد کی تربیت، تعلیم اور حلال رزق کمانے کے لیے دن رات سخت محنت کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کے خوابوں کو پورا کرتا ہے۔ اسلام باپ کے اسی مخلصانہ کردار کو سراہتا ہے اور اولاد کو اس کا فرمانبردار بننے کی تاکید کرتا ہے۔

​مغربی تہذیب میں سال کا ایک دن کسی رشتے کے نام کر دینا شاید ان کے معاشرتی ڈھانچے کے لحاظ سے مناسب ہو، جہاں بچے جوان ہوتے ہی والدین سے الگ ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہماری اسلامی اور مشرقی اقدار میں ہر دن ہی یومِ والد ہے۔
​ ایک سچے مسلمان اور اچھے انسان کے لیے صبح کا آغاز والد کے چہرے کی زیارت اور ان کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔ ہم کسی ایک دن تحفہ دے کر یا سوشل میڈیا پر تصویر لگا کر والد کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
​والد کی خدمت، ان سے محبت کا اظہار، ان کی نصیحتوں پر عمل اور ان کے آرام کا خیال رکھنا ہماری روزمرہ کی زندگی کا معمول ہونا چاہیے۔ سال کے 365 دن ہی باپ کی شفقت کے سائے کو غنیمت جاننا اور ان کا شکر گزار ہونا اصل محبت ہے۔

​اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ صرف زندگی تک ہی والد کے حقوق تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کے انتقال کے بعد بھی اولاد کو ان کے لیے بہترین تحفہ بھیجنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، جن میں سے ایک "نیک اولاد ہے جو اس کے لیے دعا کرے"۔
​والد کے دوستوں کا احترام: اسلام نے یہ بھی سکھایا کہ والد کے دنیا سے جانے کے بعد ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، یہ بھی والد کے ساتھ وفاداری اور محبت کی ایک شکل ہے۔
​والد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ بے مثل نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ یومِ والد منانے کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اندر اس احساس کو بیدار کریں کہ ہم اپنے والد کے لیے کتنے فرمانبردار ثابت ہو رہے ہیں۔
​آئیے آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم نہ صرف آج بلکہ اپنی زندگی کے ہر دن کو اپنے والد کے لیے خاص بنائیں گے، ان کی نافرمانی سے بچیں گے، ان کی ضعیفی میں ان کا سہارا بنیں گے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرِ تسلیم خم رکھیں گے۔ کیونکہ باپ کی خوشنودی ہی میں دنیا کی کامیابی اور آخرت میں جنت کی ضمانت ہے۔

بدھ، 17 جون، 2026

مثبت ذہن روشن مستقبل از: الطاف آمبوری

 مثبت ذہن روشن مستقبل

 (Mindset Makes Success)

​ذہنیت کیا ہے؟

​ذہنیت دراصل وہ اندازِ فکر ہے جس کے ذریعے آپ اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایک مثبت اور اچھی ذہنیت انسان کو آگے بڑھنے اور زندگی میں کامیاب ہونے میں مدد دیتی ہے۔ اگر آپ کو خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہو، تو اس بات کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے کہ آپ آگے بڑھ کر کوشش کریں گے۔ مثبت سوچ انسان کو اندرونی طاقت اور امید فراہم کرتی ہے۔ جب بھی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تو ایک مضبوط ذہنیت انسان کو پرسکون رکھتی ہے اور اسے کبھی بھی ہار نہ ماننے کا حوصلہ دیتی ہے۔
​بڑی سوچ اور مستقبل کی تبدیلی
​اچھی اور تعمیری ذہنیت کے حامل لوگ اپنی غلطیوں سے گھبرانے کے بجائے ان سے سبق سیکھتے ہیں، اور وہ دوبارہ کوشش کرنے سے کبھی نہیں ڈرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی ذہنیت آپ کا مستقبل بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اگر آپ کی سوچ چھوٹی ہوگی، تو آپ کی زندگی بھی محدود رہے گی، لیکن اگر آپ بڑا سوچیں گے تو آپ بڑی اور نمایاں کامیابیوں کو حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کامیابی کے لیے سخت محنت بلاشبہ بہت اہم ہے، لیکن اس کا آغاز ہمیشہ ایک مضبوط ذہنیت سے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان کو اپنے اہداف اور مقاصد پر پورا یقین ہو۔
​مضبوط ذہنیت کے حصول کے طریقے
​اپنے ذہن کو مضبوط بنانے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے:
​توجہ کی لائحہ عمل: ہمیشہ اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں اور منفی خیالات کو اپنے ذہن پر حاوی نہ ہونے دیں۔
​اچھی عادات: روزمرہ کی اچھی عادات ایک بہترین اور مضبوط ذہنیت کی بنیاد بنتی ہیں۔
​مثبت ماحول: اپنے آپ کو ہمیشہ ایسے لوگوں کے درمیان رکھیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں اور آپ کی حوصلہ افزائی کریں۔
​حل تلاش کرنا: جب بھی کوئی مشکل سامنے آئے تو مسائل کا رونے رونے کے بجائے ہمیشہ ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
​مسلسل سیکھنا اور صبر: ہر گزرتے دن کے ساتھ کچھ نیا سیکھتے رہیں اور خود میں بہتری لائیں۔ اس پورے سفر میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی محنت کے عمل پر پورا بھروسہ رکھیں۔
​نتیجہ (Conclusion)
​آخر میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر انسان کی ذہنیت درست اور مثبت ہو، تو دنیا کا کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا اور ہر کامیابی انسان کے لیے ممکن ہو جاتی ہے۔

بدھ، 20 مئی، 2026

*تامل ناڈو: دسویں جماعت کے نتائج کا اعلان، کامیابی کا تناسب 94.31 فیصد، طالبات پھر بازی لے گئیں*

*تامل ناڈو: دسویں جماعت کے نتائج کا اعلان، کامیابی کا تناسب 94.31 فیصد، طالبات پھر بازی لے گئیں*
*چنئی، 20 مئی (نمائندہ خصوصی)*  
تامل ناڈو میں دسویں جماعت کے بورڈ امتحانات کے نتائج آج جاری کر دیے گئے۔ اس سال مجموعی کامیابی کا تناسب 94.31 فیصد رہا جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 0.51 فیصد زیادہ ہے۔

محکمہ اسکولی تعلیم کے مطابق، دسویں کے امتحانات 11 مارچ سے 6 اپریل تک منعقد ہوئے تھے۔ ان امتحانات میں 4 لاکھ 35 ہزار 247 طالبات اور 4 لاکھ 35 ہزار 396 طلبہ شریک ہوئے۔ کُل 8 لاکھ 21 ہزار 105 امیدوار کامیاب قرار پائے۔ 

کامیاب امیدواروں میں 4 لاکھ 19 ہزار 891 طالبات شامل ہیں جن کی کامیابی کا تناسب 96.47 فیصد رہا، جبکہ 4 لاکھ 1 ہزار 214 طلبہ نے کامیابی حاصل کی جن کا تناسب 92.15 فیصد ہے۔ طالبات کی کامیابی کا تناسب طلبہ کے مقابلے میں 4.32 فیصد زیادہ رہا۔

*اسکولوں کی کارکردگی*  
ریاست بھر کے 12 ہزار 467 اسکولوں کے طلبہ امتحان میں شریک ہوئے، جن میں 7 ہزار 490 ہائر سیکنڈری اسکول اور 4 ہزار 977 ہائی اسکول شامل ہیں۔

کُل 5 ہزار 171 اسکولوں نے 100 فیصد نتائج دیے، جبکہ 8 ہزار 233 اسکولوں کا نتیجہ 95 فیصد یا اس سے زائد رہا۔ سرکاری اسکولوں میں سے 1 ہزار 931 اسکولوں نے 100 فیصد اور 3 ہزار 436 اسکولوں نے 95 فیصد یا زائد کامیابی حاصل کی۔

*اسکولوں کی قسم کے لحاظ سے کامیابی کا تناسب:*

- *سرکاری اسکول*: 91.86%  
- *سرکاری امداد یافتہ اسکول*: 94.34%  
- *نجی خود مختار اسکول*: 98.14%  
- *مخلوط اسکول*: 94.42%  
- *گرلز اسکول*: 96.42%  
- *بوائز اسکول*: 88.50%  

گرلز اسکولوں کا نتیجہ بوائز اسکولوں کے مقابلے میں 7.92 فیصد اور مخلوط اسکولوں کا نتیجہ بوائز اسکولوں سے 5.92 فیصد بہتر رہا۔

منگل، 19 مئی، 2026

لے آف (Access Denied)

افسانہ : لے آف  (Access Denied)

*از: الطاف آمبوری*
9952391661
خالد کے لیے زندگی بائنری کوڈز کی طرح سادہ اور واضح تھی؛ زیرو یعنی ناکامی اور ون یعنی کامیابی۔ وہ شہر کے ایک بلند و بالا ٹاور کے پندرہویں فلور پر واقع ایک نامور آئی ٹی کمپنی میں سینیئر سافٹ ویئر انجینئر تھا۔ اس کا کیوبیکل اس کی چھوٹی سی کائنات تھی، جہاں وہ کوڈنگ کی صورت میں اپنے خواب بنتا تھا۔ اس نے قسطوں پر گاڑی لی تھی، ایک جدید اپارٹمنٹ کا بیعانہ دیا تھا اور اس کی آنکھوں میں بوڑھے ماں باپ کے لیے حج کا فریضہ اور اپنی چھوٹی بہن کی شادی کے رنگین خواب رقص کرتے تھے۔
پھر ایک اداس منگل کی صبح آئی۔ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے جب وہ اپنے سسٹم پر لاگ ان ہونے لگا، تو اسکرین پر سرخ حروف میں ایک پیغام چمکا جس نے اسے ساکت کر دیا: "Access Denied"۔ پہلے اسے لگا کوئی تکنیکی خرابی ہے، لیکن جب اس نے اردگرد دیکھا تو پورا فلور ایک عجیب سی پراسرار خاموشی کی لپیٹ میں تھا۔ چند ہی لمحوں بعد ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے موصول ہونے والی ای میل نے واضح کر دیا کہ عالمی کساد بازاری کا کلہاڑا خالد جیسے سینکڑوں نوجوانوں کے خوابوں پر چل چکا ہے۔ یہ "لے آف" کا بے رحم فیصلہ تھا۔
اگلے دو ہفتے خالد کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔ وہ جو کل تک میٹنگز میں مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا تھا، اب گھر کے ایک اندھیرے کمرے میں لیٹا چھت کو تکتا رہتا۔ موبائل پر بینک کی قسطوں کے پیغامات کسی تازیانے کی طرح لگتے۔ اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ کسی گہرے منجھدھار میں پھنس گیا ہے جہاں دور دور تک کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔ دوستوں کی ہمدردیاں اسے زخموں پر نمک جیسی لگتی تھیں اور اسے اپنا وجود ایک بوجھ محسوس ہونے لگا تھا۔
ایک شام جب اس کی ماں نے خاموشی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "بیٹا، ہنر ہاتھ میں ہو تو رزق کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، بس ہمت مت ہارنا،" تو خالد کو جیسے ایک نئی زندگی ملی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس نے اپنی پہچان صرف ایک "ملازمت" سے جوڑ لی تھی، اپنے "ہنر" سے نہیں۔ اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا، لیکن اس بار کسی کمپنی کو سی وی بھیجنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو ایک نئے رخ پر آزمانے کے لیے۔
خالد نے فری لانسنگ کی کٹھن دنیا میں قدم رکھا۔ شروع میں حالات انتہائی مشکل تھے۔ کبھی کبھی اسے پوری رات جاگ کر صرف چند ڈالرز کا کام کرنا پڑتا، کئی بار کلائنٹس کام مسترد کر دیتے اور کئی بار انٹرنیٹ کے بل دینے کے پیسے بھی مشکل سے جمع ہوتے۔ لیکن اب اس کے اندر ایک عجیب سی ضد پیدا ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی مہارت کو مزید نکھارنا شروع کیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے جدید ڈھانچوں پر کام شروع کر دیا۔ اس کی میز پر اب بائنری کوڈز کے ساتھ ساتھ عزم و ہمت کی نئی داستانیں لکھی جا رہی تھیں۔
چھ ماہ کی کڑی محنت اور مسلسل جدوجہد کے بعد، خالد نے ایک ایسی ایپلی کیشن تیار کی جو چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے سپلائی چین کا پیچیدہ مسئلہ حل کرتی تھی۔ یہ پراجیکٹ غیر متوقع طور پر کامیاب ہو گیا اور جلد ہی اسے ایک بین الاقوامی اسٹارٹ اپ سے بڑی سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی۔
آج خالد دوبارہ اسی ٹاور کے سامنے کھڑا تھا جہاں سے اسے ایک سال پہلے بے دخل کیا گیا تھا۔ لیکن آج وہ وہاں کسی نوکری کی تلاش میں نہیں آیا تھا، بلکہ اسی عمارت کے ٹاپ فلور پر اپنے ذاتی دفتر کا افتتاح کرنے آیا تھا۔ اس نے تپتی دھوپ میں چمکتے ہوئے شیشوں کے ٹاور کو دیکھا اور مسکرا دیا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ سمندر کی لہریں اگر انسان کو ڈبو سکتی ہیں، تو ہاتھ پاؤں مارنے والے کو واپس کنارے پر لانا بھی جانتی ہیں۔ وہ منجھدھار سے نکل چکا تھا، اور اس بار اس کے ہاتھ میں اپنی کشتی کی پتوار خود تھی۔

منگل، 24 مارچ، 2026

افسانچہ : الوداع اے ماہِ منور از: الطاف آمبوری

*افسانچہ : الوداع اے ماہِ منور*
*از: الطاف آمبوری*
رابطہ:9952391661

​مسجد کے مینار سے مغرب کی اذان کی صدا فضاؤں میں لہریائی، تو دسترخوان پر بیٹھے اذہان کی آنکھوں سے ایک خاموش آنسو ٹپک کر کھجور کے دانے پر جا گرا۔ اذان مکمل ہو چکی تھی، مگر وہ ابھی تک اپنے ہاتھوں میں تھامےکھجور کو دیکھ رہا تھا۔
​یہ وہ اذہان نہیں تھا جو پچھلے سال تک افطار کے دسترخوان پر بھی ایک ہاتھ میں موبائل فون تھامے نوٹیفیکیشنز کی دنیا میں مگن رہتا تھا۔ جس کی انگلیاں سارا دن اسکرین پر اسکرولنگ کرتی رہتیں اور جس کی تنہائیوں میں اللہ کے ذکر کے بجائے سوشل میڈیا کا شور ہوتا تھا۔ اس رمضان نے اسے ڈیجیٹل اسکرینوں کے حصار سے نکال کر سجدوں کے سکون سے روشناس کرایا تھا۔
​گھر کے صحن میں لگے نیم کے درخت پر پرندے بھی خاموش تھے، جیسے وہ بھی اس نورانی فضا کے رخصت ہونے پر سوگوار ہوں۔ باورچی خانے سے آنے والی خوشبوئیں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی چہکار اب دھیمی پڑ چکی تھی۔ سب کی نظریں آسمان کے اس کنارے پر جمی تھیں جہاں کچھ ہی دیر میں عید کا ہلال نمودار ہونا تھا۔
​"بھائی! افطار کر لیں، وقت ہو گیا ہے،" چھوٹی بہن عنایا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "دیکھیے، سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔"
​اذہان نے لرزتے ہاتھوں سے روزہ افطار کیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا، "عنایا! رزق تو اللہ سال بھر دیتا رہے گا، پر وہ سکون جو اس مہینے میں موبائل فون بند کر کے قرآن کی تلاوت میں ملا، وہ اب اگلے سال ہی نصیب ہوگا۔ اس ایک مہینے میں مجھے احساس ہوا کہ میں کتنی فضول دنیا میں جی رہا تھا۔ میں نے خود کو سوشل میڈیا کے ہجوم میں کھو دیا تھا، اس رمضان نے مجھے دوبارہ مجھ سے اور میرے رب سے ملوایا ہے۔"
​اس کے لہجے میں چھپی سچائی نے دسترخوان پر موجود ہر شخص کو خاموش کر دیا۔ وہ اذہان جو پہلے افطار کے فوراً بعد دوستوں کے ساتھ تصویریں شیئر کرنے میں لگ جاتا تھا، آج اس کا دل اس مادی دنیا سے بیزار اور ماہِ مقدس کی جدائی پر غمگین تھا۔
​اچانک باہر گلی میں بچوں کے شور مچانے کی آواز آئی، "چاند نظر آگیا! عید مبارک!"
​گھر میں مبارکبادوں کا شور مچ گیا، موبائل فونز پر میسجز کی باڑھ آگئی، مگر اذہان نے اپنا فون ایک طرف رکھا اور مصلے پر جا بیٹھا۔ اس نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے۔ اس کے لبوں پر ایک ایسی التجا تھی جو اس کے بدلتے ہوئے نظریات کی عکاس تھی:
​"اے میرے پروردگار! ہم سے یہ رمضان رخصت ہو رہا ہے، مگر اس کا دیا ہوا شعور ہمارے دلوں سے رخصت نہ کرنا۔ میں نے ان تیس دنوں میں جانا ہے کہ اصل زندگی دکھاوے میں نہیں، تیری بندگی میں ہے۔ ہمیں ہمت دے کہ یہ ڈیجیٹل نشہ ہماری عبادتوں کو دوبارہ نہ نگل لے۔ جو پاکیزگی میں نے اس مہینے میں محسوس کی، اسے میری باقی زندگی کا مستقل حصہ بنا دے۔"
​رات کی چکا چوند اور عید کی تیاریوں کے ہنگامے میں، مصلے کے گوشے میں بیٹھے ایک نوجوان کی خاموش دعا گواہی دے رہی تھی کہ رمضان جا تو رہا ہے، مگر اپنے پیچھے ایک بیدار ضمیر، بدلی ہوئی سوچ اور رب سے جڑی ہوئی ایک پاکیزہ روح چھوڑ کر جا رہا ہے۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

عالمی یوم خواتین 8/مارچ 2026 کےموقع پر میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

عالمی یوم خواتین 8/مارچ 2026 کےموقع پر 
 میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک 
میری ماں نے مجھے جنم دیاہے 
اور بچایا مجھ کو مشکل سے  

کل کو آزاد یہ نہ تھی عورت 
آج بچوں سے بھاگتی عور ت

ماں بھی عورت تھی زندگی کے لئے 
پالنے ہی کو بچے پید اکئے 

ہم کو والد کہاں میسرتھے 
شاید اس واسطے ہی دردرتھے 

کون اس جیسا ہوگا، ہوگا نہیں 
مرتبہ ماں کا ہم نے سمجھانہیں 

بھائیوں کوبھی چاہتی ماں تھی 
میری بہنوں کی دوست بھی ماں تھی 

بھوکی رہ کرہمیں کھلایا تھا 
مشکلوں سے ہمیں پڑھایاتھا

اس کی تکلیف جانتے سب ہیں  
پیاری ماں تجھ کو مانتے سب ہیں  

مغفرت کے لئے اٹھے ہیں ہاتھ 
ہم کو جنت میں دینا اس کا ساتھ 

کتنے رشتے وہ مانتی تھی میرؔ
میری ماں رب کو جانتی تھی میرؔ

جمعہ، 6 مارچ، 2026

افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں

*افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں*


از: *الطاف آمبوری*    فون: 9952391661
رمضان کا مقدس مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔ حاجی صاحب کی حویلی پر پورے تیس دن عجب رونق اور گہما گہمی رہی تھی۔ زکوٰۃ کی تقسیم، راشن کے بڑے بڑے تھیلے، افطاری کے وسیع دسترخوان... ان کے دروازے سے کوئی سائل اور کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ چاند رات کو جب انہوں نے اپنا حساب کتاب مکمل کیا تو ایک طویل اور اطمینان بخش سانس لیا۔ انہیں فخر تھا کہ اس سال بھی انہوں نے غریبوں کا حق پوری دیانتداری سے ادا کر دیا ہے۔
عید کی خوشیاں گزرے ابھی بمشکل دو ہفتے ہی بیتے تھے اور شہر کی فضا دوبارہ اپنی پرانی روٹین میں آ چکی تھی۔ ایک دوپہر کڑی دھوپ میں ایک ضعیف عورت، جس کے کپڑوں پر پیوند اور چہرے پر فاقوں کی تحریر واضح تھی، جھجکتے ہوئے حاجی صاحب کے صدر دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھٹکھٹایا اور چوکیدار سے منت بھرے لہجے میں چند دن کے راشن کی درخواست کی۔
چوکیدار نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، ماتھے پر بل ڈالے اور ہاتھ ہلا کر بولا، "اماں! کہاں آ گئی ہو؟ رمضان ختم ہو گیا۔ حاجی صاحب کی جتنی خیرات بٹنی تھی، وہ بٹ گئی۔ اب تو اگلے سال ہی باری آئے گی، جاؤ یہاں سے!"
عورت کی جھریوں زدہ آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیر گئے۔ اس نے اپنے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ایک ایسا جملہ کہا جس نے وہاں کی فضا کو بوجھل کر دیا:
"بیٹا! تم سچ کہتے ہو کہ رمضان ختم ہو گیا ہے، مگر کیا غریب کا پیٹ صرف رمضان میں خالی ہوتا ہے؟ ہماری بھوک کا تو کوئی کیلنڈر نہیں ہوتا..."
حاجی صاحب، جو اتفاق سے لان میں کھڑے یہ سب سن رہے تھے، ان کے قدم وہیں جم گئے۔ وہ جملہ ان کی روح میں کسی نشتر کی طرح اتر گیا تھا۔ انہیں اچانک اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ نیکی کی کوئی میعاد نہیں ہوتی۔ بھوک، افلاس اور بے بسی چاند دیکھ کر نہ تو پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔
وہ تیزی سے آگے بڑھے، چوکیدار کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس ضعیف ماں کو پورے احترام کے ساتھ اندر لے آئے۔ اس کی ضرورت پوری کی اور اسے یقین دلایا کہ اب اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹنا پڑے گا۔
اس دن کے بعد حاجی صاحب کی حویلی کا دروازہ بے کسوں اور غریبوں کے لیے سال کے بارہ مہینے کھل گیا۔ انہیں سمجھ آ گئی تھی کہ رمضان تو نیکی کی محض تربیت کا مہینہ ہے، ہمدردی اور ایثار کا اصل امتحان تو رمضان گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

پیر، 26 جنوری، 2026

افسانچہ آئین کے سائے میں ازقلم : الطاف آمبوری

افسانچہ *آئین کے سائے میں
ازقلم : الطاف آمبوری
چھبیس جنوری کی صبح تھی۔ اسکول کے میدان میں ترنگا پوری شان سے لہرا رہا تھا۔ قومی ترانہ ختم ہوا تو فضا میں تالیاں گونج اٹھیں۔ اسٹیج سے آئین، جمہوریت اور شہری حقوق پر باتیں ہوئیں۔
دیپک سب کچھ خاموشی سے سنتا رہا۔
وہ نہ مقرر تھا، نہ مہمانِ خصوصی۔
وہ صرف ایک عام آدمی تھا۔
تقریب ختم ہوئی تو بچے مٹھائیاں لیتے ہوئے خوشی خوشی دوڑ پڑے۔ اساتذہ تصویروں میں مصروف ہو گئے۔ دیپک اسکول کے گیٹ کے پاس اپنی سائیکل تھامے یہ سب دیکھتا رہا۔ اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا:
یہ جمہوریت آخر اس کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
وہی جمہوریت جس کا ذکر اسٹیج پر بڑے فخر سے کیا گیا تھا، اس کے گھر میں اکثر خاموش رہتی تھی۔ راشن مہنگا تھا، مزدوری محدود تھی، اور انصاف فائلوں میں دب کر رہ جاتا تھا۔
اس کے باوجود آج اس کے اندر ایک ہلکی سی روشنی تھی۔
اسے یاد آیا کہ آج ہی کے دن ملک نے خود کو عوام کے حوالے کیا تھا۔
اور عوام میں وہ بھی شامل تھا۔
دیپک نے لہراتے ہوئے ترنگے کی طرف دیکھا۔
تین رنگ، تین وعدے۔
برابری، آزادی اور انصاف۔
وہ جانتا تھا کہ یہ وعدے ابھی پورے نہیں ہوئے، مگر یہ بھی جانتا تھا کہ یہ ختم نہیں ہوئے۔ شاید جمہوریت کا یہی حسن ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو چلتے رہنے سے زندہ رہتا ہے۔
دیپک نے دل ہی دل میں کہا:
جمہوریت کسی ایک دن کی تقریب نہیں، بلکہ ہر دن کی ذمہ داری ہے۔
اس دن وہ معمول سے ذرا سیدھا چل رہا تھا۔
اس لیے نہیں کہ اس کی زندگی بدل گئی تھی،
بلکہ اس لیے کہ اسے یاد دلا دیا گیا تھا
کہ وہ صرف ایک مزدور نہیں،
بلکہ آئین کے سائے میں جینے والا ایک شہری ہے۔
دیپک سائیکل پر سوار ہوا۔
پیچھے ترنگا لہرا رہا تھا،
اور اس کے اندر ایک خاموش یقین جاگ اٹھا تھا:
جب تک عام آدمی خود کو اس ملک کا حصہ سمجھتا رہے گا،
آئین بھی زندہ رہے گا،
اور جمہوریت بھی

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ وقار و شایستگی کے ساتھ منایا گیا

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ وقار و شایستگی کے ساتھ منایا گیا
آمبور: بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ نہایت منظم، پُراثر اور حب الوطنی کے جذبات سے بھرپور انداز میں منایا گیا۔ تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا، جس کی سعادت ڈاکٹر یوسف رومی (BDS) نے حاصل کی۔ اس بامقصد جلسے کی صدارت سبکدوش ہیڈماسٹر ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جناب وصی اللہ صاحب، تاجر بانگی مارکیٹ، آمبور شریک رہے۔
جلسے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم، اسمائے حسنہ اور نعتِ شریف سے ہوا، جس سے محفل میں روحانی فضا قائم ہوگئی۔ خطبۂ استقبالیہ الطاف احمد، ہیڈماسٹر مدرسہ ہذا، نے پیش کیا، جس میں انہوں نے یومِ جمہوریہ کی اہمیت، قومی اقدار اور تعلیمی ذمہ داریوں پر مدلل روشنی ڈالی۔
طلبہ و طالبات نے اردو، تامل اور انگریزی زبانوں میں تقاریر پیش کرکے لسانی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔ قومی یکجہتی پر مبنی نغمہ نے سامعین کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ تازہ کر دیا۔ اردو میڈیم اسکول کی اہمیت پر پیش کیا گیا ڈرامہ فکری اعتبار سے نہایت مؤثر رہا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔ فینسی ڈریس مقابلے میں بچوں نے گاندھی، نہرو، مولانا آزاد، سروجنی نائڈو، جھانسی کی رانی، ٹیپو سلطان، نیز ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، فوجی، پولیس افسر اور قومی پھول کنول جیسے کرداروں کی دلکش عکاسی کی۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی نے بانگی پرویز صاحب، کرسپانڈنٹ، کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے اردو زبان میں تعلیم کی افادیت اور اس کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم ادارے سماجی اور فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بعد ازاں مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں طلبہ میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ آخر میں مدرس کریم باشاہ صاحب نے ہدیۂ تشکر پیش کیا۔ جلسے کا اختتام قومی ترانے سے ہوا، جبکہ بچوں میں شیرینی تقسیم کرکے یومِ جمہوریہ کی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا۔

پیر، 12 جنوری، 2026

افسانچہ : سکونِ قلب از: الطاف آمبوری

افسانچہ : سکونِ قلب

از: الطاف آمبوری

9952391661

بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر پڑ رہی تھیں۔ عدنان خاموش بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ دل میں عجیب سی بے چینی 

تھی۔ کامیابی، شہرت، سب کچھ ہونے کے باوجود جیسے اندر کہیں خلا بڑھتا جا رہا تھا۔

امی کمرے میں آئیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں۔

"بیٹا، خیریت؟"

عدنان نے آہستہ سے کہا، "امی… پتہ نہیں کیوں، دل جیسے خالی ہے۔"

امی مسکرائیں۔

"کب سے خود کو بھولے ہوئے ہو؟ کبھی چند لمحے اپنے ساتھ گزارے ہیں؟ کبھی اللہ سے دل کی بات کی ہے؟"

عدنان نے کچھ نہیں کہا۔ رات کو وہ چھت پر چلا گیا۔ بادل ہولے ہولے سرک رہے تھے۔ وہ پہلی بار بنا کسی خواہش کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا بیٹھا۔ لفظ خود بخود دل سے نکل رہے تھے۔ آنکھوں میں نمی آگئی۔

اچانک اسے لگا جیسے سینے پر رکھا ہوا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ جیسے کوئی اندر سے کہہ رہا ہو:

"میں یہیں ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو۔"

اس لمحے عدنان نے پہلی بار جانا کہ سکون کہیں باہر نہیں ملتا۔

وہ دل میں اترتا ہے، جب انسان اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور خود سے سچ بولتا ہے۔

اس رات وہ بہت دیر تک آسمان دیکھتا رہا۔ کئی دنوں بعد اسے نیند آئی، وہ والی نیند جو حقیقی سکون کے بعد آتی ہے۔

 

بدھ، 31 دسمبر، 2025

افسانچہ: نیا سال، نئی امیدازقلم : الطاف آمبوری

افسانچہ: نیا سال، نئی امید
ازقلم : الطاف آمبوری
 9952391661

بارہ بجے کی آخری ٹِک کے ساتھ پرانا سال خاموشی سے دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ گلی میں کہیں پٹاخوں کی آواز آئی، کہیں موبائل کی اسکرین پر مبارک باد کے پیغامات چمکے۔ مگر اس کمرے میں صرف ایک چراغ جل رہا تھا، اور اس کے سامنے بیٹھا عادل اپنے بکھرے ہوئے خواب سمیٹ رہا تھا۔
گزرا ہوا سال اس کے لیے آسان نہ تھا۔ نوکری چھوٹ گئی، ایک قریبی رشتہ ٹوٹ گیا، اور اعتماد کہیں راستے میں رہ گیا۔ کیلنڈر بدلتے رہے مگر دل کا صفحہ خالی ہی رہا۔ وہ اکثر سوچتا، کیا سال بدلنے سے زندگی بھی بدل جاتی ہے؟
کھڑکی سے باہر دیکھا تو بارش کی ہلکی بوندیں گلی کی دھول دھو رہی تھیں۔ عادل کو اچانک یاد آیا کہ پچھلے سال بھی ایسی ہی بارش میں اس نے خود سے ایک وعدہ کیا تھا، جو نبھا نہ سکا۔ اس بار اس نے ڈائری کھولی، لمبی فہرست بنانے کے بجائے صرف ایک جملہ لکھا:
“میں ہار ماننے سے پہلے ایک بار اور کوشش کروں گا۔”
یہ جملہ سادہ تھا، مگر اس میں ضد بھی تھی اور دعا بھی۔ اسی لمحے اس کا فون بجا۔ ایک پرانا دوست، جس سے مہینوں بات نہ ہوئی تھی، نئے سال کی مبارک باد دینے کے لیے فون پر تھا۔ بات مختصر تھی مگر آواز میں اپنائیت تھی۔ عادل نے فون رکھا تو محسوس ہوا کہ دل کا بوجھ ذرا سا ہلکا ہو گیا ہے۔
نیا سال کوئی جادو نہیں کرتا، وہ جانتا تھا۔ مگر یہ ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ خود کو دوبارہ سننے کا، ٹوٹے ہوئے حوصلے جوڑنے کا، اور یہ مان لینے کا کہ امید ختم نہیں ہوئی، بس خاموش تھی۔
چراغ کی لو تھوڑی تیز ہوئی۔ عادل نے ڈائری بند کی، کھڑکی بند کی، اور مسکرا کر کہا،
“خوش آمدید، نیا سال۔ اس بار ہم دونوں پوری کوشش کریں گے"

بدھ، 24 دسمبر، 2025

افسانچہ: بے لگام گھوڑا از قلم: الطاف آمبوری

افسانچہ: بے لگام گھوڑا 
از قلم: الطاف آمبوری 9952391661

گلی کے موڑ پر ہر شام ایک ہی شور اٹھتا تھا۔ فرقان اپنی موٹرسائیکل کو ایسے دھاڑتا ہوا نکالتا جیسے پوری بستی کو بتانا چاہتا ہو کہ وہ رفتار کا مالک ہے۔ اس کی ماں روزانہ سمجھاتی، مگر وہ مسکرا کر گھر سے نکل جاتا۔ اسے لگتا تھا کہ تیز چلانا ہی جوانی کی پہچان ہے۔
اس کا دوست فرحات کئی بار کہہ چکا تھا، *“فرقان، یہ موٹرسائیکل بے لگام گھوڑا نہیں۔ لگام ڈھیلی ہو تو دوڑاتا نہیں، گرا دیتا ہے۔”*
فرقان ہنسی میں بات ٹال دیتا۔
ایک رات بارش نے سڑک کو چمکا دیا تھا۔ فرقان پہلے سے زیادہ رفتار پر نکلا۔ موڑ آیا، رفتار نہیں رکی، بس ایک لمحے کی پھسلن، ایک بے اختیار جھٹکا اور پھر اندھیرا۔
ہوش آیا تو اسپتال کی صفائی سے بھری روشنی اور اس کی ماں کی بھیگی ہوئی آنکھیں سامنے تھیں۔ فرحات اس کے پاس بیٹھا خاموشی سے دعائیں پڑھ رہا تھا۔
چند ہفتوں بعد فرقان اسکول کے سامنے آہستہ آہستہ موٹرسائیکل چلاتا نظر آیا۔ ہیلمٹ پہنے، رفتار قابو میں، آنکھوں میں ایک نئی سنجیدگی۔
فرحات نے ہنستے ہوئے پوچھا، *“تو اب گھوڑا بے لگام نہیں رہا؟”*
فرقان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، *“نہیں یار۔ اب لگام میرے ہاتھ میں ہے، اور عقل میرے ساتھ ہے۔”*
سبق وہی تھا، مگر سمجھ اب دل میں اتر چکی تھی۔ *نئی نسل کو رفتار نہیں، ذمہ داری مضبوط بناتی ہے۔ موٹرسائیکل تبھی ساتھ دیتی ہے جب سوار اپنی حد پہچان لے۔*

جمعرات، 18 دسمبر، 2025

افسانچہ “ڈیٹا ختم”

 


افسانچہ                             “ڈیٹا ختم

از: الطاف آمبوری

علی سارا دن بستر پر پڑا رییلز بناتا رہا۔

کبھی فلٹر بدلتا، کبھی ڈائیلاگ ریہرسل کرتا، اور کبھی ایک  ویڈیو دس بار دیکھ کر مطمئن ہو جاتا۔

ماں نے کچن سے آواز دی،

 علی! کتاب کب پڑھو گے؟

علی نے موبائل سے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا،

 امی، اب کتابیں کون پڑھتا ہے؟ سب کچھ تو پی ڈی ایف میں آ جاتا ہے!”

ماں نے گہری سانس لی اور بڑبڑائی،

 ہم نے تو کتابوں سے زندگی سیکھی تھی، یہ نسل اسکرین سے سیکھ رہی ہے۔

شام ہوئی۔

اچانک اسکرین فریز ہوئی۔

میوزک بند۔

علی نے چونک کر اوپر دیکھا۔

ایک لمحہ خاموشی۔

پھر موبائل کو ہلایا، نیٹ ورک آن آف کیا۔

مگر حقیقت سامنے آ چکی تھی.

ڈیٹا ختم۔

کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی، جیسے وقت بھی رک گیا ہو۔

پانچ منٹ بعد علی بے چینی سے اٹھ بیٹھا اور چیخ کر بولا،

 امی! میں بور ہو رہا ہوں!”

ماں مسکراتے ہوئے پاس آئی اور بولی،

 بیٹا، یہی تو اصل زندگی ہے، بغیر وائی فائی کے۔

چلو، آؤ باتیں کرتے ہیں… یا کتاب ہی کھول لیتے ہیں۔

علی نے پہلی بار موبائل میز پر رکھا۔

اور زندگی نے ایک لمحے کے لئے اسے آن لائن کر لیا۔

اتوار، 14 دسمبر، 2025

تعزیتی پیغام : انتقال پرملال حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ

 


 

تعزیتی پیغام

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر سن کر دل بے حد رنجیدہ ہے۔ آپ کا شمار اُن اکابرِ اہلِ دل میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی زندگی اصلاحِ نفس، تزکیۂ باطن اور سنتِ نبوی ﷺ کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ کی صحبت، تعلیمات اور روحانی نسبت نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو سنوارا۔

آپ کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا بلاشبہ ایک بڑا روحانی خلا ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے یہ یقین باعثِ تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

اللہ رب العزت مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان، مریدین اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 الطاف آمبوری

جمعرات، 11 دسمبر، 2025

بےچارہ میاں

🪶 افسانچہ: بےچارہ میاں
از : الطاف آمبوری

شام کا وقت تھا میاں صاحب دفتر سے تھکے ہارے گھر پہنچے۔
دروازہ کھولا تو بیگم سامنے کھڑی تھیں  چہرے پر مسکراہٹ کم اور سوالات زیادہ۔
"کہاں رہ گئے تھے؟ دفتر تو پانچ بجے بند ہو جاتا ہے!"
میاں نے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا،
"جی وہ... ٹریفک بہت تھا۔"
بیگم نے فوراً جواب دیا،
"ٹریفک تھا یا کیفے؟"
میاں نے دل ہی دل میں سوچا، ’کاش دفتر میں حاضری کے ساتھ واپسی کا ثبوت بھی ملتا۔‘
بیگم بولیں،
"چلو، آج میں نے تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے۔"
میاں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
"واہ! کیا بنایا ہے بیگم؟"
بیگم بولیں،
"کریلی کی سبزی!"
میاں نے زبردستی مسکرا کر کہا،
"بس یہی تو میری پسند ہے!"
بیگم نے فخریہ کہا،
"پتہ تھا تم یہی کہو گے، تم بہت سمجھدار ہو۔"
میاں نے دل ہی دل میں کہا،
’سمجھدار تو ہوں، مگر زندگی بھی سزا دار لگتی ہے

منگل، 2 دسمبر، 2025

اردو زبان و ادب میں جدید رجحانات

اردو زبان و ادب میں جدید رجحانات

از: الطاف آمبوری

تمہید

       اردو زبان و ادب نے برصغیر کی تہذیب، معاشرت اور فکری ارتقا کے ہر دور میں نئی کروٹیں لی ہیں۔ جدید زمانہ سائنس، ٹیکنالوجی، عالمی رابطوں، سیاسی و سماجی تبدیلیوں اور نئی جمالیاتی حسیت کا زمانہ ہے۔ انہی تبدیلیوں نے اردو زبان و ادب میں بھی کئی نئے رجحانات پیدا کیے جنہوں نے اس زبان کے اسلوب، موضوعات، بیانیہ، طرزِ اظہار اور فکری جہات کو نئی سمتیں عطا کیں۔ موجودہ عہد میں اردو ادب نہ صرف اپنے کلاسیکی ورثے سے جڑا ہوا ہے بلکہ عالمی ادب کے تیز بہاؤ کے ساتھ ہم قدم چلنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

 1  ) اردو زبان میں جدید رجحانات

 1.1  ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن اردو

کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ نے اردو زبان کی ترسیل، اشاعت اور تحفظ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

یونی کوڈ کے بعد سوشل میڈیا، ای بکس، آن لائن لغات اور خودکار ترجمے نے نئی دنیا کے دروازے کھول دیے۔

یوٹیوب، پوڈکاسٹ، بلاگنگ اور آن لائن تدریس نے اردو کو نئی نسل میں مقبول بنایا ہے۔

 

1.2 زبان میں سادگی اور بیانیہ کا بدلتا انداز

جدید شہری زندگی کے تجربات نے زبان کو سہل نگاری کی طرف مائل کیا۔

پیچیدہ استعارات و تلمیحات کی جگہ روشن، سیدھی، مکالماتی زبان زیادہ استعمال ہونے لگی۔

 

1.3 دیگر زبانوں کے اثرات

گلوبلائزیشن نے انگریزی کے اثر کو بڑھایا۔

ہندی، تمل، پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں کی آمیزش سے اردو کی لغت میں کئی نئے الفاظ داخل ہوئے۔

ترجمے کی تحریک نے بین الاقوامی افکار کو اردو میں منتقل کیا۔

 

1.4 لسانی تحقیق، کارپس لنگویسٹکس اور نیٹ ورک مطالعات

جدید لسانیات کے اصول جیسے Corpus Linguistics, Pragmatics, Semantics اب اردو میں بھی رائج ہیں۔

یونیورسٹیوں میں اردو زبان کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنے کا سلسلہ بڑھا ہے۔

 

2. اردو ادب میں جدید رجحانات

2.1 جدیدیت (Modernism)

1960 کے بعد ادب میں وجودی تنہائی، بے معنویت، بکھرتی اقدار، شکست و ریخت جیسے موضوعات نمایاں ہوئے۔

نثر میں انتظار حسین، انیس ناگی، انور سجاد اور شاعری میں میراجی، ن م راشد جدیدیت کے اہم ستون ہیں۔

علامت نگاری، اکہرویں بیانیہ، داخلی اسلوب جدیدیت کی خصوصیات ہیں۔

 

2.2 مابعد جدیدیت (Postmodernism)

حقیقت اور فکشن کے درمیان سرحدیں دھندلی ہوگئیں۔

کردار اور واقعہ کی مرکزیت ٹوٹ گئی۔

خالد جاوید، مشرف عالم ذوقی، شمس الرحمن فاروقی، عبداللہ حسین وغیرہ نمایاں نام ہیں۔

 

2.3 نئی کہانی اور نئے افسانے کے رجحانات

شہری اضطراب، فرد کی شکست، سماجی نابرابری، عورت کا وجود، طبقاتی تضاد، دہشت گردی، اور انسانی حقوق اہم موضوعات ہیں۔

فکشن میں نفسیاتی تجزیہ، علامتی کہانیاں، تجرباتی بیان عام ہو چکے ہیں۔

 

2.4 خواتین ادب کا ابھار

بانو قدسیہ، عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر کے بعدنئی نسل میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا، عذرا عباس، نور الہدی شاہ نے نمایاں حصہ ڈالا۔عورت اپنے وجود، شناخت، آزادی اور فکری قوت کے ساتھ ادب میں مضبوط آواز بن کر سامنے آئی۔

 

2.5 اردو ناول میں نئے زاویے

تاریخی، سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی ناولوں کی نئی جہتیں سامنے آئیں۔جدید شہری زندگی، شناخت کا بحران، مغربی اثرات، مذہبی تجربات، جنگ و دہشت گردی کے اثرات ناول کا حصہ بنے۔خالد جاوید، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی، رحمان عباس نمایاں مثالیں۔

 

2.6 نئی نظم اور آزاد نظم کی توسیع

صنفی قدغنیں ختم ہو رہی ہیں۔نظم کی شکلیں: آزاد نظم، نثری نظم، بصری نظم، ہائیکو، نظم مختصرہ وغیرہ نے ادب کو نئی تازگی دی۔شاعر اپنے داخلی تجربات کو جدید علامتوں کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

 

2.7 مزاحمتی ادب

جمہوری، سیاسی اور سماجی بے چینی نے مزاحمتی شاعری و نثر کو طاقت دی۔

ترقی پسند تحریک کا اثر آج بھی ادب پر موجود ہے۔

 

2.8 اردو ڈرامہ اور میڈیا ادب

ٹی وی، ریڈیو، ویب سیریز اور اسٹیج ڈرامے نے ادب کی نئی صورتیں پیدا کیں۔

مکالمے کی جدید تکنیک، کیمرائی حقیقت، سوشل میڈیا مواد نے بیانیہ بدل دیا۔

 

 3. عالمی تناظر میں اردو ادب

عالمی کانفرنسوں، تراجم، نیٹ پر موجود مواد نے اردو ادب کو Universal Context دیا۔

اردو ناول اور شاعری کا دیگر زبانوں میں ترجمہ بڑھا ہے، جس سے اردو کا عالمی وجود مضبوط ہوا۔

4. جدید رجحانات کے مثبت اور منفی اثرات

مثبت اثرات

نئی تخلیقی آزادی

موضوعات کا تنوع

عالمی افکار سے ربط

نوجوان نسل کی دلچسپی میں اضافہ

تحقیق اور تنقید میں وسعت

منفی اثرات

زبان میں حد سے زیادہ انگریزی کا دباؤ

تحریری معیار میں کمی

سوشل میڈیا اسلوب کی وجہ سے لسانی بگاڑ

ادب میں سطحیت اور کم مطالعہ

 

5. نتیجہ

       اردو زبان و ادب کی تاریخ تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ موجودہ دور کے جدید رجحانات نے اردو کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنی تہذیبی جڑوں کو مضبوط رکھ سکتی ہے بلکہ عالمی ادب کے ہم رُتبہ بھی ہو سکتی ہے۔مستقبل میں اردو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معیار، تحقیق اور تدریسی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم وسعتِ نظر اور سائنسی سوچ کے ساتھ اردو ادب کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