پیر، 26 جنوری، 2026

افسانچہ آئین کے سائے میں ازقلم : الطاف آمبوری

افسانچہ *آئین کے سائے میں
ازقلم : الطاف آمبوری
چھبیس جنوری کی صبح تھی۔ اسکول کے میدان میں ترنگا پوری شان سے لہرا رہا تھا۔ قومی ترانہ ختم ہوا تو فضا میں تالیاں گونج اٹھیں۔ اسٹیج سے آئین، جمہوریت اور شہری حقوق پر باتیں ہوئیں۔
دیپک سب کچھ خاموشی سے سنتا رہا۔
وہ نہ مقرر تھا، نہ مہمانِ خصوصی۔
وہ صرف ایک عام آدمی تھا۔
تقریب ختم ہوئی تو بچے مٹھائیاں لیتے ہوئے خوشی خوشی دوڑ پڑے۔ اساتذہ تصویروں میں مصروف ہو گئے۔ دیپک اسکول کے گیٹ کے پاس اپنی سائیکل تھامے یہ سب دیکھتا رہا۔ اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا:
یہ جمہوریت آخر اس کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
وہی جمہوریت جس کا ذکر اسٹیج پر بڑے فخر سے کیا گیا تھا، اس کے گھر میں اکثر خاموش رہتی تھی۔ راشن مہنگا تھا، مزدوری محدود تھی، اور انصاف فائلوں میں دب کر رہ جاتا تھا۔
اس کے باوجود آج اس کے اندر ایک ہلکی سی روشنی تھی۔
اسے یاد آیا کہ آج ہی کے دن ملک نے خود کو عوام کے حوالے کیا تھا۔
اور عوام میں وہ بھی شامل تھا۔
دیپک نے لہراتے ہوئے ترنگے کی طرف دیکھا۔
تین رنگ، تین وعدے۔
برابری، آزادی اور انصاف۔
وہ جانتا تھا کہ یہ وعدے ابھی پورے نہیں ہوئے، مگر یہ بھی جانتا تھا کہ یہ ختم نہیں ہوئے۔ شاید جمہوریت کا یہی حسن ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو چلتے رہنے سے زندہ رہتا ہے۔
دیپک نے دل ہی دل میں کہا:
جمہوریت کسی ایک دن کی تقریب نہیں، بلکہ ہر دن کی ذمہ داری ہے۔
اس دن وہ معمول سے ذرا سیدھا چل رہا تھا۔
اس لیے نہیں کہ اس کی زندگی بدل گئی تھی،
بلکہ اس لیے کہ اسے یاد دلا دیا گیا تھا
کہ وہ صرف ایک مزدور نہیں،
بلکہ آئین کے سائے میں جینے والا ایک شہری ہے۔
دیپک سائیکل پر سوار ہوا۔
پیچھے ترنگا لہرا رہا تھا،
اور اس کے اندر ایک خاموش یقین جاگ اٹھا تھا:
جب تک عام آدمی خود کو اس ملک کا حصہ سمجھتا رہے گا،
آئین بھی زندہ رہے گا،
اور جمہوریت بھی

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں