افسانچہ: سماجی مساوات
از الطاف آمبوری
چائے کی بھاپ میں دن کی تھکن گھل رہی تھی۔ دکاندار نے دو گلاس میز پر رکھے
ایک شیشے کا، دوسرا اسٹیل کا۔
دونوں میں ایک ہی چائے، ایک ہی خوشبو، ایک سا ذائقہ۔
لیکن دکاندار نے شیشے والا گلاس افسر صاحب کے سامنے رکھا جو سرکاری دفتر سے تھے
اور اسٹیل والا مزدور کے۔
مزدور نے ایک گھونٹ لیا، ہلکی مسکراہٹ لبوں پر ابھری۔
*“صاحب، چائے تو ایک ہی ہے… فرق شاید پیالوں میں نہیں، دلوں میں ہے۔”*
افسر صاحب لمحہ بھر خاموش رہے
شاید اس لمحے انہوں نے پہلی بار برابری کا ذائقہ محسوس کیا۔۔۔

کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں