پیر، 31 جولائی، 2023

نصاب تعلیم سے زیادہ نظام تعلیم کی اصلاح ضروری

 نصابِ تعلیم سے زیادہ نظامِ تعلیم کی اصلاح ضروری!!


جب کبھی مدارس کی تعلیمی صورت حال پر گفتگو ہوتی ہے تو بیشتر لکھنے والے اور مباحثہ میں شرکت کرنے والے اپنا سارا زور موجودہ نصاب کی کمیاں گنانے پر صرف کر دیتے ہیں. ان کی بات سے ایک عام تاثر یہ قائم ہوتا ہے کہ یہ نصاب اپنی افادیت کھو چکا ہے، اس میں تبدیلی ناگزیر ہے. یہ تبدیلی کتنی ضروری ہے اور کس حد تک ضروری ہے اس سے قطع نظر یہ بات سمجھنا زیادہ اہم ہے کہ ہمارا مسئلہ محض نصاب کی تبدیلی سے حل نہیں ہونے والا. تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کا تعلق نصاب سے کم اور دیگر امور سے زیادہ ہے. نصاب کوئی بھی ہو اگر استاذ ماہر، اپنے فن پر قابو یافتہ، مخلص، محنتی اور اپنی ذمہ داری کا احساس رکھنے والا ہو، نیز شاگرد محنت و مشقت کا عادی، مطالعہ کا خوگر، علم کا سچا طلب گار، اپنی ذمہ داریوں سے واقف، ذوق و شوق، جذبہ صادق، اخلاص و کردار کی دولت سے مالا مال ہو تو (اسی نصاب کے ساتھ) عمدہ اور مطلوبہ نتائج بآسانی حاصل ہو سکتے ہیں. ذیل میں حضرت علامہ سید یوسف بنوری رحمہ اللہ کی ایک تحریر سے منتخب کردہ  نکات ذکر کئے گئے ہیں، نصاب میں تبدیلی کا ڈھنڈورا پیٹنے سے پہلے ہمیں ان بنیادی نکات پر عمل کرنے کی ضرورت ہے، اس کے بغیر کوئی نصاب کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکتا. 


علامہ بنوری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں : 

 

نصاب کوئی بھی ہو، لیکن اساتذہ کے انتخاب میں زیادہ غور کی ضرورت ہے، اس کے لیے مندرجہ ذیل امور کا لحاظ ضروری ہے:   


 (1)----مفوضہ کتابوں کی تدریس میں اعلیٰ درجہ کی مہارت رکھتے ہوں، جس کا حاصل یہ ہے کہ استعداد بہت اعلیٰ ہو۔    

(2)--- مخلص ہوں اور دل سے چاہیں کہ طلبہ کو علم آجائے۔     

(3)---جن علوم کو پڑھاتے ہوں ان سے شغف وطبعی مناسبت ہو، غرض یہ کہ محض وقت گزارنا یا معاش کی ضرورت کو پورا کرنا مقصد نہ ہو۔ استعداد، اخلاص، شوق ومناسبت، یہ تین باتیں مدرسین کے لیے معیار انتخاب ہوں۔  


 ** طلبہ کی آسائش وراحت کا پورا خیال رکھا جائے، اگر مدرسہ میں سو طلبہ کے لیے وسعت اور راحت کا انتظام نہ ہو تو بیس رکھے جائیں، لیکن ان کی عملی نگرانی بہت سخت کی جائے۔ درسوں میں حاضری، رات کا مطالعہ، امتحانات میں نہایت سختی کی جائے، اور تسامح نہ کیا جائے، مثلاً اگر سہ ماہی میں فیل ہوگیا تو ششما ہی کے لیے تنبیہ کی جائے کہ اگر ششما ہی میں فیل ہو گیا تو سالانہ امتحان میں نہ لیا جائے گا، اس میں کوئی مراعات ہر گز نہ کی جائے کہ یہی مراعات سمِ قاتل ہے۔    


** اساتذہ کو کتابیں پڑھا نے کے لیے اتنی دی جائیں کہ آسانی سے ان کا مطالعہ کر سکیں اور ان کے متعلقات کو دیکھ سکیں اور ان کو صرف اس کتاب کے حواشی وشرح پر کفایت نہ کرنی چاہیے، بلکہ فن کی اعلیٰ کتابیں پیش نظر رکھنی چاہئیں۔     


** ہر درجہ کے مناسب طلبہ کو بھی مطالعہ کے لیے کتابیں دینی چاہئیں اور ان میں امتحان ضروری ہو، یعنی بغیر تدریس کے صرف مطالعہ سے وہ ان کتابوں پر عبور حاصل کرلیں اور امتحان دیں۔    


** طلبہ کی اخلاقی نگرانی بہت شدید ہونی چاہیے۔ اسلامی حلیہ اور دینی وضع میں کوئی مسامحت 

برداشت نہیں کی جاسکتی، بلکہ غبی محنتی کو بر داشت کیا جائے اور ذکی مستعد آزاد کو نہ رکھا جائے۔ مدرسہ میں قواعد وضوا بط ایسے ہوں کہ نماز کی پابندی اور لباس وپو شاک میں علمی وضع کی حفاظت ملحوظ ہو۔     


** مسابقت کے امتحانات مقرر ہوں، نیز ہر 

سہ ماہی، ششماہی امتحانات میں طلبہ کی اعلیٰ کامیابی پر وظیفہ دینا چاہیے۔     


** ہر سال امتحانات میں ایک پرچہ امتحان کا محض عام استعداد و قابلیت کا رکھنا چاہیے، جس کا کسی خاص کتاب سے تعلق نہ ہو، ہاں! اس درجہ کی اہلیت ضروری ہے۔     


** عربی بولنے کی قابلیت مقاصد میں شامل کرنی چاہیے، تین سال کے بعد تدریس کی زبان عربی ہونا چا ہیے۔      


** عربی ادب پر خاص معیار سے توجہ دینی ہوگی، تقریر وتحریر کی تر بیت دی جائے اور اس کے لیے بہت تفصیل طلب اور مہم تنبیہات کی حاجت ہے جو بعد میں عرض کروں گا۔     


** ہر زمانہ کا ایک فن ہوتا ہے، اس زمانہ کا مخصوص فن تاریخ وادب ہے، اس پر توجہ زیادہ کرنی ہو گی۔     


** قرآن کریم کا ترجمہ ابتدا سے شروع کر نا چاہیے اورتین چار سال میں ختم کر نا چاہیے۔ بغیر کسی تفسیر کے محض ترجمہ ابتداءً زیر درس ہو نا چاہیے اور قابلیت بڑھا نے کے لیے مخصوص اجزا اور سورتوں کا انتخاب کرنا چاہیے اور لغوی وادبی تحقیق کے ساتھ پڑھا نا چا ہیے۔     


** طلبہ کے مطالعہ کے لیے ایک دارالمطالعہ مخصوص ہو، ان کے لیے مفید کتابیں اور عربی مجلات وجرائد رکھنے چاہئیں۔     


** ایک اہم بات جو سلسلۂ تعلیم میں ضروری ہے وہ یہ کہ ابتدائی کتابیں قابل اساتذہ کے پاس ہوں، مثلاً: ہر بڑے استاد کو ایک چھوٹی کتاب دی جائے،اس میں طرفین کا فائدہ ہوگا،طلبہ کو تجربہ کار استاذ سے استفادہ کا موقع ملے گا اور مدرس کا کام ہلکا ہوجائے گا، بجائے ایک بڑی کتاب کے چھوٹی کتاب ہوگی، جس میں اُسے زیادہ دماغ سوزی نہیں کرنی پڑے گی، اور جب مدرس مخلص ہو گا تو یہ سوال پیدا نہیں ہوسکتا کہ بڑی کتابیں پڑھانے والا چھوٹی کتابیں پڑھانا اپنی 

توہین سمجھے۔     

----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------


 اپنی تحریر میں علامہ بنوری رحمہ اللہ نے دو ٹوک الفاظ میں یہ بات بھی ذکر کی ہے کہ معاشیات، سیاسیات، سماجیات وغیرہ کی تعلیم ہمارے لئے کوئی مسئلہ نہیں، قرآن و حدیث کا صحیح فہم، شریعت کا سچا علم اور علمی پختگی ہمارا اصل مسئلہ ہے، جب یہ مرحلہ طے ہو جائے گا تو باقی چیزیں بھی حل ہو جائیں گی. افسوس یہ ہے کہ کہ کچھ لوگ پہلے مرحلے میں کامیابی سے گزرے بغیر دوسرے مرحلے میں داخل ہو جاتے ہیں اور اپنی علمی کوتاہی کی بنا پر مرعوبیت، احساس کمتری کے جذبات کا شکار ہو جاتے ہیں، پھر انہیں اس کے علاوہ کوئی بات نہیں سوجھتی کہ وہ سارا کیچڑ مدارس کے نصاب پر اچھال کر اپنے دامن کے داغ دھونے کی ناکام کوشش کرتے رہیں..


 علامہ بنوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : 

" رہا معاشیات واقتصادیات وسیاسیات کا داخل نصاب ہونا تو یہ مرحلہ اتنا مشکل نہیں،امت کو اس کی اتنی ضرورت بھی نہیں، کیونکہ اس کے لیے بہت مل جاتے ہیں، مشکل تو ’’رسوخ فی العلم ‘‘ہے۔ ہمیں صحیح العلم، راسخ العلم، ذکی اور مخلص علما تیار کرنے ہیں۔ یہ چیزیں(معاشیات وغیرہ) مطالعہ کی ہیں، بآسانی بعد الفراغ حاصل کی جاسکتی ہیں."

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں