اتوار، 28 جولائی، 2024

وقت اور دولت

*🔷🔹 وقت اور دولت ®🔹🔷*

ایک بادشاہ نے اعلان کیا کہ جو شخص جھوٹ بولتے ہوئے پکڑا گیا اس کو پانچ دینار جرمانہ ہوگا، لوگ ایک دوسرے کے سامنے بھی ڈرنے لگے کہ اگر جھوٹ بولتے ہوئے پکڑے گئے تو جرمانہ نہ ہو جائے، ادھر بادشاہ اور وزیر بھیس بدل کر شہر میں گھومنے لگے، جب تھک گئے تو آرام کرنے کی غرض سے ایک تاجر کے پاس ٹھہرے، اس نے دونوں کو چائے پلائی، بادشاہ نے تاجر سے پوچھا:۔” تمھاری عمر کتنی ہے؟”۔تاجر نے کہا “20 سال۔ “۔” تمھارے پاس دولت کتنی ہے؟ “تا جرنے کہا۔۔۔ “70 ہزار دینار”۔بادشاہ نے پوچھا: “تمھارے بچے ہیں؟ “۔تاجر نے جواب دیا: “ایک”۔ واپس آکر انھوں نے سرکاری دفتر میں تاجر کے کوائف اور جائیداد کی پڑتال کی تو اس کے بیان سے مختلف تھی، بادشاہ نے تاجر کو دربار میں طلب کیا اور وہی تین سوالات دُہرائے۔ تاجر نے وہی جوابات دئے۔ بادشاہ نے وزیر سے کہا:۔“اِس پر پندرہ دینار جرمانہ عائد کر دو اور سرکاری خزانے میں جمع کرادو، کیونکہ اس نے تین جھوٹ بولے ہیں، سرکاری کاغذات میں اس کی عمر 35 سال ہے، اس کے پاس 70 ہزار دینار سے زیادہ رقم ہے، اور اس کے پانچ لڑکے ہیں۔”تاجر نے کہا: "زندگی کے 20 سال ہی نیکی اور ایمان داری سے گزرے ہیں، اسی کو میں اپنی عمر سمجھتا ہوں اور زندگی میں 70 ہزار دینار میں نے ایک مسجد کی تعمیر میں خرچ کیے ہیں، اس کو اپنی دولت سمجھتا ہوں اور چار بچے نالائق اور بد اخلاق ہیں، ایک بچہ اچھا ہے، اسی کو میں اپنا بچہ سمجھتا ہوں۔“ یہ سُن کر بادشاہ نے جرمانے کا حکم واپس لے لیا اور تاجر سے کہا:۔ “ہم تمھارے جواب سے خوش ہوئے ہیں، وقت وہی شمار کرنے کے لائق ہے، جو نیک کاموں میں گزر جائے، دولت وہی قابلِ اعتبار ہے جو راہِ خدا میں خرچ ہو ، اور اولاد وہی ہے جس کی عادتیں نیک ہوں۔۔۔۔ “۔
اللہ تعالی ہم سب کو نیک عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے

ہفتہ، 27 جولائی، 2024

حروف تہجی

اس کے بعد مرکب حروف ہیں۔ یعنی: 
بھ،پھ،تھ،ٹھ،جھ،چھ،دھ،ڈھ،رھ،ڑھ،کھ،گھ،لھ،مھ،نھ۔ یہ پندرہ ہکاری آوازیں ہیں۔ اس طرح اردو میں مجموعی آوازوں کی تعداد 36+15= 51 ہو جاتی ہے۔
 اردو میں ہ اور ھ میں برا مغالطہ ہے۔ یہاں صرف اتنا عرض کرنا ہے کہ اردو میں کوئی بھی لفظ ھ سے نہیں لکھا جانا چاہیے۔ مثال کے طور پر ھوا، ھادی، ھم، ھر کوئی غلط املا ہے۔ یہ ہوا، ہادی، ہم اور ہر لکھے جانے چاہییں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بغیر حرف صحیح کے اس کا تلفظ ادا نہیں کیا جا سکتا  اور اس کو لکھتے وقت جب بھ پھ تھ ٹھ۔۔۔ لکھا گیا ہے تو اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اس کو حرف صحیح کے ساتھ ہی لکھا جانا چاہیے۔ 
" ء" کا شمار اعراب میں ہوتا ہے، اسی لیے اس کو بنیادی حروف تہجی میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ اس کا استعمال اضافت کے طور پر ہوتا ہے۔ جیسے: شعبۂ اردو، شعبۂ سیاسیات، محکمۂ تعمیر عامہ، محکمۂ امورِ صارفین وغیرہ۔  "آ" اور "لا" مرکب حروف ہیں، اسی لیے ان کا شمار بھی بنیادی حروف تہجی میں نہیں ہے۔ 
اردو میں حروف علت (Vowels)  تین یعنی ا، و اور ی ہیں۔ 
باقی آوازیں حروف صحیح (consonants) ہیں۔
حروف شمسی: عربی  کےوہ حروف جن سے شروع ہونے  والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز نہیں نکالی جاتی۔ جیسے” ال +شمس“ کو "اش شمس " پڑھا جائے گا، حروف شمسی یہ ہیں؛ ت، ث، د، ذ، ر، ز، س، ش، ص، ض، ط ،ظ، ل، اور ن۔

حروف قمری: عربی  کےوہ حروف جن سے شروع ہونے  والے الفاظ کے شروع میں "ال" لگایا جائے تو "ل" کی آواز بولی جاتی ہے۔جیسے ”ال+ قمر “کو القمر پڑھا جائے گا، حروف قمری یہ ہیں؛ ب، ج، ح، خ، ع، غ، ف، ق، ک، م، و ، ہ اور ی