افسانہ : لے آف (Access Denied)
*از: الطاف آمبوری*
9952391661
خالد کے لیے زندگی بائنری کوڈز کی طرح سادہ اور واضح تھی؛ زیرو یعنی ناکامی اور ون یعنی کامیابی۔ وہ شہر کے ایک بلند و بالا ٹاور کے پندرہویں فلور پر واقع ایک نامور آئی ٹی کمپنی میں سینیئر سافٹ ویئر انجینئر تھا۔ اس کا کیوبیکل اس کی چھوٹی سی کائنات تھی، جہاں وہ کوڈنگ کی صورت میں اپنے خواب بنتا تھا۔ اس نے قسطوں پر گاڑی لی تھی، ایک جدید اپارٹمنٹ کا بیعانہ دیا تھا اور اس کی آنکھوں میں بوڑھے ماں باپ کے لیے حج کا فریضہ اور اپنی چھوٹی بہن کی شادی کے رنگین خواب رقص کرتے تھے۔
پھر ایک اداس منگل کی صبح آئی۔ کافی کا مگ ہاتھ میں لیے جب وہ اپنے سسٹم پر لاگ ان ہونے لگا، تو اسکرین پر سرخ حروف میں ایک پیغام چمکا جس نے اسے ساکت کر دیا: "Access Denied"۔ پہلے اسے لگا کوئی تکنیکی خرابی ہے، لیکن جب اس نے اردگرد دیکھا تو پورا فلور ایک عجیب سی پراسرار خاموشی کی لپیٹ میں تھا۔ چند ہی لمحوں بعد ایچ آر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے موصول ہونے والی ای میل نے واضح کر دیا کہ عالمی کساد بازاری کا کلہاڑا خالد جیسے سینکڑوں نوجوانوں کے خوابوں پر چل چکا ہے۔ یہ "لے آف" کا بے رحم فیصلہ تھا۔
اگلے دو ہفتے خالد کے لیے کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہ تھے۔ وہ جو کل تک میٹنگز میں مستقبل کی منصوبہ بندی کرتا تھا، اب گھر کے ایک اندھیرے کمرے میں لیٹا چھت کو تکتا رہتا۔ موبائل پر بینک کی قسطوں کے پیغامات کسی تازیانے کی طرح لگتے۔ اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے وہ کسی گہرے منجھدھار میں پھنس گیا ہے جہاں دور دور تک کوئی کنارہ نظر نہیں آتا۔ دوستوں کی ہمدردیاں اسے زخموں پر نمک جیسی لگتی تھیں اور اسے اپنا وجود ایک بوجھ محسوس ہونے لگا تھا۔
ایک شام جب اس کی ماں نے خاموشی سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور کہا، "بیٹا، ہنر ہاتھ میں ہو تو رزق کے دروازے کبھی بند نہیں ہوتے، بس ہمت مت ہارنا،" تو خالد کو جیسے ایک نئی زندگی ملی۔ اس نے محسوس کیا کہ اس نے اپنی پہچان صرف ایک "ملازمت" سے جوڑ لی تھی، اپنے "ہنر" سے نہیں۔ اس نے اپنا لیپ ٹاپ اٹھایا، لیکن اس بار کسی کمپنی کو سی وی بھیجنے کے لیے نہیں، بلکہ اپنی صلاحیتوں کو ایک نئے رخ پر آزمانے کے لیے۔
خالد نے فری لانسنگ کی کٹھن دنیا میں قدم رکھا۔ شروع میں حالات انتہائی مشکل تھے۔ کبھی کبھی اسے پوری رات جاگ کر صرف چند ڈالرز کا کام کرنا پڑتا، کئی بار کلائنٹس کام مسترد کر دیتے اور کئی بار انٹرنیٹ کے بل دینے کے پیسے بھی مشکل سے جمع ہوتے۔ لیکن اب اس کے اندر ایک عجیب سی ضد پیدا ہو چکی تھی۔ اس نے اپنی مہارت کو مزید نکھارنا شروع کیا اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے جدید ڈھانچوں پر کام شروع کر دیا۔ اس کی میز پر اب بائنری کوڈز کے ساتھ ساتھ عزم و ہمت کی نئی داستانیں لکھی جا رہی تھیں۔
چھ ماہ کی کڑی محنت اور مسلسل جدوجہد کے بعد، خالد نے ایک ایسی ایپلی کیشن تیار کی جو چھوٹے کاروباری اداروں کے لیے سپلائی چین کا پیچیدہ مسئلہ حل کرتی تھی۔ یہ پراجیکٹ غیر متوقع طور پر کامیاب ہو گیا اور جلد ہی اسے ایک بین الاقوامی اسٹارٹ اپ سے بڑی سرمایہ کاری کی پیشکش موصول ہوئی۔
آج خالد دوبارہ اسی ٹاور کے سامنے کھڑا تھا جہاں سے اسے ایک سال پہلے بے دخل کیا گیا تھا۔ لیکن آج وہ وہاں کسی نوکری کی تلاش میں نہیں آیا تھا، بلکہ اسی عمارت کے ٹاپ فلور پر اپنے ذاتی دفتر کا افتتاح کرنے آیا تھا۔ اس نے تپتی دھوپ میں چمکتے ہوئے شیشوں کے ٹاور کو دیکھا اور مسکرا دیا۔ اسے سمجھ آ گئی تھی کہ سمندر کی لہریں اگر انسان کو ڈبو سکتی ہیں، تو ہاتھ پاؤں مارنے والے کو واپس کنارے پر لانا بھی جانتی ہیں۔ وہ منجھدھار سے نکل چکا تھا، اور اس بار اس کے ہاتھ میں اپنی کشتی کی پتوار خود تھی۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں