جمعرات، 24 اگست، 2023

سونے کے حروف سے لکھے جانے لائق کلام

سونے کے حروف سے لکھے جانے لائق کلام

امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ نے اپنی والدہ کو ایک خط لکھا جس میں انہوں نے اپنی ماں سے  اس بات کے لیے معذرت ظاہر کی کہ وہ ان سے دور ہیں اور بعض دینی مصروفیات کے سبب مصر میں قیام پذیر ہیں .  جب ان کی والدہ کو یہ خط ملا تو انہوں نے جواباً لکھا :

میرے محبوب اور لاڈلے بیٹے احمد بن تیمیہ! 

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ

اللہ کی قسم! میں نے تمہیں اسی مقصد کے لیے پالا ہے، میں نے تمہیں اسلام اور مسلمانوں کی خدمت کے لیے وقف کیا ہے ، میں نے اسلامی اصولوں پر تمہاری تربیت کی ہے. میرے بیٹے!  تم کبھی یہ خیال مت کرنا کہ تم مجھ سے قریب رہو یہ مجھے  اس کے مقابلے میں زیادہ محبوب ہے کہ تم دین سے قریب رہو اور مختلف شہروں میں رہ کر اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں لگے رہو، بلکہ میرے بیٹے تمہاری ذات سے میری خوشی کی انتہا اسی میں ہے کہ تم زیادہ سے زیادہ اپنے دین اور مسلمانوں کی خدمت میں لگے رہو.  میرے بیٹے!  میں کل قیامت کے دن اللہ کے سامنے تم سے ہرگز یہ نہیں پوچھوں گی کہ تم کیوں مجھ سے دور رہتے تھے کیونکہ میں جانتی ہوں کہ تم کن کاموں میں لگے رہتے ہو اور کہاں رہتے ہو، البتہ اے احمد!  میں اللہ کے سامنے اس وقت ضرور تم سے سوال کروں گی اور تمہارا حساب لوں گی جب تم اللہ کے دین کی خدمت میں اور اس دین پر چلنے والے اپنے مسلمان بھائیوں کی خدمت میں کوئی کوتاہی کروگے.  

اللہ تم سے راضی ہو، تمہارے مسکن کو خیر و برکت سے منور کرے، تمہیں لغزشوں سے بچائے، اور اللہ مجھے اور تمہیں رحمان کے عرش کے سایے میں جمع کرے اس دن جس دن کوئی اور سایہ نہ ہوگا.  

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں