+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/یوم یک شنبہ، بتاریخ 12 نومبر 2023ء) آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے، مولانا اسمعیل میرٹھی 12 نومبر 1844 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپ کے پہلے استاد بھی تھے، اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔
1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 14 سالہ اسمٰعیل نے محسوس کر لیا تھا کہ اس وقت اس مردہ قوم کو جگانے اور جگائے رکھے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت اس نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدید علوم سیکھنے پر توجہ دی، انگریزی میں مہارت حاصل کی، انجنیئرنگ کا کورس پاس کیا مگر ان علوم سے فراغت کے بعد اعلیٰ ملازمت حاصل کرنے کی بجائے تدریس کا معزز پیشہ اختیار کیا تاکہ اس راہ سے قوم کو اپنے کھوئے ہوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں۔
1857ء سے پہلے اردو شاعروں نے خیالات کے میدان میں گھوڑے دوڑانے کے علاوہ کم ہی کام کیا تھا، مگر اسمٰعیل میرٹھی نے اپنے ہم عصروں، حالی اور شبلی کی طرح اپنی شاعری کو بچوں اور بڑوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ مولانا نے پچاس سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں جو صرف بچوں کے لیے ہیں۔ان میں سے کچھ ایسی ہیں جن کا انہوں نے انگریزی شاعری سے ترجمہ کیا ہے مگر اس کے باوجود یہ نظمیں اپنی زبان اور بیان کے لحاظ سے انتہائی سادہ اور پر اثر ہیں۔اردو کے علاوہ مولانا نے فارسی ریڈرز بھی ترتیب دیں اور فارسی زبان کی گرائمر کی تعلیم کے لیے کتابیں لکھیں۔
مولانا کے دو ہندو دوستوں نے جو سرجن تھے، اردو میں اناٹومی اور فزیالوجی یعنی علمِ تشریح اور علم افعال الاعضا پر کتابیں لکھی تھیں۔ مولانا نے ان دوستوں کی درخواست ہر ان کتابوں پر نظرِ ثانی کی اور ان کی زبان کو ٹھیک کیا۔ اپنے روحانی استاد اور پیر کی حالات پر ایک کتاب 'تذکرہ غوثیہ' کے نام سے لکھی۔ دہلی کے مشہور عالم اور ادیب منشی ذ کاء اللہ نے بھی سرکاری اسکولوں کیلئے اردو ریڈروں کا ایک سلسلہ مرتب کیا تھا، ان کی ان کتابوں مں مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی نظمیں شامل تھیں، مولانا نے جغرافیہ پر بھی ایک کتاب لکھی جو اسکولوں کے نصاب میں داخل رہی۔ مسلمانوں کے اس عظیم خدمت گزار مصلح نے 73 سال کی عمر میں یکم نومبر 1917ء کو وفات پائی۔
|انتخاب کلام|
ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
نائو کاغذ کی سدا چلتی نہیں
٭٭٭
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
٭٭٭
نہر پر چل رہی ہے پن چکی
دھن کی پوری ہے کام کی پکی
٭٭٭
بندگی کا شعور ہے جب تک
بندہ پرور! وہ بندگی ہی نہیں
٭٭٭
نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض
مِرے مذہب میں ہے تیری رضا فرض
٭٭٭
کبھی بُھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
٭٭٭
خواہشوں نے ڈبو دیا دِل کو
ورنہ یہ بحرِ بیکراں ہوتا
٭٭٭
سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مُجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں
٭٭٭
اِن بد دِلوں نے عشق کو بدنام کر دیا
جو مرتکب شکایتِ جور و جفا کے ہیں
٭٭٭
مارا بھی اور مار کر زندہ بھی کر دیا
یہ شعبدے تو شوخیٔ نازو ادا کے ہیں
٭٭٭
اظہارِ حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں
٭٭٭
خود فروشی حُسن کو جب سے ہوئی مدِ نظر
نرخِ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیں
٭٭٭
آغازِ عشق عُمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو کیا
٭٭٭
جاگیرِ دَدر پر ہمیں سرکارِ عشق نے
تحریر کر دیا ہے وثیقہ دوام کا
٭٭٭
کسی کی برقِ تبسّم جو دل میں کوند گئی
تو چشمِ تر کا ہوا حال ابرِ تر کا سا
٭٭٭
جی چاہتا ہے آپ کے در پر پڑا رہوں
صاحب نہیں ہے اور کوئی اِس غلام کا
٭٭٭
طالب ہوں تجھ سے تیری مُحبت کے جام کا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی تشنہ کام کا
٭٭٭
زلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں
رخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پیشکش: نوائے اوچ لٹریری سوسائٹی (رجسٹرڈ)
► © Nawaeuch نوائے اوچ ®
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں