جمعہ، 4 اگست، 2023

قصہ عربی شیخ کے مرغے کا."عربی ادب سے ماخوذ "

قصہ عربی شیخ کے مرغے کا.
"عربی ادب سے ماخوذ "
ایک بوڑھے شیخ کو اپنا ایک مرغا بہت پیارا تھا۔۔ اچانک ایک دن وہ چوری ہو گیا۔۔ اس نے اپنے نوکر چاکر بھگائے پورا قبیلہ چھان مارا مگر مرغا نہی ملا۔۔۔
ناچار غلام نے آ کر اطلاع دی کہ مرغے کو کوئی جانور کھا گیا ہو گا۔۔ بوڑھے شیخ نے مرغے کے پروں اور کھال ڈھونڈ کر لانے کا مطالبہ کر دیا۔۔ غلام حیران اور سرگرداں ڈھونڈنے نکل پڑے مگر بےسود۔۔ 
شیخ نے ایک اونٹ کاٹا اور پورے قبیلے کے عمائدین  کی دعوت کر ڈالی۔۔
جب وہ کھانے سے فارغ ہوئے تو شیخ نے ان سے اپنے مرغے کا دکھ بیان کیا اور ان سے مدد کی درخواست کی۔۔ کچھ زیر لب مسکرائے کچھ نے بڈھے کو خبطی سمجھا ۔مگر وعدہ کیا کہ کوشش کریں گے۔۔ باہر نکل کر مرغے کی تلاش پر اونٹ ذبح کرنے پر خوب گپ شپ ہوئی۔ 
کچھ دن بعد قبیلہ سے بکری چوری ہوئی۔۔ غریب آدمی کی تھی۔۔ وہ صرف ڈھونڈ ڈھانڈ کر خاموش ہو گیا۔۔ شیخ کے علم میں جب بات آئی تو اس نے ایک اونٹ پھر ذبح کیا اور دعوت کر ڈالی۔۔ جب لوگ کھانے سے فارغ ہوئے تو اس نے پھر مرغے کی تلاش اور بکری کا قصہ چھیڑا اور قبیلے کو کہا کہ اس کا مرغا ڈھونڈ دیں۔۔ اب تو کچھ نے اسے برا بھلا کہا۔۔ کچھ نے اس کو دلاسہ دیا کہ اتنی بڑی بات نہی صبر کر لو اس سے زیادہ اپنا نقصان کر چکے ہو۔۔ 
ابھی تین دن ہی گزرے تھے کہ شیخ غفور کا اونٹ رات کو اس کے گھر کے سامنے سے چوری ہو گیا۔۔ شیخ غفور  نے  اپنے ملازمین کو  خوب بڑا بھلا کہا۔۔ اور خاموش ہو گیا کہ ایک اونٹ اس کے لئے کوئی مالی وقعت نہی رکھتا تھا۔۔ 
بڈھے شیخ کو جب علم ہوا تو اس نے پھر ایک اونٹ کاٹا اور قبیلے کی دعوت کر دی ۔۔۔ کھانے سے جب سب فارغ ہوئے تو اس نے سرسری اونٹ گم ہونے کا ذکر کر کے اپنے مرغے کو یاد کیا اور قبیلہ سے التجا کی کہ اس کا مرغہ  ڈھونڈ دیں۔۔ اب تو محفل میں خوب گالی گلوچ ہوئی۔۔ اور بڈھے کو کہا کہ اب اگر دوبارہ اس نے مرغے سے متعلق کوئی حرکت کی تو پورا قبیلہ اس سے قطع تعلق  کر لیں گے۔۔شیخ کے بیٹوں نے بھی باپ کی اس حرکت پر مہمانوں کو رخصت کرتے ہوئے معذرت خواہانہ رویہ اختیار کیا۔۔اور شرمندہ بھی ہوئے کہ ایک مرغے کے بدلے تین اونٹ اور شرمندگی علیحدہ ۔۔ یقینا ان کا باپ اب سٹھیا گیا ہے۔۔ 
پندرہ روز گزرے تو قبیلہ کی ایک لڑکی کنویں سے پانی بھرنے گئی اور پھر واپس نہیں آئی۔۔ گاوں میں کہرام مچ گیا۔۔پورے قبیلہ کی عزت داو پر لگ گئی۔۔ نوجوانوں نے جھتے بنائے اور تلاش شروع کی۔۔پہلے گاوں پھر اردگرد ۔۔ پھر مزید گاوں کے لوگ شامل ہوئے اور اردگرد کے گاوں سے معلومات کی گئی۔ تو پتہ چلا کہ کچھ ڈاکو قریب پہاڑ کی ایک غار میں کچھ عرصے سے رہتے ہیں۔۔  
گاوں کے لوگوں نے چھاپہ مارا وہاں لڑائی ہوئی اموات ہوئیں اور لڑکی برآمد کر لی گئی۔۔ لوگوں نے وہاں اونٹ،بکری اور مرغے کی باقیات بھی ڈھونڈ لیں۔۔
تب انہیں احساس ہوا کہ بڈھا شیخ کس طوفان کے آنے کا انہیں عندیہ دے رہا تھا۔۔ اگر گاوں کے لوگ مرغے پر ہی متحد ہو جاتے تو آبرو تک بات نہ پہنچتی۔۔ 
*وَ لَنُذِیۡقَنَّہُمۡ مِّنَ الۡعَذَابِ الۡاَدۡنٰی  دُوۡنَ الۡعَذَابِ  الۡاَکۡبَرِ  لَعَلَّہُمۡ  یَرۡجِعُوۡنَ*

*ترجمہ:* بالیقین ہم انہیں قریب کے چھوٹے سے بعض عذاب  اس بڑے عذاب کے سوا چکھائیں گے تاکہ وہ لوٹ آئیں ۔ (السجدہ)
یہ اللہ کریم کی سنت ہے کہ وہ بڑی تکلیف سے پہلے چھوٹی تکلیف سے تنبیہ فرماتا ہے تاکہ اہل عقل ،سمجھ جائیں اور اپنی اور اپنے زیر تسلط اپنے ریوڑ پر توجہ دیں اس سے قبل کہ بھیڑیے نوچ کھائیں ۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں