حلیم، دلیم، لحیم....
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میری بیٹی نے بتایا کہ کل کالج میں اس حوالے سے بحث ہوگئی ، ایک ہم جماعت کہنے لگی صحیح لفظ حلیم نہیں دلیم ہے، دوسری بولی حلیم نہ دلیم بلکہ یہ تو لحیم ہے۔ ہم صحیح لفظ پوچھنے ٹیچر کے پاس چلے گئے کہ درست کیا ہے؟ وہ بولیں، کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم" اللّٰه تعالیٰ کا صفاتی نام ہے۔
.
گھر پہنچ کر بیٹی نے کہا ابو،، اب آپ ہی بتا دیجیے صحیح لفظ کیا ہے،۔
ہم نے کہا جو لوگ اللّٰه تعالیٰ کے صفاتی نام سے مماثل ہونے کی باعث اس کو حلیم کہنے سے گریزاں ہیں امید ہے کہ وہ اپنے مقدمات کے لئے "وکیل" تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں اکبر الہٰ آبادی کے اس مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔
.
پیدا ہوا وکیل تو شیطان نے کہا
لو آج ہم بھی صاحب اولاد ہو گئے
.
وہ تو بیمار ہونے پر "حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل" آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس "آخر" میں کچھ "باقی" رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللّٰه تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی"ولی" بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی "قابض" نہیں کہتے ہوں گے۔ ساڈی "باری" آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر "لطیفہ" کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک" صاحب کہنا تو پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرے گا۔
.
لفظ " مصوّر" کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی، ولی اللہ یا بادشاہ کو "جلیل" القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور "شہید" کا استعمال انسانوں کے لئے متروک قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم" کہنے پر پابندی ہوگی اور "مقتدر" قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔ کوئی انسان کسی کا " والی" " وارث" نہیں کہلائے گا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔ "ظاہر" و " باطن" بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی عمل یا کاروبار " نافع" ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب "جامع" کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے "رقیب" کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔ اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام "موخر" کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے "منتقم" مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔
.
یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی" لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دو جہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی، عم زاد اور داماد کو "علی" کے نام سے پکارا اور یہ عمل نہ تو ربِ کائنات کی بے ادبی کا باعث بنا اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔ اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے گا؟
.
ہم نے کہا بیٹا عربی کا ایک اصول سمجھ لیا جائے تو اس قسم کی الجھن سے بچنا انتہائی آسان ہوجائے گا۔ پہلی بنیادی بات یاد رکھنے والی یہ ہے کہ ”حلیم“ کا مصدر لفظ "حِلم" ہے جس کا مطلب "برد باری، تحمل، نرم دلی، نرم خوئی" گویا حِلم ایک صفت ہے جس میں "ی" کا اضافہ کرکے اسم بنایا گیا "حلیم"۔ یعنی کوئی ایسی چیز جو انتہائی نرم ہو۔
یہ حلیم اسم نکرہ ہے یعنی وہ نام جو کسی بھی چیز کا ہوسکتا ہے۔ جیسے مدرسہ ، گاڑی یا سائیکل وغیرہ لیکن اسی کو اسم معرفہ میں تبدیل کرکے اللّٰه تعالیٰ کا صفاتی نام بھی کہا گیا ہے۔ لیکن عربی میں کسی اسم نکرہ کو اسم معرفہ میں تبدیل کرنے کے اس نام سے پہلے ”ال“ (الف اور لام) لگا دیتے ہیں اس سے اسم نکرہ اسم معرفہ میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
اس کو تم یوں سمجھ لو جیسے تم انگریزی میں ہر ملک کو کنٹری کہتی ہو لیکن اگر مقصد کسی خاص ملک کی طرف اشارہ کرنا ہو تو اس کو کنٹری نہیں بلکہ دی کنٹری کہتی ہو۔ بالکل اسی طرح کسی بھی نرم چیز کو ”حلیم“ کہا جاسکتا ہے لیکن اللّٰه تعالیٰ کی نرم صفت کی باعث اس کو ”الحلیم“ کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے تمام اسمائے صفاتی میں تم کو یہ بات واضح نظر آئے گی کہ وہ ”ال“ سے شروع ہوتے ہیں تب ہی یہ صرف اس کی ذات کے لیے مخصوص ہو جاتے ہیں۔ اسی لیے اس پکوان کو ”حلیم“ کہا جاتا ہے ”الحلیم“ نہیں۔ اور حلیم کے معنی ہیں نرم ،ملائم۔ یہ صفت اس پکوان میں بھی پائی جاتی ہے کہ اس میں گوشت ہونے کے باوجود یہ انتہائی نرم و ملائم ہوتا ہے۔
.
ہم نے کہا یاد رکھو جس طرح میڈیا نے ہماری معلومات کا بیڑا غرق کیا ہے اسی طرح سوشل میڈیا نے ہمارے علم کا بھی بیڑا غرق کر دیا ہے اور اردو زبان کا تو دونوں نے مل کر خوب پلیتھن نکالا ہے۔ یہ حلیم ، دلیم اور لحیم کا جھگڑا سوشل میڈیا سے پہلے کبھی نہ اٹھا عشروں سے ہم سب حلیم ہی کھاتے آئے تھے۔ یاد رکھو:
اردو ہے جس کا نام ہم ہی جانتے ہیں داغ
سارے جہاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں