بدھ، 22 اکتوبر، 2025

افسانچہ: موت اور بے بس انسان

افسانچہ: موت اور بے بس انسان
از: الطاف آمبوری
رات کی سیاہی گہری ہو چکی تھی۔ ہسپتال کے کمرے میں ایک کمزور سانس چل رہی تھی۔ ڈاکٹر نے خاموشی سے فائل بند کی اور نظریں جھکا لیں۔
بیٹے نے باپ کا ہاتھ تھاما  سرد، لیکن اب بھی زندگی کی آس لیے ہوئے۔
*"ابو، سب ٹھیک ہو جائے گا..."* اُس کی آواز لرز گئی۔
باپ نے نیم بند آنکھوں سے مسکرا کر کہا،
*"بیٹا... انسان بہت کچھ کر لیتا ہے... مگر موت کے آگے سب بے بس ہیں۔"*
یہ کہہ کر اُس کی سانس آخری بار چلی  اور کمرے میں ایک گہری خاموشی چھا گئی۔

منگل، 14 اکتوبر، 2025

افسانچہ: سماجی مساوات


 افسانچہ: سماجی مساوات


از الطاف آمبوری


چائے کی بھاپ میں دن کی تھکن گھل رہی تھی۔ دکاندار نے دو گلاس میز پر رکھے
ایک شیشے کا، دوسرا اسٹیل کا۔
دونوں میں ایک ہی چائے، ایک ہی خوشبو، ایک سا ذائقہ۔
لیکن دکاندار نے شیشے والا گلاس افسر صاحب کے سامنے رکھا جو سرکاری دفتر سے تھے
اور اسٹیل والا مزدور کے۔
مزدور نے ایک گھونٹ لیا، ہلکی مسکراہٹ لبوں پر ابھری۔
*“صاحب، چائے تو ایک ہی ہے… فرق شاید پیالوں میں نہیں، دلوں میں ہے۔”*
افسر صاحب لمحہ بھر خاموش رہے
شاید اس لمحے انہوں نے پہلی بار برابری کا ذائقہ محسوس کیا۔۔۔

پیر، 13 اکتوبر، 2025

افسانچہ وقت

 

 
افسانچہ
 
وقت
پرانی گھڑی دیوار پر ٹک ٹک کر رہی تھی۔
دادا ابا کی نشانی تھی — اس کی سوئیاں جیسے عمر کی گنتی کرتی جا رہی تھیں۔
احمد نے گھڑی کی طرف دیکھا۔
"رک کیوں نہیں جاتی یہ؟" اُس نے بڑبڑایا۔
کل ہی اُس کا باپ اسپتال میں دم توڑ گیا تھا۔
وقت اُس کے لیے ٹھہر گیا تھا، مگر گھڑی کے لیے نہیں۔
اچانک چھوٹا بیٹا دوڑتا ہوا آیا،
"ابو! میرا اسکول کا وقت ہو گیا!"
احمد نے خاموشی سے گھڑی اتاری،
گرد صاف کی،
اور دیوار پر واپس لٹکا دی۔
ٹک... ٹک... ٹک...
وقت پھر چل پڑا۔

الطاف آمبوری