بدھ، 11 اکتوبر، 2023

علامہ کی رباعی

جب علامہ محمد اقبال 21 اپریل 1938ء کو انتقال فرما گئے تو عرصہ بعد شاہی مسجد کے احاطے میں ان کے مزار کی تعمیر شروع ہوئی۔ ہر ہفتے اور اتوار کو ایک بوڑھا شخص لاٹھی تھامے مسجد کی سیڑھیوں پر آبیٹھتا اور شام تک موجود رہتا۔ وہ زیر تعمیر مزار پہ نظریں گاڑے ٹک ٹک دیکھتا رہتا۔ کبھی یکایک أہ و زاری شروع کر دیتا۔ کبھی طواف کے انداز میں مزار کے چکر کاٹنے لگتا۔ اس کا نام محمد رمضان عطائی تھا۔ محمد رمضان عطائی ڈیرہ غازی خان کا باشندہ  تھا اور جن کو علامہ اقبال نے اپنی رباعی عطا کی تھی، یہ رباعی اپنے مفہوم، جذبے اور آہنگ کی بنا پر علامہ کی لازوال رباعی قرار پائی تاہم یہ رباعی اپنی فنی اور فکری خصوصیات کے علاوہ ایک نہایت دلچسپ کہانی لیے ہوئے ہے ۔
    محمد رمضان کو علامہ سے غیبی عقیدت تھی اور ان کی شدید خواہش تھی کہ علامہ کا دیدار نصیب ہو، چنانچہ جب محمد رمضان بسلسلہ امتحان دینے لاہور گئے تو علامہ اقبال کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ علامہ کے دوست چوہدری فضل داد نے  کہا ’’یہ بوڑھا طوطا ایم اے فارسی کا امتحان دینے آیا ہے‘‘ علامہ بولے ’’ عاشق کبھی بوڑھا نہیں ہوتا‘‘ محمد رمضان مزید پڑھنے کو کہا۔
محمد رمضان کی علامہ سےآخری ملاقات اقبال کے انتقال سے کوئی چار ماہ قبل دسمبر 1937 میں ہوئی۔ انہوں نے علامہ اقبال سے کہا ’’سنا ہے جناب کو دربار نبویؐ سے بلاوا آیا ہے۔‘‘
علامہ اقبال آبدیدہ ہو گئے ، آواز بھرا گئی ، بولے ’’ہاں ! بے شک لیکن جانا نہ جانا یکساں ہے، آنکھوں میں موتیا اتر آیا ہے، یار کے دیدار کا لطف دیدہ طلبگار کے بغیر کہاں۔‘‘
عطائی نے کہا ’’جانا ہو تو دربار نبویؐ میں وہ رباعی ضرور پیش فرمائیے گا جو اب میری ہے‘‘
 علامہ اقبال زار و قطار رونے لگے، سنبھلے تو کہا ’’عطائی ! اس رباعی کو بہت پڑھا کرو ممکن ہے خداوند کریم مجھے اس کے طفیل بخش دے‘‘
     مولانا محمد ابراہیم ناگی کبھی کبھی کہا کرتے ’’ظالم عطائی! کان کنی تو میں نے کی اور گوہر تو اڑا لے گیا ... بخدا اگر مجھے یہ علم ہوتا کہ حضرت غریب نواز (علامہ اقبال) اتنی فیاضی کریں گے تو میں اپنی تمام جائیداد دے کر یہ رباعی حاصل کر لیتا اور مرتے وقت اپنی پیشانی پر لکھوا جاتا‘‘

محمد رمضان عطائی کون؟
    محمد رمضان ترین عطائی کو شعر شاعری سے شغف تھا اور خود بھی شاعری کرتے تھے، محمد رمضان سینئر انگلش ٹیچر تھے اور 1968ء میں اس جہان فانی سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے اپنی وصیت میں لکھا 
    ’’میرے مرنے پر اگر کوئی وارث موجود ہو تو رباعی مذکور میرے ماتھے پہ لکھ دینا۔‘‘ 
     مجھے معلوم نہیں کہ پس مرگ ان کے کسی وارث نے اس عاشق رسول کی پیشانی پہ وہ رباعی لکھی یا نہیں لیکن ڈیرہ غازی خان کے قدیم قبرستان ’’ملا قائد شاہ‘‘ میں کوئی بیالیس برس پرانی ایک قبر کے سرہانے نصب لوح مزار پر کندہ ہے۔ اقبال یہ رباعی اقبال کی کسی کتاب میں نہیں لکھی گئی ماسوائے ڈیرہ غازی خان میں اوراس قبر پر۔ ڈیرہ غازی خان کے ترین قبیلے سے تعلق رکھنے والے اللہ داد خان کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا۔ اس کا نام محمد رمضان رکھا گیا۔ رمضان ہونہار طالب علم نکلا۔ بی۔ اے کے بعد بی ۔ ٹی کا امتحان پاس کیا اور بطور انگلش ٹیچر سرکاری ملازمت اختیار کر لی۔ طبیعت میں فقیرانہ استغنا بھی تھا اور صوفیانہ بے نیازی بھی ۔  علامہ اقبال کے عشاق میں سے تھے۔ انکے کئی اشعار پہ تضمین کہی جو علامہ نے بہت پسند کی۔ 
انہی دنوں ان کے قریبی شناسا مولانا محمد ابراہیم ناگی بھی ڈیرہ غازی خان کے سب جج تھے۔ مولانا ابراہیم کو علامہ اقبال سے ملاقاتوں کا اعزاز بھی حاصل تھا۔
       ایک دن مولانا ابراہیم لاہور گئے علامہ سے ملاقات ہوئی۔ واپس آئے تو سر شام معمول کی محفل جمی۔ علامہ سے ملاقات کا ذکر چلا تو عطائی کا جنوں سلگنے لگا۔ مولانا نے جیب سے کاغذ کا ایک پرزہ نکال کر عطائی کو دکھایا۔ یہ علامہ کی اپنی تحریر تھی۔ مولانا کہنے لگے۔ لو عطائی ! علامہ صاحب کی تازہ رباعی سنو۔ پھر وہ ایک عجب پر کیف انداز میں پڑھنے لگے۔

تو غنی از ہر دو عالم من فقیر
روز محشر عذر ہائے من پذیر
ور حسابم را تو  بینی ناگزیر
از نگاہ  مصطفےٰ  پنہاں بگیر
     مولانا کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے لیکن محمد رمضان سن کر بے ہوش ہو گئے۔
        حج سے واپسی پر عطائی کےدل میں ایک عجب آرزو کی کونپل پھوٹی۔ ”کاش یہ رباعی میری ہوتی یا مجھے مل جاتی“ یہ خیال آتے ہی علامہ اقبال کے نام ایک خط لکھا“ آپ سر ہیں فقیر بے سر۔ آپ اقبال ہیں، فقیر مجسم ادبار۔ لیکن طبع کسی صورت کم نہیں پائی“
انہوں نے علامہ کے اشعار کی تضمین اور اپنے فارسی اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا۔
 "فقیر کی تمنا ہے کہ فقیر کا تمام دیوان لے لیں اور یہ رباعی مجھے عطا فرما دیں۔“
    کچھ ہی دن گزرے تھے کہ انہیں علامہ کی طرف سے ایک مختصر سا خط موصول ہوا۔ لکھا تھا:
    "جناب محمد رمضان صاحب عطائی۔ سینئر انگلش ماسٹر۔ گورنمنٹ ہائی اسکول ڈیرہ غازی خان
لاہور : 19/ فروری 1937۔
      جنابِ من میں ایک مدت سے صاحب فراش ہوں خط و کتابت سے معذور ہوں باقی، شعر کسی کی ملکیت نہیں آپ بلا تکلف وہ رباعی، جو آپ کو پسند آگئی ہے اپنے نام سے مشہور کریں۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے۔
فقط : محمد اقبال ۔ لاہور"
علامہ نے یہ رباعی اپنی نئی کتاب ”ارمغان حجاز“ کے لئے منتخب کر رکھی تھی۔ عطائی کی نذر کر دینے کے بعد انہوں نے اسے کتاب سے خارج کر دی۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں