تعزیتی پیغام
از: الطاف آمبوری
بڑے دکھ اور گہرے صدمے کے ساتھ یہ خبر موصول ہوئی کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ شاعر، ادیب اور ہمارے مخلص دوست جناب عزیز بلگامی صاحب آج بروز جمعہ 28 نومبر 2025 صبح بنگلور میں فجر کے بعد اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
اِنَّا لِلّٰهِ وَاِنَّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ
ان کی رحلت شاعری اور اُردو ادب کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔ وہ ایک سچے اور کھرے انسان تھے، جن کا کلام ان کی شخصیت کا عکس تھا—پاکیزہ، باوقار، اور فکرمند۔
عزیز بلگامی صاحب نے اپنے کلام اور علم سے جو ادبی ورثہ چھوڑا ہے اور ان کی علمی خدمات اور مشاعروں میں ان کی روشن موجودگی یقیناً ایک صدقۂ جاریہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ان کی آمدِ مدراس، آمبور اور عمرآباد کے مشاعروں کی یادیں ہمیشہ تازہ رہیں گی۔ جب بھی وہ آمبور تشریف لاتے، مجھ ناچیز الطاف آمبوری سے جس محبت، خلوص اور اپنائیت سے ملتے تھے، وہ لہجے کی نرمی اور نظر کی شفقت ہمیشہ دل کو گرماتی رہے گی۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے، اور ان کے اہل خانہ، تمام محبین، کے لۓ یہ عظیم صدمہ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائے۔
آمین
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں