ہفتہ، 20 جون، 2026

*یومِ والد (Father's Day): عظمتِ پدر اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار

*یومِ والد (Father's Day): عظمتِ پدر اور اسلامی تعلیمات کا آئینہ دار*
از: الطاف احمد آمبوری
9952391661
​والد ایک ایسا گھنا اور سایہ دار درخت ہے جو خود دھوپ میں جلتا ہے لیکن اپنے بچوں کو ہمیشہ ٹھنڈی چھاؤں فراہم کرتا ہے۔ وہ خاندان کا وہ ستون ہے جس پر پورے گھرانے کا سکون، تحفظ اور وقار قائم ہوتا ہے۔ ہر سال جون کے تیسرے اتوار کو دنیا بھر میں "یومِ والد" منایا جاتا ہے تاکہ اس عظیم ہستی کی قربانیوں، محبت اور محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا جا سکے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ والد کی عظمت کسی ایک مخصوص دن کی محتاج نہیں ہے۔
​​اسلام دینِ فطرت ہے، جس نے رشتوں کے حقوق اور ان کے احترام کو ایمان کا حصہ بنایا ہے۔ جہاں قرآن و حدیث میں ماں کے قدموں تلے جنت بتائی گئی ہے، وہاں والد کو "جنت کا دروازہ" قرار دیا گیا ہے۔
​جنت کا بہترین دروازہ: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
​"والد جنت کے دروازوں میں سے سب سے بہترین دروازہ ہے، اب تمہاری مرضی ہے کہ (اس کی نافرمانی کر کے) اس دروازے کو ضائع کر دو یا (اس کی فرمانبرداری کر کے) اسے محفوظ رکھو۔" (جامع ترمذی)
​اللہ کی رضا والد کی رضا میں: ایک اور جگہ ارشادِ نبوی ﷺ ہے کہ:
​"اللہ کی رضا والد کی رضا مندی میں ہے اور اللہ کی ناراضگی والد کی ناراضگی میں ہے۔" (ترمذی)
​قرآنِ کریم کی تاکید: اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں اپنی عبادت کے فوراً بعد والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کا حکم دیا ہے:
​"اور تمہارے پروردگار نے ارشاد فرمایا ہے کہ اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرتے رہو۔" (سورہ بنی اسرائیل: 23)
حتیٰ کہ والدین کو اف تک کہنے سے روکا گیا ہے، جو اس بات کی دلیل ہے کہ والد کا احترام اور اس کی خدمت ہر حال میں لازم ہے۔
​ایک باپ اپنی اولاد کی تربیت، تعلیم اور حلال رزق کمانے کے لیے دن رات سخت محنت کرتا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کا گلا گھونٹ کر بچوں کے خوابوں کو پورا کرتا ہے۔ اسلام باپ کے اسی مخلصانہ کردار کو سراہتا ہے اور اولاد کو اس کا فرمانبردار بننے کی تاکید کرتا ہے۔

​مغربی تہذیب میں سال کا ایک دن کسی رشتے کے نام کر دینا شاید ان کے معاشرتی ڈھانچے کے لحاظ سے مناسب ہو، جہاں بچے جوان ہوتے ہی والدین سے الگ ہو جاتے ہیں۔ لیکن ہماری اسلامی اور مشرقی اقدار میں ہر دن ہی یومِ والد ہے۔
​ ایک سچے مسلمان اور اچھے انسان کے لیے صبح کا آغاز والد کے چہرے کی زیارت اور ان کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔ ہم کسی ایک دن تحفہ دے کر یا سوشل میڈیا پر تصویر لگا کر والد کے احسانات کا حق ادا نہیں کر سکتے۔
​والد کی خدمت، ان سے محبت کا اظہار، ان کی نصیحتوں پر عمل اور ان کے آرام کا خیال رکھنا ہماری روزمرہ کی زندگی کا معمول ہونا چاہیے۔ سال کے 365 دن ہی باپ کی شفقت کے سائے کو غنیمت جاننا اور ان کا شکر گزار ہونا اصل محبت ہے۔

​اسلام کی خوبصورتی یہ ہے کہ یہ صرف زندگی تک ہی والد کے حقوق تک محدود نہیں رہتا، بلکہ ان کے انتقال کے بعد بھی اولاد کو ان کے لیے بہترین تحفہ بھیجنے کا طریقہ سکھاتا ہے۔
جب انسان دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال کا سلسلہ بند ہو جاتا ہے، سوائے تین چیزوں کے، جن میں سے ایک "نیک اولاد ہے جو اس کے لیے دعا کرے"۔
​والد کے دوستوں کا احترام: اسلام نے یہ بھی سکھایا کہ والد کے دنیا سے جانے کے بعد ان کے دوستوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسنِ سلوک کیا جائے، یہ بھی والد کے ساتھ وفاداری اور محبت کی ایک شکل ہے۔
​والد اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ وہ بے مثل نعمت ہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں ہے۔ یومِ والد منانے کا اصل مقصد یہ ہونا چاہیے کہ ہم اپنے اندر اس احساس کو بیدار کریں کہ ہم اپنے والد کے لیے کتنے فرمانبردار ثابت ہو رہے ہیں۔
​آئیے آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم نہ صرف آج بلکہ اپنی زندگی کے ہر دن کو اپنے والد کے لیے خاص بنائیں گے، ان کی نافرمانی سے بچیں گے، ان کی ضعیفی میں ان کا سہارا بنیں گے اور ہمیشہ ان کے سامنے سرِ تسلیم خم رکھیں گے۔ کیونکہ باپ کی خوشنودی ہی میں دنیا کی کامیابی اور آخرت میں جنت کی ضمانت ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں