پیر، 18 مارچ، 2024

خلاصہ پارہ نمبر 8

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*آٹھواں پارہ​*

https://drive.google.com/file/d/1BPmyeodK1OPhSpFe6Fa2Eh_F63umWRoe/view?usp=drivesdk

پارہ Mp3   8
https://drive.google.com/file/d/1BPmyeodK1OPhSpFe6Fa2Eh_F63umWRoe/view?usp=drivesdk

اس پارے میں دو حصے ہیں:

*۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ*

*۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ*

(پہلا حصہ) سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں چار باتیں ہیں:

*۱۔ تسلی رسول*

*۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں*

*۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں*

*۴۔ دس وصیتیں*

*۱۔ تسلی رسول:*

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔

*۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں:*

۱۔ یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:۱۳۵)

۲۔ فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:۱۳۶)

۳۔ چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:۱۳۸)

۴۔ چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مرد دونوں کے لیے حلال سمجھتے۔ (آیت:۱۳۹)

*۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں:*

(۱)کھیتیاں (۲)چوپائے
۔ دس وصیتیں:

(۱)اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۲)ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۳)اولاد کو قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۴)برائیوں سے اجتناب کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۵)ناحق قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۶)یتیموں کا مال نہ کھایا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۷)ناپ تول پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۸)بات کرتے وقت انصاف کو مد نظر رکھا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۹)اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۱۰)صراط مستقیم ہی کی اتباع کی جائے۔ (آیت:۱۵۳)

(دوسرا حصہ) سورۂ اعراف کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں:

*۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں*

*۲۔ چار ندائیں*

*۳۔ جنتی اور جہنمیوں کا مکالمہ*

*۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل*

*۵۔ پاتچ قوموں کے قصے*

*۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:*

(۱)قرآن کریم (۲)تمکین فی الارض (۳)انسانوں کی تخلیق (۴)انسان کو مسجود ملائکہ بنایا۔
*۲۔ چار ندائیں:*
صرف اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار مرتبہ [ARABIC]يَا بَنِي آدَمَ[/ARABIC] کہہ کر پکارا ہے۔ پہلی تین نداؤں میں لباس کا ذکر ہے، اس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر رد کردیا کہ تمھیں ننگے ہوکر طواف کرنے کو االلہ تعالیٰ نے نہیں کہا جیسا کہ ان کا دعوی تھا۔ چوتھی ندا میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کی ترغیب دی ہے۔

*۳۔ جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ:*

جنتی کہیں گے: ”کیا تمھیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا یقین آگیا؟“، جہنمی اقرار کریں گے، جہنمی کھانا پینا مانگیں گے، مگر جنتی ان سے کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اپنی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔“

*۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل:*

(۱)بلند وبالا آسمان (۲)وسیع وعریض عرش (۳)رات اور دن کا نظام (۴)چمکتے شمس و قمر اور ستارے (۵)ہوائیں اور بادل (۶)زمین سے نکلنے والی نباتات

*۵۔ پانچ قوموں کے قصے:*

(۱)قوم نوح (۲)قوم عاد (۳)قوم ثمود (۴)قوم لوط اور (۵)قوم شعیب

ان قصوں کی حکمتیں: (۱)تسلی رسول (۲)اچھوں اور بروں کے انجام بتانا (۳)اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں (۴)رسالت کی دلیل کہ امی ہونے کے باوجود پچھلی قوموں کے قصے بتا رہے ہیں (۵)انسانوں کے لیے عبرت و نصیحت۔
خلاصہ قرآن پارہ نمبر 8

آٹھواں پارہ سورۃ الانعام کے بقیہ حصے سے شروع ہوتا ہے اور وہی مضمون چل رہا ہے جس پر ساتواں پارہ مکمل ہوا۔ یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب مشرکینِ مکہ اور کفارِ عرب نے حضرت محمد علیہ السلام سے مختلف طرح کی نشانیاں طلب کرنا شروع کیں۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہییں تو کبھی کہتے اگر تم سچے ہو تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، اور کبھی کہتے کہ ہمارے آبا جو دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرو۔ خدا نے اپنے حبیب کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کا نشانیاں طلب کرنا حق پرستی پر مبنی نہیں بلکہ یہ تو صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

آگے ارشاد ہے کہ اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں وہ گمراہ ہیں، اگر تم زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے لگو گے تو وہ تمھیں خدا کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔ یہ صرف گمان کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ اس آیت کو بعض لوگ غلط طور پر جمہوریت یعنی Democracy کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
ارشاد ہے کہ جس چیز پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھانا درست نہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے یہود پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا لیکن یہود کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہوگئے۔

ارشاد ہے کہ ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں، اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے۔ ارشاد ہے کہ جس شخص کو اللہ چاہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کر دے اس کا سینہ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ ارشاد ہے کہ یہی تمھارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے اور جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں اور ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔
اس کے بعد اللہ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں جنھوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ کے جائز کیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا۔ اللہ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا ہے جو انسانوں پر حرام ہیں: پہلا حرام مردار ہے، دوسرے بہتا ہوا خون، تیسرے خنزیر کا گوشت اور چوتھے غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔
اس سورت میں اللہ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے پرکھے ہرگز شرک نہ کرتے۔ ارشاد ہے کہ یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے۔

سورۃ الانعام میں اللہ نے بعض کبیرہ گناہوں اور پھر سورۃ فاتحہ میں بتائے گئے صراطِ مستقیم کا بھی ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمھارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ۔ ان کاموں کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے، اور ناپ تول پوری پوری کرو انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ اور یہ صراطِ مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

ارشاد ہے کہ جو خدا کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی، اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔
سورۃ الانعام کے آخر میں اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے یعنی ابراہیم کا مذہب جو ایک اللہ ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (اور اے نبی آپ کہیے کہ) بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا سبھی کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہے کہ کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

سورۃ الانعام کے بعد سورۃ الاعراف ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ اے محمد علیہ السلام یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے اس سے آپ کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو اس لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کو ڈر سنائیں اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ آپ اس کی پیروی کریں اور دوسروں کی پیروی نہ کریں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے وزن کا ذکر ہے کہ قیامت میں وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہوگا چنانچہ جس کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہوگا اور جس کا پلڑا ہلکا ہوگا تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہماری آیات کو رد کرکے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا۔

اس سورت میں اللہ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کے لیے مختلف طرح کے پیشے بنائے لیکن پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ پھر مسجدوں میں آنے کے آداب کا ذکر ہے کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد آنا چاہیے۔ ارشاد ہے کہ کھاؤ اور پیو مگر بے جا نہ اڑاؤ۔ بے شک خدا بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ارشاد ہے کہ زینت و آرائش اور کھانےپینے کی پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن بھی خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔

آگے اصحابِ اعراف کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم کے عذاب سے تو محفوظ ہوں گے لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ ان پر نظرِ رحمت فرماتے ہوئے انھیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کو پکارتے رہیں۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہے۔
دعا مانگنے کے آداب کے سلسلے میں ارشاد ہے کہ لوگو اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو، خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اللہ سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا۔
اس پارے کے آخری حصہ میں اللہ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں۔ خدا نے حضرت نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو ان کے سرداروں نے کہا کہ ہم تمھیں صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ انھوں نے نوح کی تکذیب کی تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا انھیں غرق کر دیا۔

اسی طرح ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پھر ہم نے ہود کو اور جو ان کے ساتھ تھے نجات بخشی اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔

اسی طرح ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو ان کی قوم کے مغرور سرداروں نے کہا کہ جس چیز پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اسی طرح ہم نے لوط کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انھوں نے قوم سے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کا کام کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری دنیا کے انسانوں نے کبھی نہیں کیا یعنی خواہشِ نفسانی پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر گرتے ہو۔ پھر ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا اور دیکھ لو کہ گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اور انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ ان کی قوم کے جو سردار اور بڑے تھے انھوں نے کہا کہ ہم تمھیں شہر سے نکال دیں گے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اس پارے کے آخر میں حضرت شعیب کا ارشاد ہے کہ اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمھارے درمیان میں فیصلہ کر دے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں