سرمائی تعطیلات کو کارآمد بنائیں
*اَلسّلام علیکم!*
ریاست مہاراشٹر میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے سرمائی / دیوالی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے جو کہ 9 نومبر تا 25 نومبر 2023 تک جاری رہیں گی۔ تعطیلات کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ دونوں اپنی ذہنی اور جسمانی تھکان کو ختم کر سکیں اور نئے جوش و خروش کے ساتھ دوبارہ اس عمل میں شراکت کریں جو اُن کے کیریئر اور مستقبل کو تابناک بنانے کا وسیلہ ہے۔
اُستاد اور شاگرد تعلیم یا علم کے پروگرام کے دو لازمی عناصر ہیں۔ ایک مثالی معلّم طلبہ کو اسکول میں پڑھانے کے بعد سرما کی چھٹیوں کیلئے بھی کام دیتا ہے۔ سرمائی چھٹیوں کا کام بچوں کی ضروریات اور دلچسپیوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ براہ راست کتب سے سوالات کے انتخاب کی بجائے معلّم یا معلّمہ خود تخلیقی نوعیت کے سوالات بنا کر طلبہ کو ان کے جوابات تیار کرنے کی ترغیب دیں۔ جماعت کے طلبہ سے مشاورت کر کے چھٹیوں کا کام تفویض کیا جائے اور چھٹیوں کا کام تحریری اور زبانی یادداشت دونوں طرح کا ہونا چاہئے۔ چھٹیوں کا کام اتنا زیادہ نہ ہو کہ طلبہ کی تفریح، آرام و سکون، ذاتی اور گھریلو مصروفیات کا وقت بھی چھین لیا جائے۔ چھٹیوں کا کام سزا کے طور پر نہ دیاجائے۔
سرمائی تعطیلات میں والدین بچوں کی تعلیمی کمزوریوں کو کم سے کم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کیلئے والدین اساتذہ سے مل کر بچوں کی کمزوریوں کو جاننے کی کوشش ضرور کریں۔ کسی بھی مضمون یا صلاحیت میں کمزوری کے پیش نظر چیک لسٹ بنائی جا سکتی ہے کہ بچے کی چھٹیوں سے قبل صورتحال کیا ہے اور بعد میں رفتہ رفتہ کیا پوزیشن ہوگی۔ کمزوری کے پیش نظر سرگرمیاں ترتیب دی جائیں اور انہیں لاگو کرنے کیلئے نظام الاوقات مرتب کیا جائے۔
اساتذہ اور والدین دونوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعطیلات کے دورانیے کو طلباء کیلئے مفید بنائیں۔ چھٹیوں میں طلبہ کی نگرانی نہ کی جائے تو ان کا منفی قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہو جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ تعطیلات کے دوران طلبہ کو ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہئے کہ وہ میقات اوّل کی پڑھائی کے بعد تازہ دم ہو سکیں تاکہ دوبارہ نئے جوش کے ساتھ اس عمل میں اپنی شراکت کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر والدین اور سرپرستوں کو بھی اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اپنے بچوں کو ان کی عمر اور دلچسپیوں کے لحاظ سے ان سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی راہ ہموار کرنا چاہئے جو ان کی شخصیت کو مثبت طور پر پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو۔ بظاہر اس سادہ لیکن در حقیقت پیچیدہ موضوع کی طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی متوازن راہ بنائی جاسکے جس پر چل کر طلبہ کی فطری نشوونما اور ان کی شخصیت کی ہمہ گیر ترقی ممکن ہو سکے کہ یہی تعلیم کا بنیادی مقصد بھی ہے۔
ایک بات کا خاص طور پر خیال رہے کہ نبی کریم ﷺ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو ثابت قدمی سے مسلسل کیا جائے۔ لہٰذا چھٹیوں کیلئے جو نظام الاوقات اور تربیتی امور طے کرلیں، انھیں باقاعدگی سے انجام دیں اور چھٹیوں کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں، تب ہی مؤثر اور نتیجہ خیز تربیت ہوسکے گی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ الله تعالیٰ سے مدد، استعانت اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام بھی ضرور کیجئے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں