*ایک نقطے میں پوری دنیا*
کائنات کتنی بڑی ہے؟۔
یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اکثر بلین، ٹریلین، کوانٹیلین اور سیپٹیلین جیسے الفاظ کے ساتھ دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ان الفاظ کو سن یا پڑھ تو سکتے ہیں لیکن ہمارا ذہن اس قسم کے اعدادوشمار کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
ایک تصویر کے ذریعے ہم تھوڑا حقیقی اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔
زیر نظر تصویر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے لی ہے جس میں ہمیں کارینا نیبیولا یعنی گرد اور گیس کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ نیبیولا زمین سے 7600 نوری سال دور ہے اور 230 نوری سال کے احاطے میں پھیلا ہوا ہے۔
تصویر میں سب سے اوپر کارینا نیبیولا مکمل نظر آ رہا ہے جبکہ اس سے نیچے درمیانی حصے میں ایک انگلی نما ابھار پر زوم کیا گیا ہے اور اس ابھار کے بائیں جانب ایک سرخ چوکور نشان دکھایا گیا ہے۔
یہاں یہ زوم بے مقصد نہیں کیا گیا بلکہ اس چھوٹے سے ابھار نما حصے پر زوم کرنے پر ایک حیرت انگیز کہانی سامنے آتی ہے۔
کائناتی فاصلوں کی پیمائش کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اس معمولی سے دکھنے والے ابھار پر صرف ایک نقطہ دراصل ہمارے پورے نظامِ شمسی سے بھی بڑا ہے۔
سب سے نیچے تیسری تصویر میں ایک چھوٹے سے نقطے جتنا گول دائرہ لگایا گیا ہے اور اس دائرے کے اندر کائپر بیلٹ، پلوٹو کا مدار اور یہاں تک کہ تاریخ انسانی کے سب سے دور جانے والے انسانی مشن وائجر 1 کا زمین سے موجودہ فاصلہ سب کچھ سما جاتے ہیں۔
یہ محض ایک موازنہ نہیں بلکہ ذہن کو ماؤف کرنے والا انکشاف ہے کہ ہمارا پورا نظامِ شمسی اس ایک نیبولا میں ایک نقطے کے برابر بھی نہیں اور یہ نیبولا خود محض ایک کہکشاں میں ایک نقطہ ہے جبکہ ہمارا نظام شمسی اتنا وسیع ہے کہ ہماری زمین اس میں ایک نقطے سے زیادہ کچھ نہیں۔
گویا ہماری پوری دنیا نظام شمسی میں ایک نقطہ، ہمارا نظام شمسی اس نیبیولا کے سامنے ایک نقطہ، یہ نیبیولا ہماری کہکشاں میں ایک نقطہ اور ہماری کہکشاں اس کائنات میں ایک نقطے کی حیثیت رکھتی ہے اور یقیناً اس مخلوق کو تکبر زیب ہی نہیں دیتا جس کی پوری دنیا محض ایک نقطے میں سمائی ہو۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں