اتوار، 19 جولائی، 2026

بارش کیسے برستی ہے؟ آبی چکر کی پیچیدہ سائنس اور کائناتی نظام

بارش کیسے برستی ہے؟ آبی چکر کی پیچیدہ سائنس اور کائناتی نظام
تحقیق و ترتیب:
طارق اقبال سوہدروی

کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ اربوں ٹن وزنی پانی بادلوں کی صورت میں ہمارے سروں پر کیسے تیرتا رہتا ہے اور وہ سارا پانی ایک ہی دم زمین پر کیوں نہیں گر جاتا؟ ہم عام طور پر بارش کو محض پانی کا بخارات بن کر اڑنا اور پھر برس جانا سمجھتے ہیں، لیکن جدید موسمیاتی سائنس (Meteorology) بتاتی ہے کہ یہ ایک انتہائی پیچیدہ اور کائناتی توازن پر مبنی نظام ہے جس پر زمین کی حیات کا انحصار ہے۔

اس عظیم الشان نظام کی شروعات سورج کی تپش سے ہوتی ہے، جو سمندروں کے کھارے پانی کو صاف بخارات میں تبدیل کرتی ہے۔ فضا میں بلند ہونے والے یہ بخارات عام حالات میں بادل بننے کے لیے عموماً ہوا میں موجود دھول، سمندری نمک کے ذرات اور دھوئیں کے خردبینی ذرّات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان باریک ذرات کو سائنسی زبان میں 'کلاؤڈ کنڈینسیشن نیوکلیائی' (Cloud Condensation Nuclei) کہا جاتا ہے، جو پانی کے قطروں کو جڑنے کے لیے ایک بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

پانی کے بخارات ان ننھے ذرات کے گرد جمع ہو کر پانی کے انتہائی باریک قطرے بناتے ہیں۔ یہ ننھے قطرے بہت آہستہ نیچے کی طرف گرتے ہیں، جبکہ زمین کی سطح سے اوپر اٹھنے والی گرم ہوائیں (Updrafts) اور ہوا کی مزاحمت انہیں فضا میں معلق رکھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اتنا بھاری پانی بھی بادلوں کی شکل میں ہمارے سروں پر باآسانی تیرتا رہتا ہے۔

جوں جوں یہ بادل فضا میں مزید بلندی کی طرف دھکیلے جاتے ہیں، درجہ حرارت تیزی سے گرتا ہے۔ بلند بارشی بادلوں کے اوپری حصوں میں، جہاں درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے، پانی کے یہ قطرے برفانی کرسٹلز میں تبدیل ہونے لگتے ہیں۔ گہرے اور طوفانی بادلوں (Cumulonimbus) کے اندر شدید رگڑ سے برقی رو پیدا ہوتی ہے جو آسمانی بجلی کا سبب بنتی ہے۔ جب پانی کے یہ قطرے اور برف کے ذرات جڑ کر اتنے بھاری ہو جاتے ہیں کہ ہوائیں انہیں معلق نہ رکھ سکیں، تو یہ بارش یا ژالہ باری کی صورت میں برستے ہیں۔

قرآن مجید نے کائنات کے اس حیرت انگیز مظہر کو انتہائی فصیح انداز میں بیان کیا ہے تاکہ انسان اس نظام میں پوشیدہ حکمت پر غور کر سکے۔ سورۃ الروم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

اللَّهُ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ فَتُثِيرُ سَحَابًا فَيَبْسُطُهُ فِي السَّمَاءِ كَيْفَ يَشَاءُ وَيَجْعَلُهُ كِسَفًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ فَإِذَا أَصَابَ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ إِذَا هُمْ يَسْتَبْشِرُونَ
(سورۃ الروم: 48)

"اللہ ہی تو ہے جو ہوائیں بھیجتا ہے، پھر وہ بادل اٹھاتی ہیں، پھر وہ اسے آسمان میں جس طرح چاہتا ہے پھیلا دیتا ہے اور اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتا ہے، پھر تو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے اس کے درمیان سے نکلتے ہیں، پھر جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے انہیں برساتا ہے تو وہ یکایک خوش ہو جاتے ہیں۔"

اس آیت میں بادلوں کے لیے 'کِسَفًا' کا لفظ استعمال ہوا ہے، جس کا لغوی مفہوم بادلوں کے ٹکڑوں، جُھنڈوں یا ان کی تہہ دار ساخت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جدید موسمیاتی تحقیق بتاتی ہے کہ بارش بادل کے اندر ہونے والے پیچیدہ طبعی عمل کے نتیجے میں بنتی ہے، اور قرآن کی یہ آیت ایک مومن کو اس حیرت انگیز نظام میں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔

حاصلِ کلام
قرآن انسان کو کائنات کے مظاہر میں غور و فکر کی دعوت دیتا ہے، جبکہ جدید سائنس انہی مظاہر کو مشاہدے اور تجربے کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ دونوں زاویے ایک مومن کے لیے علم اور تدبر کے سفر کو مزید گہرا بنا سکتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں