بدھ، 7 فروری، 2024

اساتذہ اردو کی ترویج کے لۓ کوشاں رہیں: تہنیتی اجلاس سے بانگی پرویز اکبر صاحب کا خطاب



اساتذہ اردو کی ترویج کے لۓ کوشاں رہیں:  تہنیتی اجلاس  سے بانگی پرویز اکبر صاحب کا خطاب
بانگی حیات باشاہ صاحب چیاریٹبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول و مدرسہ دینیات پراٸمری اسکول آمبور جناب بانگی پرویز اکبر کی سرپرستی میں تعلیمی خدمات میں سرگرم عمل ہیں گزشتہ دنوں ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی سابق میر مدرس بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول اور اسی مدرسہ کے معلم جناب کے الطاف احمد کو تاملناڈو اردو اکاڈمی گورنمنٹ آف تامل ناڈو کے زیر اہتمام چینٸ میں منعقدہ اجلاس میں ان کی اردو خدمات کے اعتراف میں اعزازات تفویض ہوۓ ان کی خدمات میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لۓ جناب پرویز اکبر صاحب منیجر و کرسپانڈنٹ نے ایک اعزازی نشست کا اہتمام مدرسہ دینیات میں فرمایا جناب کے۔ بابو ہیڈماسٹر نے خطبٸہ استقبالیہ پیش کیا اور ایوارڈ یافتگان کی خدمات میں مبارکباد پیش کی آپ نے جلسہ کے انتظامات بحسن و خوبی انجام دۓ۔ جناب پرویز اکبر صاحب نے اپنے صدارتی  خطبہ میں ڈاکٹر فضل اللہ کی علمی اور انتظامی صلاحيتوں کو سراہا اور کہا کہ آپ ٹرسٹ کے لۓ اثاثہ ہیں آپ نے درس و تدریس میں بہترین کارکردگی کا ثبوت دیاہے نیز آپ اساتذہ کے کۓ قابل تقلید نمونہ ہیں جناب کے۔ الطاف احمد نے اردو خدمات بذریعہ سوشل میڈیا جاری رکھ کر اپنی شناخت متعین فرمائی ہے جو قابل تعریف ہے۔ سید نظام الدین صاحب میر مدرس بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ فضل اللہ صاحب نے دونوں مدارس کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا ہے اردو، تامل، انگریزی زبانوں میں بیک وقت مہارت کے ذریعہ نسل نو کے اساتذہ کی رہبری کی ہے۔ آپ نے فرمایا الطاف احمد صاحب نے اساتذہ و ریسرچ اسکالرس کی فلاح و بہبودی کے لۓ سوشل میڈیا کے ذریعہ سنجيدگی سے کوشش جاری رکھی ہے اور ان کی اردو ڈیجیٹل لاٸبریری میں چھ ہزار سے زاٸد کتب سے عوام و خواص نے اکتساب فیض کیا ہے موصوف نے آپ کی اس خدمات کو غیر معمولی قرار دیا۔ جناب عرفان صاحب معلم مدرسہ دینیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ اس اردو مخالف دور میں ایوارڈ یافتگان کی شمع اردو فروزاں رکھنے کی کوشش کو قابل قدر  قرار دیا۔ جناب فضل اللہ صاحب نے جناب پرویز اکبر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ دعاٸیہ اشعار ان کی خدمت میں پیش کۓ  نیز ان کی انتظامی صلاحيتوں کی تعریف کی اور اساتذہ و مدارس کی ترقی اور اردو زبان کی ترویج میں ان کی کوششوں کو مستحسن قرار دیا اور اپیل کی کہ اساتذہ  اچھی زبان بولنے کا ذوق و شوق جوش و جذبہ پیدا کریں جناب الطاف صاحب نے اپنی ادبی خدمات کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا جناب کریم باشاہ معلم بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کی شکریہ اداٸ اور مولانا منیر احمد صاحب امام و خطیب مسجد اکبر بانگی مارکيٹ کی دعاۓ خیر سے جلسہ بحسن و خوبی اختتام پزیر ہوا۔

اتوار، 4 فروری، 2024

اردو لکھتے ہوئے کی جانے والی بارہ بڑی غلطیاں اور ان کی تصحیح۔

اردو لکھتے ہوئے کی جانے والی بارہ بڑی غلطیاں اور ان کی تصحیح۔ 

اردو اس پورے خطے کی ایک اہم اور بڑی زبان شمار ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ اسے برصغیر پاک وہند کی نہیں بلکہ ’سارک‘ ممالک کی مشترکہ زبان اور مشترکہ ورثہ بھی قرار دیا جاتا ہے۔ اب تو یہ خلیجی ممالک اور کئی یورپی علاقوں میں بھی کافی بولی اور سمجھی جاتی ہے۔

ایک طرف بنگلہ دیش میں اردو متنازع بننے کے باوجود اب بھی سانس لے رہی ہے تو دوسری طرف افغانستان اور ایران کے لیے بھی اردو اجنبی زبان نہیں، لیکن ہمارے ہاں آج کل ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت سے لوگ اردو میں لکھ تو ضرور رہے ہیں، لیکن وہ اردو کے اساتذہ سے سیکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ اردو لکھتے ہوئے وہ ایسی فاش غلطیاں کر جاتے ہیں، جس سے ہم پڑھنے والوں کو شرمندگی سی ہونے لگتی ہے۔

پہلی
اردو کے مرکب الفاظ الگ الگ کر کے لکھنا چاہییں، کیوں کہ عام طور پر کوئی بھی لفظ لکھتے ہوئے ہر لفط کے بعد ایک وقفہ (اسپیس) چھوڑا جاتا ہے، اس لیے یہ خود بخود الگ الگ ہوجاتے ہیں۔

دراصل تحریری اردو طویل عرصے تک ’کاتبوں‘ کے سپرد رہی، جو جگہ بچانے کی خاطر اور کچھ اپنی بے علمی کے سبب بہت سے لفظ ملا ملا کر لکھتے رہے۔ جس کی انتہائی شکل ہم ’آجشبکو‘ (آج شب کو) کی صورت میں دیکھ سکتے ہیں۔ بہت سے ماہرِ لسانیات کی کوششوں سے اب الفاظ الگ الگ کر کے لکھے تو جانے لگے ہیں، لیکن اب بھی بہت سے لوگ انہیں بدستور جوڑ کر لکھ رہے ہیں۔ بات یہ ہے کہ جب یہ اردو کے الگ الگ الفاظ ہیں، تو مرکب الفاظ کی صورت میں جب انہیں ملا کر لکھا جاتا ہے، تو نہ صرف پڑھنا دشوار ہوتا ہے، بلکہ ان کی ’شکل‘ بھی بگڑ جاتی ہے۔

ذیل میں ان الفاظ کی بارہ اقسام یا ’طرز‘ الگ الگ کر کے بتائی جا رہی ہیں، جو دو الگ الگ الفاظ ہیں یا ان کی صوتیات کو سامنے رکھتے ہوئے انہیں الگ الگ کرکے لکھنا ضروری ہے۔

۱_جب کہ، چوں کہ، چناں چہ، کیوں کہ، حالاں کہ،

۲_کے لیے، اِس لیے، اُس کو، آپ کو، آپ کی، اِن کو، اُن کی،

۳_طاقت وَر، دانش وَر، نام وَر،

۴_کام یاب، کم یاب، فتح یاب، صحت یاب،

۵_گُم نام، گُم شُدہ،

۶_خُوش گوار، خُوش شکل،

۷_اَلم ناک، وحشت ناک، خوف ناک، دہشت ناک، کرب ناک،

۸_صحت مند، عقل مند، دانش مند،

۹_شان دار، جان دار، کاٹ دار،

۱۰_اَن مول، اَن جانا، اَن مٹ، اَن دیکھا، اَن چُھوا،

۱۱_بے وقوف، بے جان، بے کار، بے خیال، بے فکر، بے ہودہ، بے دل، بے شرم، بے نام،

۱۲_امرت سر، کتاب چہ،

۱۳_خُوب صورت، خُوب سیرت وغیرہ

دوسری:
اردو لکھتے ہوئے ہمیں یکساں آواز مگر مختلف املا کے الفاظ کا خیال رکھنا چاہیے، جیسے کہ ’کے اور کہ، سہی اور صحیح، صدا اور سدا، نذر اور نظر، ہامی اور حامی، سورت اور صورت، معرکہ اور مارکہ، قاری اور کاری، جانا اور جاناں وغیرہ

تیسری:
اردو کا اہم ذخیرہ الفاظ فارسی کے علاوہ عربی کے الفاظ پر بھی مشتمل ہے، جس میں بہت سی تراکیب بھی عربی کی ہیں، ان کو لکھتے ہوئے ان کے املا کا خیال رکھنا چاہیے، جس میں بعض اوقات الف خاموش (سائلنٹ) ہوتا ہے جیسے بالکل، بالخصوص، بالفرض، بالغرض وغیرہ۔ جب کہ کہیں چھوٹی ’ی‘ یا کسی اور لفظ پر کھڑی زبر ہوتی ہے، جو الف کی آواز دیتی ہے، جیسے وزیراعلیٰ، رحمٰن اور اسحٰق وغیرہ، اسی طرح بہت سی عربی تراکیب میں ’ل‘ ساکت ہوتا ہے جیسے ’السلام علیکم‘ اسے ’ل‘ کے بغیر لکھنا فاش غلطی ہے۔

چوتھی:
زیر والے مرکب الفاظ جیسے جانِ من (نہ کہ جانے من) جانِ جاں (نہ کہ جانے جاں) شانِ کراچی (نہ کہ شانے کراچی) فخرِ پنجاب (نہ کہ فخرے پنجاب) اہلِ محلہ ( نہ کہ اہلے محلہ) وغیرہ کی غلطی بھی درست کرنا ضروری ہے۔

پانچویں:
اپنے جملوں میں مستقبل کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے ’کر دینا ہے‘ نہیں بلکہ ’کر دیں گے‘ لکھنا چاہیے، جیسے اب تم آگئے ہو تو تم بول بول کے میرے سر میں درد کر دو گے (نہ کہ کر دینا ہے) اب استاد آگئے ہیں تو تم کتاب کھول کر پڑھنے کی اداکاری شروع کر دو گے (نہ کہ کر دینی ہے) لکھنا چاہیے۔

چھٹی:
اردو کے ’مہمل الفاظ‘ میں’ش‘ کا نہیں بلکہ ’و‘ کا استعمال کیا جاتا ہے، جیسے کتاب وتاب، کلاس ولاس، اسکول وسکول، پڑھائی وڑھائی، عادت وادت وغیرہ۔ انہیں کتاب شتاب، کلاس شلاس لکھنا غلط ہے۔

ساتویں:
اردو میں دو زبر یعنی‘ تنوین‘ والے لفظوں کو درست لکھنا چاہیے، اس میں دو زبر مل کر ’ن‘ کی آواز دیتے ہیں جیسے تقریباً، اندازاً، عادتاً، اصلاً، نسلاً، ظاہراً، مزاجاً وغیرہ۔

آٹھویں:
کسی بھی لفظ میں ’ن‘ اور ’ب‘ جہاں ملتے ہیں وہاں ’م‘ کی آواز آتی ہے، اس کا بالخصوص خیال رکھنا چاہے ’ن‘ اور ’ب‘ ہی لکھا جائے ’م‘ نہ لکھا جائے، جیسے انبار، منبر، انبوہ، انبالہ، استنبول، انبیاء، سنبھل، سنبھال، اچنبھا، عنبرین، سنبل وغیرہ

نویں:
اردو کے ان الفاظ کی درستی ملحوظ رکھنا چاہیے جو الف کی آواز دیتے ہیں، لیکن کسی کے آخر میں ’ہ‘ ہے اور کسی کے آخر میں الف۔ انہیں لکھتے ہوئے غلطی کی جائے، تو اس کے معانی میں زمین آسمان کا فرق پیدا ہو جاتا ہے۔ جیسے گلہ اور گلا، پیسہ اور پیسا، زن اور ظن، دانہ اور دانا وغیرہ وغیرہ۔

دسویں:
الف کی آواز پر ختم ہونے والے الفاظ چاہے وہ گول ’ہ‘ پر ختم ہوں یا ’الف‘ پر، انہیں جملے میں استعمال کرتے ہوئے بعض اوقات جملے کی ضرورت کے تحت ’جمع‘ کے طور پر لکھا جاتا ہے، حالاں کہ وہ واحد ہی ہوتے ہیں۔ ایسے میں جملے کا پچھلا حصہ یا اس سے پہلے والا جملہ یہ بتا رہا ہوتا ہے کہ یہ دراصل ’ایک‘ ہی چیز کا ذکر ہے۔ جیسے:

میرے پاس ایک ’بکرا‘ تھا، اس ’بکرے‘ کا رنگ کالا تھا۔

میرے پاس ایک ’چوزا‘ تھا، ’چوزے‘ کے پر بہت خوب صورت تھے۔

ہمارا ’نظریہ‘ امن ہے اور اس ’نظریے‘ کے تحت ہم محبتوں کو پھیلانا چاہتے ہیں۔

جلسے میں ایک پرجوش ’نعرہ‘ لگایا گیا اور اس ’نعرے‘ کے بعد لوگوں میں جوش وخروش پیدا ہوگیا۔ ’ کوے ‘ نے چونچ میں روٹی کا ٹکڑا پکڑا ہوا تھا، جوں ہی ’کوّے‘ سے روٹی کا ٹکڑا چُھوٹا، توں ہی وہ کائیں کائیں کرنے لگا۔

ایک ’کوا‘ پیاسا تھا، اس ’کوے‘ نے پانی کی تلاش میں اڑنا شروع کیا۔

گیارہویں:
انگریزی الفاظ لکھتے ہوئے خیال رکھنا چاہیے کہ جو الفاظ یا اصطلاحات (ٹرمز) رائج ہو چکی ہیں، یا جن کا کوئی ترجمہ نہیں ہے یا ترجمہ ہے تو وہ عام طور پر استعمال نہیں ہوتا، اس لیے انہیں ترجمہ نہ کیا جائے بلکہ انگریزی میں ہی لکھ دیا جائے۔ دوسری بات یہ ہے کہ جن انگریزی الفاظ کو اردو میں لکھا جائے گا، ان کی جمع اردو کی طرز پر بنائی جائے گی، نہ کہ انگریزی کی طرز پر، جیسے اسکول کی اسکولوں، کلاس کی کلاسوں، یونیورسٹی کی یونیورسٹیوں، اسٹاپ کی اسٹاپوں وغیرہ۔ تیسری بات یہ ہے کہ انگریزی کے بہت سے ایسے الفاظ جو ’ایس‘ سے شروع ہوتے ہیں، لیکن ان کے شروع میں ’الف‘ کی آواز ہوتی ہے، انہیں اردو میں لازمی طورپر الف کے ساتھ لکھا جائے گا۔ جیسے اسکول، اسٹاپ، اسٹاف، اسٹیشن، اسمال، اسٹائل، اسٹوری، اسٹار وغیرہ۔ لیکن ایسے الفاظ جو شروع تو ’ایس‘ سے ہوتے ہیں لیکن ان کے شروع میں الف کی آواز نہیں ہے انہیں الف سے نہیں لکھا جائے گا، جیسے سچیویشن، سورس، سینڈیکیٹ، سیمسٹر، سائن اوپسس وغیرہ۔

بارہویں:
ہندوستانی فلموں نے اردو پر جو بھدا اثر ڈالا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں لفظ ’اپنا‘ کی جگہ میرا بولا جاتا ہے۔ ہمیں اردو لکھتے ہوئے اسے ٹھیک کرنا چاہیے، اس لیے ’میں میرے نہیں‘ بلکہ ’میں اپنے لکھا جائے‘ جیسا کہ میں میرے گھر میں میرے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔ یہ بالکل غلط ہوگا، درست جملہ یوں ہوگا کہ میں اپنے گھر میں اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔
*شہر اردو*

منگل، 30 جنوری، 2024

تمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی کاعظیم الشان مشاعرہ و اعزازی جلسہ

تمل ناڈو اسٹیٹ اردو اکادمی کاعظیم الشان مشاعرہ و اعزازی جلسہ

تامل ناڈو اسٹیٹ اردو اکڈمی حکومت تمل ناڈو کے زیراہتمام عظیم الشان مشاعرہ و اعزازی تقریب 28 جنوری بی٠ایم کنونشن ہال ٹرپلیکین چینٸ میں منعقد ہوا الطاف آمبوری کی رپورٹ کے مطابق جلسہ کی صدارت جناب ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن صاحب ناٸب چیرمین اردو اکڈمی نے کی جناب شکیل اختر  تامل ناڈو اسٹیٹ چیف انفارميشن کمشنر حکومت تامل ناڈو بطور مہمان خصوصی شرکت فرمائی پروفيسر ڈاکٹر ذاکر حسین صدر شعبہ عربی، فارسی،اردو مدراس یونیورسٹی اور جناب روح اللہ روحی میاسی اردو اکادمی چینٸ بطور مہمان اعزازی شریک جلسہ رہے۔ جناب ڈاکٹر طیب خرادی شعبہ اردو نیوکالج چینٸ نے استقبالیہ پیش کیا ڈاکٹر غیاث احمد صاحب شعبہ اردو نیوکالج چینٸ نے جلسے کی نظامت فرمائی ۔ صدارتی خطبے میں ڈاکٹر محمد نعیم الرحمن  ناٸب چیرمین نے اردو اکڈمی کی کارکردگی پر مختصر روداد پیش کیا جس میں ریاست میں پراٸمری تا یونيورسٹی سطح میں اردو کو درپیش مسائل اور تدارک پرجامع رپورٹ پیش کیا مہمان خصوصی جناب شکیل اختر IPS نے اپنے خطاب میں اردو زبان کی خصوصيت اور اس کی ترقی و ترویج پر روشنی ڈالی اور شعرا۶ و ادبا۶ کو اردو زبان و ادب کی ترقی کے لۓ ان کی شاندار خدمات کو سراہاتے ہوۓ تمغوں سے نوازا ایوارڈ یافتگان میں ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی، وفا اعظمی، الطاف احمد آمبوری، دولت مدراسی، فضل الرحمن فیض، ایوب مدراسی، ببر نواب، ہدایت اللہ حاضر،طاہر بجلی،آصف مدراسی، سراج شانہ اور عاٸشہ صدیقہ قابل ذکر ہیں۔ دوسری نشست میں مشاعرہ کا انعقاد ہوا جس کی صدارت جناب حیات افتخار سابق صدر شعبہ اردو قاٸد ملت کالج چینٸ نے کیا ڈاکٹر اعجاز حسین بانی کمال اردو اکادمی چینٸ نے نظامت فرمائی استاد شاعر جناب حسن فیاض، علیم صبا نویدی، شاہد مدراسی، ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی، وفا اعظمی، کاتب حنیف صاحب، دولت مدراسی، ایوب مدراسی، ببر نواب، ہدایت اللہ حاضر، طاہر بجلی،آصف مدراسی، سراج شانہ اور عاٸشہ صدیقہ نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا اور داد و تحسين حاصل کیا۔ جلسہ میں کثر تعداد میں مشاہیر ادب و عماٸدین شہر نے شرکت فرمائی  پروفيسر جعفراکبر خان کی ہدیہ تشکر سے جلسہ بحسن و خوبی اختتام پذیر ہوا۔

پیر، 29 جنوری، 2024

الطاف احمد آمبوری مدرس بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور کو ایوارڈ

بروز اتوار 28.01.2024 چینٸ میں منعقدہ تامل ناڈو اسٹیٹ اردو اکیڈمی گورنمنٹ آف تامل ناڈو کی جانب سے الطاف احمد آمبوری مدرس بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول آمبور کو اردو زبان و ادب کی ترقی کے لۓ ان کی شاندار خدمات کو سراہاتے ہوۓ جناب ڈاکٹر نعیم الرحمن صاحب ناٸب چیرمین اردو اکیڈمی کی صدارت میں منعقدہ شاندار جلسے میں بدست جناب شکیل اختر IPS تامل ناڈو اسٹیٹ چیف انفارميشن کمشنر نے ایوارڈ سے نوازا جلسے میں کثیر تعداد میں مشاہیر ادب و عماٸدین شہر  کی شرکت رہی اردو اکیڈمی کے ارکان پروفيسر ڈاکٹر غیاث احمد صاحب ،  ڈاکٹر طیب خرادری صاحب  نیو کالج چینٸ اور شاہد مدراسی صاحب نے جلسے کے انتظامات بخوبی انجام دۓ۔