بدھ، 9 اگست، 2023

خود احتسابی

ایک مرتبہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جنگل سے گزر رہے تھے راستہ میں کھانے کے لیے رکے وہاں ایک لڑکے کو دیکھا کہ بکریاں چرارہا ہے حضرت نے اس بچے کو کھانے پہ بلایا تو اس نے کہا میرا (نفل) روزہ ہے تو حضرت نے اس کے امتحان کے لیے کہا کہ ایک بکری ہمیں دیدو ہم اس کی قیمت بھی دیں گے اور کچھ گوشت بھی اس نے کہا کہ یہ بکریاں میرے نہیں ہیں میرے آقا کے تو حضرت نے کہا کہ مالک سے کہنا بھیڑیے نے کھالیا اس لڑکے نے ایسا جواب دیا کہ سنہری حروف میں لکھا جانے والا تھا کہا کہ *اللہ کہاں جائے گا* اور ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ رات کے وقت گشت فرمارہے ہیں ایک گھر کے سامنے سے گزررہے تھے کہ گھر میں سے آواز آئی ماں بیٹی سے کہہ رہی ہے کہ بیٹا آج بکریوں نے دودھ کم دیا ہے دودھ میں پانی ملادینا(یہاں ماں اپنی بیٹی کا امتحان لےرہی ہے) بیٹی نے کہا امیرالمومنین نے منع فرمایا ہے ماں نے کہا اتنی رات کو امیرالمومنین کہاں دیکھنے آرہے ہیں اس لڑکی کا جواب یہی تھا *امیرالمومنین تو نہیں دیکھ رہے ہیں لیکن امیرالمومنین کا آقا تو دیکھ رہا ہے*
یہی بات ہر مسلمان کے اندر پیدا ہو کہ میں جو تنخواہ لےرہا ہوں اتنی محنت بھی مجھ سے ہورہی ہے کہ نہیں اس کے لیے ہر وقت دل میں اللہ کا استہضار ہوکہ میرا اللہ مجھے دیکھ رہا ہے تو پھر بندہ  کےلیے محنت کرنا کوئ مشکل نہیں اس خیال کے ساتھ اگر محنت کی جائے تو نتیجہ بھی ملےگا میرے خیال میں یہی *خود احتسابی* ہے اس پر تنخواہ کی شکل میں مال بھی ملےگا اور اللہ کی طرف سے اجر بھی ان شاء الله

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں