جمعہ، 4 اکتوبر، 2024

شہزادی زیب النساء

شہزادی زیب النساء

کیا آپ کو معلوم ہےکہ فارسی ادب  میں ایک شعر ایسا بھی موجود ہے جسکا پہلا مصرعہ ایرانی شہزادےکا اور دوسرا مصرعہ ہندوستانی شہزادی کا ہے.
کہاجاتا ہیکہ جس زمانے میں ایران اور ہندوستان میں علم ادب اپنے عروج پے تھا ایسے وقت میں ایرانی شہزادے نے ایک مصرعہ تخلیق کیا.

"دُرِّ ابلَقْ کسے کم دیدہ موجود"

 ابلقی  موتی( ایسی سیاہ موتی جس پر سفید دھبے ہوں)  کسے نے کم ہی دیکھی ہوگی . مطلب بوجہ نایاب ہونے کے نہیں پائی جاتی.
 اور منادی کرادی کہ جو شاعر اس پر موزوں گرہ لگائے گا تو انعام کا حق دار ہوگا
ایران سے لے کر ہندوستان تک  تمام شعراء نے اس پر طبع آزمائی کی لیکن کوئی مناسب گرہ نہیں لگا سکا.
یہ خبر اورنگزیب عالمگیر کی بیٹی زیب النساء کو ایسے وقت میں پہنچی جب وہ آئینے کے سامنے بیٹھی سرمہ لگارہی تھی سرمے کی جلن کی  وجہ سے اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑا وہ کاجل زدہ آنسوں ابلقی موتی کا منظر پیش کر رہا تھا زیب النساء نے فوراً گرہ لگائی.

"مگر اشک بتان سرمہ آلود"

مگر محبوبہ کے سرمگیں آنکھوں سے ٹپکا آنسو( ابلقی موتی ہی ہوتی ہے)

ایرانی شہزادے کو جب اس کی خبر ہوئی تو ملنے کی خواہش کا اظہار کیا اور لکھ بھیجا۔
"ترا اے مہ جبیں ,بے پردہ دیدن آرزو دارم۔
جمالتہائے حسنت را سراپا آرزو دارم۔"

اے مہ جبین تمہیں دیکھنے کی آرزو رکھتا ہوں
تمہارے لیے نیک خواہشات کی تمنا ہے

 (مشرقی تہذیب کو ذرا ملاحظہ کرے محل میں پلنے والی  شہزادی زیب النساء کس طرح اپنی پردہ نشینی کا اظہار کر رہی ہے )
جواباً ایک شعر ارسال کیا

"در سخن مخفی منم چو بوئے گل در برگِ گل
ہر کہ دیدن میل دارد در سخن بیند مرا"

یعنی میں اپنے کلام میں ایسے پوشیدہ ہوں جس طرح پھول کی خوشبو اس کے پتوں میں پوشیدہ ہوتی ہے.
جو شخص مجھ سے ملاقات کا متمنی ہے اسے چاہیے کہ میرا کلام پڑھیں.
زیب النساء مخفی،، عالمہ اور حافظہ ہونے کے ساتھ  عربی اور فارسی ادب پر عبور رکھتی تھی.
65 سال کی عمر میں انتقال ہوا شادی نہیں کی تفا"

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں