منگل، 24 مارچ، 2026
افسانچہ : الوداع اے ماہِ منور از: الطاف آمبوری
ہفتہ، 7 مارچ، 2026
عالمی یوم خواتین 8/مارچ 2026 کےموقع پر میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
جمعہ، 6 مارچ، 2026
افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں
*افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں*
از: *الطاف آمبوری* فون: 9952391661
رمضان کا مقدس مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔ حاجی صاحب کی حویلی پر پورے تیس دن عجب رونق اور گہما گہمی رہی تھی۔ زکوٰۃ کی تقسیم، راشن کے بڑے بڑے تھیلے، افطاری کے وسیع دسترخوان... ان کے دروازے سے کوئی سائل اور کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ چاند رات کو جب انہوں نے اپنا حساب کتاب مکمل کیا تو ایک طویل اور اطمینان بخش سانس لیا۔ انہیں فخر تھا کہ اس سال بھی انہوں نے غریبوں کا حق پوری دیانتداری سے ادا کر دیا ہے۔
عید کی خوشیاں گزرے ابھی بمشکل دو ہفتے ہی بیتے تھے اور شہر کی فضا دوبارہ اپنی پرانی روٹین میں آ چکی تھی۔ ایک دوپہر کڑی دھوپ میں ایک ضعیف عورت، جس کے کپڑوں پر پیوند اور چہرے پر فاقوں کی تحریر واضح تھی، جھجکتے ہوئے حاجی صاحب کے صدر دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھٹکھٹایا اور چوکیدار سے منت بھرے لہجے میں چند دن کے راشن کی درخواست کی۔
چوکیدار نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، ماتھے پر بل ڈالے اور ہاتھ ہلا کر بولا، "اماں! کہاں آ گئی ہو؟ رمضان ختم ہو گیا۔ حاجی صاحب کی جتنی خیرات بٹنی تھی، وہ بٹ گئی۔ اب تو اگلے سال ہی باری آئے گی، جاؤ یہاں سے!"
عورت کی جھریوں زدہ آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیر گئے۔ اس نے اپنے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ایک ایسا جملہ کہا جس نے وہاں کی فضا کو بوجھل کر دیا:
"بیٹا! تم سچ کہتے ہو کہ رمضان ختم ہو گیا ہے، مگر کیا غریب کا پیٹ صرف رمضان میں خالی ہوتا ہے؟ ہماری بھوک کا تو کوئی کیلنڈر نہیں ہوتا..."
حاجی صاحب، جو اتفاق سے لان میں کھڑے یہ سب سن رہے تھے، ان کے قدم وہیں جم گئے۔ وہ جملہ ان کی روح میں کسی نشتر کی طرح اتر گیا تھا۔ انہیں اچانک اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ نیکی کی کوئی میعاد نہیں ہوتی۔ بھوک، افلاس اور بے بسی چاند دیکھ کر نہ تو پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔
وہ تیزی سے آگے بڑھے، چوکیدار کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس ضعیف ماں کو پورے احترام کے ساتھ اندر لے آئے۔ اس کی ضرورت پوری کی اور اسے یقین دلایا کہ اب اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹنا پڑے گا۔
اس دن کے بعد حاجی صاحب کی حویلی کا دروازہ بے کسوں اور غریبوں کے لیے سال کے بارہ مہینے کھل گیا۔ انہیں سمجھ آ گئی تھی کہ رمضان تو نیکی کی محض تربیت کا مہینہ ہے، ہمدردی اور ایثار کا اصل امتحان تو رمضان گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔
پیر، 26 جنوری، 2026
افسانچہ آئین کے سائے میں ازقلم : الطاف آمبوری
بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ وقار و شایستگی کے ساتھ منایا گیا
پیر، 12 جنوری، 2026
افسانچہ : سکونِ قلب از: الطاف آمبوری
افسانچہ : سکونِ قلب
از: الطاف آمبوری
9952391661
بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر پڑ رہی تھیں۔ عدنان خاموش بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ دل میں عجیب سی بے چینی
تھی۔ کامیابی، شہرت، سب کچھ ہونے کے باوجود جیسے اندر کہیں خلا بڑھتا جا رہا تھا۔
امی کمرے میں آئیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
"بیٹا، خیریت؟"
عدنان نے آہستہ سے کہا، "امی… پتہ نہیں کیوں، دل جیسے خالی ہے۔"
امی مسکرائیں۔
"کب سے خود کو بھولے ہوئے ہو؟ کبھی چند لمحے اپنے ساتھ گزارے ہیں؟ کبھی اللہ سے دل کی بات کی ہے؟"
عدنان نے کچھ نہیں کہا۔ رات کو وہ چھت پر چلا گیا۔ بادل ہولے ہولے سرک رہے تھے۔ وہ پہلی بار بنا کسی خواہش کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا بیٹھا۔ لفظ خود بخود دل سے نکل رہے تھے۔ آنکھوں میں نمی آگئی۔
اچانک اسے لگا جیسے سینے پر رکھا ہوا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ جیسے کوئی اندر سے کہہ رہا ہو:
"میں یہیں ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو۔"
اس لمحے عدنان نے پہلی بار جانا کہ سکون کہیں باہر نہیں ملتا۔
وہ دل میں اترتا ہے، جب انسان اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور خود سے سچ بولتا ہے۔
اس رات وہ بہت دیر تک آسمان دیکھتا رہا۔ کئی دنوں بعد اسے نیند آئی، وہ والی نیند جو حقیقی سکون کے بعد آتی ہے۔