althafamburi الطاف آمبوری
معلم،ادیب خادم اردو فون 9952391661
اتوار، 19 جولائی، 2026
بارش کیسے برستی ہے؟ آبی چکر کی پیچیدہ سائنس اور کائناتی نظام
ہفتہ، 20 جون، 2026
*یومِ والد (Father's Day): عظمتِ پدر اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار
بدھ، 17 جون، 2026
مثبت ذہن روشن مستقبل از: الطاف آمبوری
مثبت ذہن روشن مستقبل
(Mindset Makes Success)
ذہنیت کیا ہے؟
ذہنیت دراصل وہ اندازِ فکر ہے جس کے ذریعے آپ اپنے اور اپنی زندگی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ ایک مثبت اور اچھی ذہنیت انسان کو آگے بڑھنے اور زندگی میں کامیاب ہونے میں مدد دیتی ہے۔ اگر آپ کو خود پر اور اپنی صلاحیتوں پر یقین ہو، تو اس بات کا امکان بہت بڑھ جاتا ہے کہ آپ آگے بڑھ کر کوشش کریں گے۔ مثبت سوچ انسان کو اندرونی طاقت اور امید فراہم کرتی ہے۔ جب بھی زندگی میں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، تو ایک مضبوط ذہنیت انسان کو پرسکون رکھتی ہے اور اسے کبھی بھی ہار نہ ماننے کا حوصلہ دیتی ہے۔
بڑی سوچ اور مستقبل کی تبدیلی
اچھی اور تعمیری ذہنیت کے حامل لوگ اپنی غلطیوں سے گھبرانے کے بجائے ان سے سبق سیکھتے ہیں، اور وہ دوبارہ کوشش کرنے سے کبھی نہیں ڈرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ کی ذہنیت آپ کا مستقبل بدلنے کی طاقت رکھتی ہے۔ اگر آپ کی سوچ چھوٹی ہوگی، تو آپ کی زندگی بھی محدود رہے گی، لیکن اگر آپ بڑا سوچیں گے تو آپ بڑی اور نمایاں کامیابیوں کو حاصل کرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ کامیابی کے لیے سخت محنت بلاشبہ بہت اہم ہے، لیکن اس کا آغاز ہمیشہ ایک مضبوط ذہنیت سے ہوتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ انسان کو اپنے اہداف اور مقاصد پر پورا یقین ہو۔
مضبوط ذہنیت کے حصول کے طریقے
اپنے ذہن کو مضبوط بنانے اور کامیابی حاصل کرنے کے لیے درج ذیل باتوں پر عمل کرنا ضروری ہے:
توجہ کی لائحہ عمل: ہمیشہ اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں اور منفی خیالات کو اپنے ذہن پر حاوی نہ ہونے دیں۔
اچھی عادات: روزمرہ کی اچھی عادات ایک بہترین اور مضبوط ذہنیت کی بنیاد بنتی ہیں۔
مثبت ماحول: اپنے آپ کو ہمیشہ ایسے لوگوں کے درمیان رکھیں جو مثبت سوچ رکھتے ہوں اور آپ کی حوصلہ افزائی کریں۔
حل تلاش کرنا: جب بھی کوئی مشکل سامنے آئے تو مسائل کا رونے رونے کے بجائے ہمیشہ ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔
مسلسل سیکھنا اور صبر: ہر گزرتے دن کے ساتھ کچھ نیا سیکھتے رہیں اور خود میں بہتری لائیں۔ اس پورے سفر میں صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور اپنی محنت کے عمل پر پورا بھروسہ رکھیں۔
نتیجہ (Conclusion)
آخر میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ اگر انسان کی ذہنیت درست اور مثبت ہو، تو دنیا کا کوئی بھی ہدف ناممکن نہیں رہتا اور ہر کامیابی انسان کے لیے ممکن ہو جاتی ہے۔
بدھ، 20 مئی، 2026
*تامل ناڈو: دسویں جماعت کے نتائج کا اعلان، کامیابی کا تناسب 94.31 فیصد، طالبات پھر بازی لے گئیں*
منگل، 19 مئی، 2026
لے آف (Access Denied)
منگل، 24 مارچ، 2026
افسانچہ : الوداع اے ماہِ منور از: الطاف آمبوری
ہفتہ، 7 مارچ، 2026
عالمی یوم خواتین 8/مارچ 2026 کےموقع پر میرؔبیدری، بیدر،کرناٹک
جمعہ، 6 مارچ، 2026
افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں
*افسانچہ :بھوک کا کوئی کیلنڈر نہیں*
از: *الطاف آمبوری* فون: 9952391661
رمضان کا مقدس مہینہ اپنے اختتام کو پہنچ چکا تھا۔ حاجی صاحب کی حویلی پر پورے تیس دن عجب رونق اور گہما گہمی رہی تھی۔ زکوٰۃ کی تقسیم، راشن کے بڑے بڑے تھیلے، افطاری کے وسیع دسترخوان... ان کے دروازے سے کوئی سائل اور کوئی ضرورت مند خالی ہاتھ نہیں لوٹتا تھا۔ چاند رات کو جب انہوں نے اپنا حساب کتاب مکمل کیا تو ایک طویل اور اطمینان بخش سانس لیا۔ انہیں فخر تھا کہ اس سال بھی انہوں نے غریبوں کا حق پوری دیانتداری سے ادا کر دیا ہے۔
عید کی خوشیاں گزرے ابھی بمشکل دو ہفتے ہی بیتے تھے اور شہر کی فضا دوبارہ اپنی پرانی روٹین میں آ چکی تھی۔ ایک دوپہر کڑی دھوپ میں ایک ضعیف عورت، جس کے کپڑوں پر پیوند اور چہرے پر فاقوں کی تحریر واضح تھی، جھجکتے ہوئے حاجی صاحب کے صدر دروازے پر آ کھڑی ہوئی۔ اس نے کانپتے ہاتھوں سے دروازہ کھٹکھٹایا اور چوکیدار سے منت بھرے لہجے میں چند دن کے راشن کی درخواست کی۔
چوکیدار نے اسے اوپر سے نیچے تک دیکھا، ماتھے پر بل ڈالے اور ہاتھ ہلا کر بولا، "اماں! کہاں آ گئی ہو؟ رمضان ختم ہو گیا۔ حاجی صاحب کی جتنی خیرات بٹنی تھی، وہ بٹ گئی۔ اب تو اگلے سال ہی باری آئے گی، جاؤ یہاں سے!"
عورت کی جھریوں زدہ آنکھوں میں بے بسی کے آنسو تیر گئے۔ اس نے اپنے سوکھے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری، ایک ٹھنڈی آہ بھری اور ایک ایسا جملہ کہا جس نے وہاں کی فضا کو بوجھل کر دیا:
"بیٹا! تم سچ کہتے ہو کہ رمضان ختم ہو گیا ہے، مگر کیا غریب کا پیٹ صرف رمضان میں خالی ہوتا ہے؟ ہماری بھوک کا تو کوئی کیلنڈر نہیں ہوتا..."
حاجی صاحب، جو اتفاق سے لان میں کھڑے یہ سب سن رہے تھے، ان کے قدم وہیں جم گئے۔ وہ جملہ ان کی روح میں کسی نشتر کی طرح اتر گیا تھا۔ انہیں اچانک اس تلخ حقیقت کا ادراک ہوا کہ نیکی کی کوئی میعاد نہیں ہوتی۔ بھوک، افلاس اور بے بسی چاند دیکھ کر نہ تو پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی ختم ہوتی ہے۔
وہ تیزی سے آگے بڑھے، چوکیدار کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور اس ضعیف ماں کو پورے احترام کے ساتھ اندر لے آئے۔ اس کی ضرورت پوری کی اور اسے یقین دلایا کہ اب اسے کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹنا پڑے گا۔
اس دن کے بعد حاجی صاحب کی حویلی کا دروازہ بے کسوں اور غریبوں کے لیے سال کے بارہ مہینے کھل گیا۔ انہیں سمجھ آ گئی تھی کہ رمضان تو نیکی کی محض تربیت کا مہینہ ہے، ہمدردی اور ایثار کا اصل امتحان تو رمضان گزرنے کے بعد شروع ہوتا ہے۔