جمعہ، 4 اکتوبر، 2024
شہزادی زیب النساء
کتابوں سے رغبت ، کتنے پاس کتنے دور
علم اور حکمت اللّٰہ کی دو نعمتیں ہیں ، اللّٰہ اپنے حسب مشیئت اپنے صالح مومن بندوں کو ان سے نوازتا ہے ، اسلام کا نظام اخلاق اور اس کی ہدایات ہماری زندگی کے ہر شعبے پر محیط ہے ، اس کی بتائی ہوئی اخلاقیات کو سمجھنا ہمارے لئے ضروری ہے ، اخلاقیات کو سمجھنے کے لئے ہمیں کتابوں سے بہت کچھ سیکھنے ملتا ہے ، کتابیں پڑھنا یعنی مطالعہ کرنا ، یہ انسان کے اندر اپنا شوق و ذوق ہوتا ہے ، انسان کے اندر کچھ نیا سیکھنے کی خواہش ہوتی ہے تب وہ اپنی کوششوں سے رسائی کر ہی لیتا ہے ، بدلتے وقت کے ساتھ ساتھ دنیا میں کتنی بھی تبدیلیاں آئے ، مگر انسان کتابوں سے ہی سلیقہ سیکھتا ہے ، جس کے لئے مطالعہ ضروری ہے ، مطالعہ کے لئے کتابیں خرید کر پڑھنا ، اخبارات پڑھنا ، اور ان سے مثبت پہلو ڈھونڈ کر نکالنا یہ بہت خاص مشغلہ ہوتا ہے ، جس سے انسان میں جینے کا سلیقہ پیدا ہوتا ہے ، ان سب باتوں سے دوری کو ماڈرن زندگی کا نام دیا جاتا ہے اور یہ ماڈرن لائف زندگی کے پھیکے پن کی نشانی ہوتی ہے ، سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ کتابوں سے رغبت کا جو انداز ہے قلم کار اور قارئین دونوں بھی اپنے اپنے حصے کی ذمہ داری سے منہ موڑ نے پر تُلے ہیں ، اس کے انداز میں تبدیلی لاکر تسلی حاوی کرلینا یہ کہاں کا طریقہ ہے ، آج بھی اردو کا ذوق وشوق رکھنے والے لوگ موجود ہیں ، جن لوگوں کو اردو کی خدمت کے جذبے کا شوق ہے وہ کبھی بھی اردو کے لئے پیچھے نہیں ہٹتے ، فرق اتنا ہو گیا ہے کہ اس جذبہ کا گراف بہت نیچے ہو گیا ہے ، ڈیجیٹل دور میں جس انداز میں گھڑی کی سوئیوں کی حرکت ہے ، اس سے بھی زیادہ تیزی سے۔۔۔۔۔ لوگ ، حرکت کرنا چاہ رہے ہیں ، قلمکار کے ذہن میں یہ بات واضح ہوتی جارہی ہے کہ لوگ کتاب ہاتھ میں لے کر اوراق پلٹنے سے زیادہ ، کلک کرنا پسند کر رہے ہیں ، کتاب کا بوجھ حاوی کرنے سے زیادہ ، مٹھی میں دبائے آلے کے وزن پر اکتفاء کر رہے ہیں ، جس میں آمدنی کی بچت کی پہلی اہمیت ، صرف کتاب کے لئے مختص سمجھ رہے ہیں ، بہت ساری کتابیں گوگل سپلائی کر رہا ہے لیکن اس سے صرف ایڈیشن پر فرق آتا ہے ، حالانکہ اس بہادر گوگل کے لئے بھی قدیم کتاب کا پہلا ایڈیشن ضروری ہے ، آج کے دور میں جو رسالے ، میگزین شائع ہو رہے ہیں وہ E book پر منحصر ہوگئے ہیں ، جسے اردو سے محبت کرنے والے بھی بے بہرہ ہے کہ ، آیا کوئی رسالہ ، میگزین ہے بھی یا نہیں؟ ، اگر یہ لوگ ہارڈ کاپی سپلائی کرتے ہیں تو بینک بیلنس چاہیئے ، ہر دو صورت میں جال میں الجھ رہے ہیں ، اور آسان راستہ جادو کی ڈبیا میں ہی نظر آرہا ہے اسلئے مشنری کو بغیر تکلیف دئیے کہ کام چل رہا ہے ، آپ اور ہم صرف دیوانہ وار مغربیت کو اپناتے چل رہے ہیں ، مغربیت ہمیں کاغذ سے بہت دور کررہی ہے ، کاغذ کی سب سے زندہ مثال , اخبار ،، ہے ، کتنے لوگ ہیں ایسے جو اوراق پلٹا کر تحریر پڑھ رہے ہیں ، بالکل نہیں ، صرف انگلیاں گھما کر خبریں پڑھ لی جاتی ہے ، گھر میں اخبار کی آمد رہے گی تو گھر کے سبھی افراد پڑھتے رہیں گے گھر کے بچے مطالعہ کریں گے ، گھر کا ماحول ادب اور تہذیب کے دائرے میں رہے گا ، روزانہ کے اردو ادب سے گھر کے افراد کو واسطہ ہی نہیں پڑ رہا تو ادب برائے ادب کہاں سے سیکھیں گے ، انگلیاں مسلسل بٹن کو حرکت دینے میں لگی رہتی ہیں ، انگریزی کے الفاظ بھلے ہی نہ آئے مگر ہم اردو کو بگاڑ نے میں مصروف ہیں ، اور اسی کی شان میں لگے ہوئے ہیں ، چھوٹے سے آلہ کار سے فرصت ہی نہیں ملتی ، کتاب پر توجہ کب جائے گی ، یہی وجہہ ہے کہ کتابیں صرف انتظار کرتی ہیں کہ کب لوگ اس سے فائدہ اٹھائیں ، لیکن ہم تو مغربیت کے بیہودہ ادب کو سینے سے لگا کر فخر محسوس کرتے ہیں ، اس چال میں ہم کیسے گھر گئے ہیں خود ہم سوچنے کو بھی تیار نہیں ہے ، نئی نسل صرف اور صرف انٹرنیٹ اور وائی فائی کے اخراجات سے واقف ہے ، غذا سے زیادہ نیٹ ورک کی فکر کرنے والی قوم بن گئی ہے ، اور کیا چاہئے اسلام سے دور ہونے کے لئے ، اس جال میں ، ۔۔۔۔۔۔۔ ، میں ، تم ، آپ ، ہم ، وہ ، سب اور سب پھنسے ہوئے ہیں ، جب کہ ہمارے لئے ایک خاص کتاب پلاننگ بک مقرر کی گئی ہے ، اگر ہم سب کتابوں میں صرف اسے ترجیح دیں تو پھر بھی دونوں جہان میں نیٹ ورک پاسکتے ہیں ، اور یہ پلاننگ بک ، قرآن مجید ،، ہے ، الحمدللہ ، جسے ہمیں رگ و پے میں بسا لینا چاہیئے ، تاکہ ہم سب سے اعلیٰ و ارفع کتاب سے مستفیض ہوکر ، زندگی جینے کا سلیقہ سیکھیں ، لوگ ہزاروں روپئے مہنگے سے مہنگے موبائل کی خریدی میں لگا دیتے ہیں ، لاکھوں روپئے ، کروڑوں روپئے ، کے گھر خریدتے ہیں ، لیکن کتابیں خریدنے کے لئے پیچھے ہٹتے ہیں ، ہر گھر میں کم از کم ایک موزوں اردو اخبار کی آمد ہونی چاہیئے ، گھر میں موجود بچوں کے لئے عمر کے لحاظ سے ایک دو رسالے تو آنا چائیے ، خاص کر لڑکیوں کے لئے ، یہ ادب و تہذیب کے دائرے میں رہتے ہوئے بہت کچھ سیکھ سکتی ہیں ، لیکن گھر کے افراد خانہ ہی نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دیتے ہیں ، اخبار کی ضرورت صرف فرض کفایہ ہو گئ ہے ، رسالوں اور ڈائجسٹوں کو دقیانوسی تصورات میں رکھ رہے ہیں ، مطالعہ سے بیزاری ظاہر کرتے ہیں ، گوگل کے بھروسے لائف جینا فخر سمجھتے ہیں ، جبکہ گوگل خود ترتیب دی ہوئی تحریروں کو محفوظ کرتا ہے ، اس میں ترمیم کا اندازہ بھی لگایا نہیں جا سکتا ، آج کتابوں سے ہٹا کر تمہیں اسکرین سے جوڑنے کا مقصد یہی ہیکہ تمہیں مکمل طور پر اپنے قبضے میں کر لیں ، پھر تم دل اور دماغ سے مفلوج ہو کر ہر غلط کو صحیح مان لوگے ، کتابوں سے رغبت زیرو ہوجائے گی ، ہوجائے گی کیا ہوچکی ہے ، اس رغبت کو واپس لانے کے راستے نکالنا ہے ،اب بھی وقت ہے ہم نئی نسل کے لئے اردو کو زندہ رکھنے کے لیے کچھ کرسکتے ہیں ، کئی انداز ہے ، کتابوں سے رغبت کے لئے ہم کیا کیا کر سکتے ہیں ہم کر کے تو دیکھیں ، شاید اردو کی خدمت بھی ہوجائے ، اور ثواب جاریہ بھی رہے ، مطالعے کے رحجان کو مزید مرتب اور منظم کرنے کے لئے ناگزیر ہے کہ ہم مطالعے کو اپنے پورے تعلیمی نظام کا حصہ بنادیں ، اس کے لئے ہمیں ہر اسکول میں چھوٹی چھوٹی لائیبریریاں ہونا ضروری ہے ، اور بچوں کو اس سے منسلک کرکے انھیں مطالعہ ضروری قرار دیں ، وقتاً فوقتاً بچوں کو پڑھی گئی کتاب سے ہی کوئی مضمون تیار کرائیں ، اور اس میں بہترین مضمون پر انعام رکھیں اور انعام بھی کتابی شکل میں ہو ، اسکول کے لئے سرپرست یا پھر کوئی ہمدرد حضرات کوئی بھی کتاب کا تحفہ اسکول کو دینے کی ترغیب دیں ، اور ہر استاد ہر ماہ کم از کم ایک کتاب لائیبریری کو تحفہ دیں ، ہر سطح کی تعلیمی نظام میں تقریر اور تحریر کے مقابلوں کو اس طرح ادارتی صورت دینے کی ضرورت ہے کہ ان مقابلوں کی نوعیت مطالعے پر منحصر ہو ، تحریر اور تقریر کے لئے بڑے انعامات رکھیں ، تاکہ شرکاء مقابلہ جیتنے کے لئے اپنے پورے وجود کی قوت صرف کردیں ، ایسے مقابلے ضلعی ، اور قومی سطح پر منعقد کریں توان کے معیار اور ساکھ دونوں میں اضافہ ہوگا ، لیکن ہماری قومی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ ہماری نئی نسل نئی تکنیک سے ، ہیروز ، ہیروئن کے ، کھلاڑی کے ، گلوکار کے ، یا سیاست دان کے فین ہیں اس لئے نئی نسل کی سرگرمی میں کوئی کشش نہیں ہے ، اور یہ بے جان عمل ہورہا ہے ، یہ بھی حقیقت ہے کہ کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمت بھی مطالعے کے رحجان کی حوصلہ شکنی کر رہے ہیں ، اس کے لئے بھی کچھ حل نکالیں ، مطالعے کے فائدے سے بھی مکمل آگاہی دیں ، مطالعے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو مرتب اور منظم انداز میں سوچنا اور اظہار کرنا سکھاتا ہے ، ذہنی صلاحیت عطا کرتا ہے ، مطالعہ خود آگہی اور جوہر شناسی کا ذریعہ ہے ، مطالعے کے فروغ کی ایک صورت یہ ہیکہ کتاب کو معاشرے کا سب سے قیمتی , تحفہ ،، بنا دیا جائے ، کہ لوگ کتابیں دینے میں فخر محسوس کر سکیں ، اس سلسلے کو شروع کرنے کے لئے آپ اور ہم سبھی اگے بڑھیں اور روشنی کا حصہ بنیں ، ان شاءاللہ تعالیٰ ضرور اللّٰہ کی مدد آئے گی ، کامیابی حاصل ہوگی ، ۔۔۔۔۔۔۔۔ اللّٰہ ہمارے علم و عمل کو قبول فرمائے اور اللّٰہ ہم سب سے راضی ہو جائے ، آمین ثم آمین ۔