پیر، 18 مارچ، 2024

خلاصہ پارہ نمبر 8

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*آٹھواں پارہ​*

https://drive.google.com/file/d/1BPmyeodK1OPhSpFe6Fa2Eh_F63umWRoe/view?usp=drivesdk

پارہ Mp3   8
https://drive.google.com/file/d/1BPmyeodK1OPhSpFe6Fa2Eh_F63umWRoe/view?usp=drivesdk

اس پارے میں دو حصے ہیں:

*۱۔ سورۂ انعام کا بقیہ حصہ*

*۲۔سورۂ اعراف کا ابتدائی حصہ*

(پہلا حصہ) سورۂ انعام کے بقیہ حصے میں چار باتیں ہیں:

*۱۔ تسلی رسول*

*۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں*

*۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں*

*۴۔ دس وصیتیں*

*۱۔ تسلی رسول:*

اس سورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تسلی ہے کہ یہ لوگ ضدی ہیں، معجزات کا بے جا مطالبہ کرتے رہتے ہیں، اگر مردے بھی ان سے باتیں کریں تو یہ پھر بھی ایمان نہ لائیں گے، قرآن کا معجزہ ایمان لانے کے لیے کافی ہے۔

*۲۔ مشرکین کی چار حماقتیں:*

۱۔ یہ لوگ چوپایوں میں اللہ تعالیٰ کا حصہ اور شرکاء کا حصہ الگ الگ کردیتے، شرکاء کے حصے کو اللہ تعالیٰ کے حصے میں خلط نہ ہونے دیتے، لیکن اگر اللہ تعالیٰ کا حصہ شرکاء کے حصے میں مل جاتا تو اسے برا نہ سمجھتے۔ (آیت:۱۳۵)

۲۔ فقر یا عار کے خوف سے بیٹیوں کو قتل کردیتے۔ (آیت:۱۳۶)

۳۔ چوپایوں کی تین قسمیں کر رکھی تھیں: ایک جو ان کے پیشواؤں کے لیے مخصوص، دوسرے وہ جن پر سوار ہونا ممنوع، تیسرے وہ جنھیں غیر اللہ کے نام سے ذبح کرتے تھے۔ (آیت:۱۳۸)

۴۔ چوپائے کے بچے کو عورتوں پر حرام سمجھتے اور اگر وہ بچہ مردہ ہوتا تو عورت اور مرد دونوں کے لیے حلال سمجھتے۔ (آیت:۱۳۹)

*۳۔ اللہ تعالیٰ کی دو نعمتیں:*

(۱)کھیتیاں (۲)چوپائے
۔ دس وصیتیں:

(۱)اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۲)ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۳)اولاد کو قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۴)برائیوں سے اجتناب کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۵)ناحق قتل نہ کیا جائے۔ (آیت:۱۵۱)

(۶)یتیموں کا مال نہ کھایا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۷)ناپ تول پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۸)بات کرتے وقت انصاف کو مد نظر رکھا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۹)اللہ تعالیٰ کے عہد کو پورا کیا جائے۔ (آیت:۱۵۲)

(۱۰)صراط مستقیم ہی کی اتباع کی جائے۔ (آیت:۱۵۳)

(دوسرا حصہ) سورۂ اعراف کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں:

*۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں*

*۲۔ چار ندائیں*

*۳۔ جنتی اور جہنمیوں کا مکالمہ*

*۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل*

*۵۔ پاتچ قوموں کے قصے*

*۱۔ اللہ تعالیٰ کی نعمتیں:*

(۱)قرآن کریم (۲)تمکین فی الارض (۳)انسانوں کی تخلیق (۴)انسان کو مسجود ملائکہ بنایا۔
*۲۔ چار ندائیں:*
صرف اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو چار مرتبہ [ARABIC]يَا بَنِي آدَمَ[/ARABIC] کہہ کر پکارا ہے۔ پہلی تین نداؤں میں لباس کا ذکر ہے، اس کے ضمن میں اللہ تعالیٰ نے مشرکین پر رد کردیا کہ تمھیں ننگے ہوکر طواف کرنے کو االلہ تعالیٰ نے نہیں کہا جیسا کہ ان کا دعوی تھا۔ چوتھی ندا میں اللہ تعالیٰ نے اتباع رسول کی ترغیب دی ہے۔

*۳۔ جنتیوں اور جہنمیوں کا مکالمہ:*

جنتی کہیں گے: ”کیا تمھیں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کا یقین آگیا؟“، جہنمی اقرار کریں گے، جہنمی کھانا پینا مانگیں گے، مگر جنتی ان سے کہیں گے: ”اللہ تعالیٰ نے کافروں پر اپنی نعمتیں حرام کر دی ہیں۔“

*۴۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے دلائل:*

(۱)بلند وبالا آسمان (۲)وسیع وعریض عرش (۳)رات اور دن کا نظام (۴)چمکتے شمس و قمر اور ستارے (۵)ہوائیں اور بادل (۶)زمین سے نکلنے والی نباتات

*۵۔ پانچ قوموں کے قصے:*

(۱)قوم نوح (۲)قوم عاد (۳)قوم ثمود (۴)قوم لوط اور (۵)قوم شعیب

ان قصوں کی حکمتیں: (۱)تسلی رسول (۲)اچھوں اور بروں کے انجام بتانا (۳)اللہ تعالیٰ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں (۴)رسالت کی دلیل کہ امی ہونے کے باوجود پچھلی قوموں کے قصے بتا رہے ہیں (۵)انسانوں کے لیے عبرت و نصیحت۔
خلاصہ قرآن پارہ نمبر 8

آٹھواں پارہ سورۃ الانعام کے بقیہ حصے سے شروع ہوتا ہے اور وہی مضمون چل رہا ہے جس پر ساتواں پارہ مکمل ہوا۔ یہ آیتیں اس وقت نازل ہوئیں جب مشرکینِ مکہ اور کفارِ عرب نے حضرت محمد علیہ السلام سے مختلف طرح کی نشانیاں طلب کرنا شروع کیں۔ کبھی وہ کہتے کہ ہمارے اوپر فرشتے اترنے چاہییں تو کبھی کہتے اگر تم سچے ہو تو ہم اپنے پروردگار کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہتے ہیں، اور کبھی کہتے کہ ہمارے آبا جو دنیا سے چلے گئے ہیں ان کو دوبارہ زندہ کرو۔ خدا نے اپنے حبیب کو کافروں کی سرشت سے آگاہ کیا کہ ان کا نشانیاں طلب کرنا حق پرستی پر مبنی نہیں بلکہ یہ تو صرف حق سے فرار حاصل کرنے کے لیے اس قسم کے مطالبات کر رہے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر ہم ان پر فرشتے اتار دیتے اور ان سے مردے بات کرنے لگتے اور ہر چیز کو ان کے سامنے لا کھڑا کر دیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہیں تھے سوائے اس کے کہ اللہ چاہے۔

آگے ارشاد ہے کہ اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں وہ گمراہ ہیں، اگر تم زمین پر رہنے والوں کی اکثریت کی پیروی کرنے لگو گے تو وہ تمھیں خدا کے راستے سے گمراہ کر دیں گے۔ یہ صرف گمان کے پیچھے چلتے اور اٹکل کے تیر چلاتے ہیں۔ اس آیت کو بعض لوگ غلط طور پر جمہوریت یعنی Democracy کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔
ارشاد ہے کہ جس چیز پر ذبح کے وقت غیر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھانا درست نہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے یہود پر ان کی بغاوت اور سرکشی کی وجہ سے ہر ناخن والا جانور حرام کر دیا اور گائے اور بکری کی پیٹھ پر لگی چربی کے علاوہ باقی چربی کو بھی ان پر حرام کر دیا لیکن یہود کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ وہ چربی بیچ کر کھانا شروع ہوگئے۔

ارشاد ہے کہ ہم نے ہر بستی میں بڑے بڑے مجرم پیدا کیے کہ ان میں مکاریاں کرتے رہیں، اور جو مکاریاں یہ کرتے ہیں ان کا نقصان انہی کو ہے۔ ارشاد ہے کہ جس شخص کو اللہ چاہے کہ ہدایت بخشے اس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے کہ گمراہ کر دے اس کا سینہ تنگ کر دیتا ہے گویا وہ آسمان پر چڑھ رہا ہے۔ ارشاد ہے کہ یہی تمھارے پروردگار کا سیدھا راستہ ہے اور جو لوگ غور کرنے والے ہیں ان کے لیے ہم نے اپنی آیتیں کھول کھول کر بیان کر دی ہیں اور ان کے لیے ان کے اعمال کے صلے میں پروردگار کے ہاں سلامتی کا گھر ہے۔
اس کے بعد اللہ نے اولاد کے قتل کی شدید مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ وہ لوگ گھاٹے میں ہیں جنھوں نے اپنی اولادوں کو بے وقوفی کے ساتھ قتل کر دیا اور اپنی مرضی سے اللہ کے جائز کیے ہوئے رزق کو حرام قرار دیا۔ اللہ نے رزق کی ان چار بڑی اقسام کا بھی ذکر کیا ہے جو انسانوں پر حرام ہیں: پہلا حرام مردار ہے، دوسرے بہتا ہوا خون، تیسرے خنزیر کا گوشت اور چوتھے غیر اللہ کے نام کا ذبیحہ۔
اس سورت میں اللہ نے مشرکین کے اس غلط عذر کو بھی رد کیا ہے کہ وہ اپنے اور اپنے آبا و اجداد کے بارے میں کہیں گے اگر اللہ چاہتا تو ہم اور ہمارے پرکھے ہرگز شرک نہ کرتے۔ ارشاد ہے کہ یہ اور ان سے پہلے لوگ بھی اسی طرح جھوٹ تراشتے رہے۔

سورۃ الانعام میں اللہ نے بعض کبیرہ گناہوں اور پھر سورۃ فاتحہ میں بتائے گئے صراطِ مستقیم کا بھی ذکر کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ آپ کہیے کہ آؤ میں تم کو وه چیزیں پڑھ کر سناؤں جن (یعنی جن کی مخالفت) کو تمھارے رب نے تم پر حرام فرما دیا ہے، وه یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک مت ٹھہراؤ اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو اور اپنی اوﻻد کو افلاس کے سبب قتل مت کرو۔ ہم تم کو اور ان کو رزق دیتے ہیں اور بے حیائی کے جتنے طریقے ہیں ان کے پاس بھی مت جاؤ خواه علانیہ ہوں خواه پوشیده، اور جس کا خون کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر دیا ہے اس کو قتل مت کرو، ہاں مگر حق کے ساتھ۔ ان کاموں کا تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم سمجھو۔ اور یتیم کے مال کے پاس نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو کہ مستحسن ہے یہاں تک کہ وه اپنے سن رشد کو پہنچ جائے، اور ناپ تول پوری پوری کرو انصاف کے ساتھ، ہم کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیاده تکلیف نہیں دیتے۔ اور جب تم بات کرو تو انصاف کرو، گو وه شخص قرابت دار ہی ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو عہد کیا اس کو پورا کرو، ان کا اللہ تعالیٰ نے تم کو تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم یاد رکھو۔ اور یہ صراطِ مستقیم ہے سو اس راه پر چلو اور دوسری راہوں پر مت چلو کہ وه راہیں تم کو اللہ کی راه سے جدا کر دیں گی۔ اس کا تم کو اللہ تعالیٰ نے تاکیدی حکم دیا ہے تاکہ تم پرہیزگاری اختیار کرو۔

ارشاد ہے کہ جو خدا کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کو ویسی دس نیکیاں ملیں گی، اور جو برائی لائے گا اسے سزا ویسی ہی ملے گی۔
سورۃ الانعام کے آخر میں اللہ نے اپنے رسول کو حکم دیا ہے کہ وہ اعلان فرمائیں کہ مجھے میرے پروردگار نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے یعنی ابراہیم کا مذہب جو ایک اللہ ہی کی طرف کے تھے اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ (اور اے نبی آپ کہیے کہ) بے شک میری نمازیں، میری قربانیاں، میرا جینا اور میرا مرنا سبھی کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے جس کا کوئی شریک نہیں اور مجھے اسی کا حکم دیا گیا اور میں سب سے اول فرمانبردار ہوں۔ نیز یہ بھی ارشاد ہے کہ کوئی شخص کسی (کے گناہ) کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

سورۃ الانعام کے بعد سورۃ الاعراف ہے جس کے آغاز میں ارشاد ہے کہ اے محمد علیہ السلام یہ کتاب جو آپ پر نازل کی گئی ہے اس سے آپ کو تنگ دل نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ تو اس لیے نازل ہوئی ہے کہ آپ لوگوں کو ڈر سنائیں اور یہ ایمان والوں کے لیے نصیحت ہے۔ آپ اس کی پیروی کریں اور دوسروں کی پیروی نہ کریں۔ اس کے بعد قیامت کے دن کے وزن کا ذکر ہے کہ قیامت میں وزن حق اور انصاف کے ساتھ ہوگا چنانچہ جس کا پلڑا بھاری ہوگا وہ کامیاب ہوگا اور جس کا پلڑا ہلکا ہوگا تو یہی وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہماری آیات کو رد کرکے اپنی ہی جانوں کا نقصان کیا۔

اس سورت میں اللہ نے اپنے ایک بہت بڑے انعام کا ذکر کیا ہے کہ اس نے انسانوں کو زمین پر ٹھہرایا اور ان کے لیے مختلف طرح کے پیشے بنائے لیکن پھر بھی کم ہی انسان ہیں جو شکر گزار ہیں۔ پھر مسجدوں میں آنے کے آداب کا ذکر ہے کہ مسجد میں آتے ہوئے انسانوں کو اپنی زینت کو اختیار کرنا چاہیے اور اچھا لباس پہن کر مسجد آنا چاہیے۔ ارشاد ہے کہ کھاؤ اور پیو مگر بے جا نہ اڑاؤ۔ بے شک خدا بے جا اڑانے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ ارشاد ہے کہ زینت و آرائش اور کھانےپینے کی پاکیزہ چیزیں جو اللہ نے اپنے بندوں کے لیے پیدا کی ہیں ان کو حرام کس نے کیا ہے؟ کہہ دو کہ یہ چیزیں دنیا کی زندگی میں ایمان والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے دن بھی خاص انہی کا حصہ ہوں گی۔

آگے اصحابِ اعراف کا ذکر ہے۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جو جہنم کے عذاب سے تو محفوظ ہوں گے لیکن اعمال میں کمزوری کی وجہ سے جنت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ ایک مخصوص مدت گزارنے کے بعد اللہ ان پر نظرِ رحمت فرماتے ہوئے انھیں جنت میں داخل فرما دے گا۔ اللہ نے اپنے بندوں کو حکم دیا ہے کہ خوف اور طمع کے ساتھ اللہ کو پکارتے رہیں۔ بے شک اللہ کی رحمت نیکو کاروں کے قریب ہے۔
دعا مانگنے کے آداب کے سلسلے میں ارشاد ہے کہ لوگو اپنے پروردگار سے عاجزی سے اور چپکے چپکے دعائیں مانگا کرو، خدا حد سے بڑھنے والوں کو دوست نہیں رکھتا۔ اللہ سے خوف کرتے ہوئے اور امید رکھ کر دعائیں مانگتے رہنا۔ اور ملک میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرنا۔
اس پارے کے آخری حصہ میں اللہ نے ان قوموں کا ذکر کیا ہے جو اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے تباہ و برباد ہوئیں۔ خدا نے حضرت نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا تو ان کے سرداروں نے کہا کہ ہم تمھیں صریح گمراہی میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ انھوں نے نوح کی تکذیب کی تو ہم نے نوح کو اور جو ان کے ساتھ کشتی میں سوار تھے ان کو بچا لیا اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا انھیں غرق کر دیا۔

اسی طرح ہم نے قومِ عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا تو ان کی قوم کے کافر سرداروں نے کہا کہ تم ہمیں احمق نظر آتے ہو اور ہم تمھیں جھوٹا خیال کرتے ہیں۔ پھر ہم نے ہود کو اور جو ان کے ساتھ تھے نجات بخشی اور جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ان کی جڑ کاٹ دی۔

اسی طرح ہم نے قومِ ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو بھیجا تو ان کی قوم کے مغرور سرداروں نے کہا کہ جس چیز پر تم ایمان رکھتے ہو ہم اس کو نہیں مانتے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اسی طرح ہم نے لوط کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور انھوں نے قوم سے کہا کہ تم ایسی بے حیائی کا کام کیوں کرتے ہو جو تم سے پہلے ساری دنیا کے انسانوں نے کبھی نہیں کیا یعنی خواہشِ نفسانی پوری کرنے کے لیے عورتوں کو چھوڑ کر مردوں پر گرتے ہو۔ پھر ہم نے ان پر پتھروں کا مینہ برسایا اور دیکھ لو کہ گناہ گاروں کا کیسا انجام ہوا۔

اور ہم نے مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو بھیجا اور انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم ناپ تول پوری کیا کرو اور لوگوں کو چیزیں کم نہ دیا کرو اور زمین میں اصلاح کے بعد خرابی نہ کرو۔ ان کی قوم کے جو سردار اور بڑے تھے انھوں نے کہا کہ ہم تمھیں شہر سے نکال دیں گے۔ پھر ان کو بھونچال نے آن پکڑا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے رہ گئے۔

اس پارے کے آخر میں حضرت شعیب کا ارشاد ہے کہ اگر تم میں سے ایک جماعت میری رسالت پر ایمان لے آئی ہے اور ایک جماعت ایمان نہیں لائی ہے تو صبر کیے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے اور تمھارے درمیان میں فیصلہ کر دے۔

اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں قرآنِ مجید پڑھنے،سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄

ہفتہ، 16 مارچ، 2024

خلاصہ پارہ نمبر 7

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*ساتواں پارہ​*
https://drive.google.com/file/d/1_a2k5DvFhBJ0JbRktc1nOJtljC5pVaUM/view?usp=drivesdk

 پارہ 7 Mp3

https://drive.google.com/file/d/1CI1YqLNzhb5bS6fGuBgbwved2kEh4AnQ/view?usp=drivesdk

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ سورۂ مائدہ کا بقیہ حصہ

۲۔ سورۂ انعام ابتدائی حصہ

(پہلا حصہ) سورۂ مائدہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:​

۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف

۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل

۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

۱۔ حبشہ کے نصاری کی تعریف:

جب ان کے سامنے قرآن کی تلاوت کی جاتی ہے تو اسے سن کر ان کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔

۲۔ حلال وحرام کے چند مسائل:

۔۔۔ہر چیز خود سے حلال یا حرام نہ بناؤ۔

۔۔۔لغو قسم پر مؤاخذہ نہیں، البتہ یمین غموس پر کفارہ ہے، یعنی دس مسکینوں کو دو وقت کا کھانا کھلانا یا انھیں پہننے کے لیے کپڑے دینا یا ایک غلام آزاد کرنا اور ان تینوں کے نہ کرسکنے کی صورت میں تین دن روزے رکھنا۔

۔۔۔شراب، جوا، بت اور پانسہ حرام ہیں۔

۔۔۔حالتِ احرام میں محرم تری کا شکار کرسکتا ہے، خشکی کا نہیں۔

۔۔۔حرم میں داخل ہونے والے کے لیے امن ہے۔

۔۔۔چار قسم کے جانور مشرکین نے حرام کر رکھے تھے بحیرہ ، سائبہ ، وصیلہ اور حام۔

۲۔ قیامت اور تذکرۂ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

قیامت کے دن حضرات انبیائے کرام علیہم السلام سے پوچھا جائے گا کہ جب تم نے ہمارا پیغام پہنچایا تو تمھیں کیا جواب دیا گیا؟ اسی سوال و جواب کے تناظر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام پر اللہ تعالیٰ اپنے احسانات گنوائیں گے، ان احسانات میں مائدہ والا قصہ بھی ہے کہ حواریوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے کہا کہ اللہ تعالیٰ سے کہو ہم پر ایسا دسترخوان اتارے جس میں کھانے پینے کی آسمانی نعمتیں ہوں، چناچہ دسترخوان اتارا گیا، ان احسانات کو گنواکر اللہ تعالیٰ پوچھیں گے اے عیسیٰ! کیا تم نے ان سے کہا تھا کہ تجھے اور تیری ماں کو معبود مانیں تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام عرض کریں گے تو پاک ہے، میں نے تو ان سے تیری عبادت کا کہا تھا الی آخرہ۔

(دوسرا حصہ) سورۂ انعام کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس

 *میں تین باتیں ہیں:​*

۱۔ توحید

۲۔ رسالت

۳۔ قیامت

*۱۔ توحید:*

اس سورت میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا اور عظمت وکبریائی خوب بیان ہوئی ہے۔

*۲۔ رسالت:*

نبی علیہ السلام کی تسلی کے لیے اللہ تعالیٰ نے اٹھارہ انبیائے کرام کا تذکرہ فرمایا ہے:
(۱)حضرت ابراہیم علیہ السلام ، (۲)حضرت اسحاق علیہ السلام ، (۳)حضرت یعقوب علیہ السلام ، (۴)حضرت نوح علیہ السلام ، (۵)حضرت داؤد علیہ السلام ، (۶)حضرت سلیمان علیہ السلام ، (۷)حضرت ایوب علیہ السلام ، (۸)حضرت یوسف علیہ السلام ، (۹)حضرت موسٰی علیہ السلام ، (۱۰)حضرت ہارون علیہ السلام ، (۱۱)حضرت زکریا علیہ السلام ، (۱۲)حضرت یحیٰ علیہ السلام ، (۱۳)حضرت عیسیٰ علیہ السلام ، (۱۴)حضرت الیاس علیہ السلام ، (۱۵)حضرت اسماعیل علیہ السلام ، (۱۶)حضرت یسع علیہ السلام ، (۱۷)حضرت یونس علیہ السلام ، (۱۸)حضرت لوط۔

*۳۔ قیامت:*
۔۔۔ قیامت کے روز اللہ تمام انسانوں کا جمع کرے گا۔ (آیت:۱۲)
۔۔۔ روزِ قیامت کسی انسان سے عذاب کا ٹلنا اس پر اللہ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ (آیت:۱۶)
۔۔۔ روزِ قیامت مشرکین سے مطالبہ کیا جائے گا کہ کہاں ہیں تمھارے شرکاء؟ (آیت:۲۲)
۔۔۔ اس روز جہنمی تمنا کریں گے کہ کاش! انھیں دنیا میں لوٹا دیا جائے تاکہ وہ اللہ رب کی آیات کو نہ جھٹلائیں اور ایمان والے بن جائیں۔(آیت:۲۷)

۔۔۔ دنیا کی زندگی تو کھیل اور مشغلہ ہے ، آخرت کی زندگی بدرجہا بہتر ہے۔ (آیت:۳۲)

*خلاصہ قرآن پارہ نمبر 7*

سورۃ المائدہ میں ساتویں پارے کے شروع میں نرم دل اور ایمان شناس عیسائیوں کی جماعت کا ذکر ہے کہ جب ان کے سامنے اللہ کے کلام کی تلاوت کی جاتی ہے تو حقیقت کو پہچاننے کی وجہ سے ان کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے ہیں اور وہ لوگ حق کو پہچاننے کے بعد اس کو قبول کرلیتے ہیں اور کہتے ہیں اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے، ہمارا نام بھی اسلام کی گواہی دینے والوں میں لکھ دے۔ یہ آیت اس وقت نجاشی شاہِ حبشہ کی شان میں اتری جب قرآن کی تلاوت سن کر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنا شروع ہو گئے اور اس نے اپنا شمار اسلام کی گواہی دینے والوں میں کروا لیا۔

اہلِ ایمان سے مخاطب ہو کر ارشاد ہوتا ہے کہ انھیں پاک چیزوں کو خود پر حرام نہیں کرنا چاہیے اور اللہ کے دیے پاک رزق کو کھانا چاہیے اور اس سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ نیز ارشاد ہےکہ اللہ انسان کی بلاارادہ کھائی قسموں پر مواخذہ نہیں کرتا لیکن جب کسی قسم کو پوری پختگی سے کھایا جائے تو ایسی صورت میں انسان کو اس قسم کو پورا کرنا چاہیے۔

اس کے بعد شراب اور دیگر کچھ چیزوں کی حرمت کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، بے شک شراب، جوا، بت گری اور پانسہ ناپاک اور شیطانی کام ہیں۔ پس تم ان سے بچو تاکہ کامیاب ہو جاؤ۔ بے شک شیطان جوئے اور شراب کے ذریعے تمھارے درمیان دشمنی اور عداوت پیدا کرنا چاہتا ہے اور تمھیں اللہ کی یاد اور نماز سے روکنا چاہتا ہے، تو کیا تم لوگ باز آ جاؤ گے؟
اس کے بعد سمندری شکار کو حلال قرار دینے کا ذکر ہے اور حالتِ احرام میں خشکی کے شکار سے منع کیا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے عزت کے گھر یعنی کعبہ کو لوگوں کے لیے موجبِ امن قرار دیا ہے۔ نیز یہ بھی ذکر ہے کہ پیغمبر کے ذمے تو صرف پہنچا دینا ہے، اور جو کچھ تم سامنے اور پوشیدہ کرتے ہو وہ اللہ کو معلوم ہے۔ ارشاد ہے کہ اچھا اور برا برابر نہیں ہو سکتے خواہ برے کی کثرت تمھیں حیرانی میں ڈال دے۔
اس پارے میں اللہ نے بکثرت سوال کرنے سے بھی روکا ہے۔ کئی مرتبہ کثرتِ سوال کی وجہ سے جائز اشیا بھی حرام ہو جاتی ہیں۔ وصیت کرنے اور گواہی کو چھپانے والے کے بارے میں احکام بھی یہیں نازل ہوئے ہیں۔ نیز اسی موقع پر نبیوں کو دیے گئے علمِ غیب کا تذکرہ ہے۔ ارشاد ہے کہ وہ دن یاد رکھنے کے لائق ہے جب اللہ پیغمبروں کو جمع کرے گا اور ان سے پوچھے گا کہ تمھیں کیا جواب ملا تھا تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں، تو ہی غیب کی باتوں سے واقف ہے۔

اس کے بعد حضرت عیسیٰ کے حواریوں کی باتوں کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ حواریوں نے عیسیٰ سے کہا کیا آپ کا رب ہمارے لیے آسمان سے دسترخوان اتار سکتا ہے۔ حواریوں کے اس بلاجواز مطالبے پر انھیں تنبیہہ کرتے ہوئے ارشاد ہوا کہ اللہ سے ڈر جاؤ اگر تم مومن ہو۔ حضرت عیسیٰ کی اس نصیحت کے جواب میں حواریوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اس میں سے کھائیں اور اپنے دلوں کو مطمئن کریں اور ہم جان لیں کہ ہمیں سچ بتایا گیا ہے اور اس پر گواہ رہیں۔ اس اصرار پر حضرت عیسیٰ نے دعا مانگی کہ اے ہمارے پروردگار، ہمارے اوپر آسمان سے دسترخوان نازل فرما جو ہمارے اول اور آخر کے لیے عید اور تیری جانب سے ایک نشانی بن جائے اور ہمیں رزق عطا فرما اور تو بہت ہی بہتر رزق دینے والا ہے۔ اس دعا پر خدا نے فر مایا کہ میں دستر خوان تمھارے لیے اتاروں گا، پھر جو کوئی تم سے اس کے بعد کفر کرے گا تو میں اس کو ایسا عذاب دوں گا جو جہان والوں میں سے کسی کو نہیں دیا ہوگا۔

سورۃ المائدہ کے آخر میں اس بات کا ذکر ہے کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ حضرت عیسیٰ سے پوچھیں گے کہ کیا انھوں نے لوگوں کو کہا تھا کہ ان کی اور ان کی والدہ مریم صدیقہ کی پوجا کی جائے۔ آپ کہیں گے کہ یا اللہ میں ایسی بات کیسے کہہ سکتا ہوں جسے کہنے کا مجھے حق نہیں۔ میں تو ان کو ہمیشہ یہی کہتا رہا کہ میرے اور اپنے اللہ کی پوجا کرو۔ پھر حضرت عیسیٰ کا جملہ منقول ہے کہ اے اللہ اگر تو ان لوگوں کو عذاب دے تو یہ تیرے بندے ہیں، اور اگر تو ان کی مغفرت فرما دے تو تو غالب حکمت والا ہے۔

سورۃ المائدہ کے بعد سورۃ الانعام ہے جس کے شروع میں ارشاد ہے کہ ہر قسم کی تعریف اس اللہ کے لیے ہے جو زمین اور آسمان کا خالق ہے اور جس نے اندھیروں اور اجالوں کو پیدا کیا لیکن کافر پھر بھی اس کا شریک بناتے ہیں۔ انسان کی تخلیق کا ذکر ہے اللہ نے انسان کو مٹی سے پیدا کیا، پھر اس کو رہنے کا ایک وقت دیا، پھر ایک مخصوص مدت کے بعد اس کو زندہ کیا جائے گا لیکن انسان ہے کہ دوبارہ جی اٹھنے کے بارے میں شک کا شکار ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ ہی ہے جو انسان کے ظاہر اور باطن کو جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے جو وہ کماتا ہے۔ ارشاد ہے کہ دن اور رات میں جو کچھ بھی موجود ہے اسی کا ہے اور وہ سننے جاننے والا ہے۔

اس سورت میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ انسان کو کوئی گزند پہنچانا چاہے تو اس کو کوئی نہیں ٹال سکتا اور اگر وہ اس کو خیریت سے رکھے تو بھی وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ آگے ذکر ہے کہ کافروں کے طعن و تشنیع رسولِ اکرم کو دکھ پہنچاتے تھے۔ اللہ نے اپنے نبی کو ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا کہ یہ لوگ درحقیقت آپ کو نہیں بلکہ مجھ اللہ کی آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اللہ کے پاس غیب کے خزانوں کی چابیاں ہیں اور ان کو اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ خشکی اور سمندر میں جو کچھ بھی موجود ہے اللہ اس کو جانتا ہے اور کوئی پتہ جو زمین پر گرتا ہے اللہ اس کو بھی جانتا ہے اور کوئی ذرہ جو زمین کے کسی اندھیرے مقام پر پڑا ہے وہ اس کو بھی جانتا ہے۔
اس سورت میں اللہ نے حضرت ابراہیم کے اپنی قوم کی بت پرستی کی بھرپور طریقے سے مذمت کا ذکر کیا ہے۔ بت پرستی کی مذمت کے ساتھ ساتھ آپ نے اجرامِ فلکی کی حقیقت کو بھی پا لیا۔ جگمگ کرتے ستارے، چاند اور سورج کو ڈوبتا دیکھ کر آپ نے اعلان کر دیا میں قوم کے شرک سے بری ہوں اور اپنے چہرے کا رخ اس ذات کی طرف کرتا ہوں جس نے زمین و آسمان کو بنایا ہے اور میں شرک کرنے والوں میں شامل نہیں ہوں۔

اس پارے کے آخر میں ارشاد ہے کہ لوگوں نے اللہ کی قدر جیسی جاننی چاہیے تھی نہ جانی ۔ ارشاد ہوا کہ اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو یہ کہے مجھ پر وحی آئی ہے حالانکہ اس پر کچھ بھی وحی نہ آئی ہو، اور جو یہ کہے جیسی کتاب اللہ نے نازل کی ہے ویسی میں بھی بنا لیتا ہوں۔

ارشاد ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اور اس کی اولاد کیسے ہو جب کہ اس کی بیوی ہی نہیں ہے۔ وہ اللہ ایسا ہے کہ نگاہیں اس کا ادراک کر ہی نہیں سکتیں اور وہ نگاہوں کا ادراک کر سکتا ہے۔

مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ جو مشرک غیراللہ کے پجاری ہیں ان کو گالی نہ دیں۔ یہ لوگ جواب میں اللہ کو گالی دیں گے۔ یہ لوگ اللہ کی سخت قسمیں کھاتے ہیں کہ اگر ان کے پاس کوئی نشانی آئے تو وہ ایمان لے آئیں گے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ نشانیاں تو سب اللہ کے پاس ہیں۔ یہ ایسے بدبخت ہیں کہ ان کے پاس اگر نشانیاں آ بھی جائیں تب بھی یہ ایمان نہیں لائیں گے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن مجید کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ آمین۔

┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄
*نداۓ ملت*

جمعرات، 14 مارچ، 2024

​ خلاصہ پارہ نمبر 6

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄

*چھٹا پارہ​*
https://drive.google.com/file/d/15GFAC4JAT9sBHd7Or_xYjl42xAjcDO5H/view?usp=drivesdk
MP3 پارہ 6
https://drive.google.com/file/d/15GFAC4JAT9sBHd7Or_xYjl42xAjcDO5H/view?usp=drivesdk
اس پارے میں دو حصے ہیں:

*۱۔ سورۂ نساء کا بقیہ حصہ*

*۲۔ سورۂ مائدہ کا ابتدائی حصہ*



(پہلا حصہ) سورۂ نساء کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:

*۱۔ یہود کی مذمت*

*۲۔ نصاری کی مذمت*

*۳۔ میراث*

*۱۔ یہود کی مذمت:*

انھوں نے حضرت عیسی علیہ السلام کو قتل کرنے کی کوشش کی، مگر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی حفاظت فرمائی۔

*۲۔ نصاری کی مذمت:*

یہ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں غلو کا شکار کر عقیدۂ تثلیث کے حامل ہوگئے۔

*۳۔ میراث:*
عینی اور علاتی بہنوں کے حصے مذکور ہوئے کہ ایک بیٹی کو نصف ، ایک سے زیادہ کو دو ثلث اور اگر بھائی بھی ہوں تو لڑکے کو لڑکی سے دوگنا ملے گا۔

(دوسرا حصہ) سورۂ مائدہ کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں پانچ باتیں ہیں:

۱۔ اوفوا بالعقود (ہر جائز عہد اور عقد جو تمھارے اور رب کے درمیان ہو یا تمھارے اور انسانوں کے درمیان ہو اسے پورا کرو)

۲۔ حرام چیزیں (بہنے والا خون، خنزیر کا گوشت اور جسے غیر اللہ کے نام پر ذبح کیا گیا ہو)

۳۔ طہارت (وضو ، تیمم اور غسل کے مسائل)

۴۔ ہابیل اور قابیل کا قصہ (قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تھا، قتل اور چوری کے احکامات)

۵۔ یہود و نصاری کی مذمت (یہ لوگ خود کو اللہ تعالیٰ کا بیٹا کہتے ہیں، حالانکہ ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب بھی آتا ہے، نبی علیہ السلام کو انکی طرف سے جو سرکشیاں ہوئی ہیں ان پر تسلی دی گئی، مسلمانوں کو ان سے دوستی کرنے سے منع فرمایا گیا اور حضرت داؤد اور عیسٰی علیہما السلام کی زبانی ان پر لعنتِ خداوندی مذکور ہوئی، پھر آخر میں بتایا کہ یہ تمھارے خطرناک دشمن ہیں)۔

*خلاصہ قرآن پارہ نمبر 6*

سورۃ نساء میں چھٹا پارہ اس اعلان سے شروع ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ غلط بات کو پسند نہیں کرتا لیکن اگر کوئی مظلوم شخص اپنے اوپر کیے جانے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھائے تو اسے ایسا کرنے کی اجازت ہے۔ ارشاد ہے کہ کفار اللہ اور اس کے رسول کے درمیان تفریق کرتے ہیں یعنی اللہ کی بات کو مانتے ہیں لیکن رسول کی بات کو نہیں مانتے، یا اللہ کے بعض رسولوں کو مانتے ہیں اور بعض کا انکار کرتے ہیں یعنی حضرت موسی و عیسیٰ علیہما السلام کو تو مانتے ہیں لیکن حضرت محمد کا انکار کرتے ہیں۔ ایسے لوگ حق سے انکاری ہیں۔ مومنوں کا طرزِ عمل یہ ہوتا ہے کہ وہ اللہ اور اس کے رسول کے فرامین کو بیک وقت مانتے ہیں یعنی اللہ کے تمام رسولوں کو مانتے ہیں۔

ارشاد ہے کہ یہود حضرت مریم صدیقہ کی کردار کشی کیا کرتے تھے حالانکہ وہ پاک دامن عورت تھیں۔ ارشاد ہے کہ یہود اپنی دانست میں عیسیٰ علیہ السلام کو قتل کر چکے تھے جب کہ اللہ فرماتا ہے کہ عیسیٰ کو نہ قتل کیا گیا اور نہ سولی دی گئی بلکہ اللہ نے ان کو اپنی طرف اٹھا لیا۔ اسی طرح یہود کو اللہ نے سود کھانے سے روکا تھا لیکن وہ اس غلط کام میں مسلسل ملوث رہے، اللہ نے ان کافروں کے لیے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ لیکن اہلِ کتاب کے پختہ علم والے لوگ جو قرآن اور سابقہ الہامی کتابوں پر ایمان لاتے ہیں اور نمازوں کو قائم کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا شروع کر دیتے ہیں اور آخرت پر ایمان لے آتے ہیں ان کے لیے اللہ تعالیٰ نے اجرِ عظیم تیار کر دیا ہے۔

سورۃ نساء کے آخر میں اللہ نے قرآنِ مجید کو اپنی دلیل اور واضح روشنی قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جو قرآنِ مجید کو مضبوطی کے ساتھ تھامے گا، خدا اس کو اپنے فضل اور رحمت میں داخل فرمائے گا اور اس کو صراطِ مستقیم پر چلائے گا۔ آخرِ سورت میں کلالہ کے ترکے کے بارے میں احکام ذکر کیے گئے ہیں۔
سورۃ نساء کے بعد سورۃ مائدہ ہے جس کے شروع میں اللہ نے اہلِ ایمان کو اپنے وعدے پورے کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کو اس بات کی تلقین کی ہے کہ انھیں کامیابی اور بھلائی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا چاہیے اور گناہ اور ظلم کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے بعد دس چیزوں کی حرمت بیان کی گئی ہے: مرا ہوا جانور، بہتا ہوا خون، سور کا گوشت، جس چیز پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام پکارا جائے، جو جانور گُھٹ کر مر جائے، جو جانور چوٹ لگ کر مر جائے، جو جانور گر کر مر جائے، جو جانور سینگ لگ کر مر جائے، وہ جانور جس کو درندے پھاڑ کھائیں مگر وہ جسے تم مرنے سے پہلے ذبح کرلو، اور پانسوں سے قسمت کا حال معلوم کرنا۔

ارشاد ہے کہ آج کافر تمھارے دین سے ناامید ہو گئے ہیں، ان سے مت ڈرو اور مجھی سے ڈرو۔ آج ہم نے تمھارے لیے تمھارا دین کامل کر دیا اور اپنی نعمتیں تم پر پوری کر دیں اور تمھارے لیے اسلام کو بطورِ دین پسند کر لیا۔

اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو مومن عورتوں کے ساتھ ساتھ اہلِ کتاب کی پاک دامن عورتوں سے بھی نکاح کی اجازت دی ہے، ان کے مہر ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور ان کی عفت قائم رکھنے اور ان سے کھلی بدکاری اور چھپی دوستی نہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ بین المذاہب شادیاں معاشرے میں بین المذاہب ہم آہنگی اور مودت پیدا کرنے کے طریقوں میں سے موثر ترین طریقہ ہے جسے قرآنِ مجید نے جاری کیا۔

اس کے بعد پاکی کا بیان ہے۔ وضو کا طریقہ ذکر کیا گیا ہے کہ چہرے اور بازوؤں کو کہنیوں تک دھویا جائے اور سر اور پاؤں کا مسح کیا جائے۔ نیز بیماری اور سفر کی حالت میں مٹی سے تیمم کا ارشاد ہوا۔

اللہ تعالیٰ عیسائیوں کے اس قول کو رد فرماتے ہیں کہ وہ عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کہتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ اگر خدا عیسیٰ علیہ السلام، ان کی والدہ مریم صدیقہ اور زمین پر جو کوئی بھی موجود ہے ان کو فنا کے گھاٹ اتار دے تو اسے کون پوچھ سکتا ہے؟

پھر حضرت موسیٰ کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ خدا نےتم پر جو انعامات کیے ہیں ان کو یاد کرو۔ تم میں انبیا مبعوث کیے گئے اور تم کو بادشاہت عطا کی گئی اور تم کو وہ کچھ عطا کیا گیا جو کائنات میں کسی دوسرے کو نہیں ملا۔ خدا کے احسانات کا احساس دلانے کے بعد حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ۔ فرمایا کہ اگر تم لوگ ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ گے تو یقینًا تم غالب آؤ گے۔ اگر تم مومن ہو تو صرف اللہ پر بھروسہ رکھو۔ اس حوصلہ افزا بات کو سن کر بھی لوگ بزدل بنے رہے اور کہنے لگے: اے موسیٰ جب تک وہ لوگ وہاں رہیں گے ہم لوگ کبھی وہاں نہیں جائیں گے۔ تم اور تمھارا رب جائے اور جنگ کرے، ہم تو یہاں بیٹھے ہیں۔ موسیٰ اس سارے منظر کو دیکھ کر رنجیدہ ہوئے اور خدا سے یوں گویا ہوئے کہ اے میرے رب مجھے اپنے اور اپنے بھائی کے علاوہ کسی پر اختیار نہیں۔ پس تو ہمارے اور نافرمانوں کے درمیان فیصلہ کر دے۔ القصہ اپنے نبی کی اس نافرمانی کی وجہ سے بنی اسرائیل منزل سے بھٹک گئے اور چالیس برس تک دربدر پھرا کیے۔
اس سورت میں حضرت آدم کے دو بیٹوں کے اختلاف کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ نے ایک بیٹے کی قربانی کو قبول کر لیا جب کہ دوسرے کی قربانی قبول نہ ہوئی۔ جس کی قربانی قبول نہیں ہوئی تھی اس نے اپنے بھائی کو حسد کا شکار ہو کر بلاوجہ قتل کر دیا۔ حضرت آدم کے بیٹوں کے واقعہ کو بیان فرما کر اللہ نے انسان کے قتل کی شدید مذمت کی ہے۔ ارشاد ہے کہ جو ایک انسان کا ناحق قتل کرتا ہے وہ ایک انسان کا نہیں بلکہ پوری انسانیت کا قتل کرتا ہے اور جو ایک انسان کی زندگی کا سبب بنتا ہے وہ ایک انسان کو زندہ نہیں کرتا بلکہ پوری انسانیت کو زندہ کرتا ہے۔
اس سورت میں زمین میں فساد پھیلانے والوں کے لیے سخت سزا ذکر کی گئی ہے۔ ارشاد ہے زمین میں فساد پھیلانے والوں کو پھانسی دے دینی چاہیے یا ان کو قتل کر دینا چاہیے یا ان کے ہاتھ پاؤں کو کاٹ دینا چاہیے یا ان کو جلاوطن کر دینا چاہیے۔ یہ دنیا میں ان کے کیے کی سزا ہے، اور آخرت کا عذاب تو انتہائی درد ناک ہے۔
نیز ارشاد ہے کہ اللہ سے ڈرتے رہو اور اس سے قریب ہونے کے لیے وسیلہ پکڑا کرو، اور فلاح حاصل کرنے کے لیے اس کے راستے میں جہاد کیا کرو۔ اس کے بعد چوری کرنے والا مرد ہو یا عورت، اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم ہے۔
اللہ نے یہود و نصاریٰ سے دوستی کی مذمت کی ہے اور فرمایا ہے کہ جو ان سے دِلی دوستی رکھتا ہے وہ انہی میں سے ہے۔ اس کے بعد اللہ نے یہودیوں کے ذاتِ باری کے بارے میں منفی اقوال پیش کیے ہیں۔ یہودی کہتے تھے کہ اللہ کا ہاتھ تنگ ہے۔ ارشاد ہوا کہ ان کے اپنے ہاتھ تنگ ہیں اور ان پر لعنت ہو اپنے قول کی وجہ سے۔ اللہ نے کہا کہ اس کے ہاتھ کھلے ہیں، وہ جیسے چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔
نیز رسولِ کریم علیہ السلام سے بطورِ خاص ارشاد ہے کہ آپ کے رب کی طرف سے جو کچھ آپ پر نازل ہوا ہے وہ سب کا سب لوگوں تک پہنچا دیجیے۔ اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آپ اللہ کا پیغام پہنچانے سے قاصر رہے۔

چھٹے پارے کے آخر میں اللہ نے اس بات کو ذکر کیا ہے کہ جنابِ داؤد اور عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کے کافروں پر اس لیے لعنت کی کہ وہ برائی کے کاموں سے روکنے کے بجائے خود ان میں ملوث ہو چکے تھے اور ان کا یہ فعل انتہائی برا تھا۔ چنانچہ ہم مسلمانوں کو برائی کے کام سے روکنے کی تلقین کی گئی ہے۔

اللہ تعالی ہمیں قرآن پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین

┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄

منگل، 12 مارچ، 2024

خلاصہ پارہ نمبر 5

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*پانچواں پارہ​*

https://drive.google.com/file/d/1cMygZTeNeKr0bhuMdKz3hQjegdjQMnJ0/view?usp=drivesdk

اس پارے میں آٹھ باتیں ہیں:​

۱۔ خانہ داری کی تدابیر

۲۔ عدل اور احسان

۳۔ جہاد کی ترغیب

۴۔ منافقین کی مذمت

۵۔ قتل کی سزائیں

۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف

۷۔ ایک قصہ

۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب


*۱۔ خانہ داری کی تدابیر:*

پہلی ہدایت تو یہ دی گئی کہ مرد سربراہ ہے عورت کا پھر نافرمان بیوی سے متعلق مرد کو تین تدبیریں بتائی گئیں: ایک یہ کہ اس کو وعظ و نصیحت کرے، نہ مانے تو بستر الگ کردے، اگر پھر بھی نہ مانے تو انتہائی اقدام کے طور پر حد میں رہتے ہوئے اس کی پٹائی بھی کرسکتا ہے۔

*۲۔ عدل واحسان:*

عدل و احسان کا حکم دیا گیا تاکہ اجتماعی زندگی بھی درست ہوجائے۔

*۳۔ جہاد کی ترغیب:*

جہاد کی ترغیب دی کہ موت سے نہ ڈرو وہ تو گھر بیٹھے بھی آسکتی ہے، نہ جہاد میں نکلنا موت کو یقینی بناتا ہے، نہ گھر میں رہنا زندگی کے تحفظ کی ضمانت ہے۔

*۴۔ منافقین کی مذمت:*

منافقین کی مذمت کرکے مسلمانوں کو ان سے چوکنا کیا ہے کہ خبردار! یہ لوگ تمھیں بھی اپنی طرح کافر بنانا چاہتے ہیں۔

*۵۔ قتل کی سزائیں:*

قتل کی سزائیں بیان کرتے ہوئے بڑا سخت لہجہ استعمال ہوا کہ مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والا ہمیشہ ہمیشہ جہنم میں جلے گا، مراد اس سے جائز سمجھ کر قتل کرنے والا ہے۔

*۶۔ ہجرت اور صلاۃ الخوف:*

جہاد کی ترغیب دی تھی، اس میں ہجرت بھی کرنی پرتی ہے اور جہاد ار ہجرت میں نماز پڑھتے وقت دشمن کا خوف ہوتا ہے، اس لیے صلاۃ الخوف بیان ہوئی۔

*۷۔ ایک قصہ:*

ایک شخص جو بظاہر مسلمان مگر در حقیقت منافق تھا اس نے چوری کی اور الزام ایک یہودی پر لگادیا، نبی علیہ السلام تک یہ واقعہ پہنچا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہودی کے خلاف فیصلہ دینے ہی والے تھے کہ آیت نازل ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے بتا دیا کہ چور وہ مسلمان نما منافق ہے، چنانچہ وہ چور مکہ بھاگا اور کھلا کافر بن گیا۔

*۸۔ سیدھے راستے پر چلنے کی ترغیب:*

شیطان کی اطاعت سے بچو، وہ گمراہ کن ہے، ابوالانبیاء ابرہیم علیہ السلام کی اتباع کرو، عورتوں کے حقوق ادا کرو، منافقین کے لیے سخت عذاب ہے۔

*خلاصہ قرآن پارہ نمبر 5*

چوتھے پارے کے آخر میں ان رشتوں کا ذکر ہے جن سے نکاح کرنا حرام ہے۔ پانچویں پارے کے آغاز میں سورہ النساء یہی مضمون چل رہا ہے اور اللہ نے نکاح کے لیے چنی جانے والی عورتوں کے اوصاف کا ذکر فرمایا ہے کہ نہ ان میں برائی کی علت ہونی چاہیے اور نہ غیر مردوں سے خفیہ مراسم پیدا کرنے کی بری عادت۔ اسی طرح انسان جب کسی عورت سے نکاح کا ارادہ کرے تو اسے عورت کے اہلِ خانہ کی اجازت سے یہ کام کرنا چاہیے۔
مومنوں کو نصیحت کی گئی ہے کہ ان کو باطل طریقے سے ایک دوسرے کا مال ہڑپ کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ باہمی رضا مندی سے ایک دوسرے کے ساتھ تجارت کیا کریں۔ نیز خدا نے اپنے بندوں کو خوشخبری بھی دی ہے کہ اگر وہ بڑے گناہوں سے بچ جائیں گے تو وہ ان کے چھوٹے گناہوں کو معاف فرما دے گا اور ان کو جنت میں داخل فرما دے گا۔

سماج کی بنیادی اکائی گھر ہے۔ اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے گھریلو سطح پر اختیارات کا تعین ان الفاظ میں فرمایا ہے کہ مرد عورتوں پر نگران کی حیثیت رکھتے ہیں اور اس لیے بھی کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ میاں بیوی میں ان بن ہو تو میاں اور بیوی دونوں کے خاندانوں سے منصف مقرر کرنے اور صلح کرانے کی ترغیب دی گئی ہے۔ نیز والدین، قریبی اعزہ و اقارب، یتیموں، مسکینوں، اور قریبی اور دور کے ہمسایوں سے حسنِ سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔
آگے ارشاد ہے کہ اے ایمان والو, نماز کے قریب نہ جاؤ جب کہ تم نشہ کی حالت میں ہو یہاں تک کہ تمھیں معلوم ہو جائے کہ کیا کہہ رہے ہو، اور جنابت کی حالت میں بھی نماز کے قریب مت جاؤ یہاں تک کہ غسل کرلو۔ نیز تیمم کے مسائل کا ذکر بھی اسی موقع پر کیا گیا ہے۔
اس کے بعد زبانیں مروڑ مروڑ کر خدا کے کلام میں الفاظ اور معانی بدلنے والے علما کا ذکر ہے اور ان پر لعنت کی گئی ہے۔ اللہ نے شرک کو سب سے بڑا گناہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خدا شرک کے علاوہ ہر گناہ کو معاف کر دے گا لیکن شرک کو کسی بھی طور پر معاف نہیں کرے گا۔ اس کے بعد حسد کی شدید مذمت کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ حسد کرنے والے لوگ درحقیقت اللہ کے فضل اور عطا سے حسد کرتے ہیں۔ پھر حضرت ابراہیم کی آل پر کیے جانے والے انعامات کا ذکر ہے کہ اللہ نے اپنے فضل سے ابراہیم کی آل کو نبوت اور حکومت سے نوازا تھا۔

اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ تمھیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے پاس پہنچا دو۔ امانتوں میں اللہ اور بندوں دونوں کی امانتیں شامل ہیں۔

اس پارے میں سماجی اور حکومتی نظام کے چلانے کا اسلامی طریقہ بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی اطاعت کرو اور اپنے میں سے اختیار والوں کی، اور پھر اگر کسی معاملے میں اختلاف ہو جائے تو اسے اللہ اور رسول کی طرف لوٹا دو.
اس کے بعد حضرت محمد علیہ السلام کی اطاعت کی اہمیت کا ذکر ہے کہ جو رسول اللہ کی اطاعت کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی اطاعت کرتا ہے۔ مزید ارشاد ہوا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں وہ قیامت کے دن نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صلحاء کے ہمراہ ہوں گے.

اس پارے میں تحفے اور سلام کے جواب کے آداب بھی بتلائے گئے ہیں کہ جب کوئی کسی کو سلام کہے یا تحفہ دے تو ایسی صورت میں بہتر تحفہ پلٹانا چاہیے اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو کم از کم اتنا جواب اور اتنا تحفہ ضرور دینا چاہیے جتنا وصول کیا گیا ہو۔
آگے دارالکفر میں رہنے والے مسلمانوں کا ذکر ہے کہ ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے فرائض اور واجبات کو احسن انداز میں ادا کریں لیکن اگر وہ ایسا نہ کرسکیں تو ان کو اس ملک سے ہجرت کر جانی چاہیے۔ اگر وہ ہمت اور استطاعت رکھنے کے باوجود ہجرت نہیں کرتے تو ان کو اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونا پڑے گا تاہم ایسے لوگ اور عورتیں جو معذوری اور بڑھاپے کی وجہ سے ہجرت سے قاصر ہوں تو اللہ ان سے مواخذہ نہیں کریں گے۔

اس پارے میں نماز کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ارشاد ہے کہ نماز حالتِ جہاد میں بھی معاف نہیں ہے تاہم جہاد اور سفر کے دوران نماز کو قصر کیا جا سکتا ہے۔ خوف اور جنگ کی حالت میں فوج کے ایک حصہ کو اپنی پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کو ادا کرنا چاہیے جب کہ ایک حصے کو نماز ادا کرنا چاہیے اور جونہی امن حاصل ہو جائے، نماز کو بروقت اور احسن انداز میں ادا کرنا چاہیے۔

آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والوں کی مذمت میں ارشاد ہے کہ جو کوئی ہدایت واضح ہو جانے کے بعد رسول اللہ کی مخالفت کرے گا خدا اس کا رخ اس کی مرضی کے راستے کی طرف موڑ دے گا اور اس کا ٹھکانہ جہنم کی آگ ہے جو بہت برا ٹھکانہ ہے۔

منافقین کے بارے میں ارشاد ہے کہ یہ لوگ اپنی چالوں سے خدا کو دھوکہ دیتے ہیں۔ یہ اس کو کیا دھوکہ دیں گے کیونکہ خدا خود انھیں دھوکے میں ڈالنے والا ہے۔ یہ جب نماز کو کھڑے ہوتے ہیں تو سست اور کاہل ہوکر صرف لوگوں کو دکھانے کے لیے، اور خدا کو یاد ہی نہیں کرتے مگر بہت کم۔ یہ لوگ بیچ میں پڑے لٹک رہے ہیں، نہ ان کی طرف ہوتے ہیں نہ ان کی طرف۔ جس کو خدا بھٹکا دے تو تم اس کے لیے کبھی رستہ نہ پاؤ گے۔ اور ایمان والوں سے ارشاد ہے کہ تم اپنے سوا کافروں کو دوست نہ بناؤ۔ ارشاد ہے کہ منافق لوگ آگ کے سب سے نچلے درجے میں ہوں گے۔
اس پارے کے آخر میں خدا نے اپنی رحمت کے بارے میں اپنے بندوں کو بتایا ہے کہ اگر لوگ اللہ کی ذات پر ایمان لے آئیں اور اس کی نعمتوں کا شکریہ ادا کریں تو اللہ کو انھیں عذاب دینے کی کیا ضرورت ہے؟

اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄

خلاصہ پارہ نمبر 4

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*چوتھا پارہ​*

https://drive.google.com/file/d/1-FMQdp0Xcr0nB0kPnRxmKAgJ1Fr7mLZF/view?usp=drivesdk

اس پارے میں دو حصے ہیں:​

۱۔ بقیہ سورۂ آل عمران

۲۔ ابتدائے سورۂ نساء

*(پہلا حصہ) سورۂ آل عمران کے بقیہ حصے میں پانچ باتیں ہیں:​*

1۔ خانہ کعبہ کے فضائل

2۔ باہمی جوڑ

3۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر

4۔ تین غزوے

5۔ کامیابی کے چار اصول



*1۔ خانہ کعبہ کے فضائل:*

یہ سب سے پہلی عبادت گاہ ہے اور اس میں واضح نشانیاں ہیں جیسے: مقام ابراہیم۔ جو حرم میں داخل ہوجائے اسے امن حاصل ہوجاتا ہے۔ 

*2۔ باہمی جوڑ:*

اللہ تعالیٰ کی رسی کو مضبوطی سے تھامو۔

*3۔ امر بالمعروف اور نہی عن النکر:*

یہ بہترین امت ہے کہ لوگوں کی نفع رسانی کے لیے نکالی گئی ہے، بھلائی کا حکم کرتی ہے، برائی سے روکتی ہے اور اللہ پر ایمان رکھتی ہے۔

*4۔ تین غزوے:*

۱۔غزوۂ بدر ۲۔غزوۂ حد ۳۔غزوۂ حمراء الاسد

*5۔ کامیابی کے چار اصول:*

۱۔صبر ۲۔مصابرہ ۳۔مرابطہ ۴۔تقوی

(دوسرا حصہ) سورۂ نساء کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:​

*1۔ یتیموں کا حق:* (ان کو ان کا مال حوالے کردیا جائے۔)

*2۔ تعدد ازواج:* (ایک مرد بیک وقت چار نکاح کرسکتے ہیں بشرط ادائیگیٔ حقوق۔)

*3۔ میراث:* (اولاد ، ماں باپ ، بیوی ، کلالہ کے حصے بیان ہوئے اس قید کے ساتھ کہ پہلی وصیت ادا کردی جائے۔)

*4۔ محرم عورتیں:* (مائیں، بیٹیاں، بہنیں، پھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں، رضاعی مائیں، رضاعی بہنیں، ساس، سوتیلی بیٹیاں، بہویں۔)

*خلاصہ پارہ نمبر 4*

چوتھے پارے کا آغاز خدا کے لیے خرچ کرنے کی ترغیب سے ہوتا ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں ارشاد ہے کہ تم اس وقت تک بھلائی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک اس چیز کو خرچ نہ کرو جو تمھیں محبوب ہے اور جو کچھ تم خرچ کرتے ہو خدا اس سے خوب واقف ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے پہلا گھر مکہ مکرمہ میں تعمیر کیا گیا تھا اور ہر صاحبِ استطاعت مسلمان پر اس گھر کا حج کرنا فرض ہے۔ ارشاد ہے کہ جو بھی اس گھر میں دپارہاخل ہوتا ہے اس کو امن حاصل ہو جاتا ہے۔ نیز یہ بھی ذکر کیا گیا ہے کہ اگر اہلِ ایمان اہلِ کتاب کے کسی گروہ کی اطاعت اختیار کریں گے تو وہ ان کو ایمان لانے کے بعد کافر بنا دیں گے۔

ارشاد ہوا کہ جس نے خدا کی ہدایت کی رسی کو مضبوط پکڑا وہ سیدھے راستے پر لگ گیا۔ اے مومنو، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور مرنا تو مسلمان ہی مرنا۔ اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رہو اور تفرقے میں نہ پڑو۔ اللہ کی رسی سے مراد وحیِ غیر محرف یعنی قرآن مجید ہے۔ اگر مسلمان مضبوطی کے ساتھ قرآن کو تھام لیں تو ان کے باہمی اختلافات بآسانی دور ہو سکتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ قیامت کے دن اہلِ ایمان کے چہرے سفید اور ایمان کو ٹھکرانے والوں کے چہرے سیاہ ہوں گے۔ سفید چہروں والے خدا کی رحمتوں کے مستحق ٹھہریں گے جب کہ سیاہ چہروں والے اپنے کفر کی وجہ سے شدید عذاب سے دوچار ہوں گے۔

ارشاد ہے کہ تم میں ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جو لوگوں کو نیکی کی طرف بلائے اور اچھے کام کرنے کو کہا کرے اور برے کاموں سے رکنے کو کہا کرے۔ یہی لوگ نجات پانے والے ہیں۔ جتنی بھی قومیں تم لوگوں میں پیدا ہوئیں، اے مومنو تم ان سب سے بہتر ہو کہ نیک کام کرنے کو کہتے ہو اور برے کاموں سے منع کرتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ اگر اہلِ کتاب بھی ایمان لے آتے تو یہ ان کے لیے اچھا ہوتا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ہم صحیح معنوں میں بہترین امت بننا چاہتے ہیں تو ہمیں امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو بطورِ کارِ منصبی اپنی زندگی کا ایک شعبہ بنانا چاہیے۔

ارشاد ہے کہ جب مسلمانوں کو کوئی تکلیف آئے تو کافر خوش ہوتے ہیں اور جب ان کو کوئی خوشی حاصل ہو تو کافر غیظ و غضب میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اگر مسلمان صبر اور تقویٰ کا راستہ اختیار کریں تو کافروں کی کوئی خوشی اور ناراضی مسلمانوں کو گزند نہیں پہنچا سکتی۔
اس سورۃ میں غزوۂ بدر کا بھی ذکر ہے۔ خدا نے اپنے رسول سے وعدہ کیا تھا کہ مسلمانوں کی نصرت کے لیے تین ہزار فرشتوں کو اتارے گا اور یہ بھی ارشاد فرمایا کہ اگر کافر مسلمانوں تک رسائی حاصل کر لیں اور مسلمان صبر و استقامت سے ان کا مقابلہ کریں تو خدا پانچ ہزار فرشتوں کو مسلمانوں کی مدد کے لیے اتارے گا۔ ساتھ ہی یہ بھی فرمایا کہ فرشتوں کی مدد تو ایک خوشخبری ہے وگرنہ اصل میں تو مدد کرنے والا خدا بذاتِ خود ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اے ایمان والو، سود در سود کھانے سے اجتناب کرو۔

اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو جنت کی طرف تیزی سے بڑھنے کی تلقین کی ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ جنت کی چوڑائی زمین اور آسمان کے برابر ہے۔ پھر جنتی مومنوں کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب ان سے صغیرہ یا کبیرہ گناہ کا ارتکاب ہو جاتا ہے تو انھیں خدا کا خوف دامن گیر ہو جاتا ہے اور وہ خدا سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں، اور خدا کے سوا کون ہے جو گناہوں کو معاف کر سکے۔

غزوۂ احد میں مسلمانوں کو کفار کے ہاتھوں سے بہت نقصان اٹھانا پڑا جس کی وجہ سے مسلمان بہت دکھی تھے۔ اللہ نے مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہا کہ اگر تمھیں زخم لگا ہے تو تمھاری طرح تمھارے دشمنوں کو بھی زخم لگا ہے۔ ارشاد ہوا کہ ایام کو ہم لوگوں کے درمیان بدلتے رہتے ہیں۔ اس ذریعے سے خدا مومنوں کو بھی جانچ لیتا ہے اور کئی لوگوں کو شہادت کا منصب بھی عطا فرما دیتا ہے۔ ارشاد ہوا کہ تم لوگ اہلِ کتاب اور مشرکین سے بہت سی ایذا رسانی کی باتیں سنو گے لیکن تمھیں دل گرفتہ نہیں ہونا اور صبر و تقویٰ اختیار کرنا ہے۔ بے شک یہ بہت بڑا کام ہے۔
سورۃ آلِ عمران کے آخری حصے میں ارشاد ہے کہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے جانے میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں جو کھڑے بیٹھے اور لیٹے یعنی ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں غور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اے پروردگار تو نے یہ سب بے فائدہ پیدا نہیں کیا۔ مزید ارشاد ہے کہ عمل کرنے والا مرد ہو یا عورت، میں اس کے عمل کو ضائع نہیں کرتا۔ تم کفار کے مقابلے میں ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور مورچوں پر جمے رہو، اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔

سورۃ آلِ عمران کے بعد سورۃ النساء ہے۔ اس کے شروع میں انسانوں کو یہ بات سمجھائی گئی ہے کہ ذات پات اور برادری وجہ عزت نہیں اس لیے کہ تمام انسانوں کی اصل ایک ہے۔ انھیں اپنے پروردگار سے ڈرنا چاہیے جو کہ ان کا پروردگار ہے اور اس نے ان کو ایک نفس سے پیدا کیا اور اس سے اس کا جوڑا بنایا اور پھر ان دونوں سے کثیر تعداد میں مردوں اور عورتوں کو پیدا کرکے روئے زمین پر پھیلا دیا۔
ارشاد ہوا کہ یتیموں کا مال جو تمھاری تحویل میں ہو ان کے حوالے کرو اور ان کے پاکیزہ عمدہ مال کو اپنے ردی مال سے نہ بدلو اور نہ ان کا مال اپنے مال میں ملا کر کھاؤ۔ اور اگر تمھیں اس بات کا خوف ہو کہ یتیم لڑکیوں کے بارے میں انصاف نہ کر سکو گے تو جو عورتیں تمھیں پسند ہوں، دو دو تین تین یا چار چار، ان سے نکاح کرلو، اور اگر تمھیں اس بات کا اندیشہ ہو کہ سب عورتوں سے یکساں سلوک نہ کر سکو گے تو ایک عورت کافی ہے یا لونڈی جس کے تم مالک ہو۔ اور عورتوں کو ان کے مہر خوشی سے دے دیا کرو۔

اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ نے یتیموں کے مال کے بارے میں کئی باتیں ارشاد فرمانے کے بعد وراثت کے مسائل کو بھی بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے اور جائیداد میں بیٹوں کا بیٹیوں کے مقابلے میں دو گنا حصہ رکھا ہے۔ اگر کسی کی صرف بیٹیاں ہوں تو اس صورت میں وہ دو تہائی جائیداد کی مالک ہوں گی اور اگر صرف ایک بیٹی ہو تو وہ نصف جائیداد کی مالک ہوگی۔ شوہر اپنی بیوی کی جائیداد میں ایک چوتھائی حصے کا مالک ہوگا جب کہ بیوی اپنے شوہر کی جائیداد میں آٹھویں حصے کی مالک ہوگی۔ والد اور والدہ کا اپنے بیٹے کی جائیداد میں چھٹا حصہ ہوگا۔ اسی طرح بے اولاد شخص کی جائیداد اس کے بہن بھائیوں میں تقسیم ہوگی۔ جائیداد کی تقسیم سے قبل واجب الادا قرض کو ادا کرنا چاہیے۔ یہ تمام احکام خدا کی قائم کردہ حدیں ہیں۔
اس کے بعد غیرت کے نام پر قتل (Honour-Killing) کے بارے میں خدا کا حکم ذکر ہوا ہے۔ ارشاد ہے کہ اے مسلمانو، تمھاری عورتوں میں جو بدکاری کا ارتکاب کر بیٹھیں ان پر اپنے لوگوں میں سے چار شخصوں کی گواہی لو۔ اگر وہ ان کی بدکاری کی گواہی دیں تو ان عورتوں کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ موت ان کا کام تمام کر دے یا اللہ ان کے لیے کوئی اور سبیل پیدا کرے۔ اس کے علاوہ نکاح کے کئی مسائل ان آیات میں بیان کیے گئے ہیں اور ان رشتوں کا تفصیلی ذکر ہے جن سے نکاح حرام ہے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں قرانِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین


┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄

پیر، 11 مارچ، 2024

خلاصہ پارہ نمبر 3

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
تیسرا پارہ​

https://drive.google.com/file/d/1zZ2nKBY8FikCltylU7G07PaBZpbrBpgW/view?usp=drivesdk
MP3 پارہ 3
https://drive.google.com/file/d/1PofjpFlw7nV3q59Ssc6NKKLx_jnkbJT_/view?usp=drivesdk
اس پارے میں دو حصے ہیں:

1۔بقیہ سورۂ بقرہ

2۔ابتدائے سورۂ آل عمران

(پہلا حصہ) سورۂ بقرہ کے بقیہ حصے میں تین باتیں ہیں:

۱۔دو بڑی آیتیں ۲۔دو نبیوں کا ذکر ۳۔صدقہ اور سود
۱۔ دو بڑی آیتیں:

ایک ”آیت الکرسی“ ہے جو فضیلت میں سب سے بڑی ہے، اس میں سترہ مرتبہ اللہ تعالیٰ کا ذکر ہے۔

دوسری ”آیتِ مداینہ“ جو مقدار میں سب سے بڑی ہے اس میں تجارت اور قرض مذکور ہے۔
۲۔ دو نبیوں کا ذکر:
ایک حضرت ابراہیم علیہ السلام کا نمرود سے مباحثہ اور احیائے موتٰی کے مشاہدے کی دعاء۔
دوسرے عزیر علیہ السلام جنھیں اللہ تعالیٰ نے سوسال تک موت دے کر پھر زندہ کیا۔
۳۔ صدقہ اور سود:
بظاہر صدقے سے مال کم ہوتا ہے اور سود سے بڑھتا ہے، مگر در حقیقت صدقے سے بڑھتا ہے اور سود سے گھٹتا ہے۔
(دوسرا حصہ) سورۂ آل عمران کا جو ابتدائی حصہ اس پارے میں ہے اس میں چار باتیں ہیں:

1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت

2۔اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے

3۔اہل کتاب سے مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ

4۔ انبیائے سابقین سے عہد
1۔ سورۂ بقرہ سے مناسبت
مناسبت یہ ہے کہ دونوں سورتوں میں قرآن کی حقانیت اور اہل کتاب سے خطاب ہے۔ سورۂ بقرہ میں اکثر خطاب یہود سے ہے جبکہ آل عمران میں اکثر روئے سخن نصاری کی طرف ہے۔

2۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کے چار قصے:

پہلا قصہ جنگ بدر کا ہے، تین سو تیرہ نے ایک ہزار کو شکست دے دی۔

دوسرا قصہ حضرت مریم علیہ السلام کے پاس بے موسم پھل کے پائے جانے کا ہے۔

تیسرا قصہ حضرت زکریا علیہ السلام کو بڑھاپے میں اولاد عطا ہونے کا ہے۔

چوتھا قصہ حضرت عیسی علیہ السلام کا بغیر باپ کے پیدا ہونے، بچپن میں بولنے اور زندہ آسمان پر اٹھائے جانے کا ہے۔
۔ مناظرہ ، مباہلہ اور مفاہمہ:

اہل کتاب سے مناظرہ ہوا، پھر مباہلہ ہوا کہ تم اپنے اہل و عیال کو لاؤ، میں اپنے اہل و عیال کو لاتا ہوں، پھر مل کر خشوع و خضوع سے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہیں کہ ہم میں سے جو جھوٹا ہے اس پر خدا کہ لعنت ہو، وہ تیار نہ ہوئے تو پھر مفاہمہ ہوا، یعنی ایسی بات کی دعوت دی گئی جو سب کو تسلیم ہو اور وہ ہے کلمۂ ”لا الہ الا اللہ“۔

4۔ انبیائے سابقین سے عہد:

انبیائے سابقین سے عہد لیا گیا کہ جب آخری نبی آئے تو تم اس کی بات مانو گے، اس پر ایمان لاؤ گے اور اگر تمھارے بعد آئے تو تمھاری امتیں اس پر ایمان لائیں۔
خلاصہ پارہ نمبر 3
سورہ بقرہ میں تیسرا پارہ اس اظہاریے سے شروع ہوتا ہے کہ خدا کے بھیجے ہوئے رسولوں میں سے کچھ کو کچھ پر فضیلت حاصل ہے، ان میں سے بعض نے خدائے پاک کے ساتھ کلام کیا اور بعض کے مرتبے دوسرے امور میں بلند فرمائے گئے۔ ارشاد ہوا کہ اے ایمان والو، جو کچھ ہم نے تم کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرو مبادا وہ دن آ جائے جس میں نہ اعمال کا سودا ہو سکے گا اور نہ سفارش اور دوستی کام آئے گی۔

اس کے بعد آیت الکرسی ہے جس میں خدا نے اپنی خاص صفات کو ذکر کیا ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے اور اسے نہ اونگھ آتی ہے نہ نیند۔ اس کے بعد ارشاد ہوتا ہے کہ دین میں کوئی جبر نہیں ہے۔ ہدایت گمراہی سے الگ ہو چکی ہے۔ جو بھی شخص طاغوت کا انکار کرتا اور خدا پر ایمان لے آتا ہے وہ ایک ایسی مضبوط رسی کو تھام لیتا ہے جو کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔ جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کا دوست اللہ ہے، کہ اندھیرے سے نکال کر روشنی میں لے جاتا ہے۔ اور جو کافر ہیں ان کے دوست شیطان ہیں کہ ان کو روشنی سے نکال کر اندھیرے میں لے جاتے ہیں۔
اس پارے میں کئی اہم واقعات بیان ہوئے ہیں۔ پہلا واقعہ حضرت ابراہیم کا حاکمِ وقت کے ساتھ خدا کی قدرتوں کے بارے میں مناظرے کا ہے۔ حضرت ابراہیم نے کہا کہ میرا رب زندہ بھی کرتا ہے اور مارتا بھی ہے۔ جواب میں اس نے کہا کہ میں بھی مارتا ہوں اور زندہ کرتا ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے ایک مجرم کو آزاد کر دیا اور ایک بے گناہ کو مروا دیا۔ اس پر حضرت ابراہیم نے کہا کہ میرا رب وہ ہے جو سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، پس تم اس کو مغرب سے نکال کر لاؤ۔ یہ مطالبہ سن کر کفر مبہوت رہ گیا۔
اس کے بعد حضرت عزیر اور حضرت ابراہیم کے واقعات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ نبیوں کی وساطت سے انسانوں کو یہ بات سمجھاتا ہے کہ اس کے لیے قیامت کے دن مردوں کو زندہ کرنا چنداں مشکل نہیں ہے اور جب وہ قبروں میں پڑے انسانوں کو زندہ ہونے کا حکم دے گا تو مردے بالکل صحیح سالم میں اٹھ کھڑے ہوں گے۔ حضرت عزیر کا واقعہ ہے کہ وہ ایک اجڑی بستی کے پاس سے گزرے اور بولے کہ یہ بستی کیونکر دوبارہ زندہ ہوگی۔ خدا نے عزیر کو سو برس کے لیے سلا دیا اور پھر ان کو دوبارہ زندہ کر دیا اور پوچھا کہ تم کتنا عرصہ مرے یعنی سوئے رہے، تو انھوں نے کہا کہ ایک دن یا اس سے بھی کم۔ ارشاد ہوا کہ نہیں بلکہ سو برس مرے رہے ہو، اور اپنے کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھو کہ اس عرصے میں خراب نہیں ہوئی ہیں اور اپنے گدھے کو دیکھو کہ مرا پڑا ہے۔ یوں اللہ نے ان کو اپنی قدرت دکھائی کہ ان کے مرے ہوئے گدھے کی ہڈیوں کو جوڑا اور ان پر گوشت اور پوست چڑھا دیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم کا واقعہ بیان کیا ہے کہ کس طرح چار مردہ پرندوں کے چار پہاڑوں پر رکھے گوشت کو دوبارہ زندہ پرندوں میں تبدیل کر دیا۔
اس کے بعد انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت کا ذکر ہے کہ خدا اپنے راستے میں خرچ کیے گئے مال کو سات سو گنا کر کے پلٹائے گا اور کئی لوگوں کو اس سے بھی زیادہ بدلہ ملے گا۔ آگے سود کی مذمت کی گئی ہے اور ارشاد ہے کہ جو لوگ سود کھانے سے باز نہیں آتے ان کا اللہ اور اس کے رسول کے خلاف اعلانِ جنگ ہے۔
نیز یہ شاندار سماجی اور معاشی اصول ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر قرض لینے والا تنگ دست ہو تو اسے کشائش حاصل ہونے تک مہلت دو۔ ارشاد ہے کہ اگر تم آپس میں کسی معیّن میعاد کے لیے قرض کا معاملہ کرنے لگو تو اس کو لکھ لیا کرو، اور بڑی تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ قرض لینے والا بے عقل یا ضعیف ہو تو لکھنے والا کسی کا نقصان نہ کرے بلکہ انصاف سے لکھے۔ ارشاد ہے کہ ایسے معاملے میں دو مرد گواہ کر لیا کرو، اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں، کہ ان میں سے ایک اگر بھول جائے تو دوسری اسے یاد کرا دے۔ یہ نصیحت بھی کی گئی ہے کہ قرض تھوڑا ہو یا بہت، اس کی دستاویز لکھنے لکھانے میں کاہلی نہ کرنا۔
آخرِ سورت میں ارشاد ہے کہ خدا کسی کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ جو اچھا کرے گا فائدہ پائے گا، اور جو برا کرے گا نقصان اٹھائے گا۔
سورہ بقرہ کے بعد سورہ آلِ عمران ہے۔ اس کے شروع میں ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے جو کہ سابقہ کتابوں کی تصدیق کرتا ہے اور اس سے قبل اس نے تورات اور انجیل کو نازل فرمایا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ خدا رحمِ مادر میں انسانوں کو جس طرح کی چاہتا ہے صورت عطا فرما دیتا ہے۔
ارشاد ہے کہ قرآنِ مجید میں دو طرح کی آیات ہیں: محکم اور متشابہات۔ فرمایا کہ محکم آیات کتاب کی اصل ہیں اور متشابہات کی تاویل کا علم صرف اللہ کے پاس ہے۔ جن لوگوں کے دلوں میں مرض ہوتا ہے وہ متشابہات کی تاویل کے پیچھے بھاگتے رہتے ہیں اور اہلِ ایمان کہتے ہیں کہ جو کچھ بھی ہمارے رب نے اتارا ہے ہمارا اس پر کامل ایمان ہے۔
ارشاد ہے کہ اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ اس لیے جو آخرت کی فلاح و بہبود کا خواہشمند ہو اس کو اسلام کا راستہ اختیار کرنا ہوگا۔ ارشاد ہے کہ بادشاہی کا مالک اللہ ہے جو جسے چاہتا ہے بادشاہی عطا فرما دیتا ہے اور جس سے چاہتا ہے بادشاہی چھین لیتا ہے۔ وہ جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلیل کرے۔ وہی رات کو دن میں داخل کرتا اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے۔ وہی بے جان سے جاندار اور جاندار سے بے جان پیدا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ ارشاد ہے کہ مومنوں کو چاہیے کہ مومنوں کے سوا کافروں کو دوست نہ بنائیں۔
اس سورت میں اللہ تعالیٰ نے جنابِ عمران کی اہلیہ کا ذکر کیا ہے کہ انھوں نے منت مانی کہ وہ اپنے نوزائیدہ بچے کو خدا کے لیے وقف کریں گی لیکن بچے کے بجائے بچی پیدا ہوئی۔ اس خاتون نےاپنی منت کو بچی ہونے کے باوجود پورا کیا اور بچی کا نام مریم رکھ کر آپ کو جنابِ زکریا کی کفالت میں دے دیا۔ بارگاہِ الٰہی سے آپ کے لیے یہ کرامت بھی ظاہر ہوئی کہ آپ کے پاس بے موسم کے پھل آنے لگے۔ حضرت زکریا نے مریم سے پوچھا کہ آپ کے پاس یہ بے موسم پھل کہاں سے آتے ہیں تو انھوں نے کہا کہ اللہ کی طرف سے۔
اس کے بعد جنابِ مریم صدیقہ کے ہاں سیدنا عیسیٰ کی معجزاتی ولادت کا ذکر کیا گیا ہے۔ سیدہ مریم کا دل اس بات کو قبول نہیں کر رہا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کو بن شوہر کے ایک بیٹا عطا کیا جو اللہ کے حکم سے کوڑھ اور برص کے مریضوں پر ہاتھ پھیرتا تو وہ شفایاب ہو جاتے۔ حضرت عیسیٰ کی معجزاتی پیدائش کی وجہ سے عیسائی ان کو خدا کا بیٹا قرار دینے لگے۔اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بے شک عیسیٰ کی مثال اللہ کے نزدیک آدم جیسی ہے جن کو اللہ نے بن باپ اور بن ماں کے مٹی سے پیدا کیا اور کہا ہوجا تو وہ ہوگئے۔
یہودی حضرت عیسیٰ کی جان کے درپے تھے اور ان کے قتل کی چال چل رہے تھے۔ اللہ نے بھی عیسیٰ کو بچانے کے لیے چال چلی اور اللہ بہترین چال چلنے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ اے عیسیٰ، میں تمھیں موت دوں گا اور اپنی طرف اٹھا لوں گا اور کفار آپ کا بال بھی بیکا نہیں کر سکیں گے۔
اس کے بعد ذکر ہے کہ جو لوگ اللہ کے اقراروں اور اپنی قسموں کو بیچ ڈالتے ہیں اور ان کے عوض تھوڑی سی قیمت حاصل کرتے ہیں ان کا آخرت میں کچھ بھی حصہ نہیں۔
اس سورت میں دین فروش علمائے سُوء کا بھی ذکر ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اہلِ کتاب میں سے بعض ایسے ہیں کہ کتاب یعنی تورات کو زبان مروڑ مروڑ کر پڑھتے ہیں تاکہ تم سمجھو کہ جو کچھ وہ پڑھتے ہیں وہ کتاب میں سے ہے حالانکہ وہ کتاب میں سے نہیں ہوتا، اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے حالانکہ وہ اللہ کی طرف سے نہیں ہوتا بلکہ یہ لوگ جانتے بوجھتے ہوئے اللہ پر جھوٹ باندھتے ہیں
اس کے بعد ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عالمِ ارواح میں انبیا کی روحوں سے اس بات کا عہد لیا تھا کہ اگر ان کی زندگی میں حضرت محمد علیہ السلام آ جائیں تو ان پر ایمان لانا اور ان کی حمایت کرنا گروہِ انبیا پر لازم ہوگا۔ آگے ارشاد ہے کہ کفر پر مرنے والے اگر زمین کی مقدار کے برابر سونا بھی لے کر آئیں تو اللہ تعالیٰ اس سونے کے بدلے انھیں معاف نہیں کرے گا اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہوگا۔
دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیں قرانِ مجید پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق دے۔ آمین
┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄
*نداۓ ملت*

اتوار، 10 مارچ، 2024

خلاصہ پارہ نمبر 2

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*دوسرا پارہ​*
https://drive.google.com/file/d/1zZ2nKBY8FikCltylU7G07PaBZpbrBpgW/view?usp=drivesdk

اس پارے میں چار باتیں ہیں:

1۔تحویل قبلہ

2۔آیت بر اور ابوابِ بر

3۔قصۂ طاعون

4۔قصۂ طالوت

*1۔تحویل قبلہ:*
ہجرت مدینہ کے بعد سولہ یا سترہ ماہ تک بیت المقدس قبلہ رہا ، آپ ﷺ کی چاہت تھی کہ خانہ کعبہ قبلہ ہو، اللہ تعالیٰ نے آرزو پوری کی اور قبلہ تبدیل ہوگیا۔
*2۔آیتِ بر اور ابوابِ بر:*

لَّيْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّوا وُجُوهَكُمْ ۔۔۔۔ (البقرۃ:۱۷۷) یہ آیتِ بر کہلاتی ہے، اس میں تمام احکامات عقائد، عبادات، معاملات، معاشرت اور اخلاق اجمالی طور پر مذکور ہیں، آگے ابواب البر میں تفصیلی طور پر ہیں:

۱۔صفا مروہ کی سعی ۲۔مردار، خون، خنزیرکا گوشت اور جو غیر اللہ تعالیٰ کے نامزد ہو ان کی حرمت ۳۔قصاص ۴۔وصیت ۵۔روزے ۶۔اعتکاف ۷۔حرام کمائی ۸۔قمری تاریخ ۹۔جہاد ۱۰۔حج ۱۱۔انفاق فی سبیل اللہ تعالیٰ ۱۲۔ہجرت ۱۳۔شراب اور جوا ۱۴۔مشرکین سے نکاح ۱۵۔حیض میں جماع ۱۶۔ایلاء ۱۷۔طلاق ۱۸۔عدت ۱۹۔رضاعت ۲۰۔مہر ۲۱۔حلالہ ۲۲۔معتدہ سے پیغامِ نکاح۔
*3۔قصۂ طاعون:*
کچھ لوگوں پر طاعون کی بیماری آئی، وہ موت کے خوف سے دوسرے شہر چلے گئے، اللہ تعالیٰ نے (دو فرشتوں کو بھیج کر) انھیں موت دی (تاکہ انسانوں کو پتا چل جائے کہ کوئی موت سے بھاگ نہیں سکتا) کچھ عرصے بعد اللہ نے (ایک نبی کے دعا مانگنے پر) انھیں دوبارہ زندگی دے دی۔
*4۔قصۂ طالوت:*
طالوت کے لشکر نے جالوت کے لشکر کو باوجود کم ہونے کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے شکست دے دی۔
*خلاصہ پارہ نمبر # 2*
دوسرے پارے کے آغاز میں سورہ البقرۃ میں اللہ تعالیٰ نے قبلے کی تبدیلی کا ذکر فرمایا ہے۔ مسلمانوں پر جب اللہ نے نماز کو فرض کیا تو ابتدائی طور پر مسلمان بیت المقدس کی طرف رخ کرکے نماز ادا کرتے تھے۔ حضرت محمد علیہ السلام کی یہ دلی تمنا تھی کہ اللہ تعالیٰ قبلے کو تبدیل کرکے بیت الحرام کو قبلہ بنا دے۔ چنانچہ بیت الحرام کو قبلہ بنا دیا گیا۔ اس پر بعض کم عقل لوگوں نے تنقید کی کہ جس طرح قبلہ تبدیل ہوا ہے، مذہب بھی تبدیل ہو جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ قبلے کی تبدیلی کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ دیکھنا چاہتا ہے کہ کون حضرت محمد کا سچا پیروکار ہے اور کون ہے جو اپنے قدموں پر پھر جانے والا ہے۔ وگرنہ جہتیں تو ساری اللہ تعالیٰ کی بنائی ہوئی ہیں۔ مشرق و مغرب اللہ کے لیے ہیں اور وہ جس کو چاہتا ہے صراطِ مستقیم پر چلا دیتا ہے۔
اس پارے میں اللہ تعالیٰ نے اس بات کا بھی ذکر کیا ہے کہ اہلِ کتاب کے پختہ علم والے لوگ پیغمبر علیہ السلام کو اس طرح پہچانتے تھے جس طرح باپ اپنے بیٹوں کو پہچانتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان کا ایک گروہ جانتے بوجھتے ہوئے حق کو چھپاتا ہے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ اس کے بندوں کو اس کا ذکر کرنا چاہیے۔ ارشاد ہوا: “تم میرا ذکر کرو میں تمھارا ذکر کروں گا۔”
اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں سے مخاطب ہو کر کہتا ہے: اے ایمان والو! صبر اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ بے شک اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ خدا کی تائید و نصرت صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوتی ہے۔ ارشاد ہے کہ شہید مرتا نہیں بلکہ زندہ ہوتا ہے مگر تم اس کی حیات کا شعور نہیں رکھتے۔ اگر کوئی مصیبت آئے تو کہو کہ بے شک ہم اللہ کی طرف ہیں اور اللہ ہی کی طرف لوٹ کر جائیں گے۔ اس کے بعد ارشاد ہے کہ صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، پس جو کوئی بھی حج اور عمرہ کرے اس کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی ضرور کرنی چاہیے۔ اس کے بعد ان لوگوں کا ذکر ہے جو خدا کے احکامات اور اس کی آیات کو چھپاتے ہیں۔ ارشاد ہے کہ ایسے لوگوں پر اللہ کی اور لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو، یعنی ایسے لوگ اللہ کی رحمت سے محروم رہیں گے۔
اس کے بعد ارشاد ہے کہ نیکی یہ نہیں ہے کہ تم عبادت کے لیے مشرق کی طرف رخ کرتے ہو یا مغرب کی طرف بلکہ حقیقی نیکی یہ ہے کہ انسان کا اللہ تعالیٰ کی ذات، یومِ حساب، تمام انبیا اور ملائکہ پر پختہ ایمان ہو اور وہ اللہ کی رضا کے لیے اپنے مال کو خرچ کرنے والا ہو، نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ صحیح طریقے سے ادا کرنے والا ہو، وعدوں کو پورا کرنے والا ہو اور تنگی اور کشادگی دونوں حالتوں میں صبر کرنے والا ہو۔ جس میں یہ تمام اوصاف ہوں گے وہی حقیقی متقی ہے۔
اس کے بعد قانونِ قصاص و دیت کا ذکر ہے۔ ارشاد ہے کہ آزاد کے بدلے آزاد، غلام کے بدلے غلام، عورت کے بدلے عورت کو قتل کیا جائے گا تاہم اگر کوئی اپنے بھائی کو دیت دے کر معاف کر دیتا ہے تو یہ خدا کی طرف سے رخصت ہے لیکن زندگی بہرحال قصاص لینے میں ہی ہے۔
اس کے بعد رمضان المبارک کے روزوں کی فرضیت کا ذکر ہے اور ارشاد ہے کہ قرآنِ کریم کو رمضان کے مہینے میں اتارا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے مسافروں اور مریضوں کو رخصت دی ہے کہ اگر وہ رمضان کے روزے نہ رکھ سکیں تو بعد میں کسی وقت قضا روزے پورے کر سکتے ہیں، اور جن میں قضا کی استعداد نہ ہو وہ فدیے میں مسکین کو کھانا کھلا دیا کریں۔ روزوں کے بارے میں بطورِ قاعدہ یہ بات بتائی گئی ہے کہ خدا تمھارے حق میں آسانی چاہتا ہے اور سختی نہیں چاہتا۔ نیز رمضان کی راتوں میں بیویوں کے پاس جانا جائز کر دیا گیا کیونکہ لوگ اس سلسلے میں خیانت کیا کرتے تھے، اور ارشاد ہوا کہ عورتیں تمھاری پوشاک ہیں اور تم ان کی پوشاک ہو یعنی مرد و عورت ایک دوسرے کی زینت بھی ہیں اور ضرورت بھی۔ نیز ارشاد ہوا کہ سحری کا وقت تب تک ہے جب تک تم کالے اور سفید دھاگے میں تمیز کر سکو۔
اس کے بعد چاند کے گھٹنے بڑھنے کی غرض و غایت بتائی گئی ہے کہ اس کے ذریعے اوقات اور حج کے ایام کا تعین ہوتا ہے۔ پھر قتال کی فرضیت کے آداب و احکام ذکر کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد حج کے آداب کا ذکر ہے کہ حج میں بے حیائی اور لڑائی جھگڑے والی کوئی بات نہ ہو۔ ارشاد ہوا کہ حاجی کو زادِ راہ کی ضرورت ہے اور سب سے بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔
اس کے بعد دعا مانگنے کا طریقہ بتایا گیا۔ ارشاد ہوا کہ بعض لوگ دعا مانگتے ہیں کہ خدا ہمیں دنیا میں بہترین دے جب کہ بعض لوگ جو ان کے مقابلے میں بہتر دعا مانگتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اے پروردگار ہمیں دنیا میں بھی بہترین دے اور آخرت میں بھی بہترین دے اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا۔
اس کے بعد سابقہ امتوں کے ان لوگوں کا ذکر ہوا ہے جن کو ایمان لانے کے بعد تکالیف، مصائب اور زلزلوں کو برداشت کرنا پڑا۔ خدا تعالیٰ نے اہلِ ایمان کو سابقہ امتوں کی تکالیف سے اس لیے آگاہ فرمایا کہ ان کے دلوں میں یہ بات راسخ ہو جائے کہ جنت میں جانا آسان نہیں بلکہ اس کے لیے تکالیف اور آزمائشوں کو برداشت کرنا پڑے گا۔ اس کے بعد دین سے پھر جانے کے وبال کا ذکر ہے کہ جو شخص اپنے دین سے منحرف ہو جائے گا اور کفر کی حالت میں مرے گا تو اس کے اعمال ضائع کر دیے جائیں گے۔
اس کے بعد شراب اور جوئے کے بارے میں ذکر ہے کہ گو ان میں بعض چیزیں فائدے کی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں اس لیے لوگوں کو ان سے اجتناب کرنا چاہیے۔
اس کے بعد ناپاکی کے ایام میں عورتوں سے اجتناب کا حکم دیا گی اور طلاق کے مسائل کو بالتفصیل بیان فرمایا گیا کہ طلاق کا اختیار مرد کے پاس دو دفعہ ہوتا ہے۔ اگر وہ مختلف اوقات میں دو دفعہ طلاق بھی دے دے تو وہ اپنی بیوی سے رجوع کرسکتا ہے لیکن اگر وہ تیسری طلاق بھی دے دے تو پھر رجوع کی گنجائش نہیں رہتی۔ اس کے بعد رضاعت کی مدت کا ذکر ہے کہ عورت اپنے بچے کو دو برس تک دودھ پلا سکتی ہے۔ پھر بیوہ کی عدت کا ذکر ہے کہ بیوہ کو چاہیے کہ چار مہینے اور دس دن تک عدت پوری کرے اور اس کے بعد اگر کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کرلے۔
اس کے بعد اللہ نے نمازوں کی حفاظت کا حکم فرمایا ہے اور ارشاد فرمایا ہے کہ خصوصًا درمیانی نماز (بعض کے نزدیک عصر اور بعض کے نزدیک فجر) کی حفاظت کیا کرو۔ اس کے بعد ہاروت ماروت اور طالوت جالوت کا قصہ بیان ہوا ہے۔ پارے کے آخر میں ارشاد ہے کہ اگر اللہ بعض لوگوں کو بعض لوگوں کے ذریعے دفع نہ کرتا تو زمین فساد سے بھر جاتی۔ مطلب یہ کہ حکمرانوں کا آنا جانا بھی خدا کی نعمت ہے۔
دعا ہے کہ خدا تعالیٰ قرآنِ پاک کو پڑھنے، سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین


┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄

خلاصہ پارہ نمبر 1

┄❂✵✯ *﷽* ✯✵✪┅┄
*پہلا پارہ​

موضوعات

اس پارے میں پانچ باتیں ہیں:

1۔اقسام انسان

2۔اعجاز قرآن

3۔قصۂ تخلیقِ حضرت آدم علیہ السلام

4۔احوال بنی اسرائیل

5۔قصۂ حضرت ابراہیم علیہ السلام

*1۔اقسام انسان تین ہیں: مومنین ، منافقین اور کافرین۔*

*مومنین کی پانچ صفات مذکور ہیں:*

۱۔ایمان بالغیب ۲۔اقامت صلوۃ ۳۔انفاق ۴۔ایمان بالکتب ۵۔یقین بالآخرۃ

منافقین کی کئی خصلتیں مذکور ہیں: جھوٹ، دھوکا، عدم شعور، قلبی بیماریاں، سفاہت، احکام الٰہی کا استہزائ، فتنہ وفساد، جہالت، ضلالت، تذبذب۔

اور کفار کے بارے میں بتایا کہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر اور آنکھوں پر پردہ ہے۔

*2۔اعجاز قرآن:*

جن سورتوں میں قرآن کی عظمت بیان ہوئی ان کے شروع میں حروف مقطعات ہیں یہ بتانے کے لیے کہ انھی حروف سے تمھارا کلام بھی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا بھی، مگر تم لوگ اللہ تعالیٰ کے کلام جیسا کلام بنانے سے عاجز ہو۔

*3۔قصۂ حضرت آدم علیہ السلام :*

اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السلام کو خلیفہ بنانا، فرشتوں کا انسان کو فسادی کہنا، اللہ تعالیٰ کا آدم علیہ السالم کو علم دینا، فرشتوں کا اقرارِ عدم علم کرنا، فرشتوں سے آدم علیہ السلام کو سجدہ کروانا، شیطان کا انکار کرنا پھر مردود ہوجانا، جنت میں آدم وحواء علیہما السلام کو شیطان کا بہکانا اور پھر انسان کو خلافتِ ارض عطا ہونا۔
*4۔احوال بنی اسرئیل:*

ان کا کفران نعمت اور اللہ تعالیٰ کا ان پر لعنت نازل کرنا۔
*5۔ قصہّ حضرت ابراہیم علیہ السلام:*

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر خانہ کعبہ کی تعمیر کرنا اور پھر اللہ تعالیٰ سے اسے قبول کروانا اور پھر توبہ و استغفار کرنا۔
*خلاصہ قرآن پارہ نمبر 1*
پہلے پارے کا آغاز سورہ فاتحہ سے ہوتا ہے۔اس سورہ کو ام ا لکتاب بھی کہا جا تا ہے۔حدیث پا ک کے مطا بق سورہ فا تحہ میں ا للہ تعالی نے تما م ا مراض کی شفا ر کھی ہے۔ سورہ فاتحہ کا آغازبسم ا للہ سے ہوتا ہے۔بسم ا للہ کی تلاوت کے ذریعے اس بات کا ا ظہا ر کیا جاتا ہےکہ ہم ہر کام کا آغازا للہ کے نام کے ساتھ کرتے ہیں جو نہایت مہربان اور بہت ر حم فرمانے والا ہے۔بسم اللہ کے بعد سورہ فاتحہ میں اللہ کی حمد اور ثنا کا بیان ہے کہ تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں جو کہ مہربان اور بہت زیادہ رحم فرمانے والا ہے۔ اس کے بعد اس بات کا تذکرہ بھی کیا گیا ہے کہ اللہ تعالی یوم جزا کا مالک ہے ۔ یوم جزا ایک ایسا دن ہے جس میں جزا اور سزا کا صحیح اور حقیقی فیصلہ ہوگا۔ ہر ظالم کافر اور غاصب کو اپنے کیے کا جواب دینا پڑےگا۔ اس کے بعد سورہ فاتحہ میں اس عقیدہ کا اظہار کیا گیا ہے کہ ہم تیری ہی عبادت کرنے والے اور تجھ ہی سے مدد مانگنے والے ہیں۔اس کے بعد اللہ تعالی سے سیدھے راستے کی طلب کی گئی ہے جو کہ ان لوگوں کا راستہ ہے جن پر اللہ کا انعام ہوا اور ان لوگوں کا راستہ نہیں جو اللہ کے غضب کا نشانہ بنے یا گمراہ ہوئے۔
سورہ فاتحۃ کے بعد سورہ بقرہ ہے۔ سورہ بقرہ کے آغاز میں تین گروہوں کا ذکر کیا گیا۔ ایک ایمان والوں کا گروہ ہیں جن کا اللہ ، یوم حساب ، قرآن اور سابقہ کتب پر ایمان ہے اور جو نمازوں کو قائم کرنے والے اور زکوہ ادا کرنے والے ہیں۔ دوسرا گروہ کافروں کا گروہ ہے جو کسی بھی طور پر ایمان اور اسلام کے راستے کو اختیار کرنے پر تیار نہیں۔ تیسرا گروہ منا فقین کا گروہ ہے جو بظاہر تو ایمان کا دعویدار ہے لیکن ان کے دلوں میں کفر چُھپا ہوا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالی نے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جو لوگ رسولﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کے بارے میں شک میں مبتلا ہیں ان کو چاہیے کہ قرآن کی کسی سورت جیسی کوئی سورت لے کر آئیں۔اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے تو انہیں چاہیے کہ اس آگ سے ڈر جاہیں جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔اس پارے میں اللہ تعالی نے انسانوں کے جد امجد جناب آدم کی پیدائش کا ذکر کیا ہے۔ آدم کی پیدائش کا واقعہ ان تمام سوالوں کا جواب پیش کرتا ہے کہ انسان کی پیدائش کب کیوں اور کیسے ہوئی۔انسانوں کی تخلیق سے قبل زمین پر جنات آباد تھے ۔جنہوں نے زمین پر سر کشی اور بغاوت کی ،جسے کچلنے کے لیے اللہ تعالی نے فرشتوں کی ایک جماعت کو کہ جس میں ابلیس بھی شامل تھا روانہ کیا۔ابلیس اگرچہ گروہ جنات سے تھا لیکن مسلسل بندگی کی وجہ سے وہ فرشتوں کی جماعت میں شامل ہو گیا تھا۔اس بغاوت کو کچلنے کے بعد ابلیس کے دل میں ایک خفیہ تکبر کی کیفیت پیدا ہو گئی۔ جس سے اللہ علیم وقدیر پوری طرح آگاہ تھے۔اللہ تعالی نے اس موقع پر انسانوں کی تخلیق کا فیصلہ فرمایا اور فرشتوں سے مخاطب ہو کر کہا میں زمین پر ایک خلیفہ پید ا کرنے والا ہوں۔ فرشتے اس سے قبل پر زمین پر جنات کی یورش دیکھ چکے تھے؛چنانچہ انہوں نے کہا کہ اے اللہ تو زمین پر اسے پیدا کرےگا جو خون بہائے گا اور فساد پھیلائے گا جب کہ ہم تیری تعریف اور تقدیس میں مشغول رہتے ہیں۔اللہ نے کہا کہ جو میں جانتا ہو ں تم نہیں جانتے ۔اللہ نے آدمی کو مٹی سے بنا نے کے بعد ان کو علم کی دولت سے بہرہ ورفرمایا اوران کو اشیاء کے ناموں سے آگاہ کر دیا۔ اس کے بعد فرشتوں اور آدم علیہ السلام کو جمع کر کے بعض اشیاء کے ناموں کے بارے میں ان سے سوالات کیے، چونکہ فرشتے ان اشیاء سے بے خبر تھے اس لیے انہوں نے اللہ کی پاکیزگی کا اعتراف اور اپنی عاجزی کا اظہار کیا۔اللہ نے آدم کو ان اشیاء کا نام بتلانے کا حکم دیا تو انہوں نے ان اشیاء کے نام فورا بتلا دیئے۔اللہ نےفر شتو ں کو مخا طب ہو کر فرمایاکہ کیا میں نے تم کو نہیں کہا تھاکہ میں زمین و آسماں کی پو شید ہ با تو ں کو جا نتا ہوں اور جوتم ظاہر کرتے ہو اور چھپاتے ہو اس کو بھی جانتا ہوں ۔ جب آدمی کی فضیلت ظاہر ہو گئی تو اللہ تعالی نے فرشتوں کو حکم دیا کہ وہ آدم کے سامنے جھک جائیں۔ فرشتوں میں چونکہ سر کشی نہیں ہوتی اس لیے تمام فرشتے آدم کے سامنے جھک گئے۔تاہم ابلیس نے آدم کی فضلیت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔اس تکبر پراللہ تعالی نے ابلیس کو ذلیل و خوار کرکے اپنی رحمت سے دور فرما دیااور آدم کو اُن کی اہلیہ کے ساتھ جنت میں آباد فرمایا۔ ابلیس نےاس موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ رہتی دنیا تک آدم اور اُن کی ذریت کو راہ ہدایت سے بھٹکانے کے لیے سرگرم رہےگا۔ جب اللہ تعالی نے آدم کو جنت میں آباد فرمایا تواُن کو ہر چیز کھانے پینے کی اجازت دی مگر ایک مخصوص درخت کے قریب جانے اور اس کا پھل کھانے سے روک دیا۔ ابلیس جو کہ آتش انتقام میں جل رہا تھا۔ اس نے آدم اور جناب حوا علیہا السلام کے دل میں وسوسہ ڈالاکہ آپ کو شجر ممنوعہ سے اس لیے روکا گیا ہے کہ کہیں آپ کو ہمیشہ کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔آدم اور اُ ن کی اہلیہ حوا علیہا السلام وسوسے میں مبتلا ہو کر شجر ممنوع کے پھل کو کھا لیتے ہیں۔اللہ تعالی اس پر خفگی کا اظہار فرماتے ہیں اور ان سے لباس جنت اور جنت کی نعمتوں کو چھین لیتے ہیں اور ان کو جنت سے زمین پر اتار دیتے ہیں۔آدم اور حوا علیہا السلام جب معا ملے پر غور کرتے ہیں تو انتہائی نادم ہوتےہیں اللہ تعالی کی بارگاہ میں آ کر دعا مانگتے ہیں۔اے ہمارے پروردگار! ہم نےاپنی جانو ں پر ظلم کیا ہے اگر تو نے ہمیں معاف نہ کیا اور ہم پر رحم نہ کیاتو ہم یقینا خسارہ پانے والے میں سے ہو جاہیں گے۔آدم اور حوا علیہا السلام جب اللہ کی بارگا ہ میں فریاد کرتے ہیں تو اللہ ان کی خطا کومعاف فرما دیتے ہیں۔اور ساتھ ہی اس امر کا بھی اعلان کرتےہیں کہ زمین پر رہو میں تمھارے پاس اپنی طرف سے ہدایت کو بھیجوں گا۔پس جو کوئی میری ہدایت کی پیروی کرےگا نہ اس کو غم ہو گا نہ خوف۔اب اگر آدم کی نسل کامیاب ہونا چاہتی ہے اور اسے اللہ تعالی کے احکامات پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔اس پارہ میں اللہ تعالی نے یہودیوں پر اپنے احسانات اور انعامات کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کی نافرنیوں اور ناشکریوں کا بھی۔اللہ تعا لی فرماتے ہیں کہ انہوں نے بنی اسرائیل پر من و سلوی کو نازل فرمایاا ن کو رزق کی تگ و دوکرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی تھی۔اس طرح اللہ تعالی نے ان پر بادلوں کو سایہ فگن فرما دیا اور ان کو دھوپ سے محفوظ فرما دیا۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلوں کے لیے اللہ تعالی نے بارہ چشموں کو جاری فرما دیا۔لیکن ان تمام نعمتوں کو حاصل کرنے کے بعد بھی وہ اللہ تعالی کی نافرمانی اور نا شکری کرتے رہے۔اس پارے میں اللہ تعالی نے جناب ابراہیم علیہ السلام کے واقعہ کا بھی ذکر کیا کہ انہوں نے اپنے بیٹے اپنے اسماعیل علیہ السلام کے ہمراہ اللہ تعالی کی بندگی کے لیے اللہ تعالی کے گھر کو تعمیر فرمایا۔تعمیر فرمانے کے بعد آپ نے دعا مانگی اللہ تعالی ہمارے عمل کو قبول فرما بے شک تو سننے اور جاننے والاہے۔آپ نے اللہ تعالی کی بارگاہ میں یہ دعا بھی مانگی اے اللہ ! اہل حرم کی رہنمائی کے ایک ایسا رسول بھی مبعوث فرما جو ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کو پاک کرے۔ اللہ تعالی نے جناب ابراہیم کی دعا قبول فرما کر جناب رسول اللہ ﷺ کو مبعوث فرمایا۔

 دعا ہے کہ اللہ ہمیں پہلے پارے کے مضامین کو سمجھنے اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے۔ آمین!


┄┅✪❂✵✯♦️✯✵❂✪┅┄