بدھ، 25 اکتوبر، 2023

مختصرسوانحی خاکہ

مختصرسوانحی خاکہ

حضرت مولانا گلزاراحمدصاحب باقوی
رحمۃ  اللہ علیہ  رحمۃً واسعۃً
سابق امام وخطیب چھوٹی مسجد،آمبور وسابق صدرجماعۃ العلماء ضلع ویلوروترنامل

ولادت: ۲۸؍اگست ؁۱۹۴۳ء مطابق ۲۶؍شعبان المعظم  ؁۱۳۶۲ھ
وفات: ۱۶؍ اکتوبر ؁۲۰۲۳ء مطابق ۱؍ربیع الثانی ؁۱۴۴۵ھ

             از
 حافظ محمد سلمان عفی عنہ
ابن ِحضرت مولانا گلزاراحمد صاحب باقویؒ

۷؍ربیع الثانی۱۴۴۵ ھ مطابق ۲۳؍اکتوبر؍۲۰۲۳ء بروزِپیر
الحمدللّٰہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سیدالأنبیاء والمرسلین ومن تبعھم بأحسان الی یوم الدین أمابعد!
مؤرخہ یکم ربیع الثانی ؁۱۴۴۵ھ مطابق ۱۶؍ اکتوبر؁۲۰۲۳ء بوقتِ عشاء تقریباً ۸ :بجے میرے والدِ محترم حضرت اقدس مولانا گلزاراحمدصاحب باقویؒ مختصرعلالت کے بعددارالفناء سے دارالبقاء کی طرف ہمیشہ کےلیے کوچ کرکےاپنی اولاد،اعزاء واقارب،بہت سے شاگردوں اورمعتقدین کوداغِ مفارقت دےگئے ۔ إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ، اِنَّ لِلّٰہِ مَا اَخَذَ ولِلّٰہِ مَا اَعْطٰی، وَکُلٌّ عِنْدَہٗ بِاَجَلٍ مُّسَمًّی فَلْتَصْبِرْ وَلْتَحْتَسِبْ.

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بہت مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

*خاندان اورولادت:*

حضرت مولانا گلزاراحمدصاحب باقویؒ شہرِ آمبورکےایک مشہورخاندان میں28 ؍اگست 1943ءکو پیدا ہوئے،آپ کےوالدِمحترم ایاپِلّےعبدالرؤف صاحبؒ ہیں،جو شہرِآمبور کی مایہ ناز شخصیت بانگی عبدالقادرصاحبؒ کے نواسے ہیں۔
 حضرتؒ کی والدہ بھی شہر کےایک معزز گھرانہ ناٹامکار خاندان سے تعلق رکھتی ہیں،حضرت والاؒ کے نانا صاحب کا نام ناٹامکارعبدالستار صاحبؒ ہے۔
جس وقت حضرت والاؒکی عمر۲؍یا ۳؍سال کی تھی،حضرت کی والدہ محترمہ کاانتقال ہوگیا،حضرت کے بچپن کا زمانہ اپنی نانی محترمہ کے سایۂ عاطفت میں گذرا۔

*آغازِتعلیم :

حضرت والاؒ نے قرآن کریم کاآغازہمارےاس شہر کی جامع مسجد کے  مکتب  میں ہوا،اس وقت جامع مسجد،آمبورکےامام وخطیب حضرت حافظ عبدالرؤف صاحبؒ تھے،حضرت حافظ صاحبؒ ہی کی نگرانی میں یہ مکتب چل رہا تھا،جو پورے علاقے کے استاذالاساتذہ تھے،الغرض حضرتؒ کی  ابتدائی تعلیم یعنی ناظرہ قرآن کریم کاآغاز اسی مکتب سے ہوا۔
1950ءمیں حضرت والا کا داخلہ شہرکےمعروف پرائمری اسکول مدرسۂ دینیات میں ہوا،جہاں ابتدائی جماعت سے پانچویں جماعت تک کی تعلیم مکمل کی۔

*تکمیلِ حفظ:*

1956ء میں اسکول کی تعلیم مکمل کرنے کے بعدحضرت والاؒ کا رجحان علمِ دین حاصل کرنے کی طرف ہوگیا،جو بچپن میں مکتب کے زمانہ ہی سےحضرت کی خواہش تھی۔
 الحمدللہ  1956ءمیں جنوبی ہند کی معروف دینی درسگاہ جامعہ الباقیات الصالحات ویلورمیں شعبۂ حفظ میں داخلہ لیکر حفظِ کلام اللہ شریف شعبہ حفظ کے استاذحضرت شیخ عرب صاحب ؒکےپاس آغاز کیا،جو اُس وقت کے جامعہ الباقیات الصالحات کے شعبۂ حفظ کےمشہور استاذ تھے۔

*حضرت شیخ عرب صاحب ؒ*

شیخ عرب صاحبؒ اُس دور کے جامعہ الباقیات الصالحات کے مشہور بزرگ استاذ تھے،حضرتؒ کاتعلق دراصل عرب سے ہے،جن کے استاذ مکی حجازی صاحب ؒ ہیں جو حضرت حکیم الامت   حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے بھی استاذ ہیں ۔
 کئی بڑے بڑے علماء شیخ عرب صاحبؒ   کےشاگرد ہیں ،جیسے: استاذالاساتذہ قاری عبدالرؤوف صاحب ؒ،سابق امیرِشریعت علامہ ابوالسعود صاحب ؒوغیرہ۔

*تکمیلِ عالمیت:*

 1962ء میں شعبۂ حفظ سے فراغت کے بعد جامعہ ہی میں شعبۂ عالمیت میں داخلہ لے کرعالمیت کا آغاز کیا ،1962ء سے 1971ء تک شعبہ عالمیت کی تعلیم میں مشغول رہے اور 1971ء میں فراغت حاصل کی تواس لحاظ سےپورے ۱۵؍سال کا عرصہ جامعہ الباقیات الصالحات میں گذارا،ان ۱۵؍سالوں کے درمیان ۳؍یا ۴؍سال کچھ وجوہات کی بناء پرتعلیم موقوف رہی۔ 

*اساتذۂ کرام :

شعبۂ عالمیت میں حضرت والا کے اساتذۂ کرام میں سابق ناظمِ جامعہ حضرت مولانا عبدالجبار صاحب رحمۃ اللہ علیہ،مولانا زین العابدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولاناابوالسعود صاحب رحمۃ اللہ علیہ،مفتی شیخ عبدالوہاب صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا فدوی باقوی رحمۃ اللہ علیہ اور چاندحضرت رحمۃ اللہ علیہ سرِفہرست ہیں۔ 
دورۂ حدیث کے اساتذۂ کرام میں سے ایک مشہوراستاذشیخ حسن ملیباری ؒ تھے ،جو شیخ الاسلام حضرت مولاناسید حسین احمد مدنیؒ کے شاگردِ رشید ہیں ۔

*ہم درس  علمائے کرام:*

جامعہ الباقیات الصالحات کے تعلیمی دورمیں حضرت والاؒکے ساتھیوں میں حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رشادی رحمۃ اللہ علیہ،قاری امداداللہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حضرت مولانا جمیل صاحب قاسمی رحمۃ اللہ علیہ،مولاناگلزاراحمد صاحب وشارمی اورمشہور شاعر اور کئی کتابوں کے مصنف  حضرت مولاناراہی فدائی صاحب معروف ومشہور ہیں۔

*حضرت والاؒ کی دینی خدمات:*

1971ءمیں جامعہ الباقیات الصالحات ویلورسے فراغت کے بعد حضرت والا صوبہ ٹمل ناڈوکی مشہور دینی درسگاہ مظاہر العلوم سیلم؛جو کہ مشہور بزرگ حضرت مولانا شفیق خان صاحبؒ خلیفۂ شیخ الحدیث کا قائم کیا ہوامدرسہ ہے،اس میں شعبۂ حفظ کے استاذ کی حیثیت سے اپنی خدمات کا آغاز کیا جو1971ء سے 1974ءپانچ سال تک جاری رہا،اس دوران   حضرت کے پاس جن حضرات نے قرآن کریم کاحفظ  مکمل کیا ،ان میں مندرجہ ذیل حضرات  سرِفہرست  ہیں؛ حضرت مولانا مفتی ابوالکلام صاحب دامت برکاتہم (مظاہرالعلوم،سیلم)، مولانا عبدالحمید صاحب باقوی دامت برکاتہم(ناظم جامعہ الباقیات الصالحات،ویلور)  اوردیگر حضرات۔

*امامت کاآغاز:*

1974ءمیں حضرت والاشہرِویلور کےقریب کاٹپڑی کی ایک مسجدمیں امام وخطیب مقرر ہوئے 1974ء سے 1976ء تین سال امامت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

1976ءمیں حضرت والاؒ کوشہرِآمبورکے احباب اوررشتہ داروں کی طرف سےآمبور ہی میں دینی خدمت کے لئے باربار اصرارکیا گیا،اس وجہ سے حضرتؒ کاٹپڑی مسجد کی امامت  سےاستعفیٰ دےکرآمبورآگے۔

*آمبور میں خدمت کاآغاز:*

 1976ء کاٹپڑی کی امامت کے بعد الحمدللّٰہ  شہرِآمبور کےمشہور و معروف چھوٹی مسجد میں آپ کاتقرر امام وخطیب کی حیثیت سے ہوا، الحمدللّٰہ پورے 47 ؍سال خدمات انجام دئیے،جوصرف اللہ تعالیٰ کا فضل،اس کا احسان اوراس كی توفیق ہی ہے۔

1977ء سے 1980ءچارسال حضرت والاؒدینیات اسکول جوچھوٹی مسجد کی بالکل برابرمیں ہی ہے،استاذ کی حیثیت سے خدمت انجام دئیے۔ 
چھوٹی مسجدکے اس طویل خدمت میں حضرت والاؒ ہرروز بعدِنمازفجرقرآن کریم کی جامع تفسیرفرماتے رہےاور الحمد للّٰہ  چارمرتبہ  مکمل   قرآن کریم کی تفسیر کئےتھے۔

*تراویح:*

1962ءمیں شعبہ حفظ سے فراغت کے بعدسے ہی شہرِآمبور میں حضرت والا تراویح پڑھاتے رہے۔

1962 ءمیں شہرِآمبور کے نیلی کھیت مسجد میں تراویح میں حضرت والا نے قرآنِ پاک سنایا۔

1963ء  سے 1979ء تک پورے 18؍سال شہرِآمبور کے مسجدِگانگرتکیہ میں تراویح میں قرآن ِ پاک مکمل کی ۔

1980ء سے 1994ء تک پورے ۱۵؍سال شہر آمبور کی مشہورومعروف مسجد بنام ”چھوٹی مسجد“میں تراویح سناتے رہے۔

1995ءسے الحمدللّٰہ 2023ء تک پورے ۲۸؍سال چھوٹی مسجدمیں ہی تراویح میں سماعت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

اس لحاظ سے حضرت والاؒ پورے۳۳؍سال تراویح اور ۲۸؍سال سماعتِ کلام اللہ شریف میں گذاردئیے اور دونوں کامجموعہ ۶۱؍سال کا عرصہ ہوا،
یہ محض ربِ کریم کی توفیق اوراس کی عطا ہی سے ہے،جو اتنے طویل عرصہ قرآن کی تلاوت اورسماعت کی سعادت حاصل ہوئی۔فللّٰہ الحمد والمنۃ

*عیدین کی امامت* 

الحمدللّٰہ  والدِمحترم 1996ءعیدالفطرسے 2023 ء عیدالفطر  تک(کل ۲۷؍سال) عیدگاہ میں عیدین کی امامت سرانجام دئیے۔

*نکاح:*

1976ءمیں حضرت والاؒ کاشہرِآمبور کےایک تاجرواؤرعبداللطیف صاحب کی دختر سے عقدِ مسنون  ہوا،جن سےحضرت والاؒ کو تین بیٹے ہوئے؛محمد ثوبان،راقمِ سطورمحمدسلمان اورمحمد عفان۔

*دوست واحباب:*

حضرت والاؒکےنہایت ہی قریبی اورمخلص ساتھیوں میں حضرت مولانا ولی اللہ صاحب رشادی وقاسمی رحمۃ اللہ علیہ ہیں،حضرت والاؒ؛مولانا ولی اللہ صاحبؒ سے بہت زیادہ قریب تھے،مولانا ولی اللہ صاحبؒ جماعت العلماء ویلور کے سکریٹری تھے اورکئی اداروں کے سرپرست اورممبرتھے،مولانا ولی اللہ صاحبؒ اورحضرت والاؒ سفروں میں اورکئی جلسوں میں ہمیشہ ساتھ ساتھ رہتے،حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ ضلع ویلور جماعت العلماء کے روحِ رواں تھے،آپ ہی کی کوشش سے آپ کے کئی ساتھی جماعت العلماء کے ممبر بنے،اس میں حضرت والا سرفہرست ہیں،آگے چل کرحضرت والاؒجماعت العلماء ویلورکےصدربھی ہوئے، الحمدللّٰہ  آخری وقت تک ضلع ویلور اورضلع ترنامل کے آپ ہی صدررہے،حضرت مولانا ولی اللہ صاحبؒ کے انتقال کے بعدحضرت والاؒ مولانا کی جدائی کا باربار اظہارکرتے تھے۔

*اکابر سے تعلقات*

حضرت والاؒ سابق امیرِشریعت کرناٹک حضرت مفتی اشرف علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے والہانہ عقیدت رکھتے تھے،امیرِشریعت بھی حضرت والاؒسے بہت ہی اکرام اوراحترام کا معاملہ کرتےتھے،جب کبھی بھی امیرِشریعت مدراس سے بنگلور کا سفر کرتے،حضرت والاؒ کو اس کا علم ہوتا توحضرت والاؒ امیرِشریعتؒ کودعوت دیتے تو امیر شریعت بلا تکلف آمبورحضرت والاؒ کے گھرتشریف لاتے اورحضرت والاؒ مہمان نوازی کرتے تھے،حضرت والاؒ جب بھی بنگلور جاتے تو دارالعلوم سبیل الرشادپہنچ کر امیرِشریعتؒ سے استفادہ کرتے تھے۔ 

1971ءسے حضرت مولانا شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ خلیفہ شیخ الحدیث سے حضرت والاؒ کا بڑاتعلق رہا جب حضرت والا مظاہر العلوم سیلم میں مدرس رہے،سیلم سے آمبور آنے کے بعد بھی یہ تعلق حضرت شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ  علیہ کے انتقال تک برابر قائم رہا، جب بھی حضرت رحمۃ اللہ علیہ آمبور آتےتوحضرت والاؒ کی ہی دعوت پر آتے جب کبھی حضرت والا سیلم  کوجاتےتومظاہرالعلوم سیلم میں ہی قیام کرتے،حضرت مولانا شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے سب ہی بیٹوں سے حضرت والا کا تعلق آج تک قائم ہے،حضرت شفیق خان صاحب رحمۃ اللہ علیہ کےفرزندحضرت مولانامفتی ابوالکلام صاحب مدظلہ حضرت والاؒکے شاگردوں میں سے ہیں۔

حضرت والاؒ کا شہرِآمبور کےسبھی علماءِکرام سے نہایت ہی قریبی تعلق رہا ہے،بچپن کے دور میں حافظ عبد الرؤف صاحبؒ اورکوٹلوکارمولانا سےحضرت والاؒ کا گہراتعلق رہا۔

چھوٹی مسجد کے خدمت کے زمانے میں حضرت مولانا مفتی جعفر علی صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حافظ عثمان صاحب رحمۃ اللہ علیہ،حافظ غیاث الدین صاحب رحمۃ اللہ علیہ اورسابق قاضی شہرِآمبورمرحوم خطیب صدیق احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بہت قریبی تعلق رہا ہے۔
موجودہ دور میں قاضی شہرحافظ خطیب  شہاب الدین صاحب دامت برکاتہم،استاذِمحترم حضرت  اقدس مولانامفتی محمد صلاح الدین صاحب قاسمی دامت برکاتہم، قاری امتیازاحمدصاحب رشادی مدظلہ،مولانا اللہ بخش صاحبؒ اورشہرِآمبور کےتقریباًسبھی علماءِکرام سےحضرت والا ؒکاقریبی تعلق رہا۔

*حضرت والاؒ کی خصوصیات:*

حضرت والاؒ کی بڑی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت ہر چھوٹے بڑے سے ہمیشہ خوش مزاجی سے ملتے تھے اورسب سے بے تکلفی سے رہتے تھے۔
حضرت والاؒ مسلک علماءِ باقیات الصالحات پرہمیشہ قائم رہےاورعلماء دیوبند میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمدمدنیؒ،حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ اورحکیم الاسلام حضرت مولاناقاری محمد طیب صاحبؒ کے عاشقوں میں سےتھے،ہمیشہ اِ‌ن اکابرین کی تصنیفات سے استفادہ کرتےتھے۔
اِس وقت شہرمیں الحمدللّٰہ اکثر علماءِکرام دارلعلوم دیوبند کے فضلاء ہیں،حضرت والاؒ سب کااحترام کرتےتھے،جبکہ حضرت کے فرزندوں کےعمرکےہوتے،یہ  علماء حضرات بھی  حضرت والا ؒکا نہایت ہی احترام وادب کرتےتھےاورحضرت والا خصوصی استفادہ کرتے تھے۔

*ایامِ علالت:*

حضرت والا ؒ  بقرِ عید سے دو دن پہلے سخت  بیمارہوکر صاحبِ فراش ہوگئے  ،اس کے باوجود جو حضرات بھی ملاقات کے لئے آتے سب سے اچھی طرح بات چیت کرتے تھے ۔
آخری ۱۰؍ دنوں سے بہت سخت بیمار ہوگئے اور نہایت کمزورہوگئے،یہ آیت  مِنْهَا خَلَقْنٰكُمْ وَفِيهَا نُعِيْدُكُمْ وَمِنْهَا نُخْرِجُكُمْ تَارَةً اُخْرىٰ(اسی زمین سے ہم نے تمہیں پیداکیاتھا،اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی  میں ایک مرتبہ پھرتمہیں نکال لائیں گے)پڑھتے تھے،اور اپنی مادرِ علمی (جامعہ  الباقیات الصالحا ت ،ویلور) کی  زیارت کی  بڑی تمناکرتے تھےاور باربار اس کا ذکر بھی کرتے رہے۔

*وفات وتدفین:*

بالآخر حضرت والاؒ یکم ربیع الثانی  ؁۱۴۴۵ھ مطابق ۱۶؍ اکتوبر؁۲۰۲۳ء بوقتِ عشاء۰۰:۸ جوارِ رحمت میں منتقل ہوگئے اوراگلےدن  بعدِ نمازِ ظہربڑی مسجد میں نمازِ جنازہ اداکی گئی اور چھوٹی مسجدکے قبرستان میں سپردِ خاک کیاگیا،ایک تاریخی مجمع   شریک تھا،شہر کے علاوہ ضلع کے دیگر شہر اور قصبوں سے بھی  علماء ،حفاظ ،عمائدین واکابرین کی بہت بڑی تعداد جنازہ میں شرکت کے لئے حاضرتھی ۔اللہ تعالیٰ سب کو بے انتہاء جزائے خیر عطافرمائے ۔آمین۔
اللہ تعالیٰ  حضرت والاؒ کی بال بال مغفرت فرمائے، انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائےاوران کی خدماتِ جلیلہ کو قبول فرمائےاورپسماندگان کوصبر ِجمیل اوراجرِجزیل عطا فرمائے،آمین۔
 اللَّهمَّ اغفرْ لَهُ وارحمهُ ،وعافِهِ واعفُ عنهُ ، وأكْرِم نُزَلَهُ ، ووسِّع مُدْخَلَهُ ، واغسلْهُ بالماءِ والثَّلجِ والبَردِ ، ونقِّهِ منَ الخطايا كما نقَّيتَ الثَّوبَ الأبيضَ منَ الدَّنسِ ، وأبدِلهُ دارًا خَيرًا مِن دارِهِ ، وأهلًا خَيرًا مِن أهلِهِ ، وزَوجًا خَيرًا مِن زَوجِهِ ، وأدخِلهُ الجنَّةَ ونجِّهِ منَ النَّارِبِرَحْمَتِک یَااَرْحَمُ الرَّاحِمِیْنَ،وَالْحَمْدُ لِّٰلہِ رَبِّ الٌعَالَمِیْنَ.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں