منگل، 3 اکتوبر، 2023

الناس علی دین ملوکھم

حجاج بن یوسف کے زمانے میں لوگ صبح کو بیدار ھوتے اور ایک دوسرے سے ملاقات ھوتی تو یہ پوچھتے۔۔؛
"گزشتہ رات کون کون قتل کیا گیا۔۔۔؟
 کس کس کو کوڑے لگے۔۔۔؟"

ولید بن عبدالملک مال، جائیداد اور عمارتوں کا شوقین تھا۔ اس کے زمانے میں لوگ صبح ایک دوسرے سے مکانات کی تعمیر، نہروں کی کھدائی اور درختوں کی افزائش کےبارے میں پوچھتے تھے۔۔۔۔۔

سلیمان بن عبدالملک کھانے، پینے اور گانے بجانے کا شوقین تھا۔اس کے دور میں لوگ اچھے کھانے، رقص وسرود اور ناچنے والیوں کا پوچھتے تھے۔۔۔۔

جب حضرت عمر بن عبدالعزیز (رحمہ اللہ) کا دور آیا تو لوگوں کے درمیان گفتگو کچھ اس قسم کی ھوتی تھی،،
"تم نے قرآن کتنا یاد کیا؟؟؟
ھر رات کتنا ورد کرتے ھو؟؟؟
  رات کو کتنے نوافل پڑھے؟؟؟"

اس بات کی تصدیق ھوئی کہ عوام اپنےحکمرانوں کےنقش قدم پر چلتے ھیں۔۔۔

(الناس علی دین ملوکھم)

اگرحکمران کرپشن، اقربا پروری، ظلم، عدل وانصاف کا خون، ،جہالت اور دین کی قدروں کو پامال کریں گے تو رعایا بھی گمراہ ھو گی۔۔۔۔۔

لہذا بےدین حکمرانوں سے اقتدار، صالح، اہل اور دیندار لوگوں کوسونپنےکی پرامن جدوجہد صرف سیاست نہیں بلکہ تقاضائے دین ھے.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں