منگل، 13 فروری، 2024

حیا۶ عورت کا قیمتی زیور

حیا۶ عورت کا قیمتی زیور
 ✒️ :الطاف آمبوری

اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور جامع واکمل نظام سے عبارت ہے اس کا ہر گوشہ اس کی جامعیت اور اکملیت کا شاہکار ہے جو کہ بنی نوع انسان کو اس کی زندگی کے جملہ معاملات میں سنہری اصول فراہم کرتا ہے تاکہ وہ حیات مستعار میں ہی نہیں بلکہ اخروی اور داٸمی کامیابی سے سرخرو ہو۔ اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ اپنے سینے میں چھپاۓ ہوۓ ہے جو تخليق کاٸنات کا اصل مقصد بیان کیا ہے وہ عبادت کرنا ہے۔ اسلام شرم وحیا کی پاسداری کرنے والا دین ہے۔ پیارے نبیؐ نے فرمایا
’’ حیا ایمان کا حصہ ہے‘‘۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہر دین کی ایک خصوصیت ہوتی ہے اور اسلام کی خصوصیت ’’حیا‘‘ ہے۔ پردہ اپنی مقررہ حدود کے ساتھ ایک شرعی حکم اور دینی ہدایت ہے۔ اسلام کے آنے سے پہلے دنیا نے عورت کو ایک غیر مفید اور پستی کے ایسے غار میں پھنک دیا تھا۔ اسلام نے دنیا کی اس روش کے خلاف احتجاج کیا اور بتایا کہ زندگی مرد اور عورت دونوں ہی کی محتاج ہے عورت اس لۓ نہیں پیدا کی گٸ ہے کہ اسے دھتکارا جاۓ اور شاہراہ حیات سے کانٹے کی طرح ہٹا دیا جاۓ کیونکہ جس طرح مرد اپنا مقصد وجود رکھتا ہے اسی طرح عورت کی تخليق کی بھی ایک غایت ہے اور قدرت نے ان دونوں اصناف کے ذریعہ مطلوبہ مقاصد کی تکميل کرا رہی ہے۔ اس بات میں کوئی دوراے نہیں کہ باپردہ خواتین نہ صرف مسلم معاشرے کے لیے بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک بہترین سرمایہ ہیں۔ عورت کے لفظی معنی ہیں ہی چھپانے والی شئے یا چھپنے کی چیز۔ باپردہ عورتیں نہ صرف بہترین اور صالح معاشرہ تشکیل دینے میں انتہائی اہم کردار نبھاتی ہیں۔ بلکہ باپردہ اور صالح عورتیں نسلوں کی پرورش کرتی ہیں آج کل معاشرے میں جو بے حیائی کا دور دورہ چل رہا ہے اس کے لیے جہاں مردوں کی ذہنیت کو ذمہداد ٹھہرایا جارہا رہے وہاں عورتوں کا بے پردہ اور بے ہودہ لباس کا استعمال بھی ذمہ دار ہے۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جس میں اپنے ماننے والے کے لیے ایک ایک بات روزِ روشن کی طرح عیاں کی گی ہے۔ ایک انسان کے لیے کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، معاشرتی زندگی کے اصول، اور پہننے کے لیے بھی باضابطہ اصول متعین کئے گئے ہیں غرض زندگی کا کوئی بھی ایسا شعبہ نہیں ہے جہاں اسلام نے واضح طور پر رہنمائی نہ کی ہو۔ ایک مسلمان کو ہر معاملے میں اپنی مرضی کو چھوڑ کر اللہ کی مرضی اور اللہ کا حکم لاگو کرنا چاہیے اسی میں ہم سب کی کامیابی ہے ہمارا جسم اللہ کا دیا ہوا ہے اس پر اللہ کی مرضی کا ہی پہناوا بھی ہونا چاہئے۔ آج کل عورتیں پردہ کرنے سے کتراتی ہیں، نیم عریانی کی حالت میں گھومنے پھرنے کو ترقی کا نام دیا جارہا ہے جو نہایت ہی افسوس اور انتہائی کم عقلی کی بات ہے اگر انسان کے جسم سے کپڑے اتر جائیں گے تو پھر اس میں اور کسی وحشی جانور میں کیا فرق رہ جائے گا۔ غور طلب ہے کہ انسان جب اس دنیا میں آتا ہے تو اسے سب سے پہلے کیا پیش کیا جاتا ہے کھانا نہیں دیا جاتا ہے، علم کے لیے نہیں کہا جاتا ہے۔ بچہ چاہیے کسی بھی مذہب کے ماننے والوں کا ہو اسے سب سے پہلے لباس پیش کیا جاتا ہے تاکہ اس کا ننگا تن ڈاپھا جائے کیونکہ عریاں جسم شرمندگی کا احساس دلاتا ہے لیکن افسوس یہی انسان جب بڑا ہوجاتا ہے تو یہ اس لباس اور اس پردے کی مخالفت میں اتر آتا ہے ہے بظاہر یہ خود کو پڑھا لکھا اور ترقی یافتہ سمجھتا ہے لیکن لباس کی مخالفت سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ نہ ہی یہ انسان پڑھا لکھا ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس نے ترقی کی ہے۔ بلکہ یہ انسان ذہنی طور پر کمزور ہوچکا ہے۔اور اس انسان میں جانوروں کی سی خصلت پیدا ہوتی جا رہی ہے جس طرح سے جانور گھومتے پھرتے ہیں اور انہیں لباس کی حاجت نہیں پڑتی انسان بھی ان ہی جانوروں کی طرح زندگی گزارنا چاہتا ہے آج کا یہ انسان نیم عریانی کی حالت میں گھومنے پھرنے کو آزادی کا نام دے رہا ہے اور پردے کو گھٹن کا نام دے رہا ہے افسوس ایسی کمزور سوچ پر صد افسوس۔ اس بات سے کون انکار کر سکتا ہے کہ عورتیں جب نیم عریانی کی حالت میں چلتی ہیں تو انہیں دیکھ کر مردوں میں شہوت کا عنصر ابھر آتا ہے اسی لیے اسلام نے مردوں کو اپنی نظرین جھکا کر چلنے کا حکم دیا ہے یہ دور اندیشی نہیں تو اور کیا ہے اگر مردوزن اسلام کے ان اصولوں کی پاسداری کریں گیں تو یقینی طور پر ایک بہترین معاشرے کی تشکیل ممکن ہو سکتی ہے جہاں ہماری مائیں بہنیں ،بچیان بلکہ تمام تر خواتین اپنے آپ کو محفوظ محسوس کر سکتی ہیں۔ لیکن کیا کریں کچھ لوگوں نے اپنی آنکھوں پر حسد، نفرت اور تعصب کی عینک چڑھا کر رکھی ہیں انہیں اسلامی اصولوں اور قوانین میں یہ اچھائیاں اور دور اندیشیاں نظر ہی نہیں اتی ہیں۔نہ ہی انہیں اپنی ماؤں بہنوں کی پروا ہے اور نہ ہی دوسروں کی۔ اسلام کے تمام تر اصول نہ صرف فطرت انسانی سے ہم آہنگ ہیں بلکہ بشری تقاضوں کے عین مطابق ہے۔ اور یہ اصول اور قوانین کہیں پر بھی فطرت سے نہیں ٹکراتے ہیں اسلام میں پردے کی اہمیت کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے۔ قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ہے (سورہ نور آیت نمبر  ٣٠) *قُلْ لِلْمُؤْمِنينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصارِهِمْ وَ يَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذلِكَ أَزْكى لَهُمْ إِنَّ اللهَ خَبيرٌ بِما يَصْنَعُونَ*   
مسلمان مردوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔ اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ پردہ صرف عورتوں کے لیے نہیں یے بلکہ اسلام میں مرد کو بھی اپنی حدود و قیود میں رہنے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور لازم قرار دیا ہے کہ مرد بھی خواتین کی عزت و احترام کا خیال رکھتے ہوئے اپنی نظریں جھکائے رکھیں تا کہ گناہوں سے بچ سکیں۔ قرآن مجید میں مختلف جگہوں پر پردے کا حکم آیا ہے۔ سورہ الاحزاب کی آیت نمبر ٣٣ میں اور ایک اور جگہ آیت نمبر ٥٩ میں’’ عورت کو سر سے پاؤں تک پردہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے‘‘۔ عورت کو مستورات بھی کہا جاتا ہے’’ مستور‘‘ کا مطلب چھپا ہوا یا پنہاں ہیں یعنی عورت چھپانے کے لیے ہے نمائش کے لئے نہیں۔ پردے کے متعلق حدیث پاک میں ہے کہ حضرت عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ’’ عورت پردہ میں رہنے کی چیز ہے ‘ ‘کیونکہ جب وہ باہر نکلتی ہے تو شیطان اسے تلاش کرتا ہے۔  اسلام شرم وحیا کی پاسداری کرنے والا دین ہے۔ ہمارے ملک کے آئین نے ہمیں مذہبی آزادی دی ہے اور آئین کے مطابق ہم اپنے مذہبی اصولوں پر عمل پیرا ہوسکتے ہیں۔ اگر ہم اس کو نظر انداز کریں تو ہمارا معاشرہ روز بہ روز بگڑتا چلاجاۓ گا اور ہماری ماں بہنیں آۓ دن تشدد کا شکار بنیں گی۔ ہمارے معاشرے میں مرتد جیسی وبا کا عام ہونا خطرے کی کھنٹی ہے جس کی ایک کڑی ویلنٹان ڈے بھی ہے اس دن ایک دوسرے کو گلاب یا عشقیہ خطوط وغیرہ یا ہدیہ دینا اور ان کے ذریعہ اظہار محبت کرنا بےحیاٸ فحاشی اور زنا کاری کی راہ کو ہموار کرتا ہے ایسے موقع پر ہم خاص طور پر مسلم نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے لۓ ضروری ہے کہ وہ اس بات کو جانیں کہ یہ کیا ہے؟ اس کی حقیقت و پس منظر کیا ہے؟ شریعت مطہرہ کا موقف کیا ہے؟ تاکہ معاشرے میں پھیل رہے اس ناسور کا علاج ممکن ہو سکے، ویلنٹاٸن ڈے رومی بت پرستوں کی تہوار ہے۔  یہ یہودو نصاری کی ایجاد ہے۔
ہادی عالم محمد ﷺ نے مسلمانوں کا جو معاشرہ قاٸم کیا اور جو چیز اس معاشرے میں اہميت کی حامل ہے وہ حیا ہے، ’’حیا ِ‘‘عورت کا زیور ہے اس کا مکمل اہتمام عورت کی خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہے۔ پردہ عورت کو شیطان اور شیطان کے چیلوں سے بچانے اور تحفظ کا مکمل حصار فراہم کرتا ہے۔ جو چیزیں بے حیاٸ کو فروغ دینے والی ہیں یا بے حیاٸ کو پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں ان کی نشاندہی کی گٸ ہے۔  ہمارے معاشرہ میں شریعت مطرہ پر عمل کرتے ہوۓ عورت پردے میں رہ کر تعلیم بھی حاصل کر رہی ہیں کاروبار بھی کر رہی ہیں اور قوم کی خدمت احسن طریقے سے انجام دیتی آ رہی ہیں۔ مسلم خواتین پائلٹ ڈاکٹر انجینئر اور زندگی کے تمام شعبہ میں محفوظ طریقے سے اپنا کردار نبھا رہی ہیں۔ یہی اسلامی معاشرے کا حسن ہے۔ عورت کا پردے سے باہر ہونا مرد و زن دونوں کو گناہ کی طرف مائل کرنا ہے۔ جس سے نہ صرف رشتوں کا تقدس پامال ہوتا ہے بلکہ معاشرتی بدحالی کا بھی موجب بنتا ہے۔ عورت کے پردہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ کے بغیر اور بے پردہ جگہ پر کرنا منع فرمایا گیا ہے۔ معاشرے کی بہتری اور اسلام کی سربلندی کیلئے ہم سب کو اپنی اپنی جگہ پر اپنا کلیدی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین بچوں کے لباس اور گفتگو پر خصوصی توجہ دیں تو کافی حد تک ان مسائل کا حل ممکن ہے۔ 
اللہ سے دعا ہے کے اللہ کریم ہمیں صحیح معنوں میں اسلام کے مطابق زندگی گزارنے ، اسلامی اقدار کو اپناتے ہوئے اپنا کردار نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

بدھ، 7 فروری، 2024

اساتذہ اردو کی ترویج کے لۓ کوشاں رہیں: تہنیتی اجلاس سے بانگی پرویز اکبر صاحب کا خطاب



اساتذہ اردو کی ترویج کے لۓ کوشاں رہیں:  تہنیتی اجلاس  سے بانگی پرویز اکبر صاحب کا خطاب
بانگی حیات باشاہ صاحب چیاریٹبل ٹرسٹ کے زیر اہتمام بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول و مدرسہ دینیات پراٸمری اسکول آمبور جناب بانگی پرویز اکبر کی سرپرستی میں تعلیمی خدمات میں سرگرم عمل ہیں گزشتہ دنوں ڈاکٹر فضل اللہ انترجامی سابق میر مدرس بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول اور اسی مدرسہ کے معلم جناب کے الطاف احمد کو تاملناڈو اردو اکاڈمی گورنمنٹ آف تامل ناڈو کے زیر اہتمام چینٸ میں منعقدہ اجلاس میں ان کی اردو خدمات کے اعتراف میں اعزازات تفویض ہوۓ ان کی خدمات میں ہدیہ تبریک پیش کرنے کے لۓ جناب پرویز اکبر صاحب منیجر و کرسپانڈنٹ نے ایک اعزازی نشست کا اہتمام مدرسہ دینیات میں فرمایا جناب کے۔ بابو ہیڈماسٹر نے خطبٸہ استقبالیہ پیش کیا اور ایوارڈ یافتگان کی خدمات میں مبارکباد پیش کی آپ نے جلسہ کے انتظامات بحسن و خوبی انجام دۓ۔ جناب پرویز اکبر صاحب نے اپنے صدارتی  خطبہ میں ڈاکٹر فضل اللہ کی علمی اور انتظامی صلاحيتوں کو سراہا اور کہا کہ آپ ٹرسٹ کے لۓ اثاثہ ہیں آپ نے درس و تدریس میں بہترین کارکردگی کا ثبوت دیاہے نیز آپ اساتذہ کے کۓ قابل تقلید نمونہ ہیں جناب کے۔ الطاف احمد نے اردو خدمات بذریعہ سوشل میڈیا جاری رکھ کر اپنی شناخت متعین فرمائی ہے جو قابل تعریف ہے۔ سید نظام الدین صاحب میر مدرس بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ فضل اللہ صاحب نے دونوں مدارس کی ترقی میں مثبت کردار ادا کیا ہے اردو، تامل، انگریزی زبانوں میں بیک وقت مہارت کے ذریعہ نسل نو کے اساتذہ کی رہبری کی ہے۔ آپ نے فرمایا الطاف احمد صاحب نے اساتذہ و ریسرچ اسکالرس کی فلاح و بہبودی کے لۓ سوشل میڈیا کے ذریعہ سنجيدگی سے کوشش جاری رکھی ہے اور ان کی اردو ڈیجیٹل لاٸبریری میں چھ ہزار سے زاٸد کتب سے عوام و خواص نے اکتساب فیض کیا ہے موصوف نے آپ کی اس خدمات کو غیر معمولی قرار دیا۔ جناب عرفان صاحب معلم مدرسہ دینیات نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوۓ اس اردو مخالف دور میں ایوارڈ یافتگان کی شمع اردو فروزاں رکھنے کی کوشش کو قابل قدر  قرار دیا۔ جناب فضل اللہ صاحب نے جناب پرویز اکبر صاحب کا شکریہ ادا کرتے ہوۓ دعاٸیہ اشعار ان کی خدمت میں پیش کۓ  نیز ان کی انتظامی صلاحيتوں کی تعریف کی اور اساتذہ و مدارس کی ترقی اور اردو زبان کی ترویج میں ان کی کوششوں کو مستحسن قرار دیا اور اپیل کی کہ اساتذہ  اچھی زبان بولنے کا ذوق و شوق جوش و جذبہ پیدا کریں جناب الطاف صاحب نے اپنی ادبی خدمات کو جاری رکھنے کا عزم دہرایا جناب کریم باشاہ معلم بانگی حیات باشاہ صاحب اسکول کی شکریہ اداٸ اور مولانا منیر احمد صاحب امام و خطیب مسجد اکبر بانگی مارکيٹ کی دعاۓ خیر سے جلسہ بحسن و خوبی اختتام پزیر ہوا۔