ہفتہ، 1 نومبر، 2025

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت

 

تحریر: الطاف آمبوری

 

       دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کے میدان میں ایک بنیادی اصول کو تسلیم کیا ہے — ابتدائی تعلیم ہمیشہ بچے کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ مادری زبان وہ پہلی زبان ہے جس کے ذریعے بچہ اپنی ماں سے، اپنے ماحول سے، اور اپنے سماجی دائرے سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اسی زبان میں وہ دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے، اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اور علم کے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل میں مادری زبان کا کردار بنیاد کی مانند ہوتا ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔

 

مادری زبان — فہم و ادراک کی زبان

       بچہ جب پہلی بار اسکول جاتا ہے تو وہ ذہنی طور پر دنیا کو اپنی مادری زبان کے ذریعے سمجھنے کا عادی ہوتا ہے۔ اگر اس پر کسی اجنبی زبان کو مسلط کر دیا جائے تو سیکھنے کا عمل بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ مفہوم تو یاد کر لیتا ہے مگر معنی نہیں سمجھ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ ابتدائی سطح پر دلچسپی کھو دیتے ہیں۔

اردو زبان میں تعلیم دینے سے بچہ آسانی سے نصاب کو سمجھ سکتا ہے، سوالات کر سکتا ہے، بحث میں حصہ لے سکتا ہے، اور اپنی تخلیقی سوچ کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف تعلیمی کامیابی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ فکری آزادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

 

تعلیمی ماہرین کی آراء

       یونیسکو (UNESCO) کی متعدد رپورٹوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پرائمری تعلیم اگر مادری زبان میں دی جائے تو بچے کی سیکھنے کی صلاحیت تین گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ماہرِ تعلیم جے۔ پی۔ نائلر کے مطابق:

جب بچہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف معلومات نہیں سیکھتا بلکہ علم کی روح کو سمجھتا ہے۔

اردو کے تناظر میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اردو بولنے والے بچوں کے لیے اردو صرف زبان نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔

اردو زبان اور تہذیبی شعور

       اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی امین ہے۔ اس کے ذریعے محبت، اخوت، ادب اور اخلاقیات کے بے شمار اسباق نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں۔ اگر ابتدائی تعلیم اردو میں دی جائے تو بچوں کے دل و دماغ میں اپنی تہذیبی جڑوں کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ غالب، اقبال، اور سرسید کے فکری ورثے سے جڑتے ہیں۔

اردو تعلیم نہ صرف زبان کی بقا کا ذریعہ ہے بلکہ قوم کی فکری شناخت کا تحفظ بھی کرتی ہے۔

 

بین الاقوامی مثالیں

       دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبان میں تعلیم کو قانونی حیثیت دی ہے۔

فن لینڈ اور ناروے میں ہر بچہ اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کی شرح خواندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

چین میں ہر صوبہ اپنی علاقائی زبان میں ابتدائی تعلیم فراہم کرتا ہے، جس نے تعلیمی معیار کو بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اب انگریزی یا فرانسیسی کے بجائے مقامی زبانوں کو تعلیم کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ بچے اپنی جڑوں سے جڑے رہیں۔

ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر بچہ اپنی مادری زبان میں پرائمری تعلیم حاصل کرے — تاکہ مساوات، فہم اور معیار تعلیم برقرار رہے۔

 

اردو میڈیم اسکولوں کا زوال اور ضرورتِ احیاء

       بدقسمتی سے اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں نصابی کتب کی کمی ہے، کہیں تربیت یافتہ اساتذہ کی۔ سرکاری سطح پر بھی اردو کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے، جدید نصاب کو اردو میں منتقل کیا جائے، اور اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ جدید تدریسی طریقوں کو اردو میں استعمال کر سکیں۔

اگر اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سہولیات، لائبریریاں، اور ڈیجیٹل مواد فراہم کیا جائے تو یہ ادارے نہ صرف تعلیمی معیار میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ اردو زبان کی ترویج کا عملی ذریعہ بھی بنیں گے۔

 

 

🔹اردو زبان — قومی اتحاد کی علامت

       یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اردو کسی مخصوص طبقے یا مذہب کی زبان نہیں، بلکہ ہندوستان کی قومی زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے۔ اس کی جڑیں دہلی سے لے کر دکن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ پرائمری سطح پر اردو میں تعلیم دینے سے نہ صرف ایک زبان محفوظ ہوتی ہے بلکہ قومی یکجہتی، ہم آہنگی، اور بین الثقافتی احترام بھی فروغ پاتا ہے۔

 

نتیجہ

       تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک با شعور، فکری، اور اخلاقی انسان پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوں، اپنی تہذیب سے جڑے رہیں، اور دنیا کا مقابلہ اعتماد کے ساتھ کریں — تو ہمیں انہیں وہی زبان دینی ہوگی جس میں وہ خواب دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، اور اپنی ماں سے بات کرتے ہیں۔

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی بحالی صرف زبان کی خدمت نہیں، قوم کی خدمت ہے۔

 

الطاف آمبوری

)تعلیمی و ادبی تجزیہ نگار(

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں