بدھ، 12 نومبر، 2025

مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن


مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت، علمی ورثہ اور قومی وژن

الطاف آمبوری

1. مولانا ابوالکلام آزاد: ایک عہد ساز شخصیت

مولانا ابوالکلام محی الدین احمد آزاد (1888ء – 1958ء) برصغیر کی تاریخ کے ان نادر روزگار شخصیات میں سے ہیں جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، سیاسی عزم، اور علمی گہرائی سے ایک پورے عہد کی تشکیل اور رہنمائی کی۔ وہ بیک وقت ایک برجستہ عالمِ دین، ایک شعلہ بیاں صحافی، ایک کہنہ مشق انشا پرداز، اور ایک بے باک سیاسی رہنما تھے۔ ان کی زندگی ہندوستان کی تحریکِ آزادی، فکری بیداری اور قومی تعمیر کی کہانی ہے۔

مولانا آزاد کی پیدائش 1888ء میں مکہ مکرمہ میں ہوئی تھی۔ انہوں نے روایتی اسلامی علوم کی تعلیم حاصل کی اور کم عمری میں ہی عربی، فارسی اور اردو زبانوں پر مکمل عبور حاصل کر لیا۔ انہوں نے صحافت کو عوامی بیداری اور سیاسی شعور پھیلانے کا ذریعہ بنایا۔ ان کا ہفتہ وار اخبار 'الہلال' (1912ء) اپنے دلیرانہ اور انقلابی لب و لہجے کے باعث بہت جلد مقبول ہوا اور برطانوی سامراج کے خلاف سیاسی جدوجہد میں شامل ہونے کی ترغیب دی۔

آزاد نے تحریکِ آزادی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ وہ متحدہ قومیت کے پرزور حامی تھے اور انہوں نے ہمیشہ تقسیمِ ہند کی مخالفت کی۔ 1940ء میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کے صدر منتخب ہوئے اور آزادی تک اس منصب پر فائز رہے۔ 'انڈیا وِنز فریڈم' ان کی سیاسی بصیرت کی عکاسی کرتی ہے۔ ان کا علمی ورثہ بھی بے مثال ہے، جس میں سب سے بڑا کارنامہ 'ترجمان القرآن' ہے اور دورانِ اسیری لکھے گئے خطوط کا مجموعہ 'غبارِ خاطر' اردو ادب کا ایک شاہکار ہے۔ ان کی عہد ساز شخصیت کا اثر آج بھی ہندوستان کی جمہوری، سیکولر اور تعلیمی روح میں جھلکتا ہے۔

2. مولانا ابوالکلام آزاد بطورِ وزیرِ تعلیم: عصری تعلیم کی بنیاد

آزادی کے بعد (15 اگست 1947ء سے 1958ء تک) مولانا آزاد نے ملک کے پہلے وزیرِ تعلیم کے طور پر ایک ایسا وژن پیش کیا جس نے جدید ہندوستان کے تعلیمی ڈھانچے کی بنیاد رکھی۔ ان کا مقصد تھا کہ ملک علمی اور تکنیکی طور پر ترقی کرے۔

اعلیٰ تعلیم کی منصوبہ بندی:

 * یونیورسٹی گرانٹس کمیشن (UGC) کا قیام (1953ء): یہ ایک ایسا بااختیار ادارہ تھا جس نے یونیورسٹیوں میں تعلیم، تحقیق اور معیار کو فروغ دینے کے لیے فنڈنگ کا ایک منظم نظام فراہم کیا۔

 * انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (IITs) کا سنگِ بنیاد: انہوں نے ملک کے پہلے آئی آئی ٹی (IIT Kharagpur) کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا اور اعلیٰ تکنیکی تعلیم کے ایک مضبوط نیٹ ورک کا آغاز کیا۔

 * ثانوی تعلیم کمیشن (1952-53ء): اس کی تشکیل تعلیمی نظام کے بنیادی مرحلے کی اصلاح کے لیے کی گئی۔

فنون، ثقافت اور تحقیق کا فروغ:

 * ثقافتی اکیڈمیوں کا قیام: انہوں نے ادب، فنون اور ثقافت کو زندہ رکھنے کے لیے تین بڑی قومی اکیڈمیوں، یعنی ساہتیہ اکیڈمی، سنگیت ناٹک اکیڈمی، اور للت کلا اکیڈمی کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

 * سائنسی ادارے: کونسل آف سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (CSIR) جیسے اداروں کی مضبوطی پر توجہ دی۔

مولانا آزاد نے بنیادی اور مفت تعلیم پر زور دیا اور خواتین کی تعلیم کو ملک کی ترقی کے لیے لازم سمجھا۔ ان کی یومِ پیدائش 11 نومبر کو پورے ملک میں قومی یومِ تعلیم (National Education Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔

3. متحدہ قومیت (Composite Nationalism) کے بارے میں ان کے نظریات

مولانا آزاد کا متحدہ قومیت کا نظریہ ان کی سیاسی فکر کا سنگ بنیاد اور ہندوستان کی آئینی روح کا عکاس ہے۔ یہ نظریہ اس بات پر مبنی تھا کہ ہندوستان میں رہنے والے مختلف مذاہب کے لوگ، خاص طور پر ہندو اور مسلمان، ایک مشترکہ جغرافیائی، تاریخی اور سیاسی پس منظر کی وجہ سے ایک قوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔

تاریخی و سماجی وحدت:

 * مولانا آزاد کا ماننا تھا کہ پچھلے ایک ہزار سال کی تاریخ نے ہندوستان میں ایک "مشترکہ زندگی" اور ایک "مشترکہ کلچر" کو جنم دیا ہے، جسے وہ "ہندوستانیت" کہتے ہیں۔

 * ان کا مشہور قول تھا کہ وہ ایک مسلمان ہیں اور اس پر فخر ہے، لیکن وہ ایک ہندوستانی بھی ہیں اور ہندوستان کی تاریخ میں اپنا کردار ادا کرنے کی وجہ سے وہ اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑیں گے۔

مذہبی آزادی بمقابلہ قومی وحدت:

 * انہوں نے دلیل دی کہ مذہب ایک نجی معاملہ ہے جبکہ قومیت کا تعلق سیاسی اور سماجی زندگی سے ہے۔

 * وہ دو قومی نظریہ کے سخت مخالف تھے اور تقسیم کو ایک "تاریخی غلطی" قرار دیتے تھے، کیونکہ ان کا ماننا تھا کہ تقسیم سے ہندوستان میں موجود کروڑوں مسلمانوں کا مستقبل خطرے میں پڑ جائے گا۔

مولانا کا نظریہ مذہبی رواداری اور تمام مذاہب کے احترام پر مبنی تھا۔ یہ نظریہ ہندوستانی جمہوریت کی اس روح کو تقویت دیتا ہے جس کے تحت کثرت میں وحدت کو قومی زندگی کی سب سے بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔

پیر، 10 نومبر، 2025

افسانچہ: جنریشن زی

افسانچہ: جنریشن زی

*✒️از الطاف آمبوری*

کمرے میں بیٹھا عارف موبائل کی اسکرین پر نظریں جمائے تھا۔
ماں نے آواز دی، *“بیٹا کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے!”*
*“ہاں امی، ابھی آتا ہوں…”* مگر انگلیاں اسکرین سے نہ ہٹیں۔
امی نے مایوسی سے سر ہلایا، *“ہماری نسل باتوں سے جڑی تھی، یہ نسل بس نیٹ سے جڑی ہے۔”*

عارف نے پوسٹ پر لائک کیا، چیٹ میں ایک “lol” بھیجا  مگر اپنے آس پاس کی خاموشی محسوس نہ کی۔
*نیٹ آن، رشتے آف۔ یہی تو ہے Gen Z کا المیہ*

بدھ، 5 نومبر، 2025

ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج

ریاست تامل ناڈو میں اردو زبان کو درپیش چیلنج

الطاف آمبوری

 

تعارف

        اردو زبان برصغیر کی روحانی، تہذیبی اور ادبی شناخت ہے۔ یہ زبان صدیوں کی تہذیبی آمیزش، علمی شعور اور محبت و رواداری کی آئینہ دار رہی ہے۔ جنوبی ہند خصوصاً ریاست تامل ناڈو میں اردو کا ایک روشن اور تابناک ماضی رہا ہے۔ یہاں کی قدیم درسگاہوں، شاعروں، ادیبوں اور اخبارات نے اردو کے فروغ میں گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ تاہم موجودہ دور میں اردو کو کئی طرح کے چیلنجز درپیش ہیں جو اس زبان کی بقا اور فروغ کے لیے تشویش کا باعث ہیں۔

 

تاریخی پس منظر

        تامل ناڈو میں اردو کی جڑیں نظامِ حیدرآباد، میسور اور دکن کے علمی مراکز سے جڑی ہوئی ہیں۔ نوآبادیاتی دور میں چنئی، ویلور، مدورائی، تریچی، سیالم اور آمبور جیسے شہروں میں اردو اخبارات، مکتب اور انجمنیں قائم تھیں۔ تامل و مسلم تہذیب کے امتزاج نے اردو کو یہاں ایک منفرد مقام عطا کیا۔

تاہم وقت کے ساتھ ساتھ ان اداروں کی تعداد گھٹتی گئی، اور آج صرف چند مدارس و تنظیمیں اردو کے وجود کو سنبھالے ہوئے ہیں۔

 

اردو زبان کو درپیش چیلنجز

1. تامل لازمی قانون اور اردو پر اس کے اثرات

ریاست تامل ناڈو میں "تامل لازمی قانون" (Tamil Compulsory Language Policy) کے نفاذ کے بعد اردو کے فروغ کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ اس قانون کے مطابق، دسویں جماعت تک تمام طلبہ کے لیے تامل زبان کا مطالعہ لازمی قرار دیا گیا ہے۔

اس کے نتیجے میں اردو کو صرف اختیاری مضمون (Optional Subject) کی حیثیت دے دی گئی ہے۔

بہت سے اردو میڈیم اسکولوں کے طلبہ، جو پہلے اردو کو لازمی مضمون کے طور پر پڑھتے تھے، اب اسے صرف ضمنی یا تیسری زبان کے طور پر اختیار کر سکتے ہیں۔

اس پالیسی نے اردو کے تعلیمی دائرے کو محدود کر دیا ہے، کیونکہ طلبہ اور والدین عموماً لازمی مضامین پر توجہ دیتے ہیں جبکہ اختیاری زبانوں کو کم اہم سمجھتے ہیں۔

یہ صورتِ حال اردو کے تعلیمی فروغ اور طلبہ کی دلچسپی دونوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوئی ہے۔

 

2. تعلیمی اداروں میں زوال

ریاستی سطح پر اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد تیزی سے کم ہو رہی ہے۔ کئی اضلاع میں پرائمری سطح سے آگے اردو ذریعہ تعلیم دستیاب نہیں۔ اس کمی کی وجہ سرکاری بے توجہی، افرادی قوت کی قلت، اور والدین کا رجحان انگریزی و تمل ذریعہ تعلیم کی طرف بڑھنا ہے۔

3. اساتذہ کی کمی

اردو اساتذہ کی تقرری میں تاخیر، ٹرانسفر پالیسی کی غیر یقینی صورتِ حال، اور مستقل تربیت کی کمی نے معیارِ تعلیم کو متاثر کیا ہے۔ اردو اساتذہ کو اکثر تمل اسکولوں میں منتقل کر دیا جاتا ہے جہاں ان کی صلاحیتوں سے صحیح فائدہ نہیں اٹھایا جاتا۔

4. نصاب اور امتحانی نظام

اردو کو بطورِ مضمون شامل ضرور کیا گیا ہے، مگر نصاب میں جدت اور معیاری تدریسی مواد کی کمی ہے۔ نئی نسل کو اردو سے جوڑنے کے لیے جدید نصابی کتابوں، سرگرمی پر مبنی تعلیم اور ڈیجیٹل ذرائع کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے۔

