افسانچہ : سکونِ قلب
از: الطاف آمبوری
9952391661
بارش کی ہلکی بوندیں چھت پر پڑ رہی تھیں۔ عدنان خاموش بیٹھا کھڑکی سے باہر دیکھ رہا تھا۔ دل میں عجیب سی بے چینی
تھی۔ کامیابی، شہرت، سب کچھ ہونے کے باوجود جیسے اندر کہیں خلا بڑھتا جا رہا تھا۔
امی کمرے میں آئیں اور اس کے پاس بیٹھ گئیں۔
"بیٹا، خیریت؟"
عدنان نے آہستہ سے کہا، "امی… پتہ نہیں کیوں، دل جیسے خالی ہے۔"
امی مسکرائیں۔
"کب سے خود کو بھولے ہوئے ہو؟ کبھی چند لمحے اپنے ساتھ گزارے ہیں؟ کبھی اللہ سے دل کی بات کی ہے؟"
عدنان نے کچھ نہیں کہا۔ رات کو وہ چھت پر چلا گیا۔ بادل ہولے ہولے سرک رہے تھے۔ وہ پہلی بار بنا کسی خواہش کے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا بیٹھا۔ لفظ خود بخود دل سے نکل رہے تھے۔ آنکھوں میں نمی آگئی۔
اچانک اسے لگا جیسے سینے پر رکھا ہوا بوجھ ہٹ گیا ہو۔ جیسے کوئی اندر سے کہہ رہا ہو:
"میں یہیں ہوں۔ تم اکیلے نہیں ہو۔"
اس لمحے عدنان نے پہلی بار جانا کہ سکون کہیں باہر نہیں ملتا۔
وہ دل میں اترتا ہے، جب انسان اپنے رب کو یاد کرتا ہے اور خود سے سچ بولتا ہے۔
اس رات وہ بہت دیر تک آسمان دیکھتا رہا۔ کئی دنوں بعد اسے نیند آئی، وہ والی نیند جو حقیقی سکون کے بعد آتی ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں