افسانچہ: نیا سال، نئی امید
ازقلم : الطاف آمبوری
9952391661
بارہ بجے کی آخری ٹِک کے ساتھ پرانا سال خاموشی سے دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ گلی میں کہیں پٹاخوں کی آواز آئی، کہیں موبائل کی اسکرین پر مبارک باد کے پیغامات چمکے۔ مگر اس کمرے میں صرف ایک چراغ جل رہا تھا، اور اس کے سامنے بیٹھا عادل اپنے بکھرے ہوئے خواب سمیٹ رہا تھا۔
گزرا ہوا سال اس کے لیے آسان نہ تھا۔ نوکری چھوٹ گئی، ایک قریبی رشتہ ٹوٹ گیا، اور اعتماد کہیں راستے میں رہ گیا۔ کیلنڈر بدلتے رہے مگر دل کا صفحہ خالی ہی رہا۔ وہ اکثر سوچتا، کیا سال بدلنے سے زندگی بھی بدل جاتی ہے؟
کھڑکی سے باہر دیکھا تو بارش کی ہلکی بوندیں گلی کی دھول دھو رہی تھیں۔ عادل کو اچانک یاد آیا کہ پچھلے سال بھی ایسی ہی بارش میں اس نے خود سے ایک وعدہ کیا تھا، جو نبھا نہ سکا۔ اس بار اس نے ڈائری کھولی، لمبی فہرست بنانے کے بجائے صرف ایک جملہ لکھا:
“میں ہار ماننے سے پہلے ایک بار اور کوشش کروں گا۔”
یہ جملہ سادہ تھا، مگر اس میں ضد بھی تھی اور دعا بھی۔ اسی لمحے اس کا فون بجا۔ ایک پرانا دوست، جس سے مہینوں بات نہ ہوئی تھی، نئے سال کی مبارک باد دینے کے لیے فون پر تھا۔ بات مختصر تھی مگر آواز میں اپنائیت تھی۔ عادل نے فون رکھا تو محسوس ہوا کہ دل کا بوجھ ذرا سا ہلکا ہو گیا ہے۔
نیا سال کوئی جادو نہیں کرتا، وہ جانتا تھا۔ مگر یہ ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ خود کو دوبارہ سننے کا، ٹوٹے ہوئے حوصلے جوڑنے کا، اور یہ مان لینے کا کہ امید ختم نہیں ہوئی، بس خاموش تھی۔
چراغ کی لو تھوڑی تیز ہوئی۔ عادل نے ڈائری بند کی، کھڑکی بند کی، اور مسکرا کر کہا،
“خوش آمدید، نیا سال۔ اس بار ہم دونوں پوری کوشش کریں گے"
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں