بدھ، 12 نومبر، 2025

مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن


مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن

الطاف آمبوری

1. مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت

مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد (1888ء – 1958ء) برصغیر کی تاریخ کے ان نادر روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، سیاسی عزم، اور علمی گہرائی سے ایک پورے عہد کی تشکیل اور رہنمائی کی۔ وہ بیک وقت ایک برجستہ عالمِ دین، ایک شعلہ بیاں صحافی، ایک کہنہ مشق انشا پرداز، اور ایک بے باک سیاسی رہنما تھے۔ ان کی زندگی ہندوستان کی تحریکِ آزادی، فکری بیداری اور قومی تعمیر کی کہانی ہے۔

مولانا آزاد کی پیدائش 1888ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے روایتی اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ انہوں نے صحافت کو عوامی بیداری اور سیاسی شعور پھیلانے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا ہفتہ وار اخبار 'الہلال' (1912ء) اپنے دلیرانہ اور انقلابی لب و لہجے کے باعث بہت جلد مقبول ہوا اور برطانوی سامراج کے خلاف سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔

آزاد نے تحریکِ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ قومیت کے پرزور حامی تھے اور انہوں نے ہمیشہ تقسیمِ ہند کی مخالفت کی۔ 1940ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور آزادی تک اس منصب پر فائز رہے۔ 'انڈیا وِنز فریڈم' ان کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ بھی بے مثال ہے، جس میں سب سے بڑا کارنامہ 'ترجمان القرآن' ہے اور دورانِ اسیری لکھے گئے خطوط کا مجموعہ 'غبارِ خاطر' اردو ادب کا ایک شاہکار ہے۔ ان کی عہد ساز شخصیت کا اثر آج بھی ہندوستان کی جمہوری، سیکولر اور تعلیمی روح میں جھلکتا ہے۔

2. مولانا ابوالکلام آزاد بطورِ وزیرِ تعلیم: عصری تعلیم کی بنیاد

آزادی کے بعد (15 اگست 1947ء سے 1958ء تک) مولانا آزاد نے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم کے طور پر ایک ایسا وژن پیش کیا جس نے جدید ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ملک علمی اور تکنیکی طور پر ترقی کرے۔

اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی:

 * یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام (1953ء): یہ ایک ایسا بااختیار ادارہ تھا جس نے یونیورسٹیوں میں تعلیم، تحقیق اور معیار کو فروغ دینے کے لیے فنڈنگ کا ایک منظم نظام فراہم کیا۔

 * انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs) کا سنگِ بنیاد: انہوں نے ملک کے پہلے آئی آئی ٹی (IIT Kharagpur) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا آغاز کیا۔

 * ثانوی تعلیم کمیشن (1952-53ء): اس کی تشکیل تعلیمی نظام کے بنیادی مرحلے کی اصلاح کے لیے کی گئی۔

فنون، ثقافت اور تحقیق کا فروغ:

 * ثقافتی اکیڈمیوں کا قیام: انہوں نے ادب، فنون اور ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے تین بڑی قومی اکیڈمیوں، یعنی ساہتیہ اکیڈمی، سنگیت ناٹک اکیڈمی، اور للت کلا اکیڈمی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

 * سائنسی ادارے: کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) جیسے اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی۔

مولانا آزاد نے بنیادی اور مفت تعلیم پر زور دیا اور خواتین کی تعلیم کو ملک کی ترقی کے لیے لازم سمجھا۔ ان کی یومِ پیدائش 11 نومبر کو پورے ملک میں قومی یومِ تعلیم (National Education Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔

3. متحدہ قومیت (Composite Nationalism) کے بارے میں ان کے نظریات

مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا نظریہ ان کی سیاسی فکر کا سنگ بنیاد اور ہندوستان کی آئینی روح کا عکاس ہے۔ یہ نظریہ اس بات پر مبنی تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ، خاص طور پر ہندو اور مسلمان، ایک مشترکہ جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تاریخی و سماجی وحدت:

 * مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ نے ہندوستان میں ایک "مشترکہ زندگی" اور ایک "مشترکہ کلچر" کو جنم دیا ہے، جسے وہ "ہندوستانیت" کہتے ہیں۔

 * ان کا مشہور قول تھا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور اس پر فخر ہے، لیکن وہ ایک ہندوستانی بھی ہیں اور ہندوستان کی تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔

مذہبی آزادی بمقابلہ قومی وحدت:

 * انہوں نے دلیل دی کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے جبکہ قومیت کا تعلق سیاسی اور سماجی زندگی سے ہے۔

 * وہ دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے اور تقسیم کو ایک "تاریخی غلطی" قرار دیتے تھے، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ تقسیم سے ہندوستان میں موجود کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

مولانا کا نظریہ مذہبی رواداری اور تمام مذاہب کے احترام پر مبنی تھا۔ یہ نظریہ ہندوستانی جمہوریت کی اس روح کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت کثرت میں وحدت کو قومی زندگی کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں