افسانچہ: جنریشن زی
*✒️از الطاف آمبوری*
کمرے میں بیٹھا عارف موبائل کی اسکرین پر نظریں جمائے تھا۔
ماں نے آواز دی، *“بیٹا کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے!”*
*“ہاں امی، ابھی آتا ہوں…”* مگر انگلیاں اسکرین سے نہ ہٹیں۔
امی نے مایوسی سے سر ہلایا، *“ہماری نسل باتوں سے جڑی تھی، یہ نسل بس نیٹ سے جڑی ہے۔”*
عارف نے پوسٹ پر لائک کیا، چیٹ میں ایک “lol” بھیجا مگر اپنے آس پاس کی خاموشی محسوس نہ کی۔
*نیٹ آن، رشتے آف۔ یہی تو ہے Gen Z کا المیہ*
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں