اس کے بعد مرکب حروف ہیں۔ یعنی:
بھ،پھ،تھ،ٹھ،جھ،چھ،دھ،ڈھ،رھ،ڑھ،کھ،گھ،لھ،مھ،نھ۔ یہ پندرہ ہکاری آوازیں ہیں۔ اس طرح اردو میں مجموعی آوازوں کی تعداد 36+15= 51 ہو جاتی ہے۔
اردو میں ہ اور ھ میں برا مغالطہ ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اردو میں کوئی بھی لفظ ھ سے نہیں لکھا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ھوا، ھادی، ھم، ھر کوئی غلط املا ہے۔ یہ ہوا، ہادی، ہم اور ہر لکھے جانے چاہییں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بغیر حرف صحیح کے اس کا تلفظ ادا نہیں کیا جا سکتا اور اس کو لکھتے وقت جب بھ پھ تھ ٹھ۔۔۔ لکھا گیا ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو حرف صحیح کے ساتھ ہی لکھا جانا چاہیے۔
" ء" کا شمار اعراب میں ہوتا ہے، اسی لیے اس کو بنیادی حروف تہجی میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ اس کا استعمال اضافت کے طور پر ہوتا ہے۔ جیسے: شعبۂ اردو، شعبۂ سیاسیات، محکمۂ تعمیر عامہ، محکمۂ امورِ صارفین وغیرہ۔ "آ" اور "لا" مرکب حروف ہیں، اسی لیے ان کا شمار بھی بنیادی حروف تہجی میں نہیں ہے۔
اردو میں حروف علت (Vowels) تین یعنی ا، و اور ی ہیں۔
باقی آوازیں حروف صحیح (consonants) ہیں۔
حروف شمسی: عربی کےوہ حروف جن سے شروع ہونے والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز نہیں نکالی جاتی۔ جیسے” ال +شمس“ کو "اش شمس " پڑھا جائے گا، حروف شمسی یہ ہیں؛ ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط ،ظ، ل، اور ن۔
حروف قمری: عربی کےوہ حروف جن سے شروع ہونے والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز بولی جاتی ہے۔جیسے ”ال+ قمر “کو القمر پڑھا جائے گا، حروف قمری یہ ہیں؛ ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و ، ہ اور ی
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں