آج کلاسیکی اردو کے معروف شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے۔
+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 7 نومبر 2023ء) آج اردو اور پنجابی کے معروف شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے، محمد سراج الدین بہادر شاہ ظفر 24 اکتوبر 1775ء کو دہلی میں اکبر شاہ ثانی کے ہاں لال بائی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ 1845ء میں پہلا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا، 11 جنوری 1849ء کو شہزادہ مرزا دارا بخت فوت ہوئے۔ 1850ء میں دوسرا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا، 10 جولائی 1856ء کو مرزا فخرو فوت ہوئے، 9 مارچ 1858ء کو بہادر شاہ ظفر کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنا گیا۔
17 اکتوبر 1858ء کو ملکہ زینت محل شہزادہ جواں بخت اور دوسرے افراد کے ساتھ دلی سے رنگون کے لیے روانہ ہوئے، 9 دسمبر 1858ء کو رنگون پہنچے، 3 نومبر 1962ء کو حلق کی بیماری میں مبتلا ہوئے،7 نومبر 1862ء بروز جمعہ صبح 5 بجے رنگون میں وفات پائی، اسی دن شام 4 بجے تدفین کر دی گئی۔
بہادر شاہ ظفر دیوان اول تک شاہ نصیر کے شاگرد رہے جب وہ حیدر آباد دکن چلے گئے تو پھر کچھ دن میر کاظم حسین بے قرار کے شاگرد رہے۔ جب وہ جان انفنسٹن کے میر منشی مقرر ہو کر دلی کو چھوڑ گئے کچھ عرصہ عزت اللہ عشق کی بھی شاگردی میں رہے اس کے بعد ذوق دہلوی (جب ذوق غلام رسول شوق کے شاگرد تھے) سے مشورۂ سخن کرتے رہے اور پھر یہ سلسلہ ذوق کی وفات تک 47 برس قائم رہا۔ ذوق دہلوی کی وفات کے بعد آپ مرزا غالب کے شاگرد ہو گئے، تاہم 1857ء کے غدر نے استادی شاگردی کا یہ سلسلہ بھی ختم کرا دیا۔
|تصانیف|
دیوانِ ظفر ،لاہور،ملک دین محمد اینڈ سنز،فروری 1939ء، 80 ص (شاعری)
دیوان سوم
دیوان دوم
دیوان اول
|منتخب کلام|
بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی
لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی
تیری آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی
عکس ِ رخسار نے کس لیے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہِ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی
کیا سبب تُو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار
خُو تری حور ِ شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا
اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُو نے
کیوں خرد مند بنایا، نہ بنایا ہوتا
خاکساری کے لئے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاکِ درِ جانانہ بنایا ہوتا
تشنہء عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا
دلِ صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلفِ مشکیں کا تیرے شانہ بنایا ہوتا
تھا جلانا ہی اگر دوریء ساقی سے مجھے
تو چراغِ در میخانہ بنایا ہوتا
شعلہء حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا
روز معمورہء دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں