پیر، 13 اکتوبر، 2025

افسانچہ وقت

 

 
افسانچہ
 
وقت
پرانی گھڑی دیوار پر ٹک ٹک کر رہی تھی۔
دادا ابا کی نشانی تھی — اس کی سوئیاں جیسے عمر کی گنتی کرتی جا رہی تھیں۔
احمد نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
"رک کیوں نہیں جاتی یہ؟" اُس نے بڑبڑایا۔
کل ہی اُس کا باپ اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔
وقت اُس کے لیے ٹھہر گیا تھا، مگر گھڑی کے لیے نہیں۔
اچانک چھوٹا بیٹا دوڑتا ہوا آیا،
"ابو! میرا اسکول کا وقت ہو گیا!"
احمد نے خاموشی سے گھڑی اتاری،
گرد صاف کی،
اور دیوار پر واپس لٹکا دی۔
ٹک... ٹک... ٹک...
وقت پھر چل پڑا۔

الطاف آمبوری

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں