💫۔
اردو میں استعمال ہونے والے ایسے الفاظ جو پانچ حرفی ہوں اور ان کا پہلا اور چوتھا حرف "الف" ہو مثلاً اجناس، اقسام، اکرام وغیرہ، ان الفاظ کے تلفظ میں عموماً غلطی اور ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا ان الفاظ کو الف کے زبر کے ساتھ "اَقسام" یا زیر کے ساتھ "اِقسام" پڑھا جائے۔ اکثر یہ الفاظ غلط تلفظ سے بولے جاتے ہیں۔
ایک نکتہ ذہن نشین کر لینے سے ایسے الفاظ کے تلفظ میں درستی حاصل کی جا سکتی ہے۔
وہ نکتہ یہ ہے کہ جو الفاظ کسی واحد کی جمع ہیں وہ الف کے زبر سے پڑھے جائیں گے مثلاً جنس کی جمع اَجناس، قسم کی جمع اَقسام، فلک کی جمع اَفلاک، اَعمال، اَخلاق، اَفعال، اَدوار، ازواج، اَقلام، اَملاک، اَلواح، اَبواب، اَحکام وغیرہ بہت سے الفاظ
باقی الفاظ یعنی جو کسی واحد کی جمع نہ ہوں، وہ عموماً مصدر ہوتے ہیں اور الف کے زیر کے ساتھ درست ہیں۔ مثلاً
اِکرام (عزت دینا) اِجلاس (بیٹھنا، بٹھانا) اِظہار، اِسلام، اِعلان، اِخفاء، اِسہال، اِملاء، (اساتذہ سے بھی اکثر "اَملا لکھو" سننے میں آتا ہے)، اِقبال وغیرہ
در حقیقت یہ ایک ہی وزن پر دو قسم کے الفاظ ہیں۔ ہم ان کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں جس سے بچنا چاہیے۔
بعض الفاظ ایسے ہو سکتے ہیں جو دونوں طرح درست ہوں، ایسی صورت میں بھی یہی اصول لاگو ہو گا مثلاً اَقدام اور اِقدام۔ اگر قدم کی جمع ہو تو اَقدام بولا جائے گا۔ اگر "آگے بڑھنا" یا "قدم اٹھانا" کے معنی میں ہو تو اِقدام بولا جائے گا۔ اردو کے کچھ الفاظ ایسے بھی ہیں کہ اگر زیر زبر ہوں تو بھی بغیر جملوں کے پہچان ناممکن ہو جاتی ہے مثلاً
میل۔ گندگی
میل۔ ملن زیادہ پنجابی میں مستعمل ہے
بیر۔ ایک پھل
بیر۔ عناد ناپسندیدگی
بیل۔ گاۓ کا مذکر
بیل ۔ وہ نباتات جو رسیوں یا دوسرے درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں
یہا تمام الفاظ زبر سے شروع ہوتے ہیں مگر اداٸیگی اور معانی مختلف ہیں۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں