منگل، 24 مارچ، 2026

افسانچہ : الوداع اے ماہِ منور از: الطاف آمبوری

*افسانچہ : الوداع اے ماہِ منور*
*از: الطاف آمبوری*
رابطہ:9952391661

​مسجد کے مینار سے مغرب کی اذان کی صدا فضاؤں میں لہریائی، تو دسترخوان پر بیٹھے اذہان کی آنکھوں سے ایک خاموش آنسو ٹپک کر کھجور کے دانے پر جا گرا۔ اذان مکمل ہو چکی تھی، مگر وہ ابھی تک اپنے ہاتھوں میں تھامےکھجور کو دیکھ رہا تھا۔
​یہ وہ اذہان نہیں تھا جو پچھلے سال تک افطار کے دسترخوان پر بھی ایک ہاتھ میں موبائل فون تھامے نوٹیفیکیشنز کی دنیا میں مگن رہتا تھا۔ جس کی انگلیاں سارا دن اسکرین پر اسکرولنگ کرتی رہتیں اور جس کی تنہائیوں میں اللہ کے ذکر کے بجائے سوشل میڈیا کا شور ہوتا تھا۔ اس رمضان نے اسے ڈیجیٹل اسکرینوں کے حصار سے نکال کر سجدوں کے سکون سے روشناس کرایا تھا۔
​گھر کے صحن میں لگے نیم کے درخت پر پرندے بھی خاموش تھے، جیسے وہ بھی اس نورانی فضا کے رخصت ہونے پر سوگوار ہوں۔ باورچی خانے سے آنے والی خوشبوئیں اور چھوٹے بہن بھائیوں کی چہکار اب دھیمی پڑ چکی تھی۔ سب کی نظریں آسمان کے اس کنارے پر جمی تھیں جہاں کچھ ہی دیر میں عید کا ہلال نمودار ہونا تھا۔
​"بھائی! افطار کر لیں، وقت ہو گیا ہے،" چھوٹی بہن عنایا نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا، "دیکھیے، سب آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔"
​اذہان نے لرزتے ہاتھوں سے روزہ افطار کیا اور بھرائی ہوئی آواز میں بولا، "عنایا! رزق تو اللہ سال بھر دیتا رہے گا، پر وہ سکون جو اس مہینے میں موبائل فون بند کر کے قرآن کی تلاوت میں ملا، وہ اب اگلے سال ہی نصیب ہوگا۔ اس ایک مہینے میں مجھے احساس ہوا کہ میں کتنی فضول دنیا میں جی رہا تھا۔ میں نے خود کو سوشل میڈیا کے ہجوم میں کھو دیا تھا، اس رمضان نے مجھے دوبارہ مجھ سے اور میرے رب سے ملوایا ہے۔"
​اس کے لہجے میں چھپی سچائی نے دسترخوان پر موجود ہر شخص کو خاموش کر دیا۔ وہ اذہان جو پہلے افطار کے فوراً بعد دوستوں کے ساتھ تصویریں شیئر کرنے میں لگ جاتا تھا، آج اس کا دل اس مادی دنیا سے بیزار اور ماہِ مقدس کی جدائی پر غمگین تھا۔
​اچانک باہر گلی میں بچوں کے شور مچانے کی آواز آئی، "چاند نظر آگیا! عید مبارک!"
​گھر میں مبارکبادوں کا شور مچ گیا، موبائل فونز پر میسجز کی باڑھ آگئی، مگر اذہان نے اپنا فون ایک طرف رکھا اور مصلے پر جا بیٹھا۔ اس نے اپنے ہاتھ دعا کے لیے اٹھائے۔ اس کے لبوں پر ایک ایسی التجا تھی جو اس کے بدلتے ہوئے نظریات کی عکاس تھی:
​"اے میرے پروردگار! ہم سے یہ رمضان رخصت ہو رہا ہے، مگر اس کا دیا ہوا شعور ہمارے دلوں سے رخصت نہ کرنا۔ میں نے ان تیس دنوں میں جانا ہے کہ اصل زندگی دکھاوے میں نہیں، تیری بندگی میں ہے۔ ہمیں ہمت دے کہ یہ ڈیجیٹل نشہ ہماری عبادتوں کو دوبارہ نہ نگل لے۔ جو پاکیزگی میں نے اس مہینے میں محسوس کی، اسے میری باقی زندگی کا مستقل حصہ بنا دے۔"
​رات کی چکا چوند اور عید کی تیاریوں کے ہنگامے میں، مصلے کے گوشے میں بیٹھے ایک نوجوان کی خاموش دعا گواہی دے رہی تھی کہ رمضان جا تو رہا ہے، مگر اپنے پیچھے ایک بیدار ضمیر، بدلی ہوئی سوچ اور رب سے جڑی ہوئی ایک پاکیزہ روح چھوڑ کر جا رہا ہے۔

ہفتہ، 7 مارچ، 2026

عالمی یوم خواتین 8/مارچ 2026 کےموقع پر میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک

عالمی یوم خواتین 8/مارچ 2026 کےموقع پر 
 میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک 
میری ماں نے مجھے جنم دیاہے 
اور بچایا مجھ کو مشکل سے  

کل کو آزاد یہ نہ تھی عورت 
آج بچوں سے بھاگتی عور ت

ماں بھی عورت تھی زندگی کے لئے 
پالنے ہی کو بچے پید اکئے 

ہم کو والد کہاں میسرتھے 
شاید اس واسطے ہی دردرتھے 

کون اس جیسا ہوگا، ہوگا نہیں 
مرتبہ ماں کا ہم نے سمجھانہیں 

بھائیوں کوبھی چاہتی ماں تھی 
میری بہنوں کی دوست بھی ماں تھی 

بھوکی رہ کرہمیں کھلایا تھا 
مشکلوں سے ہمیں پڑھایاتھا

اس کی تکلیف جانتے سب ہیں  
پیاری ماں تجھ کو مانتے سب ہیں  

مغفرت کے لئے اٹھے ہیں ہاتھ 
ہم کو جنت میں دینا اس کا ساتھ 

کتنے رشتے وہ مانتی تھی میرؔ
میری ماں رب کو جانتی تھی میرؔ

جمعہ، 6 مارچ، 2026

افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں

*افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں*


از: *الطاف آمبوری*    فون: 9952391661
رمضان کا مقدس مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔ حاجی صاحب کی حویلی پر پورے تیس دن عجب رونق اور گہما گہمی رہی تھی۔ زکوٰۃ کی تقسیم، راشن کے بڑے بڑے تھیلے، افطاری کے وسیع دسترخوان... ان کے دروازے سے کوئی سائل اور کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ چاند رات کو جب انہوں نے اپنا حساب کتاب مکمل کیا تو ایک طویل اور اطمینان بخش سانس لیا۔ انہیں فخر تھا کہ اس سال بھی انہوں نے غریبوں کا حق پوری دیانتداری سے ادا کر دیا ہے۔
عید کی خوشیاں گزرے ابھی بمشکل دو ہفتے ہی بیتے تھے اور شہر کی فضا دوبارہ اپنی پرانی روٹین میں آ چکی تھی۔ ایک دوپہر کڑی دھوپ میں ایک ضعیف عورت، جس کے کپڑوں پر پیوند اور چہرے پر فاقوں کی تحریر واضح تھی، جھجکتے ہوئے حاجی صاحب کے صدر دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھٹکھٹایا اور چوکیدار سے منت بھرے لہجے میں چند دن کے راشن کی درخواست کی۔
چوکیدار نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، ماتھے پر بل ڈالے اور ہاتھ ہلا کر بولا، "اماں! کہاں آ گئی ہو؟ رمضان ختم ہو گیا۔ حاجی صاحب کی جتنی خیرات بٹنی تھی، وہ بٹ گئی۔ اب تو اگلے سال ہی باری آئے گی، جاؤ یہاں سے!"
عورت کی جھریوں زدہ آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیر گئے۔ اس نے اپنے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ایک ایسا جملہ کہا جس نے وہاں کی فضا کو بوجھل کر دیا:
"بیٹا! تم سچ کہتے ہو کہ رمضان ختم ہو گیا ہے، مگر کیا غریب کا پیٹ صرف رمضان میں خالی ہوتا ہے؟ ہماری بھوک کا تو کوئی کیلنڈر نہیں ہوتا..."
حاجی صاحب، جو اتفاق سے لان میں کھڑے یہ سب سن رہے تھے، ان کے قدم وہیں جم گئے۔ وہ جملہ ان کی روح میں کسی نشتر کی طرح اتر گیا تھا۔ انہیں اچانک اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ نیکی کی کوئی میعاد نہیں ہوتی۔ بھوک، افلاس اور بے بسی چاند دیکھ کر نہ تو پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔
وہ تیزی سے آگے بڑھے، چوکیدار کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس ضعیف ماں کو پورے احترام کے ساتھ اندر لے آئے۔ اس کی ضرورت پوری کی اور اسے یقین دلایا کہ اب اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹنا پڑے گا۔
اس دن کے بعد حاجی صاحب کی حویلی کا دروازہ بے کسوں اور غریبوں کے لیے سال کے بارہ مہینے کھل گیا۔ انہیں سمجھ آ گئی تھی کہ رمضان تو نیکی کی محض تربیت کا مہینہ ہے، ہمدردی اور ایثار کا اصل امتحان تو رمضان گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔

پیر، 26 جنوری، 2026

افسانچہ آئین کے سائے میں ازقلم : الطاف آمبوری

افسانچہ *آئین کے سائے میں
ازقلم : الطاف آمبوری
چھبیس جنوری کی صبح تھی۔ اسکول کے میدان میں ترنگا پوری شان سے لہرا رہا تھا۔ قومی ترانہ ختم ہوا تو فضا میں تالیاں گونج اٹھیں۔ اسٹیج سے آئین، جمہوریت اور شہری حقوق پر باتیں ہوئیں۔
دیپک سب کچھ خاموشی سے سنتا رہا۔
وہ نہ مقرر تھا، نہ مہمانِ خصوصی۔
وہ صرف ایک عام آدمی تھا۔
تقریب ختم ہوئی تو بچے مٹھائیاں لیتے ہوئے خوشی خوشی دوڑ پڑے۔ اساتذہ تصویروں میں مصروف ہو گئے۔ دیپک اسکول کے گیٹ کے پاس اپنی سائیکل تھامے یہ سب دیکھتا رہا۔ اس کے ذہن میں ایک سوال ابھرا:
یہ جمہوریت آخر اس کے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
وہی جمہوریت جس کا ذکر اسٹیج پر بڑے فخر سے کیا گیا تھا، اس کے گھر میں اکثر خاموش رہتی تھی۔ راشن مہنگا تھا، مزدوری محدود تھی، اور انصاف فائلوں میں دب کر رہ جاتا تھا۔
اس کے باوجود آج اس کے اندر ایک ہلکی سی روشنی تھی۔
اسے یاد آیا کہ آج ہی کے دن ملک نے خود کو عوام کے حوالے کیا تھا۔
اور عوام میں وہ بھی شامل تھا۔
دیپک نے لہراتے ہوئے ترنگے کی طرف دیکھا۔
تین رنگ، تین وعدے۔
برابری، آزادی اور انصاف۔
وہ جانتا تھا کہ یہ وعدے ابھی پورے نہیں ہوئے، مگر یہ بھی جانتا تھا کہ یہ ختم نہیں ہوئے۔ شاید جمہوریت کا یہی حسن ہے۔ یہ ایک ایسا سفر ہے جو چلتے رہنے سے زندہ رہتا ہے۔
دیپک نے دل ہی دل میں کہا:
جمہوریت کسی ایک دن کی تقریب نہیں، بلکہ ہر دن کی ذمہ داری ہے۔
اس دن وہ معمول سے ذرا سیدھا چل رہا تھا۔
اس لیے نہیں کہ اس کی زندگی بدل گئی تھی،
بلکہ اس لیے کہ اسے یاد دلا دیا گیا تھا
کہ وہ صرف ایک مزدور نہیں،
بلکہ آئین کے سائے میں جینے والا ایک شہری ہے۔
دیپک سائیکل پر سوار ہوا۔
پیچھے ترنگا لہرا رہا تھا،
اور اس کے اندر ایک خاموش یقین جاگ اٹھا تھا:
جب تک عام آدمی خود کو اس ملک کا حصہ سمجھتا رہے گا،
آئین بھی زندہ رہے گا،
اور جمہوریت بھی

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ وقار و شایستگی کے ساتھ منایا گیا

بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ وقار و شایستگی کے ساتھ منایا گیا
آمبور: بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول، آمبور میں 77واں یومِ جمہوریہ نہایت منظم، پُراثر اور حب الوطنی کے جذبات سے بھرپور انداز میں منایا گیا۔ تقریب کا آغاز پرچم کشائی سے ہوا، جس کی سعادت ڈاکٹر یوسف رومی (BDS) نے حاصل کی۔ اس بامقصد جلسے کی صدارت سبکدوش ہیڈماسٹر ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے جناب وصی اللہ صاحب، تاجر بانگی مارکیٹ، آمبور شریک رہے۔
جلسے کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم، اسمائے حسنہ اور نعتِ شریف سے ہوا، جس سے محفل میں روحانی فضا قائم ہوگئی۔ خطبۂ استقبالیہ الطاف احمد، ہیڈماسٹر مدرسہ ہذا، نے پیش کیا، جس میں انہوں نے یومِ جمہوریہ کی اہمیت، قومی اقدار اور تعلیمی ذمہ داریوں پر مدلل روشنی ڈالی۔
طلبہ و طالبات نے اردو، تامل اور انگریزی زبانوں میں تقاریر پیش کرکے لسانی ہم آہنگی اور قومی یکجہتی کا خوبصورت مظاہرہ کیا۔ قومی یکجہتی پر مبنی نغمہ نے سامعین کے دلوں میں حب الوطنی کا جذبہ تازہ کر دیا۔ اردو میڈیم اسکول کی اہمیت پر پیش کیا گیا ڈرامہ فکری اعتبار سے نہایت مؤثر رہا، جسے حاضرین نے بھرپور داد دی۔ فینسی ڈریس مقابلے میں بچوں نے گاندھی، نہرو، مولانا آزاد، سروجنی نائڈو، جھانسی کی رانی، ٹیپو سلطان، نیز ڈاکٹر، وکیل، انجینئر، فوجی، پولیس افسر اور قومی پھول کنول جیسے کرداروں کی دلکش عکاسی کی۔
صدارتی خطاب میں ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی نے بانگی پرویز صاحب، کرسپانڈنٹ، کی تعلیمی خدمات کو سراہتے ہوئے اردو زبان میں تعلیم کی افادیت اور اس کے فروغ پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ اردو میڈیم ادارے سماجی اور فکری تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
بعد ازاں مہمانِ خصوصی کے ہاتھوں طلبہ میں اسناد اور انعامات تقسیم کیے گئے۔ آخر میں مدرس کریم باشاہ صاحب نے ہدیۂ تشکر پیش کیا۔ جلسے کا اختتام قومی ترانے سے ہوا، جبکہ بچوں میں شیرینی تقسیم کرکے یومِ جمہوریہ کی خوشیوں کو دوبالا کیا گیا۔

پیر، 12 جنوری، 2026

افسانچہ : سکونِ قلب از: الطاف آمبوری

افسانچہ : سکونِ قلب

از: الطاف آمبوری

9952391661

بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر پڑ رہی تھیں۔ عدنان خاموش بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ دل میں عجیب سی بے چینی 

تھی۔ کامیابی، شہرت، سب کچھ ہونے کے باوجود جیسے اندر کہیں خلا بڑھتا جا رہا تھا۔

امی کمرے میں آئیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں۔

"بیٹا، خیریت؟"

عدنان نے آہستہ سے کہا، "امی… پتہ نہیں کیوں، دل جیسے خالی ہے۔"

امی مسکرائیں۔

"کب سے خود کو بھولے ہوئے ہو؟ کبھی چند لمحے اپنے ساتھ گزارے ہیں؟ کبھی اللہ سے دل کی بات کی ہے؟"

عدنان نے کچھ نہیں کہا۔ رات کو وہ چھت پر چلا گیا۔ بادل ہولے ہولے سرک رہے تھے۔ وہ پہلی بار بنا کسی خواہش کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا بیٹھا۔ لفظ خود بخود دل سے نکل رہے تھے۔ آنکھوں میں نمی آگئی۔

اچانک اسے لگا جیسے سینے پر رکھا ہوا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ جیسے کوئی اندر سے کہہ رہا ہو:

"میں یہیں ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو۔"

اس لمحے عدنان نے پہلی بار جانا کہ سکون کہیں باہر نہیں ملتا۔

وہ دل میں اترتا ہے، جب انسان اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور خود سے سچ بولتا ہے۔

اس رات وہ بہت دیر تک آسمان دیکھتا رہا۔ کئی دنوں بعد اسے نیند آئی، وہ والی نیند جو حقیقی سکون کے بعد آتی ہے۔