5. حکومتی بے توجہی

ریاستی حکومت کی پالیسیوں میں اردو اکثر نظر انداز رہتی ہے۔ اردو اکیڈمی کے فنڈز محدود ہیں، مشاعرے اور علمی اجلاس کم ہوتے جارہے ہیں۔ کئی اضلاع میں اردو بورڈ یا سرکاری سائن بورڈ سے اردو رسم الخط غائب ہوتا جارہا ہے، جو ایک تشویشناک علامت ہے۔

6. والدین و طلبہ کا بدلتا رجحان

عصری تعلیم، روزگار اور مسابقتی امتحانات کے دباؤ نے والدین کو اردو سے دور کر دیا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اردو پڑھنے سے روزگار کے مواقع کم ہوتے ہیں، حالانکہ یہ مفروضہ درست نہیں۔ اردو صحافت، تدریس، ترجمہ، ابلاغیات، اور عدالتی نظام میں آج بھی روزگار کے کئی دروازے کھلے ہیں۔

7. ابلاغی ذرائع میں کمزور موجودگی

تامل ناڈو میں اردو اخبارات، رسائل اور ٹی وی پروگرام نہ ہونے کے برابر ہیں۔ ڈیجیٹل دنیا میں اردو کی موجودگی کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی نسل اپنی زبان سے جڑی رہے۔

 

کچھ مثبت پہلو

        ان چیلنجوں کے باوجود چند روشن مثالیں امید کی کرن ہیں۔ مدراس یونیورسٹی، ویلور انسٹی ٹیوٹ، بانگی حیات اسکول آمبور، دارالعلوم سبیل السلام، اور مختلف دینی ادارے اردو کی تعلیم جاری رکھے ہوئے ہیں۔اسی طرح چنئی، وشارم، آمبور، وانمباڑی، ترپاتور، ترچی، سیلم، درم پوری اور کرشناگری جیسے شہروں میں کئی اردو ادبی انجمنیں سرگرم عمل ہیں جو مشاعروں، تقاریب اور علمی اجلاسوں کے ذریعے اردو کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔کئی نوجوان بلاگرز، یوٹیوبرز اور شاعر اردو کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دے رہے ہیں۔سرکاری سطح پر بھی وقتاً فوقتاً اردو مشاعرے، سیمینار اور ایوارڈز کا سلسلہ جاری ہے۔

حل اور تجاویز

اردو میڈیم اسکولوں کی بحالی کے لیے ریاستی حکومت کو خصوصی اسکیمیں چلانی چاہئیں۔

تامل لازمی قانون میں نرمی کے ذریعے اردو کو دو لسانی نظام میں مساوی موقع دیا جائے۔

اردو اساتذہ کی تربیت کے لیے ریفریشر کورسز اور ورکشاپس کا اہتمام کیا جائے۔

نصاب میں جدیدیت اور سائنسی و تکنیکی مضامین کو اردو میں متعارف کرایا جائے۔

اردو ڈیجیٹل اکیڈمی قائم کی جائے تاکہ آن لائن کورسز، ای-کتب اور آڈیو دروس دستیاب ہوں۔

اردو و تمل دوستی پروگرام کے تحت بین اللسانی میل جول کو فروغ دیا جائے۔

اردو صحافت اور میڈیا کو سرکاری اشتہارات اور فنڈنگ میں ترجیح دی جائے۔

 

نتیجہ

       تامل ناڈو میں اردو کو درپیش چیلنج سنگین ضرور ہیں، مگر ناقابلِ حل نہیں۔اگر حکومت، اساتذہ، والدین اور سماجی تنظیمیں مل کر کام کریں تو اردو کا مستقبل نہ صرف محفوظ بلکہ تابناک ہو سکتا ہے۔اردو محض ایک زبان نہیں بلکہ ایک تہذیب، ایک تاریخ، اور ایک احساس کی علامت ہے — جسے زندہ رکھنا ہم سب کی اجتماعی ذمہ داری ہے

 

اتوار، 2 نومبر، 2025

افسانچہ: نیکی کر موبائل میں ڈال

 
افسانچہ: نیکی کر موبائل میں ڈال

 
✒️از الطاف آمبوری
 

دوست نے کہا،

"نیکی کر اور دریا میں ڈال!"

میں نے ہنس کر جواب دیا،

"زمانہ بدل گیا یار، اب نیکی کر — موبائل میں ڈال!"

میں نے کسی کی مدد کی، ویڈیو بنائی، سوشل میڈیا پر ڈال دی۔

لوگوں نے واہ واہ کی، لائکس ملے، دل خوش ہوا۔

مگر رات کو ضمیر بولا 

"اگر نیکی دکھانے کے لیے کی ہے...

"تو ثواب کہاں ڈالے گا؟"

ہفتہ، 1 نومبر، 2025

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی اہمیت

 

تحریر: الطاف آمبوری

 

       دنیا کی تمام ترقی یافتہ قوموں نے تعلیم کے میدان میں ایک بنیادی اصول کو تسلیم کیا ہے — ابتدائی تعلیم ہمیشہ بچے کی مادری زبان میں ہونی چاہیے۔ مادری زبان وہ پہلی زبان ہے جس کے ذریعے بچہ اپنی ماں سے، اپنے ماحول سے، اور اپنے سماجی دائرے سے تعلق قائم کرتا ہے۔ اسی زبان میں وہ دنیا کو سمجھنا شروع کرتا ہے، اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے، اور علم کے دروازے کھولتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم کے ابتدائی مراحل میں مادری زبان کا کردار بنیاد کی مانند ہوتا ہے۔ اگر بنیاد کمزور ہو تو عمارت کبھی مضبوط نہیں ہو سکتی۔

 

مادری زبان — فہم و ادراک کی زبان

       بچہ جب پہلی بار اسکول جاتا ہے تو وہ ذہنی طور پر دنیا کو اپنی مادری زبان کے ذریعے سمجھنے کا عادی ہوتا ہے۔ اگر اس پر کسی اجنبی زبان کو مسلط کر دیا جائے تو سیکھنے کا عمل بوجھ بن جاتا ہے۔ وہ مفہوم تو یاد کر لیتا ہے مگر معنی نہیں سمجھ پاتا۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے طلبہ ابتدائی سطح پر دلچسپی کھو دیتے ہیں۔

اردو زبان میں تعلیم دینے سے بچہ آسانی سے نصاب کو سمجھ سکتا ہے، سوالات کر سکتا ہے، بحث میں حصہ لے سکتا ہے، اور اپنی تخلیقی سوچ کو بروئے کار لا سکتا ہے۔ یہ عمل نہ صرف تعلیمی کامیابی میں اضافہ کرتا ہے بلکہ فکری آزادی کو بھی فروغ دیتا ہے۔

 

تعلیمی ماہرین کی آراء

       یونیسکو (UNESCO) کی متعدد رپورٹوں میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ پرائمری تعلیم اگر مادری زبان میں دی جائے تو بچے کی سیکھنے کی صلاحیت تین گنا زیادہ بڑھ جاتی ہے۔

ماہرِ تعلیم جے۔ پی۔ نائلر کے مطابق:

جب بچہ اپنی مادری زبان میں تعلیم حاصل کرتا ہے تو وہ صرف معلومات نہیں سیکھتا بلکہ علم کی روح کو سمجھتا ہے۔

اردو کے تناظر میں بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔ اردو بولنے والے بچوں کے لیے اردو صرف زبان نہیں بلکہ سوچنے، محسوس کرنے اور بیان کرنے کا ذریعہ ہے۔

اردو زبان اور تہذیبی شعور

       اردو زبان برصغیر کی مشترکہ تہذیب و ثقافت کی امین ہے۔ اس کے ذریعے محبت، اخوت، ادب اور اخلاقیات کے بے شمار اسباق نسل در نسل منتقل ہوئے ہیں۔ اگر ابتدائی تعلیم اردو میں دی جائے تو بچوں کے دل و دماغ میں اپنی تہذیبی جڑوں کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ وہ غالب، اقبال، اور سرسید کے فکری ورثے سے جڑتے ہیں۔

اردو تعلیم نہ صرف زبان کی بقا کا ذریعہ ہے بلکہ قوم کی فکری شناخت کا تحفظ بھی کرتی ہے۔

 

بین الاقوامی مثالیں

       دنیا کے کئی ممالک نے مادری زبان میں تعلیم کو قانونی حیثیت دی ہے۔

فن لینڈ اور ناروے میں ہر بچہ اپنی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم حاصل کرتا ہے، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان ممالک کی شرح خواندگی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔

چین میں ہر صوبہ اپنی علاقائی زبان میں ابتدائی تعلیم فراہم کرتا ہے، جس نے تعلیمی معیار کو بلند ترین سطح تک پہنچا دیا ہے۔

افریقہ کے کئی ممالک میں بھی اب انگریزی یا فرانسیسی کے بجائے مقامی زبانوں کو تعلیم کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے، تاکہ بچے اپنی جڑوں سے جڑے رہیں۔

ہندوستان جیسے کثیر لسانی ملک میں یہ اور بھی ضروری ہو جاتا ہے کہ ہر بچہ اپنی مادری زبان میں پرائمری تعلیم حاصل کرے — تاکہ مساوات، فہم اور معیار تعلیم برقرار رہے۔

 

اردو میڈیم اسکولوں کا زوال اور ضرورتِ احیاء

       بدقسمتی سے اردو میڈیم اسکولوں کی تعداد کم ہوتی جا رہی ہے۔ کہیں نصابی کتب کی کمی ہے، کہیں تربیت یافتہ اساتذہ کی۔ سرکاری سطح پر بھی اردو کو اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ اردو تعلیمی اداروں کو مضبوط کیا جائے، جدید نصاب کو اردو میں منتقل کیا جائے، اور اساتذہ کو تربیت دی جائے کہ وہ جدید تدریسی طریقوں کو اردو میں استعمال کر سکیں۔

اگر اردو میڈیم اسکولوں کو جدید سہولیات، لائبریریاں، اور ڈیجیٹل مواد فراہم کیا جائے تو یہ ادارے نہ صرف تعلیمی معیار میں نمایاں اضافہ کریں گے بلکہ اردو زبان کی ترویج کا عملی ذریعہ بھی بنیں گے۔

 

 

🔹اردو زبان — قومی اتحاد کی علامت

       یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ اردو کسی مخصوص طبقے یا مذہب کی زبان نہیں، بلکہ ہندوستان کی قومی زبانوں میں سے ایک اہم زبان ہے۔ اس کی جڑیں دہلی سے لے کر دکن تک پھیلی ہوئی ہیں۔ پرائمری سطح پر اردو میں تعلیم دینے سے نہ صرف ایک زبان محفوظ ہوتی ہے بلکہ قومی یکجہتی، ہم آہنگی، اور بین الثقافتی احترام بھی فروغ پاتا ہے۔

 

نتیجہ

       تعلیم کا مقصد صرف روزگار حاصل کرنا نہیں بلکہ ایک با شعور، فکری، اور اخلاقی انسان پیدا کرنا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے بچے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوں، اپنی تہذیب سے جڑے رہیں، اور دنیا کا مقابلہ اعتماد کے ساتھ کریں — تو ہمیں انہیں وہی زبان دینی ہوگی جس میں وہ خواب دیکھتے ہیں، سوچتے ہیں، اور اپنی ماں سے بات کرتے ہیں۔

پرائمری تعلیم میں مادری زبان اردو کی بحالی صرف زبان کی خدمت نہیں، قوم کی خدمت ہے۔

 

الطاف آمبوری

)تعلیمی و ادبی تجزیہ نگار(