جمعرات، 2 نومبر، 2023

چھٹیاں اور ہمارا طرز عمل

چھٹیاں اور ہمارا طرز عمل

*السّلام عليكم!*

اسکول کی چھٹیوں کا سب بچوں کو ہی انتظار رہتا ہےاور وہ ایسا لگتا ہے کہ آزادی کا انتظار کررہے ہوتے ہیں، بچے خوش ہوتے ہیں کہ چلو روز روز اسکول جانے، اسکول ورک، ہوم ورک اور استاد کی ڈانٹ سے جان چھوٹی، اسلئے خوب مزے کریں گے اور جیسے چاہیں گے ویسا کریں گے۔ چھٹیاں کہنے کو تو صرف بچوں کی ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ان چھٹیوں کا لطف اٹھا لیتے ہیں۔ چھٹیاں ہونے پر گھر کے بڑوں کو بھی جیسے چھٹی مل جاتی ہے۔ بچوں کو صبح اٹھ کر اسکول کے لیے تیار کرنا، انہیں ٹفن بنا کر دینا اور انہیں اسکول چھوڑ نے جانا، ان سب چیزوں سے گھر کے بڑوں کو بھی چھٹی مل جاتی ہے اور کچھ دن کیلئے وہ آرام کی زندگی جی لیتے ہیں۔

 یوں چھٹیاں شروع ہوتے ہی بچوں کی آزادی اور بےفکری کے دن شروع ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف  مائیں پریشان ہوجاتی ہیں کہ بچے دن بھر کیا کریں گے۔ زیادہ تر بچے اپنی چھٹیاں کھیل کود کر گزار دیتے ہیں، یوں ان کی چھٹیاں بےمصرف گزر جاتی ہیں۔ یقیناً بچے جب دن بھر گھر میں رہیں گے تو شرارتیں بھی کریں گے اور نت نئی فرمائشیں کرکے آپ کو پریشان بھی کریں گے۔ چھٹیوں کے دوران عموماً بچوں میں ایک خاص تبدیلی آجاتی ہے۔ ان کا رویہ کبھی کبھی جارحانہ سا ہوجاتا ہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر ماں کا رویہ بھی جارحانہ ہوتا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کا رویہ ٹھیک نہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ بچوں کی ان چھٹیوں سے پہلے ان کیلئے کچھ پروگرام ترتیب دینا چاہئے اور چھٹیوں کا آغاز ہوتے ہی ان پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا چاہئے۔ 

ترقی یافتہ ملکوں اور قوموں کے افراد اپنی تعطیلات اور فراغت کے اوقات اپنے ذاتی ملکوں اور خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اپنے افکار میں وسعت پیدا کرنے اور اپنی عقول کو جدید علوم و معارف اور آداب سے صیقل کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ ہم سے ہر شخص جانتا ہے کہ فراغت و بیکاری ایک واقعی مسئلہ ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم صحیح پلاننگ اور مفید منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعے ہم اکتاہٹ سے خلاصی پا سکتے ہیں، چھپی ہوئی رغبتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتے ہیں اور ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اچھی عادات و اطوار کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں