بدھ، 22 اکتوبر، 2025

افسانچہ: موت اور بے بس انسان

افسانچہ: موت اور بے بس انسان
از: الطاف آمبوری
رات کی سیاہی گہری ہو چکی تھی۔ ہسپتال کے کمرے میں ایک کمزور سانس چل رہی تھی۔ ڈاکٹر نے خاموشی سے فائل بند کی اور نظریں جھکا لیں۔
بیٹے نے باپ کا ہاتھ تھاما  سرد، لیکن اب بھی زندگی کی آس لیے ہوئے۔
*"ابو، سب ٹھیک ہو جائے گا..."* اُس کی آواز لرز گئی۔
باپ نے نیم بند آنکھوں سے مسکرا کر کہا،
*"بیٹا... انسان بہت کچھ کر لیتا ہے... مگر موت کے آگے سب بے بس ہیں۔"*
یہ کہہ کر اُس کی سانس آخری بار چلی  اور کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں