بدھ، 31 دسمبر، 2025

افسانچہ: نیا سال، نئی امیدازقلم : الطاف آمبوری

افسانچہ: نیا سال، نئی امید
ازقلم : الطاف آمبوری
 9952391661

بارہ بجے کی آخری ٹِک کے ساتھ پرانا سال خاموشی سے دروازہ بند کر کے چلا گیا۔ گلی میں کہیں پٹاخوں کی آواز آئی، کہیں موبائل کی اسکرین پر مبارک باد کے پیغامات چمکے۔ مگر اس کمرے میں صرف ایک چراغ جل رہا تھا، اور اس کے سامنے بیٹھا عادل اپنے بکھرے ہوئے خواب سمیٹ رہا تھا۔
گزرا ہوا سال اس کے لیے آسان نہ تھا۔ نوکری چھوٹ گئی، ایک قریبی رشتہ ٹوٹ گیا، اور اعتماد کہیں راستے میں رہ گیا۔ کیلنڈر بدلتے رہے مگر دل کا صفحہ خالی ہی رہا۔ وہ اکثر سوچتا، کیا سال بدلنے سے زندگی بھی بدل جاتی ہے؟
کھڑکی سے باہر دیکھا تو بارش کی ہلکی بوندیں گلی کی دھول دھو رہی تھیں۔ عادل کو اچانک یاد آیا کہ پچھلے سال بھی ایسی ہی بارش میں اس نے خود سے ایک وعدہ کیا تھا، جو نبھا نہ سکا۔ اس بار اس نے ڈائری کھولی، لمبی فہرست بنانے کے بجائے صرف ایک جملہ لکھا:
“میں ہار ماننے سے پہلے ایک بار اور کوشش کروں گا۔”
یہ جملہ سادہ تھا، مگر اس میں ضد بھی تھی اور دعا بھی۔ اسی لمحے اس کا فون بجا۔ ایک پرانا دوست، جس سے مہینوں بات نہ ہوئی تھی، نئے سال کی مبارک باد دینے کے لیے فون پر تھا۔ بات مختصر تھی مگر آواز میں اپنائیت تھی۔ عادل نے فون رکھا تو محسوس ہوا کہ دل کا بوجھ ذرا سا ہلکا ہو گیا ہے۔
نیا سال کوئی جادو نہیں کرتا، وہ جانتا تھا۔ مگر یہ ایک موقع ضرور دیتا ہے۔ خود کو دوبارہ سننے کا، ٹوٹے ہوئے حوصلے جوڑنے کا، اور یہ مان لینے کا کہ امید ختم نہیں ہوئی، بس خاموش تھی۔
چراغ کی لو تھوڑی تیز ہوئی۔ عادل نے ڈائری بند کی، کھڑکی بند کی، اور مسکرا کر کہا،
“خوش آمدید، نیا سال۔ اس بار ہم دونوں پوری کوشش کریں گے"

بدھ، 24 دسمبر، 2025

افسانچہ: بے لگام گھوڑا از قلم: الطاف آمبوری

افسانچہ: بے لگام گھوڑا 
از قلم: الطاف آمبوری 9952391661

گلی کے موڑ پر ہر شام ایک ہی شور اٹھتا تھا۔ فرقان اپنی موٹرسائیکل کو ایسے دھاڑتا ہوا نکالتا جیسے پوری بستی کو بتانا چاہتا ہو کہ وہ رفتار کا مالک ہے۔ اس کی ماں روزانہ سمجھاتی، مگر وہ مسکرا کر گھر سے نکل جاتا۔ اسے لگتا تھا کہ تیز چلانا ہی جوانی کی پہچان ہے۔
اس کا دوست فرحات کئی بار کہہ چکا تھا، *“فرقان، یہ موٹرسائیکل بے لگام گھوڑا نہیں۔ لگام ڈھیلی ہو تو دوڑاتا نہیں، گرا دیتا ہے۔”*
فرقان ہنسی میں بات ٹال دیتا۔
ایک رات بارش نے سڑک کو چمکا دیا تھا۔ فرقان پہلے سے زیادہ رفتار پر نکلا۔ موڑ آیا، رفتار نہیں رکی، بس ایک لمحے کی پھسلن، ایک بے اختیار جھٹکا اور پھر اندھیرا۔
ہوش آیا تو اسپتال کی صفائی سے بھری روشنی اور اس کی ماں کی بھیگی ہوئی آنکھیں سامنے تھیں۔ فرحات اس کے پاس بیٹھا خاموشی سے دعائیں پڑھ رہا تھا۔
چند ہفتوں بعد فرقان اسکول کے سامنے آہستہ آہستہ موٹرسائیکل چلاتا نظر آیا۔ ہیلمٹ پہنے، رفتار قابو میں، آنکھوں میں ایک نئی سنجیدگی۔
فرحات نے ہنستے ہوئے پوچھا، *“تو اب گھوڑا بے لگام نہیں رہا؟”*
فرقان نے ہلکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا، *“نہیں یار۔ اب لگام میرے ہاتھ میں ہے، اور عقل میرے ساتھ ہے۔”*
سبق وہی تھا، مگر سمجھ اب دل میں اتر چکی تھی۔ *نئی نسل کو رفتار نہیں، ذمہ داری مضبوط بناتی ہے۔ موٹرسائیکل تبھی ساتھ دیتی ہے جب سوار اپنی حد پہچان لے۔*

جمعرات، 18 دسمبر، 2025

افسانچہ “ڈیٹا ختم”

 


افسانچہ                             “ڈیٹا ختم

از: الطاف آمبوری

علی سارا دن بستر پر پڑا رییلز بناتا رہا۔

کبھی فلٹر بدلتا، کبھی ڈائیلاگ ریہرسل کرتا، اور کبھی ایک  ویڈیو دس بار دیکھ کر مطمئن ہو جاتا۔

ماں نے کچن سے آواز دی،

 علی! کتاب کب پڑھو گے؟

علی نے موبائل سے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا،

 امی، اب کتابیں کون پڑھتا ہے؟ سب کچھ تو پی ڈی ایف میں آ جاتا ہے!”

ماں نے گہری سانس لی اور بڑبڑائی،

 ہم نے تو کتابوں سے زندگی سیکھی تھی، یہ نسل اسکرین سے سیکھ رہی ہے۔

شام ہوئی۔

اچانک اسکرین فریز ہوئی۔

میوزک بند۔

علی نے چونک کر اوپر دیکھا۔

ایک لمحہ خاموشی۔

پھر موبائل کو ہلایا، نیٹ ورک آن آف کیا۔

مگر حقیقت سامنے آ چکی تھی.

ڈیٹا ختم۔

کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی، جیسے وقت بھی رک گیا ہو۔

پانچ منٹ بعد علی بے چینی سے اٹھ بیٹھا اور چیخ کر بولا،

 امی! میں بور ہو رہا ہوں!”

ماں مسکراتے ہوئے پاس آئی اور بولی،

 بیٹا، یہی تو اصل زندگی ہے، بغیر وائی فائی کے۔

چلو، آؤ باتیں کرتے ہیں… یا کتاب ہی کھول لیتے ہیں۔

علی نے پہلی بار موبائل میز پر رکھا۔

اور زندگی نے ایک لمحے کے لئے اسے آن لائن کر لیا۔

اتوار، 14 دسمبر، 2025

تعزیتی پیغام : انتقال پرملال حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ

 


 

تعزیتی پیغام

حضرت پیر ذوالفقار احمد نقشبندی رحمہ اللہ کے انتقال کی خبر سن کر دل بے حد رنجیدہ ہے۔ آپ کا شمار اُن اکابرِ اہلِ دل میں ہوتا تھا جنہوں نے اپنی زندگی اصلاحِ نفس، تزکیۂ باطن اور سنتِ نبوی ﷺ کی اشاعت کے لیے وقف کر رکھی تھی۔ آپ کی صحبت، تعلیمات اور روحانی نسبت نے بے شمار لوگوں کی زندگیوں کو سنوارا۔

آپ کا اس دنیا سے رخصت ہو جانا بلاشبہ ایک بڑا روحانی خلا ہے، مگر اہلِ ایمان کے لیے یہ یقین باعثِ تسلی ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔

اللہ رب العزت مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور پسماندگان، مریدین اور متعلقین کو صبرِ جمیل عطا کرے۔

اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ

دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

 الطاف آمبوری

جمعرات، 11 دسمبر، 2025

بےچارہ میاں

🪶 افسانچہ: بےچارہ میاں
از : الطاف آمبوری

شام کا وقت تھا میاں صاحب دفتر سے تھکے ہارے گھر پہنچے۔
دروازہ کھولا تو بیگم سامنے کھڑی تھیں  چہرے پر مسکراہٹ کم اور سوالات زیادہ۔
"کہاں رہ گئے تھے؟ دفتر تو پانچ بجے بند ہو جاتا ہے!"
میاں نے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا،
"جی وہ... ٹریفک بہت تھا۔"
بیگم نے فوراً جواب دیا،
"ٹریفک تھا یا کیفے؟"
میاں نے دل ہی دل میں سوچا، ’کاش دفتر میں حاضری کے ساتھ واپسی کا ثبوت بھی ملتا۔‘
بیگم بولیں،
"چلو، آج میں نے تمہاری پسند کا کھانا بنایا ہے۔"
میاں کے چہرے پر خوشی کی لہر دوڑ گئی۔
"واہ! کیا بنایا ہے بیگم؟"
بیگم بولیں،
"کریلی کی سبزی!"
میاں نے زبردستی مسکرا کر کہا،
"بس یہی تو میری پسند ہے!"
بیگم نے فخریہ کہا،
"پتہ تھا تم یہی کہو گے، تم بہت سمجھدار ہو۔"
میاں نے دل ہی دل میں کہا،
’سمجھدار تو ہوں، مگر زندگی بھی سزا دار لگتی ہے

منگل، 2 دسمبر، 2025

اردو زبان و ادب میں جدید رجحانات

اردو زبان و ادب میں جدید رجحانات

از: الطاف آمبوری

تمہید

       اردو زبان و ادب نے برصغیر کی تہذیب، معاشرت اور فکری ارتقا کے ہر دور میں نئی کروٹیں لی ہیں۔ جدید زمانہ سائنس، ٹیکنالوجی، عالمی رابطوں، سیاسی و سماجی تبدیلیوں اور نئی جمالیاتی حسیت کا زمانہ ہے۔ انہی تبدیلیوں نے اردو زبان و ادب میں بھی کئی نئے رجحانات پیدا کیے جنہوں نے اس زبان کے اسلوب، موضوعات، بیانیہ، طرزِ اظہار اور فکری جہات کو نئی سمتیں عطا کیں۔ موجودہ عہد میں اردو ادب نہ صرف اپنے کلاسیکی ورثے سے جڑا ہوا ہے بلکہ عالمی ادب کے تیز بہاؤ کے ساتھ ہم قدم چلنے کی کوشش بھی کر رہا ہے۔

 1  ) اردو زبان میں جدید رجحانات

 1.1  ڈیجیٹلائزیشن اور آن لائن اردو

کمپیوٹر، موبائل اور انٹرنیٹ نے اردو زبان کی ترسیل، اشاعت اور تحفظ میں انقلاب برپا کر دیا ہے۔

یونی کوڈ کے بعد سوشل میڈیا، ای بکس، آن لائن لغات اور خودکار ترجمے نے نئی دنیا کے دروازے کھول دیے۔

یوٹیوب، پوڈکاسٹ، بلاگنگ اور آن لائن تدریس نے اردو کو نئی نسل میں مقبول بنایا ہے۔

 

1.2 زبان میں سادگی اور بیانیہ کا بدلتا انداز

جدید شہری زندگی کے تجربات نے زبان کو سہل نگاری کی طرف مائل کیا۔

پیچیدہ استعارات و تلمیحات کی جگہ روشن، سیدھی، مکالماتی زبان زیادہ استعمال ہونے لگی۔

 

1.3 دیگر زبانوں کے اثرات

گلوبلائزیشن نے انگریزی کے اثر کو بڑھایا۔

ہندی، تمل، پنجابی اور دیگر علاقائی زبانوں کی آمیزش سے اردو کی لغت میں کئی نئے الفاظ داخل ہوئے۔

ترجمے کی تحریک نے بین الاقوامی افکار کو اردو میں منتقل کیا۔

 

1.4 لسانی تحقیق، کارپس لنگویسٹکس اور نیٹ ورک مطالعات

جدید لسانیات کے اصول جیسے Corpus Linguistics, Pragmatics, Semantics اب اردو میں بھی رائج ہیں۔

یونیورسٹیوں میں اردو زبان کو سائنسی بنیادوں پر پرکھنے کا سلسلہ بڑھا ہے۔

 

2. اردو ادب میں جدید رجحانات

2.1 جدیدیت (Modernism)

1960 کے بعد ادب میں وجودی تنہائی، بے معنویت، بکھرتی اقدار، شکست و ریخت جیسے موضوعات نمایاں ہوئے۔

نثر میں انتظار حسین، انیس ناگی، انور سجاد اور شاعری میں میراجی، ن م راشد جدیدیت کے اہم ستون ہیں۔

علامت نگاری، اکہرویں بیانیہ، داخلی اسلوب جدیدیت کی خصوصیات ہیں۔

 

2.2 مابعد جدیدیت (Postmodernism)

حقیقت اور فکشن کے درمیان سرحدیں دھندلی ہوگئیں۔

کردار اور واقعہ کی مرکزیت ٹوٹ گئی۔

خالد جاوید، مشرف عالم ذوقی، شمس الرحمن فاروقی، عبداللہ حسین وغیرہ نمایاں نام ہیں۔

 

2.3 نئی کہانی اور نئے افسانے کے رجحانات

شہری اضطراب، فرد کی شکست، سماجی نابرابری، عورت کا وجود، طبقاتی تضاد، دہشت گردی، اور انسانی حقوق اہم موضوعات ہیں۔

فکشن میں نفسیاتی تجزیہ، علامتی کہانیاں، تجرباتی بیان عام ہو چکے ہیں۔

 

2.4 خواتین ادب کا ابھار

بانو قدسیہ، عصمت چغتائی، قرۃالعین حیدر کے بعدنئی نسل میں کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ حنا، عذرا عباس، نور الہدی شاہ نے نمایاں حصہ ڈالا۔عورت اپنے وجود، شناخت، آزادی اور فکری قوت کے ساتھ ادب میں مضبوط آواز بن کر سامنے آئی۔

 

2.5 اردو ناول میں نئے زاویے

تاریخی، سماجی، ثقافتی اور نفسیاتی ناولوں کی نئی جہتیں سامنے آئیں۔جدید شہری زندگی، شناخت کا بحران، مغربی اثرات، مذہبی تجربات، جنگ و دہشت گردی کے اثرات ناول کا حصہ بنے۔خالد جاوید، محمد حمید شاہد، مشرف عالم ذوقی، رحمان عباس نمایاں مثالیں۔

 

2.6 نئی نظم اور آزاد نظم کی توسیع

صنفی قدغنیں ختم ہو رہی ہیں۔نظم کی شکلیں: آزاد نظم، نثری نظم، بصری نظم، ہائیکو، نظم مختصرہ وغیرہ نے ادب کو نئی تازگی دی۔شاعر اپنے داخلی تجربات کو جدید علامتوں کے ساتھ پیش کر رہے ہیں۔

 

2.7 مزاحمتی ادب

جمہوری، سیاسی اور سماجی بے چینی نے مزاحمتی شاعری و نثر کو طاقت دی۔

ترقی پسند تحریک کا اثر آج بھی ادب پر موجود ہے۔

 

2.8 اردو ڈرامہ اور میڈیا ادب

ٹی وی، ریڈیو، ویب سیریز اور اسٹیج ڈرامے نے ادب کی نئی صورتیں پیدا کیں۔

مکالمے کی جدید تکنیک، کیمرائی حقیقت، سوشل میڈیا مواد نے بیانیہ بدل دیا۔

 

 3. عالمی تناظر میں اردو ادب

عالمی کانفرنسوں، تراجم، نیٹ پر موجود مواد نے اردو ادب کو Universal Context دیا۔

اردو ناول اور شاعری کا دیگر زبانوں میں ترجمہ بڑھا ہے، جس سے اردو کا عالمی وجود مضبوط ہوا۔

4. جدید رجحانات کے مثبت اور منفی اثرات

مثبت اثرات

نئی تخلیقی آزادی

موضوعات کا تنوع

عالمی افکار سے ربط

نوجوان نسل کی دلچسپی میں اضافہ

تحقیق اور تنقید میں وسعت

منفی اثرات

زبان میں حد سے زیادہ انگریزی کا دباؤ

تحریری معیار میں کمی

سوشل میڈیا اسلوب کی وجہ سے لسانی بگاڑ

ادب میں سطحیت اور کم مطالعہ

 

5. نتیجہ

       اردو زبان و ادب کی تاریخ تبدیلیوں سے عبارت ہے۔ موجودہ دور کے جدید رجحانات نے اردو کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جہاں وہ نہ صرف اپنی تہذیبی جڑوں کو مضبوط رکھ سکتی ہے بلکہ عالمی ادب کے ہم رُتبہ بھی ہو سکتی ہے۔مستقبل میں اردو کے سامنے سب سے بڑا چیلنج معیار، تحقیق اور تدریسی بنیادوں کو مضبوط بنانا ہے۔ تاہم وسعتِ نظر اور سائنسی سوچ کے ساتھ اردو ادب کا مستقبل روشن دکھائی دیتا ہے۔

جمعہ، 28 نومبر، 2025

تعزیتی پیغام آہ عزیز بلگامی

تعزیتی پیغام
از: الطاف آمبوری
بڑے دکھ اور گہرے صدمے کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب اور ہمارے مخلص دوست جناب عزیز بلگامی صاحب آج بروز جمعہ 28 نومبر 2025 صبح بنگلور میں فجر کے بعد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
​اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
​ان کی رحلت شاعری اور اُردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک سچے اور کھرے انسان تھے، جن کا کلام ان کی شخصیت کا عکس تھا—پاکیزہ، باوقار، اور فکرمند۔
عزیز بلگامی صاحب نے اپنے کلام اور علم سے جو ادبی ورثہ چھوڑا ہے اور ان کی علمی خدمات اور مشاعروں میں ان کی روشن موجودگی یقیناً ایک صدقۂ جاریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی آمدِ مدراس، آمبور اور عمرآباد کے مشاعروں کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ جب بھی وہ آمبور تشریف لاتے، مجھ ناچیز الطاف آمبوری سے جس محبت، خلوص اور اپنائیت سے ملتے تھے، وہ لہجے کی نرمی اور نظر کی شفقت ہمیشہ دل کو گرماتی رہے گی۔
​اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے اہل خانہ، تمام محبین،  کے لۓ یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔ 
آمین

منگل، 25 نومبر، 2025

احساسِ کمتری

 احساسِ کمتری
( افسانچہ)
الطاف آمبوری



 

وہ برسوں آئینے سے نظریں چراتا رہا۔ اسے یوں لگتا تھا جیسے آئینہ اس کی کمزوریاں گناتا ہے جیسے ہر خاکہ، ہر سایہ اس کے وجود کے خلاف گواہی ہے۔
ایک دن اس نے ہمت کرکے خود کو غور سے دیکھا۔ عجیب حقیقت سامنے آئی:
آئینہ کبھی بولتا ہی نہیں
ساری آوازیں اس کے اپنے اندر سے آتی تھیں۔
اسے پہلی بار احساس ہوا کہ دنیا نے نہیں، اس کی اپنی سوچ نے اسے چھوٹا کیا تھا۔ انسان جب خود کو کمتر سمجھ لے تو پوری کائنات بھی اسے بلند نہیں کرسکتی؛ اور جب وہ خود کو پہچان لے تو دنیا کی کوئی ٹھوکر اسے گرا نہیں سکتی۔
اس نے آئینے پر ہاتھ پھیرا اور آہستہ سے کہا:
"میں وہی ہوں، جو خود کو سمجھتا ہوں۔"
اور اس دن کے بعد آئینہ خاموش نہیں لگا
بلکہ دوست سا محسوس ہوا،
کیونکہ آخرکار وہ اپنے دشمن سے آزاد ہوگیا تھا:
اپنی ہی نگاہ سے۔

جمعہ، 21 نومبر، 2025

جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے

 



 

جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے

تحریر: الطاف آمبوری

      اردو زبان برصغیر کی تہذیب، ثقافت اور ادبی میراث کی خوبصورت علامت ہے۔ اس کی دلکشی صرف اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے رسم الخط (لکھنے کے انداز) میں بھی پنہاں ہے۔ اردو کا نستعلیق رسم الخط نہ صرف جمالیاتی لحاظ سے حسین ہے بلکہ معنوی گہرائی اور لسانی ربط کا مظہر بھی ہے۔ مگر حالیہ دور میں ڈیجیٹل ذرائع اور سوشل میڈیا کی عام رواج نے اردو کے اصل رسم الخط کے بجائے رومن اردو کے استعمال کو فروغ دیا ہے، جو زبان و ادب دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

      رومن اردو سے مراد وہ طرزِ تحریر ہے جس میں اردو کے الفاظ انگریزی حروفِ تہجی میں لکھے جاتے ہیں۔ مثلاً:"Main theek hoon" بجائے "میں ٹھیک ہوں" کے۔

      ابتدائی طور پر رومن اردو کا استعمال صرف آسانی کے لئے کیا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے، خصوصاً نئی نسل میں۔ رومن اردو میں الفاظ کی ادائیگی کا کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہوتا۔ ایک ہی لفظ مختلف لوگ مختلف انداز میں لکھتے ہیں۔مثلاً “khush”, “khus”, “khosh” — تینوں کا مطلب “خوش” ہے مگر تلفظ میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔یہی بے قاعدگی رفتہ رفتہ تلفظ، املاء اور لسانی معیار کو متاثر کر رہی ہے۔

      جب نوجوان نسل روزمرہ تحریر میں رومن اردو استعمال کرتی ہے تو ان کی اردو رسم الخط سے دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔وہ اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے میں کمزور ہو جاتے ہیں۔نتیجتاً وہ نہ اردو ادب سے صحیح طور پر لطف اٹھا پاتے ہیں، نہ اس کے فکری سرمائے کو سمجھ سکتے ہیں۔یہی صورتِ حال اردو کے زوال کا باعث بن رہی ہے۔

      اردو ادب کی اصل روح اس کے رسم الخط میں پوشیدہ ہے۔ میر، غالب، اقبال، فیض اور دیگر شعرا کی تحریری خوبصورتی ان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ نستعلیق کی نرمی اور روانی میں ہے۔جب رومن رسم الخط میں اردو لکھی جاتی ہے تو اس کی ادبی لطافت ماند پڑ جاتی ہے۔یوں نئی نسل اپنی ادبی و تہذیبی شناخت سے کٹتی جا رہی ہے۔

      رومن اردو نے املاء اور قواعد دونوں کو متاثر کیا ہے۔کسی لفظ کی درست شکل معلوم نہ ہونے کے سبب لوگ غلط املا کے عادی بن گئے ہیں۔مثلاً “Zindagi”, “Zendagee”, “Zindagee” سب ایک ہی لفظ کی مختلف شکلیں ہیں۔یہ غیر معیاری تحریر اردو زبان کے قواعدی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔

اردو صرف زبان نہیں، بلکہ ہندو مسلم تہذیب کی علامت ہے۔رومن اردو کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نہ صرف زبان کی اصل شکل متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے ہماری ثقافتی شناخت بھی کمزور پڑ رہی ہے۔اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والی نسلیں اردو کو محض بولی کی صورت میں جانیں گی، تحریری ورثے سے ناواقف رہیں گی۔

      اردو رسم الخط سے دوری کا اثر تعلیمی سطح پر بھی پڑ رہا ہے۔بہت سے طلبہ اردو میں امتحان دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ رومن انداز میں لکھنے کے عادی ہیں۔یہ رجحان علمی پستی اور زبان سے بیگانگی کو جنم دے رہا ہے۔

      اگرچہ سوشل میڈیا پر اردو رسم الخط لکھنا کچھ مشکل لگتا ہے، مگر آج بے شمار اردو کی بورڈ ایپس اور صوتی ان پٹ (Voice Input) سہولیات دستیاب ہیں۔ان کی مدد سے نستعلیق اردو میں لکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور ادبی ادارے نئی نسل کو اردو رسم الخط کی طرف واپس لانے کی منظم کوششیں کریں۔

                                                        رومن اردو کا ظاہری فائدہ وقتی اور سہولت پر مبنی ہے، لیکن اس کے اثرات دیرپا اور منفی ہیں۔یہ نہ صرف ہماری زبان کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے بلکہ تہذیبی و فکری رشتے کو بھی کمزور کر رہی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم رومن اردو کے بجائے اصل اردو رسم الخط کو فروغ دیں، تاکہ ہماری زبان اپنی خوبصورتی، معنویت اور وقار کے ساتھ زندہ رہے۔

                                                  رومن اردو سہولت تو دیتی ہے مگر اس کی قیمت لسانی کمزوری، ادبی بگاڑ اور تہذیبی نقصان کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔اردو کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنے رسم الخط کو اپنائیں اور اپنی نسلوں میں اس کے تئیں محبت و فخر پیدا کریں۔