جمعرات، 18 دسمبر، 2025

افسانچہ “ڈیٹا ختم”

 


افسانچہ                             “ڈیٹا ختم

از: الطاف آمبوری

علی سارا دن بستر پر پڑا رییلز بناتا رہا۔

کبھی فلٹر بدلتا، کبھی ڈائیلاگ ریہرسل کرتا، اور کبھی ایک  ویڈیو دس بار دیکھ کر مطمئن ہو جاتا۔

ماں نے کچن سے آواز دی،

 علی! کتاب کب پڑھو گے؟

علی نے موبائل سے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا،

 امی، اب کتابیں کون پڑھتا ہے؟ سب کچھ تو پی ڈی ایف میں آ جاتا ہے!”

ماں نے گہری سانس لی اور بڑبڑائی،

 ہم نے تو کتابوں سے زندگی سیکھی تھی، یہ نسل اسکرین سے سیکھ رہی ہے۔

شام ہوئی۔

اچانک اسکرین فریز ہوئی۔

میوزک بند۔

علی نے چونک کر اوپر دیکھا۔

ایک لمحہ خاموشی۔

پھر موبائل کو ہلایا، نیٹ ورک آن آف کیا۔

مگر حقیقت سامنے آ چکی تھی.

ڈیٹا ختم۔

کمرے میں عجیب سی خاموشی چھا گئی، جیسے وقت بھی رک گیا ہو۔

پانچ منٹ بعد علی بے چینی سے اٹھ بیٹھا اور چیخ کر بولا،

 امی! میں بور ہو رہا ہوں!”

ماں مسکراتے ہوئے پاس آئی اور بولی،

 بیٹا، یہی تو اصل زندگی ہے، بغیر وائی فائی کے۔

چلو، آؤ باتیں کرتے ہیں… یا کتاب ہی کھول لیتے ہیں۔

علی نے پہلی بار موبائل میز پر رکھا۔

اور زندگی نے ایک لمحے کے لئے اسے آن لائن کر لیا۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں