پیر، 20 نومبر، 2023

آج شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ٹیپو سلطان کا یوم ولادت ہے

آج شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندہ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد ٹیپو سلطان کا یوم ولادت ہے

  آج شیرِ میسور، سلطان حیدر علی کے سب سے بڑے فرزند، ہندوستان کے اصلاح و حریت پسند حکمران، بین المذاہب ہم آہنگی کی زندۂ جاوید مثال، طغرق (فوجی راکٹ) کے موجد ٹیپو سلطان کا یوم ولادت ہے، ٹیپو سلطان کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا، آپ بنگلور، ہندوستان میں 20 نومبر 1750ء میں حیدر علی کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو بزورِ طاقت روکے رکھا اور کئی بار انگریزافواج کو شکست فاش بھی دی۔ ٹیپو سلطان کا قول تھا: "شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔"

آپ نے برطانوی سامراج کے خلاف ایک مضبوط مزاحمت فراہم کی اور برصغیر کے لوگوں کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کرنے کیلیے سنجیدہ و عملی اقدامات کئے ۔سلطان نے انتہائی دوررس اثرات کی حامل فوجی اصلاحات نافذ کیں صنعت و تجارت کو فروغ دیا اور انتظامیہ کو ازسرنو منظم کیا سلطان کو اس بات سے اتفاق تھا کہ برصغیر کے لوگوں کا پہلا مسئلہ برطانوی اخراج ہے۔ نظام حیدرآباد دکن اور مرہٹوں نے ٹیپو کی طاقت کو اپنی بقا کیلیے خطرہ سمجھا اور انگریزوں سے اتحاد کرلیا۔ ٹیپو سلطان نے ترکی، ایران، افغانستان اور فرانس سے مدد حاصل کرنے کی کوششیں کیں مگر کا میاب نہ ہوسکے۔ میسور کی آخری جنگ کے دوران جب سرنگاپٹم کی شکست یقینی ہوچکی تھی ٹیپو نے محاصرہ کرنے والے انگریزوں کے خلاف بھرپور مزاحمت کی اور قلعے کو بند کروادیا غدار ساتھیوں نے دشمن کی لیے قلعے کا دروازہ کھول دیا اور قلعے کے میدان میں زبردست جنگ چھڑ گئی۔بارُود کے ذخیرے میں آگ لگ جانے کے باعث مزاحمت کمزور ہوگئی اس موقع پر فرانسیسی افسر نے ٹیپو کو Chitaldrug بھاگ جانے اور اپنی جان بچانے کا مشورہ دیا مگر ٹیپو راضی نہ ہوئے اور 4 مئی 1799ء کو میداں جنگ میں دشمنوں سے لڑتے ہوئےشہید ہو گئے۔

ٹیپو سلطان کی زندگی ایک سچے مسلمان کی زندگی تھی مذہبی تعصب سے پاک تھے یہی وجہ تھی کہ غیر مسلم ان کی فوج اور ریاست میں اعلیٰ عہدوں پر فائز تھے۔ ٹیپو سلطان نے اپنی مملکت کو مملکت خداداد کا نام دیا ۔حکمران ہونے کے باوجود خود کو عام آدمی سمجھتے، باوضو رہنا اور تلاوت قرآن آپ کے معمولات میں سے تھے، ظاہری نمودونمائش سے اجتناب برتتے ۔ ہر شاہی فرمان کا آغاز بسم اللہ الرحمن الرحیم سے کیا کرتے تھے۔ زمین پر کھدر بچھا کر سویا کرتے تھے۔ ٹیپو سلطان ہفت زبان حکمران کہے جاتے ہیں آپ کو عربی، فارسی، اردو، فرانسیسی، انگریزی سمیت کئی زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔ آپ مطالعے کے بہت شوقین تھے اور زاتی کتب خانے کے مالک تھے جس میں کتابوں کی تعداد کم و بیش 2000 بیان کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ آپ سائنسی علوم میں خاصی دلچسپی رکھتے تھے۔ آپ کو برصغیر میں راکٹ سازی کا موجد کہا جاتا ہے۔ ہر جنگ میں اپنی افواج کے شانہ بشانہ رہنے والے ٹیپو سلطان اپنے زمانے کے تمام فنون سپہ گری سے واقف تھے۔ اپنی افواج کو پیادہ فوج کے بجائے سواروں اور توپ خانے کی شکل میں زیادہ منظّم کیا ۔ اسلحہ سازی، فوجی نظم و نسق اور فوجی اصلاحات میں تاریخ ساز کام کیا۔

میسور کی چوتھی جنگ جو سرنگاپٹم میں لڑی گئی جس میں سلطان نے کئی روز قلعہ بند ہوکر مقابلہ کیا مگر سلطان کی فوج کے دو غدّار میر صادق اور پورنیا نے اندورن خانہ انگریزوں سے ساز باز کرلی تھی۔ میر صادق نے انگریزوں کو سرنگاپٹم کے قلعے کا نقشہ فراہم کیا اور پورنیا اپنے دستوں کو تنخواہ دینے کے بہانے پیجھے لے گيا۔ شیر میسور کہلانے والے ٹیپو سلطان نے داد شجاعت دیتے ہوئے کئی انگریزوں کو جہنم واصل کیا اور سرنگاپٹم کے قلعے کے دروازے پر جامِ شہادت نوش فرمایا، شاعر مشرق علامہ اقبال کو ٹیپو سلطان شہید سے خصوصی محبت تھی 1929ء میں آپ نے شہید سلطان کے مزار پر حاضری دی اور تین گھنٹے بعد باہر نکلے تو شدّت جذبات سے آنکھیں سرخ تھیں۔ آپ نے فرمایا: "ٹیپو کی عظمت کو تاریخ کبھی فراموش نہ کر سکے گی وہ مذہب ملّت اور آزادی کے لیے آخری دم تک لڑتا رہا یہاں تک کے اس مقصد کی راہ میں شہید ہو گیا۔"
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 12 نومبر، 2023

آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے۔

آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے۔

+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/یوم یک شنبہ، بتاریخ 12 نومبر 2023ء) آج اردو میں بچوں کے سب سے بڑے ادیب اور شاعر مولانا اسمٰعیل میرٹھی کا یوم ولادت ہے، مولانا اسمعیل میرٹھی 12 نومبر 1844 کو میرٹھ میں پیدا ہوئے، آپ کے والد کا نام شیخ پیر بخش تھا اور یہی آپ کے پہلے استاد بھی تھے، اس دور کے رواج کے مطابق مولانا نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی۔ پہلے فارسی اور پھر دس برس کی عمر میں ناظرہ قرآن مجید کی تعلیم مکمل کی۔

1857 کی جنگِ آزادی کی تحریک کے وقت 14 سالہ اسمٰعیل نے محسوس کر لیا تھا کہ اس وقت اس مردہ قوم کو جگانے اور جگائے رکھے کی ضرورت ہے۔ چنانچہ اسی مقصد کے تحت اس نے دینی علوم کی تکمیل کے بعد جدید علوم سیکھنے پر توجہ دی، انگریزی میں مہارت حاصل کی، انجنیئرنگ کا کورس پاس کیا مگر ان علوم سے فراغت کے بعد اعلیٰ ملازمت حاصل کرنے کی بجائے تدریس کا معزز پیشہ اختیار کیا تاکہ اس راہ سے قوم کو اپنے کھوئے ہوئے مقام تک واپس لے جانے کی کوشش کریں۔

1857ء سے پہلے اردو شاعروں نے خیالات کے میدان میں گھوڑے دوڑانے کے علاوہ کم ہی کام کیا تھا، مگر اسمٰعیل میرٹھی نے اپنے ہم عصروں، حالی اور شبلی کی طرح اپنی شاعری کو بچوں اور بڑوں کی تعلیم و تربیت کا ذریعہ بنایا۔ مولانا نے پچاس سے زیادہ نظمیں لکھی ہیں جو صرف بچوں کے لیے ہیں۔ان میں سے کچھ ایسی ہیں جن کا انہوں نے انگریزی شاعری سے ترجمہ کیا ہے مگر اس کے باوجود یہ نظمیں اپنی زبان اور بیان کے لحاظ سے انتہائی سادہ اور پر اثر ہیں۔اردو کے علاوہ مولانا نے فارسی ریڈرز بھی ترتیب دیں اور فارسی زبان کی گرائمر کی تعلیم کے لیے کتابیں لکھیں۔

مولانا کے دو ہندو دوستوں نے جو سرجن تھے، اردو میں اناٹومی اور فزیالوجی یعنی علمِ تشریح اور علم افعال الاعضا پر کتابیں لکھی تھیں۔ مولانا نے ان دوستوں کی درخواست ہر ان کتابوں پر نظرِ ثانی کی اور ان کی زبان کو ٹھیک کیا۔ اپنے روحانی استاد اور پیر کی حالات پر ایک کتاب 'تذکرہ غوثیہ' کے نام سے لکھی۔ دہلی کے مشہور عالم اور ادیب منشی ذ کاء اللہ نے بھی سرکاری اسکولوں کیلئے اردو ریڈروں کا ایک سلسلہ مرتب کیا تھا، ان کی ان کتابوں مں مولانا اسمٰعیل میرٹھی کی نظمیں شامل تھیں، مولانا نے جغرافیہ پر بھی ایک کتاب لکھی جو اسکولوں کے نصاب میں داخل رہی۔ مسلمانوں کے اس عظیم خدمت گزار مصلح نے 73 سال کی عمر میں یکم نومبر 1917ء کو وفات پائی۔

|انتخاب کلام|

ظلم کی ٹہنی کبھی پھلتی نہیں
نائو کاغذ کی سدا چلتی نہیں
٭٭٭
رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی
٭٭٭
نہر پر چل رہی ہے پن چکی
دھن کی پوری ہے کام کی پکی
٭٭٭
بندگی کا شعور ہے جب تک
بندہ پرور! وہ بندگی ہی نہیں
٭٭٭
نہیں معلوم کیا واجب ہے کیا فرض
مِرے مذہب میں ہے تیری رضا فرض
٭٭٭
کبھی بُھول کر کسی سے نہ کرو سلوک ایسا
کہ جو تم سے کوئی کرتا تمہیں ناگوار ہوتا
٭٭٭
خواہشوں نے ڈبو دیا دِل کو
ورنہ یہ بحرِ بیکراں ہوتا
٭٭٭
سلامت ہے سر تو سرہانے بہت ہیں
مُجھے دل لگی کے ٹھکانے بہت ہیں
٭٭٭
اِن بد دِلوں نے عشق کو بدنام کر دیا
جو مرتکب شکایتِ جور و جفا کے ہیں
٭٭٭
مارا بھی اور مار کر زندہ بھی کر دیا
یہ شعبدے تو شوخیٔ نازو ادا کے ہیں
٭٭٭
اظہارِ حال کا بھی ذریعہ نہیں رہا
دل اتنا جل گیا ہے کہ آنکھوں میں نم نہیں
٭٭٭
خود فروشی حُسن کو جب سے ہوئی مدِ نظر
نرخِ دل بھی گھٹ گیا جانیں بھی ارزاں ہو گئیں
٭٭٭
آغازِ عشق عُمر کا انجام ہو گیا
ناکامیوں کے غم میں مرا کام ہو کیا
٭٭٭
جاگیرِ دَدر پر ہمیں سرکارِ عشق نے
تحریر کر دیا ہے وثیقہ دوام کا
٭٭٭
کسی کی برقِ تبسّم جو دل میں کوند گئی
تو چشمِ تر کا ہوا حال ابرِ تر کا سا
٭٭٭
جی چاہتا ہے آپ کے در پر پڑا رہوں
صاحب نہیں ہے اور کوئی اِس غلام کا
٭٭٭
طالب ہوں تجھ سے تیری مُحبت کے جام کا
تیرے سوا نہیں ہے کوئی تشنہ کام کا
٭٭٭
زلف دیکھی اس کی جن قوموں نے وہ کافر بنیں
رخ نظر آیا جنہیں وہ سب مسلماں ہو گئیں
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
پیشکش: نوائے اوچ لٹریری سوسائٹی (رجسٹرڈ)
► © Nawaeuch نوائے اوچ ®

جمعہ، 10 نومبر، 2023

اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوتا تو؟



اگر ہندوستان تقسیم نہیں ہوتا تو؟

پرویز مشرف کے سیکولر، لبرل آمرانہ دورِ حکومت میں وہ اینکر پرسن اور سیاست دان جو ابوالکلام آزاد کی کتاب انڈیا ونز فریڈم (India Wins Freedom) کو ہاتھوں میں لہرا لہرا کر برصغیر پاک و ہند کی تقسیم اور پاکستان کی تخلیق کو ایک بہت بڑی سیاسی اور قومی غلطی قرار دیتے تھے۔ وہ کالم نگار اور دانشور جن کے قلم ابوالکلام آزاد کی پیش گوئیوں کو پیغمبرانہ حیثیت دیا کرتے تھے، وہ آج کس قدر خاموش ہیں۔ سب کی زبانیں گنگ ہیں اور سب کے قلم خاموش۔ ان سب نے دھیرے دھیرے ابوالکلام آزاد کے اس نظریے کو میٹھے زہر کی طرح عوام میں پھیلانا شروع کر دیا تھا کہ اگر موجودہ پاکستان، موجودہ بنگلہ دیش اور ہندوستان کے مسلمان ایک ساتھ متحدہ ہندوستان میں رہ رہے ہوتے تو یہ ایک اتنی بڑی اقلیت ہوتے کہ ان کو چھیڑنا یا ان کے خلاف کوئی قدم اُٹھانا کسی بھی حکومت کیلئے انتہائی مشکل ہوتا۔ گنگا جمنی تہذیب کے ان وکیلوں کے چند سال بعد ہی اس وقت ہوش ٹھکانے آ گئے جب ’’راشٹریہ سیوک سنگھ‘‘ اور ’’بجرنگ دَل‘‘ کی ستر سالہ جدوجہد جمہوری بی جے پی کی صورت میں کامیاب ہوئی اور پھر 2014ء میں نریندر مودی کی صورت اس کا اصل چہرہ برسرِاقتدار آیا اور جمہوریت کی اصل ’’روح‘‘ یعنی اکثریت کی حکومت یا اکثریت کی آمریت اپنے اصل روپ میں سامنے آئی۔ آج دُنیا بھارت کو انتخابی جمہوریت (Electoral Democracy) نہیں بلکہ انتخابی مطلق العنانیت (Electoral Autocracy) کہہ رہی ہے۔ یہ تبدیلی اب صرف بھارتی جمہوریت تک محدود نہیں رہی، بلکہ دُنیا کی ایسی بیشتر جمہوریتیں جہاں انتخابات کے ذریعے حکومتیں بنتی ہیں، وہاں اب ایسے حکمران برسرِاقتدار آ رہے ہیں جو اپنے ممالک میں ’’مطلق العنان شخصی بادشاہتیں‘‘ قائم کر رہے ہیں اور ان کی ان بادشاہتوں کو عوام کی اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ یہ تشویش ایسے مغربی ممالک میں شدید ترین ہوتی جا رہی ہے جنہوں نے اس سرمایہ دارانہ سودی جمہوریت کا نظام فقط عالمی سرمایہ داری کی بادشاہت دُنیا پر قائم کرنے کیلئے وضع کیا تھا۔ مغرب کی اس تشویش کے پیمانے کو ناپنے کیلئے سویڈن کے ایک پروفیسر سٹیفن آئی لنڈ برگ (Staffan I. Lindberg) کی رہنمائی میں 2014ء میں ایک بہت بڑے انسٹیٹیوٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔پروفیسر سٹیفن گزشتہ کئی سالوں سے دُنیا بھر میں نافذ مختلف النوع جمہوری نظاموں کا مطالعہ کر رہا تھا۔ اسی لئے اس ادارے کا نام "The V-Dem Institute" یعنی "Varieties of Democracy" (جمہوری انواع و اقسام ) رکھا گیا۔ اپنے قیام سے لے کر آج تک تقریباً سات سالوں میں شائع ہونے والی اس انسٹیٹیوٹ کی رپورٹیں دُنیا بھر میں دن بدن جمہوریت کے زوال اور انتخابی بادشاہتوں یا انتخابی شخصی حکومتوں کے قیام کی داستان سناتی ہیں۔اس ادارے کی2021ء کی رپورٹ بتاتی ہے کہ آج سے نصف صدی قبل جن ممالک میں جمہوری نظام نے اپنی جڑیں مضبوط کر لی تھیں، اب وہاں بھی ’’آمریت‘‘ اپنے پنجے گاڑ رہی ہے۔ یہ جمہوری آمریت انتہائی خوفناک ہے کیونکہ یہ کوئی شخصی یا فوجی آمریت نہیں جسے بُرا بھلا کہا جا سکے، بلکہ یہ ووٹوں سے قائم شدہ ایسی آمریت ہے جس کا جمہوری نظام میں کوئی حل موجود نہیں ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس وقت دُنیا کی 25 جمہوری اقوام اس طرح کی مطلق العنان شخصی جمہوری آمریتوں میں ڈھل چکی ہیں۔ یہ پچیس اقوام دُنیا کی ایک تہائی آبادی یعنی 2.6 ارب انسانوں پر مشتمل ہیں۔ ان میں دُنیا کے امیر ترین G-20 ممالک میں سے تین ملک بھارت، برازیل اور ترکی بھی شامل ہیں۔ رپورٹ کے ایک باب کا عنوان ہی جمہوری نظام کیلئے خوفناک مایوسی کا اظہار لئے ہوئے ہے۔ عنوان ہے، ’’لبرل جمہوریت کے زوال کا ایک اور سال ‘‘ (Another year of Decline of Liberal Democracy) ۔ لیکن بھارت میں جمہوری الیکشنوں سے جنم لینے والی بدترین آمریت پر رپورٹ نے پورا ایک باب باندھا ہے، جس کا عنوان ہے، ’’بھارت: برباد شدہ جمہوریت‘‘ (India:Democracy Broken Down) ۔ اس باب کے آغاز میں بھارت میں آمریت اور آمرانہ طرزِ حکومت کا موازنہ پاکستان، نیپال، بنگلہ دیش اور سری لنکا سے کیا گیا ہے،جن میں سے بھارت سب سے زیادہ اقلیت کش اور آمرانہ طرزِ حکومت والا ملک ہے جو ان معاملات میں دن بدن بگڑتا چلا جا رہا ہے۔ بھارت اب ایک ایسا ملک بن چکا ہے جس میں ایک شخصی یعنی نریندر مودی کو مکمل قوت و اختیار حاصل ہے اور اس کا یہ اختیار جمہوری الیکشنوں کے ذریعے عوام کی اکثریت کی وجہ سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارت میں آزادی اظہار پر سب سے زیادہ پابندی ہے۔رپورٹ کے مطابق دُنیا کی سب سے بڑی جمہوریت جو ایک ارب سینتیس کروڑ عوام پر مشتمل ہے،اب کسی طور بھی ایک جمہوری ملک کہلانے کے قابل نہیں رہی۔ اس ادارے نے بھارت کو آزاد ملکوں کی فہرست سے نکال کر جزوی (Partially) طور پر آزاد ملکوں کی فہرست میں شامل کر دیا ہے۔ بھارت میں دہشت گردی، غداری اور میڈیا کے کنٹرول کے قوانین کا بدترین استعمال ہوا ہے۔ رپورٹ کچھ اعداد و شمار سے اپنے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کرتی ہے۔ یہ اعداد و شمار خوفناک ہیں۔ جب سے نریندر مودی برسرِ اقتدار آیا ہے، سات ہزار افراد پر غداری کا مقدمہ چل رہا ہے۔ بھارت کا ایک قانون ہے "UAPA"(Unlawful Activities Prevention Act) ’’غیر قانونی اقدامات کی روک تھام کا قانون‘‘۔ اس کے تحت گرفتار ہونے والوں کی تعداد میں 72 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اتنی ہی تعداد میں دہشت گردی کے قانون میں گرفتار ہونے والوں میں اضافہ ہوا ہے۔ گائے کشی کے سلسلے میں جتنے بھی لوگ گرفتار ہوئے، ان میں 86 فیصد مسلمان تھے اور ان میں زیادہ تر فسادات صرف گزشتہ چند سالوں میں ہوئے ہیں۔ گزشتہ سال میں دلّی کے ہنگاموں میں 53 افراد قتل ہوئے جن میں سے 49 مسلمان تھے۔ دُنیا میں حکومتکی طرف سے انٹرنیٹ پر پابندی لگائے جانے کے جتنے بھی واقعات ہوئے ہیں ان میں سے 70 فیصد بھارتی حکومت کی جانب سے ہوئے ہیں۔ اگر دُنیا بھر میں حکومتوں نے 150 دفعہ انٹرنیٹ پر پابندی لگائی تو ان میں سے 109 پابندیاں بھارت میں لگیں۔ یہ صرف چند اعداد و شمار ہیں جو بہت حد تک مغربی ممالک کے قائم کردہ اس ادارے نے بہت حد تک نرم کر کے پیش کئے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ بھارت کی پانچ ہزار سالہ تاریخ میں کبھی بھی یہاں پر آباد اقلیتیں اس قدر خوفزدہ نہیں رہیں، جتنی آج اس جمہوری آمریت کے دَور میں غیر محفوظ ہیں۔ وہ لوگ جو آج سے صرف دس سال قبل ابوالکلام آزاد کی کتاب سے دلیل پیش کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں نے تقسیم ہو کر اپنا نقصان کیا، آج ان کے سامنے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ مسلمان جس قدر پاکستان اور بنگلہ دیش میں محفوظ ہے، سرفراز ہے اور آزاد ہے، ایسا وہ بھارت کے شہری ہو کر تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اگر تمام مسلمان بھارت کے ساتھ رہ رہے ہوتے تو وہ شاید 25 فیصد بنتے مگر آج اسی طرح ذلیل و رُسوا ہوتے جیسے وہاں موجود 15 فیصد مسلمان ہو رہے ہیں۔ جس ملک میں کشمیری نوے فیصد مسلمان ہو کر خاک و خون میں غلطاں ہیں، وہاں 25 سے تیس فیصد مسلمان بھی اسی عبرتناک انجام کا شکار ہوتے۔

**

جمعرات، 9 نومبر، 2023

ایک مکمل اور سچی داستان



ایک مکمل اور سچی داستان
 
ایک خاتون کی کہانی جو ہر بات کا جواب قرآن مجید سے دیا کرتی تھی،
آپ نے عبداللہ ابنِ مبارک رحمہ اللہ کے بارے میں سنا ہوگا، یہ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد اور امام بخاری رحمہ کے استاد ہیں،
وہ بیان کرتے ہے کہ میں ایک دفعہ حج بیت اللہ اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت کے غرض سے گھر سے نکلا،
راستے میں ایک عمر رسیدہ خاتون ملی ایسا لگ رہا تھا کی وہ اپنے قافلہ سے بھٹک چکی تھی،

عبد اللہ: السلام علیکم ورحمتہ وبرکاتہ.

خاتون:"سَلَامٌ قَوْلًا مِّن رَّبٍّ رَّحِيمٍ"
"رب رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا جائے گا"   يسٓ 58

عبد اللہ: يرحمك الله.... آپ یہاں کیا کر رہی ہیں؟

خاتون:" مَن يُضْلِلِ اللَّهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ"
"اللہ جسے گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت نہیں دے سکتا"  الأعراف 186.
( میں سمجھ گیا کہ وہ راستہ بھول گئی ہے)

عبد اللہ: آپ کہاں جانا چاہتی ہیں؟

خاتون: "سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى"
"پاک ہے وہ ذات جو رات کے ایک حصے میں اپنے بندے کو مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا"  الاسراء 1.
(میں سمجھ گیا کہ وہ حج سے فارغ ہو کر بیت المقدس کی طرف جانا چاہ رہی ہے)

عبد اللہ: آپ یہاں پر کتنے دن سے ہیں؟

خاتون:" ثَلَاثَ لَيَالٍ سَوِيًّا" 
" متواتر تین رات" مریم 10.

عبد اللہ: آپ کے پاس کھانے پینے کا کیا بندوبست ہے؟

خاتون: " هُوَ يُطْعِمُنِي وَيَسْقِينِ" 
" وہی اللہ مجھے کھلاتا پلاتا ہے"
         الشعراء 79.

عبد اللہ: آپ وضوء کس چیز سے کرتی ہیں؟

خاتون: " فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا"
"اور تمہیں پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے تیمم کرلو" النساء 43.

عبد اللہ: میرے پاس کھانا ہے۔ چاہے تو آپ کھا سکتی ہیں؟

خاتون: " ثُمَّ أَتِمُّوا الصِّيَامَ إِلَى اللَّيْلِ"
" پھر رات تک روزے کو پورا کرو"
           البقرۃ 187.
مراد یہ کہ میں روزہ سے ہوں،
 
عبد اللہ: (اماں) یہ تو رمضان کا مہینہ نہیں ہے؟
خاتون:" وَمَن تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ"
"اور جو شخص خوشی سے نیکی کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ قدر دان اور سب کچھ جاننے والا ہے"  البقرۃ 158.

عبد اللہ: سفر میں روزہ توڑنا تو ہمارے لیے حلال ہے؟ 

خاتون:"وَأَن تَصُومُوا خَيْرٌ لَّكُمْ ۖ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ"
"اور یہ کہ تم روزہ رکھو تمھارے لیے بہتر ہے، اگر تم جانتے ہو" البقرة 184.

جب مجھے احساس ہوا کہ ہر بات کا جواب صرف قرآن سے دیتی ہے، تو میں نے  وجہ معلوم کرنے کی کوشش کی،

عبد اللہ: آپ میری طرح بات کیوں نہیں کرتیں؟
خاتون:"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"
" آدمی جب بھی کوئی بات اپنی زبان سے نکالتا ہے تو اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے ( جو اسے لکھ لیتا ہے )
                 ق 18.
عبد اللہ: آپ کس قبیلہ سے ہیں؟
خاتون:" وَلَا تَقْفُ مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ ۚ إِنَّ السَّمْعَ وَالْبَصَرَ وَالْفُؤَادَ كُلُّ أُولَٰئِكَ كَانَ عَنْهُ مَسْئُولًا" 
"اور ایسی بات کے پیچھے نہ پڑو جس کا تجھے علم نہیں کیونکہ اس بات کے متعلق کان، آنکھ اور دل سب کی باز پرس ہوگی" الاسراء 36.

عبد اللہ: میں نے آپ سے غلط سوال کر دیا، مجھے معاف کر دیجئے؟

خاتون:" لَا تَثْرِيبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ۖ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ" آج تم پر کوئی گرفت نہیں۔ اللہ تمہیں معاف کردے،( یوسف92)

عبد اللہ: کیا میں آپ کو اپنی اونٹنی پر بیٹھاکر آپ کے قافلے تک چھوڑ دوں؟

خاتون:" وَمَا تَفْعَلُوا مِنْ خَيْرٍ يَعْلَمْهُ اللَّهُ"
"تم جو نیکی کرو گے اس سے اللہ تعالیٰ باخبر ہے" البقرۃ 197.
یعنی اگر تم یہ احسان کر دو گے تو اللہ رب العالمین تمہیں اس کا اجر دے گا،

 میں اپنی اونٹنی کو بیٹھایا، تو اس کی طرف دیکھ رہا تھا کہ ضعیف عورت ہے،  شاید سوار ہونے میں کوئی پریشانی ہوگی تو میں مدد کر دونگا،
خاتون:"قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِم"
" مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں"  النور 30.

میں نے اپنی آنکھیں پھیر لی اور کہا بیٹھ جائیے ؟

جب وہ خاتون بیٹھنے گی تو اوٹنی بدک 
گی اور ان کا کپڑا تھوڑا سا فٹ گیا،

خاتون:" وَمَا أَصَابَكُم مِّن مُّصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ"
" اور تم پر جو بھی مصیبت  آتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے" 
           الشوری 30.

عبد اللہ: آپ کچھ دیر صبر کیجئے، میں اوٹنی کا پیر باندھ دیتا ہوں،

خاتون: " فَفَهَّمْنَاهَا سُلَيْمَانَ" 
"ہم نے اس کا صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا"    الانبیاء 79.
 مراد: آپ بہت عقلمند انسان ہیں،

  عبد اللہ: جی تیار ہے آپ اب بیٹھ جائیے؟

خاتون جب سوار ہوئی تو کہنے لگی،
"سبْحَانَ الَّذِي سَخَّرَ لَنَا هَٰذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ۔۔وَإِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا لَمُنقَلِبُونَ"
"پاک ہے وہ ذات جس نے ہمارے لیے مخلوقات کو مسخر کردیا اور ہم اپنی قوت سے انہیں مسخر نہ کرسکے،
اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف  لوٹنے والے ہیں" الزخرف 13۔14.

میں .

میں اوٹنی کے لگام کو پکڑ کر تیز تیز چلنے لگا، اور اونٹنی کو تیز رفتار چلانے کے لئے جو آواز (سیٹی) دی جاتی ہے میں دینے لگا،

خاتون: " وَاقْصِدْ فِي مَشْيِكَ وَاغْضُضْ مِن صَوْتِكَ"
" اور اپنی چال میں اعتدال ملحوظ رکھو اور اپنی آواز پست کرو، لقمان 19.

تو میں اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کرتے  ہوئے عربی اشعار گنگنانے لگا،

خاتون:" فَاقْرَءُوا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ"
"جس قدر بھی آسانی سے قرآن پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو" مزمل 20.
( اشعار گنگنانے نے بہتر ہے کہ قرآن کی تلاوت کرو)

عبد اللہ: اللہ رب العزت نے آپ پر بہت رحم وکرم کا معاملہ کیا ہے،

خاتون:" وَمَا يَذَّكَّرُ إِلَّا أُولُو الْأَلْبَابِ"
"اور نصیحت صرف عقلمند ہی حاصل کرتے ہیں"   البقرۃ 269.
 ( یعنی آپ بہت عقلمند ہیں)
 جب میں تھوڑا دور چلا گیا تو میں نے سوال کیا،
عبد اللہ: کیا اس سفر میں آپ کا خاوند ہے؟

خاتون:" يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِن تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ" 
اے ایمان والو ! تم لوگ ایسی چیزوں کے بارے میں سوال نہ کرو کہ اگر وہ تمہارے سامنے ظاہر کردی جائیں تو تمہیں (ذہنی طور پر) تکلیف ہوگی"
                المائدہ 101.
میں سمجھ گیا کہ اس کا خاوند اس دنیا میں نہیں ہے،

میں خاموشی اختیار کرتے ہوئے چلنے لگا اور کوئی بات چیت نہیں کی یہاں تک کہ اس کے قافلہ سے جا ملا،

عبد اللہ: اس قافلہ میں آپ کا کون ہے؟

خاتون: "الْمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا"
 "مال و اولاد تو دنیا کی زینت ہے"
              الکہف 46.   
تو مجھے معلوم ہو گیا کہ اس قافلہ میں انکے بچے ہیں تو میں نے پوچھا اسکی کیا پہچان ہے،

خاتون:" وَعَلَامَاتٍ ۚ وَبِالنَّجْمِ هُمْ يَهْتَدُونَ"
"اور بھی بہت سی نشانیاں مقرر فرمائی اور ستاروں سے بھی لوگ راہ حاصل کرتے ہیں" النحل 16.

(مراد یہ کہ میرا بیٹا اس قافلہ کا قائد ہے)

عبد اللہ: آپ کے بچوں کا کیا نام ہیں؟

خاتون:" وَاتَّخَذَ اللَّهُ إِبْرَاهِيمَ خَلِيلًا" البقرۃ 125
     "وَكَلَّمَ اللَّهُ مُوسَىٰ تَكْلِيمًا" البقرۃ 164.
     "يَا يَحْيَىٰ خُذِ الْكِتَابَ بِقُوَّةٍ" مریم 12.

 ( یعنی میرے بڑے بیٹے کا نام ابراہیم
دوسرے کا نام موسیٰ، اور تیسرے کا نام
یحیی ہے)

عبد اللہ: میں نے آواز دی۔ اے ابراھیم! اے موسٰی! اے یحیی !
تو وہ لوگ خیمے سے باہر نکلیے،
پھر جب میں خیمہ کے اندر بیٹھ گیا تو وہ اپنے بچوں سے مخاطب ہو کر کہنے لگی،

خاتون:"فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَٰذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَىٰ طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ"
"اب یوں کرو کہ اپنا چاندی کا  سکہ دے کر کسی ایک کو شہر بھیجو کہ وہ دیکھے کہ صاف سھترا کھانا کہاں ملتا ہے"
مراد یہ کہ: مہمان آیا ہے اس کے لئے شہر سے بہترین کھانا خرید کر لاو،

ان میں سے ایک لڑکا شہر گیا اور کھانا خرید کر لایا پھر میرے سامنے پیش کیا،

خاتون:" كُلُوا وَاشْرَبُوا هَنِيئًا بِمَا أَسْلَفْتُمْ فِي الْأَيَّامِ الْخَالِيَةِ" 
"مزے سے کھاؤ، پیو اپنے ان اعمال کے بدلے جو تم نے گزشتہ دنوں میں کیا تھا"
              الحاقة24.

عبد اللہ ابن مبارک رحمہ اللہ نے ان کے بیٹوں سے کہا،
 تمہارا یہ کھانا میرے لئے اس وقت تک حرام ہے جب تک کہ میں اس امر( قرآنی آیات سے گفتگو)کے بارے میں نہ جان لوں،

بیٹوں نے کہا: یہ ہماری ماں ہے،
اور چالیس سال سے قرآن کی زبان میں ہی بات چیت کر رہی ہیں، اس خوف سے کہ کہی زبان سے کوئی ایسی بات نہ نکل جاۓ  جس کی وجہ سے اللہ رب العزت ناراض  ہو جائے، 

عبد اللہ:" ذَٰلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ"
" یہ اللہ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے"
               الجمعة 4.
ترجمہ: از المتكلمة بالقرآن.

امید کرتا ہوں کہ یہ واقعہ آپ سب کو پسند آیا ہوگا،
اللہ رب العالمین ہمیں بھی لوگوں کے ساتھ اچھی گفتگو کرنے کی توفیق دے۔
اور کسی سے کوئی ایسی بات نہ کہیں جسکی پاداش میں کل قیامت کے دن ہمارا مواخذہ ہو اور ذلت ورسوائی کا سامنا کرناپڑے۔
آخر میں اللہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں قرآن سیکھنے سکھانے اور اس پر عمل پیرا ہونے کی توفیق دے آمین ثم آمین یارب العالمین.
✨✨

عالمی یوم اردو

شاعر مشرق علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کا یوم ولادت....9 نومبر یوم اردو

نام محمداقبال، تخلص اقبال۔ لقب ’’حکیم الامت‘‘، ’’ترجمان حقیقت‘‘، ’’مفکراسلام‘‘ اور ’’شاعر مشرق‘‘۔
 ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ایف اے مرے کالج، سیالکوٹ سے کیا۔ عربی، فارسی ادب اور اسلامیات کی تعلیم مولوی میر حسن سے حاصل کی۔۱۸۹۵ء میں لاہور آگئے۔ بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں لینے کے بعد گورنمنٹ کالج، لاہور میں فلسفے کے پروفیسر ہوگئے۔۱۹۰۵ء میں بیرسٹری کی تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ وہاں قانون کے ساتھ فلسفے کی تعلیم بھی جاری رکھی۔ہائیڈل برگ(میونخ) یونیورسٹی میں ’’ایران میں مابعد الطبیعیات کا ارتقا‘‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی سند
 حاصل کی۔
 
۱۹۲۲ء میں ان کی اعلی قابلیت کے صلے میں ’’سر‘‘ کا خطاب ملا۔ ۱۹۲۷ء میں پنجاب کی مجلس مقننہ کے ممبر چنے گئے۔۱۹۳۰ء میں مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے۔اقبال نے شروع میں کچھ غزلیں ارشد گورگانی کو دکھائیں۔ داغ سے بذریعہ خط کتابت
 بھی تلمذ رہا۔ اقبال بیسویں صدی کے اردو کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ان کے اردو مجموعہ کلام کے نام یہ ہیں: ’’بانگ دار‘‘، ’’بال جبریل‘‘، ’’ضرب کلیم‘‘،’’ارمغان حجاز‘‘(اردو اور فارسی کلام)۔ ’’کلیات اقبال‘‘ اردو بھی چھپ گئی
 ہے ۔ فارسی تصانیف کے نام یہ ہیں:’’اسرار خودی‘‘، ’’رموز بے خودی‘‘، ’’پیام مشرق‘‘، ’’زبور عجم‘‘، ’’جاوید نامہ‘‘، ’’مسافر‘‘، ’’پس چہ باید کرد‘‘۔ ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء کو دنیا سے رخصت ہوگئے۔
 
دنیائے اردو میں 9 نومبر موصوف کے یوم ولادت کی نسبت سے  عالمی یوم اردو کے نام سے منایا جاتا ہے

بحوالۂ:پیمانۂ غزل(جلد اول)،محمد شمس الحق،صفحہ:270

علامہ اقبال کے یوم ولادت کے موقع پر موصوف کے کچھ منتخب اشعار احباب کی خدمت میں پیش ہیں......

آئین ِ جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
 
آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں 
محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی 
 
 اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

اچھا ہے دل کے ساتھ رہے پاسبان عقل 
لیکن کبھی کبھی اسے تنہا بھی چھوڑ دے 

اسی خطا سے عتاب ملوک ہے مجھ پر

کہ جانتا ہوں مآل سکندری کیا ہے

اسے صبح ازل انکار کی جرأت ہوئی کیونکر 
مجھے معلوم کیا وہ رازداں تیرا ہے یا میرا 
 
اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لا مکاں خالی 
خطا کس کی ہے یا رب لا مکاں تیرا ہے یا میرا 
 
امید حور نے سب کچھ سکھا رکھا ہے واعظ کو 
یہ حضرت دیکھنے میں سیدھے سادے بھولے بھالے ہیں 

انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے 
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
 
 انوکھی وضع ہے سارے زمانے سے نرالے ہیں 
یہ عاشق کون سی بستی کے یارب رہنے والے ہیں 

ایک سرمستی و حیرت ہے سراپا تاریک
ایک سرمستی و حیرت ہے تمام آگاہی
 
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی 
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی 

باطل سے دبنے والے اے آسماں نہیں ہم
سو بار کر چکا ہے تو امتحاں ہمارا.......
 
 باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں 
کار جہاں دراز ہے اب مرا انتظار کر 

بتوں سے تجھ کو امیدیں خدا سے نومیدی 
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے.....!
 
بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی 
بڑا بے ادب ہوں سزا چاہتا ہوں
 
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق 
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی 
 
پاس تھا ناکامی صیاد کا اے ہم صفیر

ورنہ میں اور اڑ کے آتا ایک دانے کے لیے

 پرانے ہیں یہ ستارے فلک بھی فرسودہ
جہاں وہ چاہیئے مجھ کو کہ ہو ابھی نوخیز

تجھے کتاب سے ممکن نہیں فراغ کہ تو 
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں

بدھ، 8 نومبر، 2023

اردو کےکلاسیکی شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر

آج کلاسیکی اردو کے معروف شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے۔
+اوچ شریف (نوائے اوچ رپورٹ/ یوم سہ شنبہ، بتاریخ 7 نومبر 2023ء) آج اردو اور پنجابی کے معروف شاعر اور برصغیر پاک و ہند کے آخری مغل فرماں روا بہادر شاہ ظفر کا یوم وفات ہے، محمد سراج الدین بہادر شاہ ظفر 24 اکتوبر 1775ء کو دہلی میں اکبر شاہ ثانی کے ہاں لال بائی کے بطن سے پیدا ہوئے۔ 1845ء میں پہلا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا، 11 جنوری 1849ء کو شہزادہ مرزا دارا بخت فوت ہوئے۔ 1850ء میں دوسرا دیوان مطبع سلطانی سے شائع ہوا، 10 جولائی 1856ء کو مرزا فخرو فوت ہوئے، 9 مارچ 1858ء کو بہادر شاہ ظفر کے خلاف مقدمے کا فیصلہ سنا گیا۔

17 اکتوبر 1858ء کو ملکہ زینت محل شہزادہ جواں بخت اور دوسرے افراد کے ساتھ دلی سے رنگون کے لیے روانہ ہوئے، 9 دسمبر 1858ء کو رنگون پہنچے، 3 نومبر 1962ء کو حلق کی بیماری میں مبتلا ہوئے،7 نومبر 1862ء بروز جمعہ صبح 5 بجے رنگون میں وفات پائی، اسی دن شام 4 بجے تدفین کر دی گئی۔

بہادر شاہ ظفر دیوان اول تک شاہ نصیر کے شاگرد رہے جب وہ حیدر آباد دکن چلے گئے تو پھر کچھ دن میر کاظم حسین بے قرار کے شاگرد رہے۔ جب وہ جان انفنسٹن کے میر منشی مقرر ہو کر دلی کو چھوڑ گئے کچھ عرصہ عزت اللہ عشق کی بھی شاگردی میں رہے اس کے بعد ذوق دہلوی (جب ذوق غلام رسول شوق کے شاگرد تھے) سے مشورۂ سخن کرتے رہے اور پھر یہ سلسلہ ذوق کی وفات تک 47 برس قائم رہا۔ ذوق دہلوی کی وفات کے بعد آپ مرزا غالب کے شاگرد ہو گئے، تاہم 1857ء کے غدر نے استادی شاگردی کا یہ سلسلہ بھی ختم کرا دیا۔

|تصانیف|

دیوانِ ظفر ،لاہور،ملک دین محمد اینڈ سنز،فروری 1939ء، 80 ص (شاعری)
دیوان سوم
دیوان دوم
دیوان اول

|منتخب کلام|

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی
جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی

لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار
بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی

تیری آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو
کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی

عکس ِ رخسار نے کس لیے ہے تجھے چمکایا
تاب تجھ میں مہِ کامل کبھی ایسی تو نہ تھی

کیا سبب تُو جو بگڑتا ہے ظفر سے ہر بار
خُو تری حور ِ شمائل کبھی ایسی تو نہ تھی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یا مجھے افسرِ شاہانہ بنایا ہوتا
یا مرا تاج گدایانہ بنایا ہوتا

اپنا دیوانہ بنایا مجھے ہوتا تُو نے
کیوں خرد مند بنایا، نہ بنایا ہوتا

خاکساری کے لئے گرچہ بنایا تھا مجھے
کاش خاکِ درِ جانانہ بنایا ہوتا

تشنہء عشق کا گر ظرف دیا تھا مجھ کو
عمر کا تنگ نہ پیمانہ بنایا ہوتا

دلِ صد چاک بنایا تو بلا سے لیکن
زلفِ مشکیں کا تیرے شانہ بنایا ہوتا

تھا جلانا ہی اگر دوریء ساقی سے مجھے
تو چراغِ در میخانہ بنایا ہوتا

شعلہء حسن چمن میں نہ دکھایا اس نے
ورنہ بلبل کو بھی پروانہ بنایا ہوتا

روز معمورہء دنیا میں خرابی ہے ظفر
ایسی بستی کو تو ویرانہ بنایا ہوتا
٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 2 نومبر، 2023

سرمائی تعطیلات کو کارآمد بنائیں

 سرمائی تعطیلات کو کارآمد بنائیں 

*اَلسّلام علیکم!*

ریاست مہاراشٹر میں تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں کیلئے سرمائی / دیوالی تعطیلات کا اعلان کردیا گیا ہے جو کہ 9 نومبر تا 25 نومبر 2023 تک جاری رہیں گی۔ تعطیلات کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ طلبہ اور اساتذہ دونوں اپنی ذہنی اور جسمانی تھکان کو ختم کر سکیں اور نئے جوش و خروش کے ساتھ دوبارہ اس عمل میں شراکت کریں جو اُن کے کیریئر اور مستقبل کو تابناک بنانے کا وسیلہ ہے۔

اُستاد اور شاگرد تعلیم یا علم کے پروگرام کے دو لازمی عناصر ہیں۔ ایک مثالی معلّم طلبہ کو اسکول میں پڑھانے کے بعد سرما کی چھٹیوں کیلئے بھی کام دیتا ہے۔ سرمائی چھٹیوں کا کام بچوں کی ضروریات اور دلچسپیوں کے مطابق ہونا چاہئے۔ براہ راست کتب سے سوالات کے انتخاب کی بجائے معلّم یا معلّمہ خود تخلیقی نوعیت کے سوالات بنا کر طلبہ کو ان کے جوابات تیار کرنے کی ترغیب دیں۔ جماعت کے طلبہ سے مشاورت کر کے چھٹیوں کا کام تفویض کیا جائے اور چھٹیوں کا کام تحریری اور زبانی یادداشت دونوں طرح کا ہونا چاہئے۔ چھٹیوں کا کام اتنا زیادہ نہ ہو کہ طلبہ کی تفریح، آرام و سکون، ذاتی اور گھریلو مصروفیات کا وقت بھی چھین لیا جائے۔ چھٹیوں کا کام سزا کے طور پر نہ دیاجائے۔

سرمائی تعطیلات میں والدین بچوں کی تعلیمی کمزوریوں کو کم سے کم کرنے کے لیے موثر کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اس حوالے سے بہتر منصوبہ بندی کیلئے والدین اساتذہ سے مل کر بچوں کی کمزوریوں کو جاننے کی کوشش ضرور کریں۔ کسی بھی مضمون یا صلاحیت میں کمزوری کے پیش نظر چیک لسٹ بنائی جا سکتی ہے کہ بچے کی چھٹیوں سے قبل صورتحال کیا ہے اور بعد میں رفتہ رفتہ کیا پوزیشن ہوگی۔ کمزوری کے پیش نظر سرگرمیاں ترتیب دی جائیں اور انہیں لاگو کرنے کیلئے نظام الاوقات مرتب کیا جائے۔

اساتذہ اور والدین دونوں کی ذمّہ داری ہے کہ وہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت تعطیلات کے دورانیے کو طلباء کیلئے مفید بنائیں۔ چھٹیوں میں طلبہ کی نگرانی نہ کی جائے تو ان کا منفی قسم کی تفریحی سرگرمیوں میں مصروف ہو جانے کا اندیشہ بھی رہتا ہے۔ تعطیلات کے دوران طلبہ کو ایسا ماحول فراہم کیا جانا چاہئے کہ وہ میقات اوّل کی پڑھائی کے بعد تازہ دم ہو سکیں تاکہ دوبارہ  نئے جوش کے ساتھ اس عمل میں اپنی شراکت کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر والدین اور سرپرستوں کو بھی اعتدال پسندی کا مظاہرہ کرنا چاہئے اور اپنے بچوں کو ان کی عمر اور دلچسپیوں کے لحاظ سے ان سرگرمیوں میں مصروف رہنے کی راہ ہموار کرنا چاہئے جو ان کی شخصیت کو مثبت طور پر پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہو۔ بظاہر اس سادہ لیکن در حقیقت پیچیدہ موضوع کی طرف سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ایسی متوازن راہ بنائی جاسکے جس پر چل کر طلبہ کی فطری نشوونما اور ان کی شخصیت کی ہمہ گیر ترقی ممکن ہو سکے کہ یہی تعلیم کا بنیادی مقصد بھی ہے۔

ایک بات کا خاص طور پر خیال رہے کہ نبی کریم ﷺ کو وہ عمل زیادہ محبوب ہے جو ثابت قدمی سے مسلسل کیا جائے۔ لہٰذا چھٹیوں کیلئے جو نظام الاوقات اور تربیتی امور طے کرلیں، انھیں باقاعدگی سے انجام دیں اور چھٹیوں کے بعد بھی یہ سلسلہ جاری رکھیں، تب ہی مؤثر اور نتیجہ خیز تربیت ہوسکے گی۔ اپنی تمام تر کوششوں کے ساتھ الله تعالیٰ سے مدد، استعانت اور دعاؤں کا خصوصی اہتمام بھی ضرور کیجئے۔

چھٹیاں اور ہمارا طرز عمل

چھٹیاں اور ہمارا طرز عمل

*السّلام عليكم!*

اسکول کی چھٹیوں کا سب بچوں کو ہی انتظار رہتا ہےاور وہ ایسا لگتا ہے کہ آزادی کا انتظار کررہے ہوتے ہیں، بچے خوش ہوتے ہیں کہ چلو روز روز اسکول جانے، اسکول ورک، ہوم ورک اور استاد کی ڈانٹ سے جان چھوٹی، اسلئے خوب مزے کریں گے اور جیسے چاہیں گے ویسا کریں گے۔ چھٹیاں کہنے کو تو صرف بچوں کی ہوتی ہیں لیکن بچوں کے ساتھ ساتھ بڑے بھی ان چھٹیوں کا لطف اٹھا لیتے ہیں۔ چھٹیاں ہونے پر گھر کے بڑوں کو بھی جیسے چھٹی مل جاتی ہے۔ بچوں کو صبح اٹھ کر اسکول کے لیے تیار کرنا، انہیں ٹفن بنا کر دینا اور انہیں اسکول چھوڑ نے جانا، ان سب چیزوں سے گھر کے بڑوں کو بھی چھٹی مل جاتی ہے اور کچھ دن کیلئے وہ آرام کی زندگی جی لیتے ہیں۔

 یوں چھٹیاں شروع ہوتے ہی بچوں کی آزادی اور بےفکری کے دن شروع ہوجاتے ہیں۔ دوسری طرف  مائیں پریشان ہوجاتی ہیں کہ بچے دن بھر کیا کریں گے۔ زیادہ تر بچے اپنی چھٹیاں کھیل کود کر گزار دیتے ہیں، یوں ان کی چھٹیاں بےمصرف گزر جاتی ہیں۔ یقیناً بچے جب دن بھر گھر میں رہیں گے تو شرارتیں بھی کریں گے اور نت نئی فرمائشیں کرکے آپ کو پریشان بھی کریں گے۔ چھٹیوں کے دوران عموماً بچوں میں ایک خاص تبدیلی آجاتی ہے۔ ان کا رویہ کبھی کبھی جارحانہ سا ہوجاتا ہے اور ان کو دیکھ دیکھ کر ماں کا رویہ بھی جارحانہ ہوتا جاتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو آپ کا رویہ ٹھیک نہیں۔ ہونا یہ چاہئے کہ بچوں کی ان چھٹیوں سے پہلے ان کیلئے کچھ پروگرام ترتیب دینا چاہئے اور چھٹیوں کا آغاز ہوتے ہی ان پروگراموں کو عملی جامہ پہنانا چاہئے۔ 

ترقی یافتہ ملکوں اور قوموں کے افراد اپنی تعطیلات اور فراغت کے اوقات اپنے ذاتی ملکوں اور خداداد صلاحیتوں کو اجاگر کرنے، اپنے افکار میں وسعت پیدا کرنے اور اپنی عقول کو جدید علوم و معارف اور آداب سے صیقل کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ ہم سے ہر شخص جانتا ہے کہ فراغت و بیکاری ایک واقعی مسئلہ ہے جس سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا۔ البتہ ہم صحیح پلاننگ اور مفید منصوبہ بندی کر سکتے ہیں اور اس کے ذریعے ہم اکتاہٹ سے خلاصی پا سکتے ہیں، چھپی ہوئی رغبتوں اور صلاحیتوں کو اجاگر کر سکتے ہیں اور ذاتی صلاحیتوں میں اضافہ کر سکتے ہیں اور اچھی عادات و اطوار کو تقویت پہنچا سکتے ہیں۔