جمعرات، 9 نومبر، 2023

عالمی یوم اردو

شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یوم ولادت....9 نومبر یوم اردو

نام محمداقبال، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔
 ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند
 حاصل کی۔
 
۱۹۲۲ء میں ان کی اعلی قابلیت کے صلے میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت
 بھی تلمذ رہا۔ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی
 ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔
 
دنیائے اردو میں 9 نومبر موصوف کے یوم ولادت کی نسبت سے  عالمی یوم اردو کے نام سے منایا جاتا ہے

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:270

علامہ اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر موصوف کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں......

آئین ِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں 
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی 
 
 اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل 
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے 

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر 
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا 
 
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی 
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا 
 
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو 
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں 

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے 
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
 
 انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں 
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں 

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی
 
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی 
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی 

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا.......
 
 باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں 
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر 

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی 
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے.....!
 
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی 
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
 
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق 
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی 
 
پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر

ورنہ میں اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے

 پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو 
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں