ایک مکمل اور سچی داستان
ایک خاتون کی کہانی جو ہر بات کا جواب قرآن مجید سے دیا کرتی تھی،
آپ نے عبداللہ ابنِ مبارک رحمہ اللہ کے بارے میں سنا ہوگا، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد اور امام بخاری رحمہ کے استاد ہیں،
وہ بیان کرتے ہے کہ میں ایک دفعہ حج بیت اللہ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے غرض سے گھر سے نکلا،
راستے میں ایک عمر رسیدہ خاتون ملی ایسا لگ رہا تھا کی وہ اپنے قافلہ سے بھٹک چکی تھی،
عبد اللہ: السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ.
خاتون:"سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ"
"رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا جائے گا" يسٓ 58
عبد اللہ: يرحمك الله.... آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟
خاتون:" مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ"
"اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا" الأعراف 186.
( میں سمجھ گیا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے)
عبد اللہ: آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟
خاتون: "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"
"پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا" الاسراء 1.
(میں سمجھ گیا کہ وہ حج سے فارغ ہو کر بیت المقدس کی طرف جانا چاہ رہی ہے)
عبد اللہ: آپ یہاں پر کتنے دن سے ہیں؟
خاتون:" ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا"
" متواتر تین رات" مریم 10.
عبد اللہ: آپ کے پاس کھانے پینے کا کیا بندوبست ہے؟
خاتون: " هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ"
" وہی اللہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے"
الشعراء 79.
عبد اللہ: آپ وضوء کس چیز سے کرتی ہیں؟
خاتون: " فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا"
"اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو" النساء 43.
عبد اللہ: میرے پاس کھانا ہے۔ چاہے تو آپ کھا سکتی ہیں؟
خاتون: " ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ"
" پھر رات تک روزے کو پورا کرو"
البقرۃ 187.
مراد یہ کہ میں روزہ سے ہوں،
عبد اللہ: (اماں) یہ تو رمضان کا مہینہ نہیں ہے؟
خاتون:" وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ"
"اور جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے" البقرۃ 158.
عبد اللہ: سفر میں روزہ توڑنا تو ہمارے لیے حلال ہے؟
خاتون:"وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ"
"اور یہ کہ تم روزہ رکھو تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو" البقرة 184.
جب مجھے احساس ہوا کہ ہر بات کا جواب صرف قرآن سے دیتی ہے، تو میں نے وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی،
عبد اللہ: آپ میری طرح بات کیوں نہیں کرتیں؟
خاتون:"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
" آدمی جب بھی کوئی بات اپنی زبان سے نکالتا ہے تو اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے ( جو اسے لکھ لیتا ہے )
ق 18.
عبد اللہ: آپ کس قبیلہ سے ہیں؟
خاتون:" وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا"
"اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تجھے علم نہیں کیونکہ اس بات کے متعلق کان، آنکھ اور دل سب کی باز پرس ہوگی" الاسراء 36.
عبد اللہ: میں نے آپ سے غلط سوال کر دیا، مجھے معاف کر دیجئے؟
خاتون:" لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ" آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کردے،( یوسف92)
عبد اللہ: کیا میں آپ کو اپنی اونٹنی پر بیٹھاکر آپ کے قافلے تک چھوڑ دوں؟
خاتون:" وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ"
"تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے" البقرۃ 197.
یعنی اگر تم یہ احسان کر دو گے تو اللہ رب العالمین تمہیں اس کا اجر دے گا،
میں اپنی اونٹنی کو بیٹھایا، تو اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ ضعیف عورت ہے، شاید سوار ہونے میں کوئی پریشانی ہوگی تو میں مدد کر دونگا،
خاتون:"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِم"
" مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں" النور 30.
میں نے اپنی آنکھیں پھیر لی اور کہا بیٹھ جائیے ؟
جب وہ خاتون بیٹھنے گی تو اوٹنی بدک
گی اور ان کا کپڑا تھوڑا سا فٹ گیا،
خاتون:" وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ"
" اور تم پر جو بھی مصیبت آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے"
الشوری 30.
عبد اللہ: آپ کچھ دیر صبر کیجئے، میں اوٹنی کا پیر باندھ دیتا ہوں،
خاتون: " فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ"
"ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا" الانبیاء 79.
مراد: آپ بہت عقلمند انسان ہیں،
عبد اللہ: جی تیار ہے آپ اب بیٹھ جائیے؟
خاتون جب سوار ہوئی تو کہنے لگی،
"سبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔۔وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ"
"پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے مخلوقات کو مسخر کردیا اور ہم اپنی قوت سے انہیں مسخر نہ کرسکے،
اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹنے والے ہیں" الزخرف 13۔14.
میں .
میں اوٹنی کے لگام کو پکڑ کر تیز تیز چلنے لگا، اور اونٹنی کو تیز رفتار چلانے کے لئے جو آواز (سیٹی) دی جاتی ہے میں دینے لگا،
خاتون: " وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ"
" اور اپنی چال میں اعتدال ملحوظ رکھو اور اپنی آواز پست کرو، لقمان 19.
تو میں اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرتے ہوئے عربی اشعار گنگنانے لگا،
خاتون:" فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"
"جس قدر بھی آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو" مزمل 20.
( اشعار گنگنانے نے بہتر ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو)
عبد اللہ: اللہ رب العزت نے آپ پر بہت رحم وکرم کا معاملہ کیا ہے،
خاتون:" وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ"
"اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں" البقرۃ 269.
( یعنی آپ بہت عقلمند ہیں)
جب میں تھوڑا دور چلا گیا تو میں نے سوال کیا،
عبد اللہ: کیا اس سفر میں آپ کا خاوند ہے؟
خاتون:" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ"
اے ایمان والو ! تم لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں (ذہنی طور پر) تکلیف ہوگی"
المائدہ 101.
میں سمجھ گیا کہ اس کا خاوند اس دنیا میں نہیں ہے،
میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے چلنے لگا اور کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ اس کے قافلہ سے جا ملا،
عبد اللہ: اس قافلہ میں آپ کا کون ہے؟
خاتون: "الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"
"مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے"
الکہف 46.
تو مجھے معلوم ہو گیا کہ اس قافلہ میں انکے بچے ہیں تو میں نے پوچھا اسکی کیا پہچان ہے،
خاتون:" وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ"
"اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائی اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں" النحل 16.
(مراد یہ کہ میرا بیٹا اس قافلہ کا قائد ہے)
عبد اللہ: آپ کے بچوں کا کیا نام ہیں؟
خاتون:" وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا" البقرۃ 125
"وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا" البقرۃ 164.
"يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ" مریم 12.
( یعنی میرے بڑے بیٹے کا نام ابراہیم
دوسرے کا نام موسیٰ، اور تیسرے کا نام
یحیی ہے)
عبد اللہ: میں نے آواز دی۔ اے ابراھیم! اے موسٰی! اے یحیی !
تو وہ لوگ خیمے سے باہر نکلیے،
پھر جب میں خیمہ کے اندر بیٹھ گیا تو وہ اپنے بچوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگی،
خاتون:"فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ"
"اب یوں کرو کہ اپنا چاندی کا سکہ دے کر کسی ایک کو شہر بھیجو کہ وہ دیکھے کہ صاف سھترا کھانا کہاں ملتا ہے"
مراد یہ کہ: مہمان آیا ہے اس کے لئے شہر سے بہترین کھانا خرید کر لاو،
ان میں سے ایک لڑکا شہر گیا اور کھانا خرید کر لایا پھر میرے سامنے پیش کیا،
خاتون:" كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ"
"مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ دنوں میں کیا تھا"
الحاقة24.
عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے ان کے بیٹوں سے کہا،
تمہارا یہ کھانا میرے لئے اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ میں اس امر( قرآنی آیات سے گفتگو)کے بارے میں نہ جان لوں،
بیٹوں نے کہا: یہ ہماری ماں ہے،
اور چالیس سال سے قرآن کی زبان میں ہی بات چیت کر رہی ہیں، اس خوف سے کہ کہی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکل جاۓ جس کی وجہ سے اللہ رب العزت ناراض ہو جائے،
عبد اللہ:" ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ"
" یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے"
الجمعة 4.
ترجمہ: از المتكلمة بالقرآن.
امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ سب کو پسند آیا ہوگا،
اللہ رب العالمین ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرنے کی توفیق دے۔
اور کسی سے کوئی ایسی بات نہ کہیں جسکی پاداش میں کل قیامت کے دن ہمارا مواخذہ ہو اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرناپڑے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں قرآن سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے آمین ثم آمین یارب العالمین.
✨✨
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں