جمعہ، 21 نومبر، 2025

جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے

 



 

جب اردو انگریزی میں قید ہو جائے

تحریر: الطاف آمبوری

      اردو زبان برصغیر کی تہذیب، ثقافت اور ادبی میراث کی خوبصورت علامت ہے۔ اس کی دلکشی صرف اس کے الفاظ میں نہیں بلکہ اس کے رسم الخط (لکھنے کے انداز) میں بھی پنہاں ہے۔ اردو کا نستعلیق رسم الخط نہ صرف جمالیاتی لحاظ سے حسین ہے بلکہ معنوی گہرائی اور لسانی ربط کا مظہر بھی ہے۔ مگر حالیہ دور میں ڈیجیٹل ذرائع اور سوشل میڈیا کی عام رواج نے اردو کے اصل رسم الخط کے بجائے رومن اردو کے استعمال کو فروغ دیا ہے، جو زبان و ادب دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہو رہا ہے۔

      رومن اردو سے مراد وہ طرزِ تحریر ہے جس میں اردو کے الفاظ انگریزی حروفِ تہجی میں لکھے جاتے ہیں۔ مثلاً:"Main theek hoon" بجائے "میں ٹھیک ہوں" کے۔

      ابتدائی طور پر رومن اردو کا استعمال صرف آسانی کے لئے کیا جاتا تھا، لیکن وقت کے ساتھ یہ ایک عام رواج بنتا جا رہا ہے، خصوصاً نئی نسل میں۔ رومن اردو میں الفاظ کی ادائیگی کا کوئی مستقل قاعدہ نہیں ہوتا۔ ایک ہی لفظ مختلف لوگ مختلف انداز میں لکھتے ہیں۔مثلاً “khush”, “khus”, “khosh” — تینوں کا مطلب “خوش” ہے مگر تلفظ میں فرق پیدا ہو جاتا ہے۔یہی بے قاعدگی رفتہ رفتہ تلفظ، املاء اور لسانی معیار کو متاثر کر رہی ہے۔

      جب نوجوان نسل روزمرہ تحریر میں رومن اردو استعمال کرتی ہے تو ان کی اردو رسم الخط سے دلچسپی کم ہو جاتی ہے۔وہ اردو لکھنے، پڑھنے اور سمجھنے میں کمزور ہو جاتے ہیں۔نتیجتاً وہ نہ اردو ادب سے صحیح طور پر لطف اٹھا پاتے ہیں، نہ اس کے فکری سرمائے کو سمجھ سکتے ہیں۔یہی صورتِ حال اردو کے زوال کا باعث بن رہی ہے۔

      اردو ادب کی اصل روح اس کے رسم الخط میں پوشیدہ ہے۔ میر، غالب، اقبال، فیض اور دیگر شعرا کی تحریری خوبصورتی ان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ نستعلیق کی نرمی اور روانی میں ہے۔جب رومن رسم الخط میں اردو لکھی جاتی ہے تو اس کی ادبی لطافت ماند پڑ جاتی ہے۔یوں نئی نسل اپنی ادبی و تہذیبی شناخت سے کٹتی جا رہی ہے۔

      رومن اردو نے املاء اور قواعد دونوں کو متاثر کیا ہے۔کسی لفظ کی درست شکل معلوم نہ ہونے کے سبب لوگ غلط املا کے عادی بن گئے ہیں۔مثلاً “Zindagi”, “Zendagee”, “Zindagee” سب ایک ہی لفظ کی مختلف شکلیں ہیں۔یہ غیر معیاری تحریر اردو زبان کے قواعدی ڈھانچے کو کمزور کر رہی ہے۔

اردو صرف زبان نہیں، بلکہ ہندو مسلم تہذیب کی علامت ہے۔رومن اردو کے بڑھتے ہوئے رجحان سے نہ صرف زبان کی اصل شکل متاثر ہو رہی ہے بلکہ اس سے ہماری ثقافتی شناخت بھی کمزور پڑ رہی ہے۔اگر یہی رجحان جاری رہا تو آنے والی نسلیں اردو کو محض بولی کی صورت میں جانیں گی، تحریری ورثے سے ناواقف رہیں گی۔

      اردو رسم الخط سے دوری کا اثر تعلیمی سطح پر بھی پڑ رہا ہے۔بہت سے طلبہ اردو میں امتحان دینے سے گھبراتے ہیں کیونکہ وہ رومن انداز میں لکھنے کے عادی ہیں۔یہ رجحان علمی پستی اور زبان سے بیگانگی کو جنم دے رہا ہے۔

      اگرچہ سوشل میڈیا پر اردو رسم الخط لکھنا کچھ مشکل لگتا ہے، مگر آج بے شمار اردو کی بورڈ ایپس اور صوتی ان پٹ (Voice Input) سہولیات دستیاب ہیں۔ان کی مدد سے نستعلیق اردو میں لکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ والدین، اساتذہ اور ادبی ادارے نئی نسل کو اردو رسم الخط کی طرف واپس لانے کی منظم کوششیں کریں۔

                                                        رومن اردو کا ظاہری فائدہ وقتی اور سہولت پر مبنی ہے، لیکن اس کے اثرات دیرپا اور منفی ہیں۔یہ نہ صرف ہماری زبان کی بنیادوں کو ہلا رہی ہے بلکہ تہذیبی و فکری رشتے کو بھی کمزور کر رہی ہے۔وقت کا تقاضا ہے کہ ہم رومن اردو کے بجائے اصل اردو رسم الخط کو فروغ دیں، تاکہ ہماری زبان اپنی خوبصورتی، معنویت اور وقار کے ساتھ زندہ رہے۔

                                                  رومن اردو سہولت تو دیتی ہے مگر اس کی قیمت لسانی کمزوری، ادبی بگاڑ اور تہذیبی نقصان کی صورت میں چکانی پڑتی ہے۔اردو کی بقا اسی میں ہے کہ ہم اپنے رسم الخط کو اپنائیں اور اپنی نسلوں میں اس کے تئیں محبت و فخر پیدا کریں۔

1 تبصرہ: