بدھ، 5 نومبر، 2025

ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج

ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج

الطاف آمبوری

 

تعارف

        اردو زبان برصغیر کی روحانی، تہذیبی اور ادبی شناخت ہے۔ یہ زبان صدیوں کی تہذیبی آمیزش، علمی شعور اور محبت و رواداری کی آئینہ دار رہی ہے۔ جنوبی ہند خصوصاً ریاست تامل ناڈو میں اردو کا ایک روشن اور تابناک ماضی رہا ہے۔ یہاں کی قدیم درسگاہوں، شاعروں، ادیبوں اور اخبارات نے اردو کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں اردو کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں جو اس زبان کی بقا اور فروغ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

 

تاریخی پس منظر

        تامل ناڈو میں اردو کی جڑیں نظامِ حیدرآباد، میسور اور دکن کے علمی مراکز سے جڑی ہوئی ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں چنئی، ویلور، مدورائی، تریچی، سیالم اور آمبور جیسے شہروں میں اردو اخبارات، مکتب اور انجمنیں قائم تھیں۔ تامل و مسلم تہذیب کے امتزاج نے اردو کو یہاں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی تعداد گھٹتی گئی، اور آج صرف چند مدارس و تنظیمیں اردو کے وجود کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

 

اردو زبان کو درپیش چیلنجز

1. تامل لازمی قانون اور اردو پر اس کے اثرات

ریاست تامل ناڈو میں "تامل لازمی قانون" (Tamil Compulsory Language Policy) کے نفاذ کے بعد اردو کے فروغ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس قانون کے مطابق، دسویں جماعت تک تمام طلبہ کے لیے تامل زبان کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں اردو کو صرف اختیاری مضمون (Optional Subject) کی حیثیت دے دی گئی ہے۔

بہت سے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ، جو پہلے اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھتے تھے، اب اسے صرف ضمنی یا تیسری زبان کے طور پر اختیار کر سکتے ہیں۔

اس پالیسی نے اردو کے تعلیمی دائرے کو محدود کر دیا ہے، کیونکہ طلبہ اور والدین عموماً لازمی مضامین پر توجہ دیتے ہیں جبکہ اختیاری زبانوں کو کم اہم سمجھتے ہیں۔

یہ صورتِ حال اردو کے تعلیمی فروغ اور طلبہ کی دلچسپی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

 

2. تعلیمی اداروں میں زوال

ریاستی سطح پر اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کئی اضلاع میں پرائمری سطح سے آگے اردو ذریعہ تعلیم دستیاب نہیں۔ اس کمی کی وجہ سرکاری بے توجہی، افرادی قوت کی قلت، اور والدین کا رجحان انگریزی و تمل ذریعہ تعلیم کی طرف بڑھنا ہے۔

3. اساتذہ کی کمی

اردو اساتذہ کی تقرری میں تاخیر، ٹرانسفر پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال، اور مستقل تربیت کی کمی نے معیارِ تعلیم کو متاثر کیا ہے۔ اردو اساتذہ کو اکثر تمل اسکولوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں ان کی صلاحیتوں سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔

4. نصاب اور امتحانی نظام

اردو کو بطورِ مضمون شامل ضرور کیا گیا ہے، مگر نصاب میں جدت اور معیاری تدریسی مواد کی کمی ہے۔ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے جدید نصابی کتابوں، سرگرمی پر مبنی تعلیم اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

5. حکومتی بے توجہی

ریاستی حکومت کی پالیسیوں میں اردو اکثر نظر انداز رہتی ہے۔ اردو اکیڈمی کے فنڈز محدود ہیں، مشاعرے اور علمی اجلاس کم ہوتے جارہے ہیں۔ کئی اضلاع میں اردو بورڈ یا سرکاری سائن بورڈ سے اردو رسم الخط غائب ہوتا جارہا ہے، جو ایک تشویشناک علامت ہے۔

6. والدین و طلبہ کا بدلتا رجحان

عصری تعلیم، روزگار اور مسابقتی امتحانات کے دباؤ نے والدین کو اردو سے دور کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، حالانکہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ اردو صحافت، تدریس، ترجمہ، ابلاغیات، اور عدالتی نظام میں آج بھی روزگار کے کئی دروازے کھلے ہیں۔

7. ابلاغی ذرائع میں کمزور موجودگی

تامل ناڈو میں اردو اخبارات، رسائل اور ٹی وی پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی موجودگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنی زبان سے جڑی رہے۔

 

کچھ مثبت پہلو

        ان چیلنجوں کے باوجود چند روشن مثالیں امید کی کرن ہیں۔ مدراس یونیورسٹی، ویلور انسٹی ٹیوٹ، بانگی حیات اسکول آمبور، دارالعلوم سبیل السلام، اور مختلف دینی ادارے اردو کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح چنئی، وشارم، آمبور، وانمباڑی، ترپاتور، ترچی، سیلم، درم پوری اور کرشناگری جیسے شہروں میں کئی اردو ادبی انجمنیں سرگرم عمل ہیں جو مشاعروں، تقاریب اور علمی اجلاسوں کے ذریعے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔کئی نوجوان بلاگرز، یوٹیوبرز اور شاعر اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دے رہے ہیں۔سرکاری سطح پر بھی وقتاً فوقتاً اردو مشاعرے، سیمینار اور ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے۔

حل اور تجاویز

اردو میڈیم اسکولوں کی بحالی کے لیے ریاستی حکومت کو خصوصی اسکیمیں چلانی چاہئیں۔

تامل لازمی قانون میں نرمی کے ذریعے اردو کو دو لسانی نظام میں مساوی موقع دیا جائے۔

اردو اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔

نصاب میں جدیدیت اور سائنسی و تکنیکی مضامین کو اردو میں متعارف کرایا جائے۔

اردو ڈیجیٹل اکیڈمی قائم کی جائے تاکہ آن لائن کورسز، ای-کتب اور آڈیو دروس دستیاب ہوں۔

اردو و تمل دوستی پروگرام کے تحت بین اللسانی میل جول کو فروغ دیا جائے۔

اردو صحافت اور میڈیا کو سرکاری اشتہارات اور فنڈنگ میں ترجیح دی جائے۔

 

نتیجہ

       تامل ناڈو میں اردو کو درپیش چیلنج سنگین ضرور ہیں، مگر ناقابلِ حل نہیں۔اگر حکومت، اساتذہ، والدین اور سماجی تنظیمیں مل کر کام کریں تو اردو کا مستقبل نہ صرف محفوظ بلکہ تابناک ہو سکتا ہے۔اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ، اور ایک احساس کی علامت ہے — جسے زندہ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے

 

اتوار، 2 نومبر، 2025

افسانچہ: نیکی کر موبائل میں ڈال

 
افسانچہ: نیکی کر موبائل میں ڈال

 
✒️از الطاف آمبوری
 

دوست نے کہا،

"نیکی کر اور دریا میں ڈال!"

میں نے ہنس کر جواب دیا،

"زمانہ بدل گیا یار، اب نیکی کر — موبائل میں ڈال!"

میں نے کسی کی مدد کی، ویڈیو بنائی، سوشل میڈیا پر ڈال دی۔

لوگوں نے واہ واہ کی، لائکس ملے، دل خوش ہوا۔

مگر رات کو ضمیر بولا 

"اگر نیکی دکھانے کے لیے کی ہے...

"تو ثواب کہاں ڈالے گا؟"

ہفتہ، 1 نومبر، 2025

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت

 

تحریر: الطاف آمبوری

 

       دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کے میدان میں ایک بنیادی اصول کو تسلیم کیا ہے — ابتدائی تعلیم ہمیشہ بچے کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ مادری زبان وہ پہلی زبان ہے جس کے ذریعے بچہ اپنی ماں سے، اپنے ماحول سے، اور اپنے سماجی دائرے سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اسی زبان میں وہ دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے، اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اور علم کے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل میں مادری زبان کا کردار بنیاد کی مانند ہوتا ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔

 

مادری زبان — فہم و ادراک کی زبان

       بچہ جب پہلی بار اسکول جاتا ہے تو وہ ذہنی طور پر دنیا کو اپنی مادری زبان کے ذریعے سمجھنے کا عادی ہوتا ہے۔ اگر اس پر کسی اجنبی زبان کو مسلط کر دیا جائے تو سیکھنے کا عمل بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ مفہوم تو یاد کر لیتا ہے مگر معنی نہیں سمجھ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ ابتدائی سطح پر دلچسپی کھو دیتے ہیں۔

اردو زبان میں تعلیم دینے سے بچہ آسانی سے نصاب کو سمجھ سکتا ہے، سوالات کر سکتا ہے، بحث میں حصہ لے سکتا ہے، اور اپنی تخلیقی سوچ کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف تعلیمی کامیابی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ فکری آزادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

 

تعلیمی ماہرین کی آراء

       یونیسکو (UNESCO) کی متعدد رپورٹوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پرائمری تعلیم اگر مادری زبان میں دی جائے تو بچے کی سیکھنے کی صلاحیت تین گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ماہرِ تعلیم جے۔ پی۔ نائلر کے مطابق:

جب بچہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف معلومات نہیں سیکھتا بلکہ علم کی روح کو سمجھتا ہے۔

اردو کے تناظر میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اردو بولنے والے بچوں کے لیے اردو صرف زبان نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔

اردو زبان اور تہذیبی شعور

       اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی امین ہے۔ اس کے ذریعے محبت، اخوت، ادب اور اخلاقیات کے بے شمار اسباق نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں۔ اگر ابتدائی تعلیم اردو میں دی جائے تو بچوں کے دل و دماغ میں اپنی تہذیبی جڑوں کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ غالب، اقبال، اور سرسید کے فکری ورثے سے جڑتے ہیں۔

اردو تعلیم نہ صرف زبان کی بقا کا ذریعہ ہے بلکہ قوم کی فکری شناخت کا تحفظ بھی کرتی ہے۔

 

بین الاقوامی مثالیں

       دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبان میں تعلیم کو قانونی حیثیت دی ہے۔

فن لینڈ اور ناروے میں ہر بچہ اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کی شرح خواندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

چین میں ہر صوبہ اپنی علاقائی زبان میں ابتدائی تعلیم فراہم کرتا ہے، جس نے تعلیمی معیار کو بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اب انگریزی یا فرانسیسی کے بجائے مقامی زبانوں کو تعلیم کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ بچے اپنی جڑوں سے جڑے رہیں۔

ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر بچہ اپنی مادری زبان میں پرائمری تعلیم حاصل کرے — تاکہ مساوات، فہم اور معیار تعلیم برقرار رہے۔

 

اردو میڈیم اسکولوں کا زوال اور ضرورتِ احیاء

       بدقسمتی سے اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں نصابی کتب کی کمی ہے، کہیں تربیت یافتہ اساتذہ کی۔ سرکاری سطح پر بھی اردو کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے، جدید نصاب کو اردو میں منتقل کیا جائے، اور اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ جدید تدریسی طریقوں کو اردو میں استعمال کر سکیں۔

اگر اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سہولیات، لائبریریاں، اور ڈیجیٹل مواد فراہم کیا جائے تو یہ ادارے نہ صرف تعلیمی معیار میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ اردو زبان کی ترویج کا عملی ذریعہ بھی بنیں گے۔

 

 

🔹اردو زبان — قومی اتحاد کی علامت

       یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اردو کسی مخصوص طبقے یا مذہب کی زبان نہیں، بلکہ ہندوستان کی قومی زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے۔ اس کی جڑیں دہلی سے لے کر دکن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ پرائمری سطح پر اردو میں تعلیم دینے سے نہ صرف ایک زبان محفوظ ہوتی ہے بلکہ قومی یکجہتی، ہم آہنگی، اور بین الثقافتی احترام بھی فروغ پاتا ہے۔

 

نتیجہ

       تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک با شعور، فکری، اور اخلاقی انسان پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوں، اپنی تہذیب سے جڑے رہیں، اور دنیا کا مقابلہ اعتماد کے ساتھ کریں — تو ہمیں انہیں وہی زبان دینی ہوگی جس میں وہ خواب دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، اور اپنی ماں سے بات کرتے ہیں۔

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی بحالی صرف زبان کی خدمت نہیں، قوم کی خدمت ہے۔

 

الطاف آمبوری

)تعلیمی و ادبی تجزیہ نگار(

بدھ، 22 اکتوبر، 2025

افسانچہ: موت اور بے بس انسان

افسانچہ: موت اور بے بس انسان
از: الطاف آمبوری
رات کی سیاہی گہری ہو چکی تھی۔ ہسپتال کے کمرے میں ایک کمزور سانس چل رہی تھی۔ ڈاکٹر نے خاموشی سے فائل بند کی اور نظریں جھکا لیں۔
بیٹے نے باپ کا ہاتھ تھاما  سرد، لیکن اب بھی زندگی کی آس لیے ہوئے۔
*"ابو، سب ٹھیک ہو جائے گا..."* اُس کی آواز لرز گئی۔
باپ نے نیم بند آنکھوں سے مسکرا کر کہا،
*"بیٹا... انسان بہت کچھ کر لیتا ہے... مگر موت کے آگے سب بے بس ہیں۔"*
یہ کہہ کر اُس کی سانس آخری بار چلی  اور کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔

منگل، 14 اکتوبر، 2025

افسانچہ: سماجی مساوات


 افسانچہ: سماجی مساوات


از الطاف آمبوری


چائے کی بھاپ میں دن کی تھکن گھل رہی تھی۔ دکاندار نے دو گلاس میز پر رکھے
ایک شیشے کا، دوسرا اسٹیل کا۔
دونوں میں ایک ہی چائے، ایک ہی خوشبو، ایک سا ذائقہ۔
لیکن دکاندار نے شیشے والا گلاس افسر صاحب کے سامنے رکھا جو سرکاری دفتر سے تھے
اور اسٹیل والا مزدور کے۔
مزدور نے ایک گھونٹ لیا، ہلکی مسکراہٹ لبوں پر ابھری۔
*“صاحب، چائے تو ایک ہی ہے… فرق شاید پیالوں میں نہیں، دلوں میں ہے۔”*
افسر صاحب لمحہ بھر خاموش رہے
شاید اس لمحے انہوں نے پہلی بار برابری کا ذائقہ محسوس کیا۔۔۔

پیر، 13 اکتوبر، 2025

افسانچہ وقت

 

 
افسانچہ
 
وقت
پرانی گھڑی دیوار پر ٹک ٹک کر رہی تھی۔
دادا ابا کی نشانی تھی — اس کی سوئیاں جیسے عمر کی گنتی کرتی جا رہی تھیں۔
احمد نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
"رک کیوں نہیں جاتی یہ؟" اُس نے بڑبڑایا۔
کل ہی اُس کا باپ اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔
وقت اُس کے لیے ٹھہر گیا تھا، مگر گھڑی کے لیے نہیں۔
اچانک چھوٹا بیٹا دوڑتا ہوا آیا،
"ابو! میرا اسکول کا وقت ہو گیا!"
احمد نے خاموشی سے گھڑی اتاری،
گرد صاف کی،
اور دیوار پر واپس لٹکا دی۔
ٹک... ٹک... ٹک...
وقت پھر چل پڑا۔

الطاف آمبوری

پیر، 17 فروری، 2025

ایک نقطے میں پوری دنیا

*ایک نقطے میں پوری دنیا* 

کائنات کتنی بڑی ہے؟۔

یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب اکثر بلین، ٹریلین، کوانٹیلین اور سیپٹیلین جیسے الفاظ کے ساتھ دیا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہم ان الفاظ کو سن یا پڑھ تو سکتے ہیں لیکن ہمارا ذہن اس قسم کے اعدادوشمار کو سمجھنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

ایک تصویر کے ذریعے ہم تھوڑا حقیقی اندازہ لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ کائنات کتنی وسیع ہے۔

زیر نظر تصویر جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ نے لی ہے جس میں ہمیں کارینا نیبیولا یعنی گرد اور گیس کے بادل دکھائی دے رہے ہیں۔ یہ نیبیولا زمین سے 7600 نوری سال دور ہے اور 230 نوری سال کے احاطے میں پھیلا ہوا ہے۔

تصویر میں سب سے اوپر کارینا نیبیولا مکمل نظر آ رہا ہے جبکہ اس سے نیچے درمیانی حصے میں ایک انگلی نما ابھار پر زوم کیا گیا ہے اور اس ابھار کے بائیں جانب ایک سرخ چوکور نشان دکھایا گیا ہے۔

یہاں یہ زوم بے مقصد نہیں کیا گیا بلکہ اس چھوٹے سے ابھار نما حصے پر زوم کرنے پر ایک حیرت انگیز کہانی سامنے آتی ہے۔

کائناتی فاصلوں کی پیمائش کے ماہرین بتاتے ہیں کہ اس معمولی سے دکھنے والے ابھار پر صرف ایک نقطہ دراصل ہمارے پورے نظامِ شمسی سے بھی بڑا ہے۔

سب سے نیچے تیسری تصویر میں ایک چھوٹے سے نقطے جتنا گول دائرہ لگایا گیا ہے اور اس دائرے کے اندر کائپر بیلٹ، پلوٹو کا مدار اور یہاں تک کہ تاریخ انسانی کے سب سے دور جانے والے انسانی مشن وائجر 1 کا زمین سے موجودہ فاصلہ سب کچھ سما جاتے ہیں۔

یہ محض ایک موازنہ نہیں بلکہ ذہن کو ماؤف کرنے والا انکشاف ہے کہ ہمارا پورا نظامِ شمسی اس ایک نیبولا میں ایک نقطے کے برابر بھی نہیں اور یہ نیبولا خود محض ایک کہکشاں میں ایک نقطہ ہے جبکہ ہمارا نظام شمسی اتنا وسیع ہے کہ ہماری زمین اس میں ایک  نقطے سے زیادہ کچھ نہیں۔

گویا ہماری پوری دنیا نظام شمسی میں ایک نقطہ، ہمارا نظام شمسی اس نیبیولا کے سامنے ایک نقطہ، یہ نیبیولا ہماری کہکشاں میں ایک نقطہ اور ہماری کہکشاں اس کائنات میں ایک نقطے کی حیثیت رکھتی ہے اور یقیناً اس مخلوق کو تکبر زیب ہی نہیں دیتا جس کی پوری دنیا محض ایک نقطے میں سمائی ہو۔