ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج
الطاف آمبوری
تعارف
اردو زبان برصغیر کی روحانی، تہذیبی اور ادبی شناخت ہے۔ یہ زبان صدیوں کی تہذیبی آمیزش، علمی شعور اور محبت و رواداری کی آئینہ دار رہی ہے۔ جنوبی ہند خصوصاً ریاست تامل ناڈو میں اردو کا ایک روشن اور تابناک ماضی رہا ہے۔ یہاں کی قدیم درسگاہوں، شاعروں، ادیبوں اور اخبارات نے اردو کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں اردو کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں جو اس زبان کی بقا اور فروغ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔
تاریخی پس منظر
تامل ناڈو میں اردو کی جڑیں نظامِ حیدرآباد، میسور اور دکن کے علمی مراکز سے جڑی ہوئی ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں چنئی، ویلور، مدورائی، تریچی، سیالم اور آمبور جیسے شہروں میں اردو اخبارات، مکتب اور انجمنیں قائم تھیں۔ تامل و مسلم تہذیب کے امتزاج نے اردو کو یہاں ایک منفرد مقام عطا کیا۔
تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی تعداد گھٹتی گئی، اور آج صرف چند مدارس و تنظیمیں اردو کے وجود کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
اردو زبان کو درپیش چیلنجز
1. تامل لازمی قانون اور اردو پر اس کے اثرات
ریاست تامل ناڈو میں "تامل لازمی قانون" (Tamil Compulsory Language Policy) کے نفاذ کے بعد اردو کے فروغ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس قانون کے مطابق، دسویں جماعت تک تمام طلبہ کے لیے تامل زبان کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں اردو کو صرف اختیاری مضمون (Optional Subject) کی حیثیت دے دی گئی ہے۔
بہت سے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ، جو پہلے اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھتے تھے، اب اسے صرف ضمنی یا تیسری زبان کے طور پر اختیار کر سکتے ہیں۔
اس پالیسی نے اردو کے تعلیمی دائرے کو محدود کر دیا ہے، کیونکہ طلبہ اور والدین عموماً لازمی مضامین پر توجہ دیتے ہیں جبکہ اختیاری زبانوں کو کم اہم سمجھتے ہیں۔
یہ صورتِ حال اردو کے تعلیمی فروغ اور طلبہ کی دلچسپی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔
2. تعلیمی اداروں میں زوال
ریاستی سطح پر اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کئی اضلاع میں پرائمری سطح سے آگے اردو ذریعہ تعلیم دستیاب نہیں۔ اس کمی کی وجہ سرکاری بے توجہی، افرادی قوت کی قلت، اور والدین کا رجحان انگریزی و تمل ذریعہ تعلیم کی طرف بڑھنا ہے۔
3. اساتذہ کی کمی
اردو اساتذہ کی تقرری میں تاخیر، ٹرانسفر پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال، اور مستقل تربیت کی کمی نے معیارِ تعلیم کو متاثر کیا ہے۔ اردو اساتذہ کو اکثر تمل اسکولوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں ان کی صلاحیتوں سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔
4. نصاب اور امتحانی نظام
اردو کو بطورِ مضمون شامل ضرور کیا گیا ہے، مگر نصاب میں جدت اور معیاری تدریسی مواد کی کمی ہے۔ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے جدید نصابی کتابوں، سرگرمی پر مبنی تعلیم اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔
5. حکومتی بے توجہی
ریاستی حکومت کی پالیسیوں میں اردو اکثر نظر انداز رہتی ہے۔ اردو اکیڈمی کے فنڈز محدود ہیں، مشاعرے اور علمی اجلاس کم ہوتے جارہے ہیں۔ کئی اضلاع میں اردو بورڈ یا سرکاری سائن بورڈ سے اردو رسم الخط غائب ہوتا جارہا ہے، جو ایک تشویشناک علامت ہے۔
6. والدین و طلبہ کا بدلتا رجحان
عصری تعلیم، روزگار اور مسابقتی امتحانات کے دباؤ نے والدین کو اردو سے دور کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، حالانکہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ اردو صحافت، تدریس، ترجمہ، ابلاغیات، اور عدالتی نظام میں آج بھی روزگار کے کئی دروازے کھلے ہیں۔
7. ابلاغی ذرائع میں کمزور موجودگی
تامل ناڈو میں اردو اخبارات، رسائل اور ٹی وی پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی موجودگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنی زبان سے جڑی رہے۔
کچھ مثبت پہلو
ان چیلنجوں کے باوجود چند روشن مثالیں امید کی کرن ہیں۔ مدراس یونیورسٹی، ویلور انسٹی ٹیوٹ، بانگی حیات اسکول آمبور، دارالعلوم سبیل السلام، اور مختلف دینی ادارے اردو کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح چنئی، وشارم، آمبور، وانمباڑی، ترپاتور، ترچی، سیلم، درم پوری اور کرشناگری جیسے شہروں میں کئی اردو ادبی انجمنیں سرگرم عمل ہیں جو مشاعروں، تقاریب اور علمی اجلاسوں کے ذریعے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔کئی نوجوان بلاگرز، یوٹیوبرز اور شاعر اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دے رہے ہیں۔سرکاری سطح پر بھی وقتاً فوقتاً اردو مشاعرے، سیمینار اور ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے۔
حل اور تجاویز
اردو میڈیم اسکولوں کی بحالی کے لیے ریاستی حکومت کو خصوصی اسکیمیں چلانی چاہئیں۔
تامل لازمی قانون میں نرمی کے ذریعے اردو کو دو لسانی نظام میں مساوی موقع دیا جائے۔
اردو اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔
نصاب میں جدیدیت اور سائنسی و تکنیکی مضامین کو اردو میں متعارف کرایا جائے۔
اردو ڈیجیٹل اکیڈمی قائم کی جائے تاکہ آن لائن کورسز، ای-کتب اور آڈیو دروس دستیاب ہوں۔
اردو و تمل دوستی پروگرام کے تحت بین اللسانی میل جول کو فروغ دیا جائے۔
اردو صحافت اور میڈیا کو سرکاری اشتہارات اور فنڈنگ میں ترجیح دی جائے۔
نتیجہ
تامل ناڈو میں اردو کو درپیش چیلنج سنگین ضرور ہیں، مگر ناقابلِ حل نہیں۔اگر حکومت، اساتذہ، والدین اور سماجی تنظیمیں مل کر کام کریں تو اردو کا مستقبل نہ صرف محفوظ بلکہ تابناک ہو سکتا ہے۔اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ، اور ایک احساس کی علامت ہے — جسے زندہ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں