جمعہ، 28 نومبر، 2025
تعزیتی پیغام آہ عزیز بلگامی
منگل، 25 نومبر، 2025
احساسِ کمتری
( افسانچہ)
الطاف آمبوری
وہ برسوں آئینے سے نظریں چراتا رہا۔ اسے یوں لگتا تھا جیسے آئینہ اس کی کمزوریاں گناتا ہے جیسے ہر خاکہ، ہر سایہ اس کے وجود کے خلاف گواہی ہے۔
ایک دن اس نے ہمت کرکے خود کو غور سے دیکھا۔ عجیب حقیقت سامنے آئی:
آئینہ کبھی بولتا ہی نہیں
ساری آوازیں اس کے اپنے اندر سے آتی تھیں۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ دنیا نے نہیں، اس کی اپنی سوچ نے اسے چھوٹا کیا تھا۔ انسان جب خود کو کمتر سمجھ لے تو پوری کائنات بھی اسے بلند نہیں کرسکتی؛ اور جب وہ خود کو پہچان لے تو دنیا کی کوئی ٹھوکر اسے گرا نہیں سکتی۔
اس نے آئینے پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا:
"میں وہی ہوں، جو خود کو سمجھتا ہوں۔"
اور اس دن کے بعد آئینہ خاموش نہیں لگا
بلکہ دوست سا محسوس ہوا،
کیونکہ آخرکار وہ اپنے دشمن سے آزاد ہوگیا تھا:
اپنی ہی نگاہ سے۔
جمعہ، 21 نومبر، 2025
جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے
جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے
تحریر: الطاف آمبوری
اردو زبان برصغیر کی تہذیب، ثقافت اور ادبی میراث کی خوبصورت علامت ہے۔ اس کی دلکشی صرف اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے رسم الخط (لکھنے کے انداز) میں بھی پنہاں ہے۔ اردو کا نستعلیق رسم الخط نہ صرف جمالیاتی لحاظ سے حسین ہے بلکہ معنوی گہرائی اور لسانی ربط کا مظہر بھی ہے۔ مگر حالیہ دور میں ڈیجیٹل ذرائع اور سوشل میڈیا کی عام رواج نے اردو کے اصل رسم الخط کے بجائے رومن اردو کے استعمال کو فروغ دیا ہے، جو زبان و ادب دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔
رومن اردو سے مراد وہ طرزِ تحریر ہے جس میں اردو کے الفاظ انگریزی حروفِ تہجی میں لکھے جاتے ہیں۔ مثلاً:"Main theek hoon" بجائے "میں ٹھیک ہوں" کے۔
ابتدائی طور پر رومن اردو کا استعمال صرف آسانی کے لئے کیا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے، خصوصاً نئی نسل میں۔ رومن اردو میں الفاظ کی ادائیگی کا کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہوتا۔ ایک ہی لفظ مختلف لوگ مختلف انداز میں لکھتے ہیں۔مثلاً “khush”, “khus”, “khosh” — تینوں کا مطلب “خوش” ہے مگر تلفظ میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔یہی بے قاعدگی رفتہ رفتہ تلفظ، املاء اور لسانی معیار کو متاثر کر رہی ہے۔
جب نوجوان نسل روزمرہ تحریر میں رومن اردو استعمال کرتی ہے تو ان کی اردو رسم الخط سے دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔وہ اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے میں کمزور ہو جاتے ہیں۔نتیجتاً وہ نہ اردو ادب سے صحیح طور پر لطف اٹھا پاتے ہیں، نہ اس کے فکری سرمائے کو سمجھ سکتے ہیں۔یہی صورتِ حال اردو کے زوال کا باعث بن رہی ہے۔
اردو ادب کی اصل روح اس کے رسم الخط میں پوشیدہ ہے۔ میر، غالب، اقبال، فیض اور دیگر شعرا کی تحریری خوبصورتی ان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ نستعلیق کی نرمی اور روانی میں ہے۔جب رومن رسم الخط میں اردو لکھی جاتی ہے تو اس کی ادبی لطافت ماند پڑ جاتی ہے۔یوں نئی نسل اپنی ادبی و تہذیبی شناخت سے کٹتی جا رہی ہے۔
رومن اردو نے املاء اور قواعد دونوں کو متاثر کیا ہے۔کسی لفظ کی درست شکل معلوم نہ ہونے کے سبب لوگ غلط املا کے عادی بن گئے ہیں۔مثلاً “Zindagi”, “Zendagee”, “Zindagee” سب ایک ہی لفظ کی مختلف شکلیں ہیں۔یہ غیر معیاری تحریر اردو زبان کے قواعدی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔
اردو صرف زبان نہیں، بلکہ ہندو مسلم تہذیب کی علامت ہے۔رومن اردو کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نہ صرف زبان کی اصل شکل متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے ہماری ثقافتی شناخت بھی کمزور پڑ رہی ہے۔اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والی نسلیں اردو کو محض بولی کی صورت میں جانیں گی، تحریری ورثے سے ناواقف رہیں گی۔
اردو رسم الخط سے دوری کا اثر تعلیمی سطح پر بھی پڑ رہا ہے۔بہت سے طلبہ اردو میں امتحان دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ رومن انداز میں لکھنے کے عادی ہیں۔یہ رجحان علمی پستی اور زبان سے بیگانگی کو جنم دے رہا ہے۔
اگرچہ سوشل میڈیا پر اردو رسم الخط لکھنا کچھ مشکل لگتا ہے، مگر آج بے شمار اردو کی بورڈ ایپس اور صوتی ان پٹ (Voice Input) سہولیات دستیاب ہیں۔ان کی مدد سے نستعلیق اردو میں لکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور ادبی ادارے نئی نسل کو اردو رسم الخط کی طرف واپس لانے کی منظم کوششیں کریں۔
رومن اردو کا ظاہری فائدہ وقتی اور سہولت پر مبنی ہے، لیکن اس کے اثرات دیرپا اور منفی ہیں۔یہ نہ صرف ہماری زبان کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے بلکہ تہذیبی و فکری رشتے کو بھی کمزور کر رہی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم رومن اردو کے بجائے اصل اردو رسم الخط کو فروغ دیں، تاکہ ہماری زبان اپنی خوبصورتی، معنویت اور وقار کے ساتھ زندہ رہے۔
رومن اردو سہولت تو دیتی ہے مگر اس کی قیمت لسانی کمزوری، ادبی بگاڑ اور تہذیبی نقصان کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔اردو کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنے رسم الخط کو اپنائیں اور اپنی نسلوں میں اس کے تئیں محبت و فخر پیدا کریں۔
اتوار، 16 نومبر، 2025
افسانچہ ماں
جمعہ، 14 نومبر، 2025
بچوں کا روشن مستقبل , یومِ اطفال کی اہمیت اور چچا نہرو کا پیغام
بدھ، 12 نومبر، 2025
مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن
مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن
الطاف آمبوری
1. مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت
مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد (1888ء – 1958ء) برصغیر کی تاریخ کے ان نادر روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، سیاسی عزم، اور علمی گہرائی سے ایک پورے عہد کی تشکیل اور رہنمائی کی۔ وہ بیک وقت ایک برجستہ عالمِ دین، ایک شعلہ بیاں صحافی، ایک کہنہ مشق انشا پرداز، اور ایک بے باک سیاسی رہنما تھے۔ ان کی زندگی ہندوستان کی تحریکِ آزادی، فکری بیداری اور قومی تعمیر کی کہانی ہے۔
مولانا آزاد کی پیدائش 1888ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے روایتی اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ انہوں نے صحافت کو عوامی بیداری اور سیاسی شعور پھیلانے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا ہفتہ وار اخبار 'الہلال' (1912ء) اپنے دلیرانہ اور انقلابی لب و لہجے کے باعث بہت جلد مقبول ہوا اور برطانوی سامراج کے خلاف سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔
آزاد نے تحریکِ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ قومیت کے پرزور حامی تھے اور انہوں نے ہمیشہ تقسیمِ ہند کی مخالفت کی۔ 1940ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور آزادی تک اس منصب پر فائز رہے۔ 'انڈیا وِنز فریڈم' ان کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ بھی بے مثال ہے، جس میں سب سے بڑا کارنامہ 'ترجمان القرآن' ہے اور دورانِ اسیری لکھے گئے خطوط کا مجموعہ 'غبارِ خاطر' اردو ادب کا ایک شاہکار ہے۔ ان کی عہد ساز شخصیت کا اثر آج بھی ہندوستان کی جمہوری، سیکولر اور تعلیمی روح میں جھلکتا ہے۔
2. مولانا ابوالکلام آزاد بطورِ وزیرِ تعلیم: عصری تعلیم کی بنیاد
آزادی کے بعد (15 اگست 1947ء سے 1958ء تک) مولانا آزاد نے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم کے طور پر ایک ایسا وژن پیش کیا جس نے جدید ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ملک علمی اور تکنیکی طور پر ترقی کرے۔
اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی:
* یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام (1953ء): یہ ایک ایسا بااختیار ادارہ تھا جس نے یونیورسٹیوں میں تعلیم، تحقیق اور معیار کو فروغ دینے کے لیے فنڈنگ کا ایک منظم نظام فراہم کیا۔
* انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs) کا سنگِ بنیاد: انہوں نے ملک کے پہلے آئی آئی ٹی (IIT Kharagpur) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا آغاز کیا۔
* ثانوی تعلیم کمیشن (1952-53ء): اس کی تشکیل تعلیمی نظام کے بنیادی مرحلے کی اصلاح کے لیے کی گئی۔
فنون، ثقافت اور تحقیق کا فروغ:
* ثقافتی اکیڈمیوں کا قیام: انہوں نے ادب، فنون اور ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے تین بڑی قومی اکیڈمیوں، یعنی ساہتیہ اکیڈمی، سنگیت ناٹک اکیڈمی، اور للت کلا اکیڈمی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔
* سائنسی ادارے: کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) جیسے اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی۔
مولانا آزاد نے بنیادی اور مفت تعلیم پر زور دیا اور خواتین کی تعلیم کو ملک کی ترقی کے لیے لازم سمجھا۔ ان کی یومِ پیدائش 11 نومبر کو پورے ملک میں قومی یومِ تعلیم (National Education Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔
3. متحدہ قومیت (Composite Nationalism) کے بارے میں ان کے نظریات
مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا نظریہ ان کی سیاسی فکر کا سنگ بنیاد اور ہندوستان کی آئینی روح کا عکاس ہے۔ یہ نظریہ اس بات پر مبنی تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ، خاص طور پر ہندو اور مسلمان، ایک مشترکہ جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔
تاریخی و سماجی وحدت:
* مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ نے ہندوستان میں ایک "مشترکہ زندگی" اور ایک "مشترکہ کلچر" کو جنم دیا ہے، جسے وہ "ہندوستانیت" کہتے ہیں۔
* ان کا مشہور قول تھا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور اس پر فخر ہے، لیکن وہ ایک ہندوستانی بھی ہیں اور ہندوستان کی تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔
مذہبی آزادی بمقابلہ قومی وحدت:
* انہوں نے دلیل دی کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے جبکہ قومیت کا تعلق سیاسی اور سماجی زندگی سے ہے۔
* وہ دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے اور تقسیم کو ایک "تاریخی غلطی" قرار دیتے تھے، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ تقسیم سے ہندوستان میں موجود کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔
مولانا کا نظریہ مذہبی رواداری اور تمام مذاہب کے احترام پر مبنی تھا۔ یہ نظریہ ہندوستانی جمہوریت کی اس روح کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت کثرت میں وحدت کو قومی زندگی کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔
پیر، 10 نومبر، 2025
افسانچہ: جنریشن زی
بدھ، 5 نومبر، 2025
ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج
ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج
الطاف آمبوری
تعارف
اردو زبان برصغیر کی روحانی، تہذیبی اور ادبی شناخت ہے۔ یہ زبان صدیوں کی تہذیبی آمیزش، علمی شعور اور محبت و رواداری کی آئینہ دار رہی ہے۔ جنوبی ہند خصوصاً ریاست تامل ناڈو میں اردو کا ایک روشن اور تابناک ماضی رہا ہے۔ یہاں کی قدیم درسگاہوں، شاعروں، ادیبوں اور اخبارات نے اردو کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں اردو کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں جو اس زبان کی بقا اور فروغ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
تاریخی پس منظر
تامل ناڈو میں اردو کی جڑیں نظامِ حیدرآباد، میسور اور دکن کے علمی مراکز سے جڑی ہوئی ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں چنئی، ویلور، مدورائی، تریچی، سیالم اور آمبور جیسے شہروں میں اردو اخبارات، مکتب اور انجمنیں قائم تھیں۔ تامل و مسلم تہذیب کے امتزاج نے اردو کو یہاں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی تعداد گھٹتی گئی، اور آج صرف چند مدارس و تنظیمیں اردو کے وجود کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
اردو زبان کو درپیش چیلنجز
1. تامل لازمی قانون اور اردو پر اس کے اثرات
ریاست تامل ناڈو میں "تامل لازمی قانون" (Tamil Compulsory Language Policy) کے نفاذ کے بعد اردو کے فروغ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس قانون کے مطابق، دسویں جماعت تک تمام طلبہ کے لیے تامل زبان کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں اردو کو صرف اختیاری مضمون (Optional Subject) کی حیثیت دے دی گئی ہے۔
بہت سے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ، جو پہلے اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھتے تھے، اب اسے صرف ضمنی یا تیسری زبان کے طور پر اختیار کر سکتے ہیں۔
اس پالیسی نے اردو کے تعلیمی دائرے کو محدود کر دیا ہے، کیونکہ طلبہ اور والدین عموماً لازمی مضامین پر توجہ دیتے ہیں جبکہ اختیاری زبانوں کو کم اہم سمجھتے ہیں۔
یہ صورتِ حال اردو کے تعلیمی فروغ اور طلبہ کی دلچسپی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔
2. تعلیمی اداروں میں زوال
ریاستی سطح پر اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کئی اضلاع میں پرائمری سطح سے آگے اردو ذریعہ تعلیم دستیاب نہیں۔ اس کمی کی وجہ سرکاری بے توجہی، افرادی قوت کی قلت، اور والدین کا رجحان انگریزی و تمل ذریعہ تعلیم کی طرف بڑھنا ہے۔
3. اساتذہ کی کمی
اردو اساتذہ کی تقرری میں تاخیر، ٹرانسفر پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال، اور مستقل تربیت کی کمی نے معیارِ تعلیم کو متاثر کیا ہے۔ اردو اساتذہ کو اکثر تمل اسکولوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں ان کی صلاحیتوں سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔
4. نصاب اور امتحانی نظام
اردو کو بطورِ مضمون شامل ضرور کیا گیا ہے، مگر نصاب میں جدت اور معیاری تدریسی مواد کی کمی ہے۔ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے جدید نصابی کتابوں، سرگرمی پر مبنی تعلیم اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔
5. حکومتی بے توجہی
ریاستی حکومت کی پالیسیوں میں اردو اکثر نظر انداز رہتی ہے۔ اردو اکیڈمی کے فنڈز محدود ہیں، مشاعرے اور علمی اجلاس کم ہوتے جارہے ہیں۔ کئی اضلاع میں اردو بورڈ یا سرکاری سائن بورڈ سے اردو رسم الخط غائب ہوتا جارہا ہے، جو ایک تشویشناک علامت ہے۔
6. والدین و طلبہ کا بدلتا رجحان
عصری تعلیم، روزگار اور مسابقتی امتحانات کے دباؤ نے والدین کو اردو سے دور کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، حالانکہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ اردو صحافت، تدریس، ترجمہ، ابلاغیات، اور عدالتی نظام میں آج بھی روزگار کے کئی دروازے کھلے ہیں۔
7. ابلاغی ذرائع میں کمزور موجودگی
تامل ناڈو میں اردو اخبارات، رسائل اور ٹی وی پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی موجودگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنی زبان سے جڑی رہے۔
کچھ مثبت پہلو
ان چیلنجوں کے باوجود چند روشن مثالیں امید کی کرن ہیں۔ مدراس یونیورسٹی، ویلور انسٹی ٹیوٹ، بانگی حیات اسکول آمبور، دارالعلوم سبیل السلام، اور مختلف دینی ادارے اردو کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح چنئی، وشارم، آمبور، وانمباڑی، ترپاتور، ترچی، سیلم، درم پوری اور کرشناگری جیسے شہروں میں کئی اردو ادبی انجمنیں سرگرم عمل ہیں جو مشاعروں، تقاریب اور علمی اجلاسوں کے ذریعے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔کئی نوجوان بلاگرز، یوٹیوبرز اور شاعر اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دے رہے ہیں۔سرکاری سطح پر بھی وقتاً فوقتاً اردو مشاعرے، سیمینار اور ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے۔
حل اور تجاویز
اردو میڈیم اسکولوں کی بحالی کے لیے ریاستی حکومت کو خصوصی اسکیمیں چلانی چاہئیں۔
تامل لازمی قانون میں نرمی کے ذریعے اردو کو دو لسانی نظام میں مساوی موقع دیا جائے۔
اردو اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔
نصاب میں جدیدیت اور سائنسی و تکنیکی مضامین کو اردو میں متعارف کرایا جائے۔
اردو ڈیجیٹل اکیڈمی قائم کی جائے تاکہ آن لائن کورسز، ای-کتب اور آڈیو دروس دستیاب ہوں۔
اردو و تمل دوستی پروگرام کے تحت بین اللسانی میل جول کو فروغ دیا جائے۔
اردو صحافت اور میڈیا کو سرکاری اشتہارات اور فنڈنگ میں ترجیح دی جائے۔
نتیجہ
تامل ناڈو میں اردو کو درپیش چیلنج سنگین ضرور ہیں، مگر ناقابلِ حل نہیں۔اگر حکومت، اساتذہ، والدین اور سماجی تنظیمیں مل کر کام کریں تو اردو کا مستقبل نہ صرف محفوظ بلکہ تابناک ہو سکتا ہے۔اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ، اور ایک احساس کی علامت ہے — جسے زندہ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے


