منگل، 26 ستمبر، 2023

کیا ساڑھے پانچ ہزار سال پہلے فنا ہونے والی ایک قوم کو ایٹمی تابکاری کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا ؟؟؟

کیا ساڑھے پانچ ہزار سال  پہلے فنا ہونے والی ایک قوم کو ایٹمی تابکاری  کے ذریعے عذاب دیا گیا تھا ؟؟؟

••┈┈•••○○❁⭕❁○○•••┈┈••

تقریبا ساڑھے پانچ ہزر سال پہلے کی بات ھے ۔ ایک بہت ہی زبردست قوم ہوا کرتی تھی ۔ وہ لوگ سائنسی ترقی اور ٹیکنالوجی کے لحاظ سے ترقیوں کی معراج  پر تھی ۔ وہ لوگ پہاڑوں کو اس خوبصورت طریقے سے تراش کر مضبوط ترین محلات  اور تعمیرات کیا کرتے تھے کہ آج کی سائنس ان کی عقل دانش پر اش اش کر اٹھے ۔ وہ لوگ اس قدر زہین اور ماہرین تعمیرات تھے کہ اللہ کے مقابلے (نعوذ  باللہ)  میں جنت بنا دیا کرتے تھے ۔ وہ انتہائی طاقتور قدآور اور جینیئس  تھے ۔ اپنی انہی خصوصیات کی وجہ سے وہ اس دور کی سپر پاور کہلاتے تھے۔
اپنی ترقی تعمیرات اور خصوصیات کی وجہ سے سرکش ہوتے چلے گئے ۔ وہ خدائے  وحدہ لاشریک کے وجود سے منکر ہوگئے تھے ۔ انبیاء ان کو ہدایت کی بات  سمجھاتے تو وہ ان کا مذاق اڑاتے اذیتیں پہنچاتے ، اپنی بستیوں سے تشدد کرکے  نکال دیا کرتے ۔
وہ خطہ بہت سر سبز وشاداب تھا۔ لیکن جب ان پر عذاب  نازل کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا تو ان کے ہاں بقرشین روک دی گئیں لیکن وہ  پھر بھی باز نہ آئے ۔ ان کے ہاں بارشوں اور بادلوں نے اپنے رب کے حکم سے بالکل رخ پھیر لیا جس کی وجہ سے وہاں قحط سالی والی صورتحال پیدا ھوچلی تھی۔ پھر ایک روز انتہائی عجیب و غریب واقعہ رونما ہوا۔
انہوں ایک روز  آسمان پر اٹھنے والے ایک دھوئیں کے بادل کو دیکھا جو تیزی سے ان کی طرف  بڑھ رہا تھا اس بادل کو دیکھ کر وہ بہت خوش ہوئے اور سمجھے کہ ان کی قحط سالی ختم ہوگئی ہے یہ بادل خوب برسے گا اور ایک بار پھر ان کے ہاں ہر طرف ہریالی اور سبزے کا دور دورہ ہو جائے گا۔ لیکن یہ بادل قہر برسانے والا تھا۔ یہ وہ بادل نہیں تھا بلکہ اس بادل نے سوائے ان کے مضبوط مکانات محلات کے کچھ بھی نہیں چھوڑا تھا۔
قرآن پٌاک میں اس واقعہ کا ذکر کچھ اس طرح ملتا ھے ۔
پھر جب انہوں نے اسے دیکھا کہ وہ ایک ابر ہے جو ان کے میدانوں کی طرف بڑھا چلا آ رہا ہے، کہنے لگے کہ یہ تو ابر ہے جو ہم پر برسے گا، (نہیں) بلکہ یہ  وہی ہے جسے تم جلدی چاہتے تھے یعنی آندھی جس میں دردناک عذاب ہے۔ وہ اپنے  رب کے حکم سے ہر ایک چیز کو برباد کر دے گی پس وہ صبح کو ایسے ہو گئے کہ  سوائے ان کے گھروں کے کچھ نظر نہ آتا تھا، ہم اسی طرح مجرم لوگوں کو سزا  دیا کرتے ہیں۔ 
24/25 سورہ احقاف

وہ ایک ایسی تند و تیز اور تابکاری اثرات والی ھوا تھی جس نے ہزاروں سال گزرنے کے بعد بھی اس خطہ زمین کو آباد  نہیں ھونے دیا تھا۔ وہاں پر کسی نباتات اور ہریالی کو نہ تو چھوڑا تھا اور نہ ہی کسی کو سلامت رھنے دیا تھا۔ وہ ہوا جہاں جہاں سے گزرتی انسانوں کے جسموں سے گوشت کو اتار کر اسے صرف ہڈیوں کا پنجر رھنے دیتی (ایٹمی حملے کی  طرح انسانوں کے جسموں کا گوشت پگھل کر بھاپ میں تبدیل ہوگیا۔ ) وہ ھوا ایسی بانجھ کر دینے والی تھی جیسے تابکاری کسی جگہ کی زمین کے اندر تک اثر  کرکے اس کو بانجھ کر دیتی ھے کسی چیز کو پیدا نہیں ھونے دیتی ۔
اللہ تعالی قرآن حکیم میں ارشاد فرماتا ہے ۔
جب ھم نے ان پر بانجھ ھوا بھیجی ۔ وہ جس چیز پر سے گزرتی اسے بوسیدہ ہڈیوں کی طرح کئے بغیر نہ چھوڑتی ۔ الذاریات 41/42

اس تابکاری نما ھوا نے ان کے جسموں کو گوشت کے بغیر بوسیدہ ہڈیوں جیسا بنا دیا۔ سب کچھ مٹ گیا۔ نہ نخلستان رھے نہ خوشنما باغات نہ سبزہ ۔  ھر طرف اڑتی ریت اور انسانی ڈھانچے رہ گئے۔ یہ پورا خطہ خالی ہوگیا۔ آج بھی یہاں دور دور تک صرف ریت اڑتی نظر آتی ھے۔ آج کے زمانے میں اس خطے کو ربع خالی کے نام سے ہی پکارا جاتا ھے ۔
چار ہزار سال گزر گئے ۔۔
ایک روز اسی علاقے سے دنیا کے بہترین انسانوں کا ایک لشکر گزرا جس کی قیادت  کائنات کے سب سے بہترین انسان کر رھے تھے۔ لشکر ایک طویل مسافت طے کرکے آرھا تھا۔ اھل لشکر نے اس خطے میں کچھ کھنڈرات دیکھے تو وھاں کچھ دیر رک کر  آرام کرنے اور کھانے پینے کا ارادہ کیا۔ وہیں ایک کنواں بھی موجود تھا۔ اھل لشکر نے  کنوئیں سے پانی لیا وھاں کچھ خشک لکڑیاں اکٹھی کی اور ان کو جلا  کر روٹی اور سالن تیار کرنے لگے۔

جب دو جہاں کے سردارﷺ اور لشکر کے قائد کو اس بارے معلوم ھوا تو آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ کنوئیں  سے نکالا ھوا پانی ، پکائی ھوئی روٹیاں اور تیارشدہ سالن کو ضائع کردو اور اس میں سے کچھ بھی نہ کھاؤ اور نہ ہی پیو ۔۔ جتنی جلدی ھوسکے یہاں سے آگے نکل جاؤ ورنہ تم سب پر بھی بلا آ سکتی ھے ۔ یہاں پر ایک قوم کو عذاب دیا گیا تھا۔   یہاں کی کسی چیز کو مت استعمال کرنا۔
یہ کھانا جو ایک بڑے لشکر کے لئے تیار کیا گیا تھا۔ بہت بڑی مقدار میں تھا۔ لیکن آپ ﷺ کے حکم پر سارے کا سارا ضائع کر دیا گیا۔
یہ آپ ﷺ کا علم جو اللہ نے عطا کیا تھا کہ آپ ﷺ نے اس جگہ پر نہ نظر آنے والی وبا یا بلا کا پتہ لگا لیا تھا جو انسانوں کے لئے مہلک تھی ۔
قران پاک میں اس ھوا کے لئے لفظ ریح العقیم استعمال کیا گیا ھے۔  ریح کا مطلب ھوا اور عقیم بانجھ عورت مرد یا زمین کو کہا جاتا ھے ۔
علماء ا کرام اس لفظ بانجھ ھوا کے معنی عرصہ دراز تک تلاش کرتے رھے لیکن  ایسی بانجھ ھوا کے بارے میں نہ جان سکے جو اتنی ہلاکت خیز تھی کہ جسم سے  گوشت پگھلا کر ھڈیوں کو بوسیدہ کر دے اور اس جگہ پر موجود ھر چیز کوایسا  بانجھ کردے کہ وہاں ھزاروں سال بعد بھی کوئی چیز کچھ نہ پیدا کر سکے ۔  موجودہ دور میں جب ایٹمی تجربات اور ان کی نابکاری کے بارے جاننے کے بعد  خیال اس طرف جاتا ھے  اور قران پاک کی ان آیات کے مفہوم واضح ھونے لگے ۔  ایک ایسا بادل جو نہایت برق رفتاری سے  بڑھتا ھے۔۔ اور پھر آناً فاناً  تباہی مچا دیتا ھے۔۔  کسی کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دیتا۔ پھر اس کے بعد  ایک ایسی بانجھ ھوا جو سب کچھ ختم کرکے ہزاروں سال تک وہاں کچھ پیدا نہیں  ھونے دیتی ۔۔
اللہ پاک ھم سب کو ہدایت عطا فرمائے اور اپنے حبیب ﷺ  کے صدقے کسی بھی ایسی پکڑ سے محفوظ رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین عزوجل
واللہ عالم ۔

اتوار، 24 ستمبر، 2023

مثالی استاد کے اوصاف سیرت طیبہ کی روشنی میں

مثالی استاد کے اوصاف سیرت طیبہ کی روشنی میں 

کسی بھی سماج میں استاد کا مقام نہایت اہمیت کا حا مل ہو تا ہے۔ استاد دانشمند انہ ٍروایات کی منتقلی اور تہذیب کے چرا غوں کو روشن کر تا ہے۔تعلیم کی جدید کاری و تعمیر میں سب سے اہم کر دار استاد کا ہو تا ہے۔استاد کی تعلیمی لیاقت،ذاتی اوصاف اور اس کو تر بیت فراہم کر نے والے ادارے معاشر ے میں پسندیدہ اقدار کے منتقلی میں ایک طاقتور ذریعے کا کام انجام دیتے ہیں۔اساتذہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بچوں کی پو شیدہ صلاحیتوں کا جائزہ لیتے ہوئے ان کو بہتر طریقہ سے پروان چڑھائیں۔ زندگی سے مختلف پیشے جڑے ہوتے ہیں جن سے مختلف پیشہ وار افراد تعلق رکھتے ہیں ڈاکٹر ی کا پیشہ عوامی صحت سے تعلق رکھتا ہے،جبکہ انجینئر کا تعلق تعمیری پہلو سے ہو تا ہے جہاں ایک انجینئر سڑکوں،پل،ڈیم اور گھروں کی تعمیر کی ذریعہ سماج کی تعمیر ی ضروریات پر توجہ مرکوز کر تے ہوئے عوامی راحت اور سہولتوں کی فراہمی میں پیش پیش رہتا ہے وہیں ڈاکٹر عوامی زندگی کی طوالت کو یقینی بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ یہ پیشے بیشک سماج کے لئے نہایت ہی کارآمد ہیں لیکن ان کی رسائی انسانی زندگی کے چند شعبوں تک ہی محدود رہتی ہے۔ جب کہ پیشہ تدریس انسان کی جسمانی،معاشرتی،ذہنی اخلاقی،روحانی اور جمالیاتی فروغ میں اہم کردار انجام د یتاہے جس کی وجہ سے پیشہ تدریس کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جا تا ہے۔ ایک استاد پیشہ تدریس میں ایک قائدانہ کردار کا حامل ہو تاہے اسی لئے اس سے چند توقعات بھی وابستہ کی جا تی ہیں کہ وہ تعلیمی اغراض و مقاصد پر کامل دسترس کا حا مل و عامل ہو تاکہ ہر حال میں پیشہ کا تقدس بر قرار ر کھا جا سکے۔
 پیشہ تدریس کا انتخاب کر لینے اور اس کی تر بیت کے حصول سے ایک قابل استاد کی تیاری ممکن نہیں ہے۔ چند پسندیدہ شخصی اوصاف اور پیشہ وارانہ مہارت کے امتزاج سے ایک موثر اور کا میاب استاد کو تیار کیا جا سکتاہے۔ استاد اپنا بیشتر وقت طلبہ کی قر بت میں گزارتا ہے جس کے نتیجے میں استاد کے رویوں،حر کات و سکنات،پسند و نا پسند اور بر تاؤ کا طلبہ پر گہر ا اثر پڑتاہے۔ اپنے دوستانہ بر تاؤ صبر اور خاموشی مزاجی کے ذریعے استاد کمرۂ جماعت میں ایک اچھی جذباتی فضاء کو ہموار کر تا ہے۔ادنی واعلی لیاقت کے حا مل طلبہ کے ساتھ مساویانہ تعلیمی منصوبہ بندی اور عمل پیرائی کے ذریعے سے ایک اچھے استاد کا  پتہ چلتاہے۔انسانیت کے چراغوں کو روشن و منور کر نے کے لئے ضروری ہے کہ استاد طلبہ کے فطری محرکات،خواہشات اور رویوں کو شائستہ بنانے کے ساتھ انھیں صحیح سمت پر گامزن کریں۔طلبہ میں یقین و خود اعتمادی کو فروغ دینا کے علاوہ ایک استاد کا فرض اولین ہوتا ہے کہ وہ طلبہ میں تخلیقی صلاحیتوں کو نکھار ے اور ان کو تر قی کی راہوں کو متعین کر یں۔
اساتذہ کے مطلوبہ اوصاف میں علمیت،حس مزاح، باہمی اشتراک،جذبہ خدمت،پیشہ سے دیانت، شخصی جاذبیت، کھلاذہن، توجیہ و استدالال،قوت ارادی،استقلال،غیر جانبداری،مہذب انداز اور عزت نفس جیسے اوصاف کا پایا جانا نہایت اہم تصور کیا جا تاہے کیونکہ طلبہ پر گہرا اور دیر پا اثر ایک کا میا ب استاد کی شخصیت کا ہی ہوتا ہے۔اساتذہ کا شمار قوم کے سب سے زیادہ ذہین اور باشعور طبقے میں ہوتا ہے اساتذہ کے فرائض منصبی میں تعمیر قوم،کردار سازی، تزکیہ نفس،قیادت کی تیاری،قیادت کو اعلی نظریات سے متصٖف کرنا حق و باطل،جائز و نا جائز اور حلال و حرام کا شعور بیدار کر نا بھی شامل ہیں۔زندہ قومیں اپنا نظام تعلیم اپنے عقائد،افکار اور اپنی تہذیب و کلچر کی روشنی میں تر تیب دیتی ہیں۔
نبی کریم صلی اللہ و علیہ و سلم کوبنی نوع انسان کے لئے رہبر،ہادی،رہنما اور معلم اعظم بنا کر بھیجا گیا۔دنیا میں آپ کی بعثت کا مقصد علم و حکمت کی تعلیم کی اشاعت تھا۔آپ کو علم و حکمت کی تعلیم خود رب ذوالجلال نے دی اور تمام انسانیت کے لئے معلم بنایا۔آپ کی حیات مبارکہ زندگی کے ہر شعبے میں مقتدا اور رہنماہے۔سیرت طیبہ کے مطالعہ سے ایسے پسندیدہ اوصاف کا ہم کو پتہ چلتاہے جس کے ذریعے ایک کامیاب،مثالی اور متناسب استادکی تیاری ممکن ہے جوسیر ت طیبہ کی روشنی میں طلبہ کی علمی تشنگی کو دور کر نے کے سامان فرا ہم کر سکتاہے۔ بیشتر ما ہرین تعلیم جن کے نظریات جدید تعلیمی فلسفہ و اصول نفسیات اور در س و تدریس کے اساس مانے جا تے ہیں سیر ت رسول کے مطالعے سے یہ خوش گوار انکشاف ہو تا ہے کہ یہ سب کے سب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نظریہ تعلیم و تعلم کے خوشہ چیں ہیں۔
اکتساب کے عمل میں استاد کا نرم و شیریں لہجہ اور مشفق رویہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔نبی کر یم صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی تکلم فر ماتے آپ کا لہجہ نہایت ہی شیر یں اور ملائم ہو تا اور آپ کی تعلیم سامعین کی دلوں پر راست اثر کر تی تھی۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے صحابہ کرام کو بھی نرم اور شفیق بننے کی تلقین فر مائی۔آپ نے فر مایا کہ تعلیم کو آسان کر و اور لوگوں کو مشکل میں نہ ڈالو۔آج کا سائنسی طریقہ تعلیم بھی اسی بصیرت افروز نکتہ کی طر ف توجہ دلاتا ہے کہ ایک معلم آسان سے مشکل کی طر ف پیش قدمی کرے۔سیر ت طیبہ ایک کامیاب استاد کے لئے لازمی قراد دیتی ہے کہ وہ آہستہ اور ٹھہر ٹھہر کرتدریسی کا م کو انجام دیں تاکہ طلبہ کو پوری بات باآسانی سمجھ میں آسکے اور اس کو سبق کے استحضار میں سہولت ہو۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم کسی بات کی اہمیت کوظاہر کر نے کے لئے بات کو دو یا تین بار دہرایا کر تے تھے۔ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فر ماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم جب بھی گفتگو فر ماتے تو درمیان میں وقفہ فر ماتے اور بات کو کھول کھول کر بیان کرتے تاکہ وہ  بات سننے والے کے ذہن میں اتر جائے۔
ایک مثالی استاد کی گفتگو فصاحت و بلاغت سے لبریز ہو نی چاہیے موضوع کی مکمل تفہیم کے لئے الفاظ کاانتخاب، مختصرجملوں کے علاوہ جملوں کی خاص تر کیب طالب علم کو کسی بھی الجھن اور مغالطے سے محفوظ رکھتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو تمام عرب " افصح العرب"کہتا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ سلم کی گفتگو کی تاثیر کا قائل تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو جوامع الکلم سے نوازا گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم بڑے سے بڑے موضوع کو نہایت مختصر آسان جملوں میں مکمل کردیتے تھے جیسے سمندر کو کوزے میں بند کیا جا تاہے۔موثر اور کامیاب تدریس کے لئے ایک استاد کو چاہیے کہ سرکار کے اسوہ سے فیض حاصل کرے۔اپنی لسانی صلاحیتوں کی بناء پر ادق سے ادق مضامین کو سہل اور دلچسپ بناکر طلبہ کو پیش کر یں۔اکثر اساتذہ مناسب اور بہتر لسانی صلاحیتوں سے عاری ہو نے کی وجہ سے مو ثر تدریس کی انجام دہی میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ایک کامیاب اور مثالی استاد کے لئے لازمی ہے کہ وہ زبان کی فنی باریکیوں اور اس کی بنیادی مبادیات سے واقف ہوں تاکہ وہ طلبہ کو فوری اکتساب کے عمل کی جا نب راغب کر سکے۔
سبق کی کامیاب منصوبہ بندی اور تدریس کے لئے ضروری ہے کہ معلم طلبہ کی ذہنی صلاحیت و استعداد کا خیال رکھے۔کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و سلم مخاطب کی ذہنی صلاحیت اور استعداد کے مطابق اس کو نصیحت فر ماتے تھے۔ایک صحابی کا واقعہ اس ضمن میں بیان کر نا مناسب معلوم ہو تاہے تاکہ نفس مضمون کو وضاحت حا صل ہو سکے۔ایک صحابی نے فر مایا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم میں بہت زیادہ گناہوں میں گرفتار ہوں اور میر اان سے پیچھا چھوڑانا بھی مشکل نظرآتا ہے۔ اگر آپ کہیں تو میں صرف ایک برائی کو چھوڑ سکتا ہوں۔آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے پہلے ان سے سچ بولنے کا وعدہ لیا اور ان کی ذہنی اور نفسیاتی کیفیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے فرمایا کہ ٹھیک ہے تم صرف جھوٹ بولنا چھوڑ دو۔صحابی رسول نے جب جھوٹ سے اعراض کر لیاتو باقی خرابیاں از خود ختم ہوگئیں۔ ایک معلم کو چاہیے کہ وہ درس و تدریس کے دوران طلبہ کی ذہنی استعداد اور صلاحیتوں کو پیش نظر رکھیں اور تدریسی عمل کو حکمت و دانائی سے متصف کرے۔
ایک کامیاب استاد اپنی تدریس کو مثالوں کے ذریعہ دلکش اور دلچسپ بنا تا ہے۔سرکار صلی اللہ علیہ و سلم صحابہ کو اکثر مثالوں کے ذریعہ تعلیم دیتے تھے۔ایک آدمی نے عرض کیا یا رسول اللہ میر ی بیوی کو سیاہ بچہ تولد ہو ا ہے جبکہ ہم ماں اور باپ دونوں بھی سفید ہیں پھر بھی یہ لڑکا سیاہ ہے۔آپ ﷺنے مو قع کی نازکت کا جا ئزہ لیتے ہوئے فرمایا کہ کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟اس نے کہاہا ں ہیں۔آپ ﷺنے سوال کیا کہ کیا ان میں کوئی سیاہی ما ئل اونٹ بھی ہیں۔اس نے کہا کہ ہا ں ہے آپﷺنے پھر سوال کیا کہ وہ سیاہی ما ئل اونٹ سرخ اونٹوں میں کہا ں سے آگیا۔اس نے کہا ہوسکتاہے کہ اس کی نسل میں کوئی اس رنگ کا رہا ہو۔آپﷺ نے فر مایا کہ یہ بچہ بھی تمہارے اصل نسب کے اثر سے ہی سیاہ ہوا ہے۔کا ر نبوت سے وابستہ افراد یعنی کے اسا تذہ کو چاہیے کہ وہ طلباء کے سوالات کا تحمل سے سامناکر یں اور بہت ہی صبرو تحمل اور دانش مندی سے طلبہ کے سوالات کے جوابات دیں ان کو مذاق اور اپنے عتاب کا نشانہ نہ بنائیں۔
دینا کی سب سے معظم و بر گزیدہ شخصیت نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حا ضر ہو کر زنا کی اجازت طلب کر تا ہے۔قربان جائیے معلم انسانیت پر کہ آپ کی پیشانی پر کوئی شکن تک نہیں ابھری اور آپ نے بڑے صبر و تحمل سے فرمایا کہ کیاتم اجازت دے سکتے ہو کہ کو ئی شخص تمہاری  ما ں،بہن،بیوی یا بیٹی سے زنا کر ے اس نے کہا کہ ہر گز میں اجازت نہیں دے سکتا۔آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ جس کسی خاتون سے وہ منہ کا لا کر ے گا وہ بھی کسی کی ماں،بہن،بیوی یا بیٹی ہے اسی لئے تم اپنے آپ کو اس ؎گناہ سے روک لو۔گنا ہ کی رغبت رکھنے والا شخص  آ پ کی تعلیم کے نتیجے میں زنا جیسے خبیث گنا ہ سے نفرت کر نے لگتاہے۔دعویداران علوم نبوت کو چاہیے کہ وہ سرکار ﷺ کی اس سنت کو اپنی تدریسی اور تعلیمی کاز میں بروئے کار لائیں اور طلبہ کے اوٹ پٹانگ اور معصوم سوالات پر مشتعل نہ ہوں اور ان کو تشدد اور تمسخر کا نشانہ نہ بنائیں اور اعلی ظرفی کا مظاہرہ کریں اور طلبہ کی صحیح رہبری کر یں اور ان کی دل آزاری سے اجتناب کر یں۔دل آزاری سے پر ہیز لازمی ہے کیونکہ دل آزاری کے باعث طلبہ ڈھیٹ ا ور گستاخ بن جا تے ہیں۔آپ ﷺ کو جب کوئی بات یا فعل ناگوار گذر تی توآپ ﷺ ناگوار بات کہنے والے شخص کا نا م لیے بغیر فرما تے کہ لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ وہ ایسا کام کر تے ہیں اور فرماتے کہ وہ بہت ہی اچھا آدمی ہے اگر یہ کام چھوڑدے۔آپ ﷺ کے اس عمل سے اساتذہ کو در س ملتا ہے کہ وہ نا گوار حالات و واقعات پر بالراست تنقید سے پر ہیز کر یں اور سنت نبوی کی روشنی میں بالواسطہ نصیحت کر یں۔
ایک کامیاب معلم طلبہ میں نہ صرف حصول علم کا شوق پیدا کرتاہے بلکہ درس سے پہلے طلبہ کو حصول علم کے لئے آمادہ بھی کر تاہے۔درس کے درمیان مختصر وقفہ بھی دیں تاکہ طلبہ بوریت و اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں آپ ﷺ صحابہ کو ایک دن کے نا غے سے واعظ و نصیحت فرماتے تھے تاکہ وہ اکتاہٹ ا ور بوریت سے محفوظ رہیں۔سیر ت طیبہ کے مطالعہ سے معلوم ہو تا ہے کہ آپ ﷺ تر غیب و دلچسپی کے لئے تعلیم سے قبل مختلف سوالات کے ذریعہ مناسب ماحول اور فضاء پید ا کرتے تھے مثلا مفلس کون ہے؟ یا پہلوان کون ہو تاہے؟ یا وہ کون سا درخت ہے جو بہت ہی مبارک ہے؟وغیرہ۔
 ا ن تعلیمات کی روشنی میں معلوم ہوتا ہے کہ معلم اپنے درس سے قبل تعلیمی ما حول و فضاء کو ہموار کر نے کے ساتھ طلبہ میں محرکہ پیدا کرے اور ان کو تر غیب دیں پھر در س و تدریس کا آغاز کر یں۔بیشتر ماہرین تعلیم اس نظریہ کے قائل ہیں کہ بغیر ترغیب و محرکہ پید ا کئے موثر تدریس ناممکن ہے۔استاد چھوٹے چھوٹے سوالات کے ذریعہ بڑی بڑی حقیقتوں کو طلبہ سے روشناس کرسکتاہے۔اساتذہ کے لئے لازمی ہے کہ وہ فکر و تدبر سے لیس ہوں اور طلبہ میں بھی اس کو فروغ دیں وہ علم لا حاصل ہے جو فکر وتدبر کوپروان نہ چڑھا سکے۔آپ ﷺ قدرت کی کاری گری پر غور و فکر کر نے اور اس کی حکمت پر تدبر کرنے کی تلقین کر تے تھے۔آپ ﷺ نے فرمایا 
 "ایک گھڑی کا تفکر ساری رات کی عبادت سے بہتر ہے۔"
" ایک عالم کو ایک عابد پر وہی فضیلت حا صل ہے جو چودھویں کے چاند کو دیگر ستاروں پر۔"
"ایک فقہی شیطان کے لئے ہزار عابدوں سے زیادہ بھاری ہے۔"
آپ ﷺ کے  مذکورہ احادیث کی روشنی میں اساتذہ طلبہ میں غور و فکر کو پروان چڑھائیں کیونکہ فکر و تدبر ہی و ہ عمل ہے جس کے ذریعہ کا ئنات کے اسرار کو فاش کیا جا سکتاہے۔ایک کامیاب معلم کے لئے ضروری ہے کہ اس کے علم و عمل میں موافقت ہو۔ یہ ایک ابدی حقیقت ہے کہ علم عمل کے بغیر بیکار ہے اعمال صالحہ کے بغیر ایمان موثر نہیں ہو تا ہے اسی لئے ایک استاد کو چاہیے کہ وہ طلبہ کے سامنے اپنا عملی نمونہ پیش کر یں اور جو بھی پند و نصیحت کر ے اس پر پہلے خود عمل کرے تاکہ نصیحت تاثیر سے خالی نہ ہو۔علم و عمل اور قول و فعل کا تضاد انسان کے لئے بڑی تباہی کا باعث ہو تا ہے آج دنیا اسی کی وجہ سے تخریب اور تباہی کی آماجگاہ بنی ہوئی ہے۔انسان نے جدید علوم کے سہارے آسمانوں میں پرندوں کی طرح اڑنا اور ر سمندروں میں مچھلیوں کی طرح تیر نا تو سیکھ لیا ہے لیکن ایک انسان کی طرح مروت اور اخلاقی زندگی گزارنے سے عاجز ہے۔درس و تدریس سے وابستہ افراد کے لئے ضروری ہے کہ وہ علوم نافع کی طلبہ کو تر غیب دیں کیونکہ فرمان نبوی ﷺ ہے وہ علم جس سے نفع حاصل نہ کیا جائے وہ غیر مدفون خزانے کی مانند ہے۔علم نافع سے مراد وہ علم ہے جو انسان کو اللہ کی خوشنودی کا خوگر کر دے اور شریعت کا تابع بنانے کے ساتھ رضائے الہی کے مطابق اس کو انسانیت کی خدمت کے لئے وقف کردے۔غیر نافع علم سے مراد وہ علم ہے جو انسان کو صرف مادی خواہشات کا پرستار بنادے،دین سے بیزار کردے اور خود غرضی کا عادی کر دے۔قرآن نے آپ ﷺ کو بحثیت معلم انسانیت پیش کرتے ہوئے آپ ﷺ کی بعثت کے چار فرائض بیان کئے ہیں جن میں تزکیہ نفس بھی شامل ہے۔آپ ﷺ نے بے عمل عالم کو ایسے چراغ سے تشبیہ دی ہے جو لوگوں کو روشنی تو دیتاہے لیکن خود اندھیرے میں رہتاہے۔آپ ﷺ نے فرمایا روز قیامت لوگوں سے حشر کے میدان میں جو پانچ سوالات پوچھے جائیں گے ان میں علم پر عمل سے متعلق سوال بھی ہو گا کہ انسان نے اپنے علم پر کس حد تک عمل کیااور اس سے لوگوں کو کیا فائدہ پہنچایا۔سیرت طیبہ اساتذہ سے مطالبہ کر تی ہے کہ وہ عملی نمونہ کی اعلی مثال پیش کر یں۔عفو درگزر سے کام لیں۔طلبہ میں اولعزمی اور حوصلہ مند ی کو پر وان چڑھائیں۔عجز و انکساری سے کام لیں اور اس کی تعلیم دیں۔درس و تدریس کو مخصوص نہ کر یں بلکہ اس کے فیوض کو عام کرے۔طلباء میں ڈر خوف گھٹن کی کیفیت کا سد باب کریں۔طلبہ کے سوالات کے اطمینان بخش جواب دیں۔سیرت طیبہ کے ان معلمانہ اوصاف حمیدہ سے اساتذہ متصف ہو کر نہ صرف اپنے فن میں کمال پیدا کر سکتے ہیں بلکہ مجروح انسانیت کے غموں کا مداؤ ا بھی کر سکتے ہیں۔


اتوار، 17 ستمبر، 2023

چند الفاظ کا صحیح تلفظ

💫۔

اردو میں استعمال ہونے والے ایسے الفاظ جو پانچ حرفی ہوں اور ان کا پہلا اور چوتھا حرف "الف" ہو مثلاً اجناس، اقسام، اکرام وغیرہ، ان الفاظ کے تلفظ میں عموماً غلطی اور ابہام پایا جاتا ہے کہ آیا ان الفاظ کو الف کے زبر کے ساتھ "اَقسام" یا زیر کے ساتھ "اِقسام" پڑھا جائے۔ اکثر یہ الفاظ غلط تلفظ سے بولے جاتے ہیں۔

ایک نکتہ ذہن نشین کر لینے سے ایسے الفاظ کے تلفظ میں درستی حاصل کی جا سکتی ہے۔

وہ نکتہ یہ ہے کہ جو الفاظ کسی واحد کی جمع ہیں وہ الف کے زبر سے پڑھے جائیں گے مثلاً جنس کی جمع اَجناس، قسم کی جمع اَقسام، فلک کی جمع اَفلاک، اَعمال، اَخلاق، اَفعال، اَدوار، ازواج، اَقلام، اَملاک، اَلواح، اَبواب، اَحکام وغیرہ بہت سے الفاظ

باقی الفاظ یعنی جو کسی واحد کی جمع نہ ہوں، وہ عموماً مصدر ہوتے ہیں اور الف کے زیر کے ساتھ درست ہیں۔ مثلاً
اِکرام (عزت دینا) اِجلاس (بیٹھنا، بٹھانا) اِظہار، اِسلام، اِعلان، اِخفاء، اِسہال، اِملاء، (اساتذہ سے بھی اکثر "اَملا لکھو" سننے میں آتا ہے)، اِقبال وغیرہ 

در حقیقت یہ ایک ہی وزن پر دو قسم کے الفاظ ہیں۔ ہم ان کو آپس میں گڈ مڈ کر دیتے ہیں جس سے بچنا چاہیے۔

بعض الفاظ ایسے ہو سکتے ہیں جو دونوں طرح درست ہوں، ایسی صورت میں بھی یہی اصول لاگو ہو گا مثلاً اَقدام اور اِقدام۔ اگر قدم کی جمع ہو تو اَقدام بولا جائے گا۔ اگر "آگے بڑھنا" یا "قدم اٹھانا" کے معنی میں ہو تو اِقدام بولا جائے گا۔              اردو کے کچھ الفاظ ایسے بھی ہیں کہ اگر زیر زبر ہوں تو بھی بغیر جملوں کے پہچان ناممکن ہو جاتی ہے مثلاً
میل۔ گندگی
میل۔ ملن زیادہ پنجابی میں مستعمل ہے
بیر۔ ایک پھل
بیر۔ عناد ناپسندیدگی
بیل۔ گاۓ کا مذکر
بیل ۔ وہ نباتات جو رسیوں یا دوسرے درختوں پر چڑھنے کی صلاحیت رکھتی ہوں
یہا تمام الفاظ زبر سے شروع ہوتے ہیں مگر اداٸیگی اور معانی مختلف ہیں۔

منگل، 12 ستمبر، 2023

خوف خدا میں رونے کے فضاٸل

خوف خدا میں رونے کے فضاٸل

خوف کے لغوی معنی خطرہ ، ڈر ،ہیبت ، فکر ، خدشہ ،اصطلاح میں  خوف اسے کہتے ہیں کہ بندہ اپنے آپ کو امرِ مکروہ سے بچائے اور بجا آوریِ احکامِ حق میں عبودیت کے ساتھ سرگرم رہے۔خوف کی دو اقسام ہیں:(1)لوگوں کا خوف(2)اللہ پاک کا خوف۔اللہ پاک کے خوف کی تعریف یہ ہے کہ انسان تمام منہیات سے بچ کر خالص اللہ والے کاموں میں لگ جائے۔اللہ پاک کے خوف سے رونے کے بے شمار فضائل ہیں۔جب ان پر (خدائے) رحمن کی آیتوں کی تلاوت کی جاتی ہے وہ سجدہ کرتے ہوئے اور (زار و قطار) روتے ہوئے گر پڑتے ہیں۔سورۃ السجدہ۔خوفِ خدا اورعشقِ مصطَفٰے میں رونا ایک عظیم الشّان نیکیہے۔انبیائے کرام علیہم السلام بھی اللہ پاک کے خوف میں راتوں کو قیام کرتے اور آنسو بہاتے جیسا کہ ایک روایت کے مطابق حضرت یحیی علیہ السلام جب نَماز کے لئے کھڑے ہوتے تو ( خوفِ خدا سے ) اِس قدر روتے کہ درخت اور مٹی کے ڈھیلے بھی ساتھ رونے لگتے حتی کہ آپ کے والِدِ مُحترم حضرت زکر یا علیہ السلام بھی دیکھ کر رونے لگتے یہاں تک کہ بے ہوش ہوجاتے ۔ مسلسل بہنے والے آنسوؤں کے سبب حضرت یحیی علیہ السلام کے رُخسارِ مبارَک ( یعنی با بَرَکت گالوں ) پر زَخم ہوگئے تھے۔خوفِ خدا کے فضائل میں کئی احادیث مبارکہ ہیں ۔جیسا کہ فرمانِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے :جس مومن کی آنکھوں سے اللہ پاک کے خوف سے آنسو نکلتے ہیں اگرچہ مکھی کے سرکے برابر ہوں ،پھر وہ آنسو اُس کے چہرے کے ظاہِر ی حصّے کو پہنچیں تو اللہ پاک اُسے جہنم پر حرام کر دیتا ہے۔( 2 ) فرمانِ مصطفے ٰ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے:وہ شخص جہنم میں داخِل نہیں ہوگا جو اللہ پاک کے ڈر سے رویا ہو۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہُ عنہ سے روایت ہے،حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا:اللہ پاک کے خوف سے رونے والا انسان دوزخ میں داخل نہیں ہو گا یہاں کہ دودھ،تھن میں واپس نہ چلا جائے اور اللہ پاک کی راہ میں پہنچنے والی گرد و غبار اور جہنم کا دھواں جمع نہیں ہو سکتے۔حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہُ عنہما روایت کرتے ہیں،میں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:دو آنکھوں کو آگ نہیں چھوئے گی:(ایک) وہ آنکھ جو اللہ پاک کے خوف سے روئی اور (دوسری) وہ آنکھ جس نے اللہ پاک کی راہ میں پہرہ دے کر رات گزاری۔ اللہ پاکہمیں بھی اپنے خوف اور عشقِ رسول میں رونا نصیب فرمائے ۔

بدھ، 6 ستمبر، 2023

برصغیر میں عروج و زوال کی داستان

🌹برصغیر میں عروج و زوال کی داستان🌹
ہندوستان(برصغیر) ایک وسیع ملک تھا۔ اتنا بڑا کہ اسے چھوٹا براعظم کہا جاتا ۔ اس کا ساحل پانچ ہزارمیل تھا ۔ خشکی کی سر حد کو ئی چھ ہزار میل ہوں گی۔ شمال میں ہمالیہ پندرہ سو میل تک پھیلا ہوا تھا۔بند ھیاچل نے ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔ ہندوستان اپنی زرخیزی کی وجہ سے غیر قوموں کو اپنی طرف مائل کرتا رہا۔ صدیوں تک جنوبی قوموں کا تمدن شمالی ہندوستان کو متاثر کرتا رہا ۔ حملہ آور قوموں کی نسلیں آج بھی بندھیا چل کے اس پار شمالی ہندوستان کی نسبت بہت کم دکھائی دیتی ہیں۔ مختلف قوموں کے 
یہاں آنے سے ہندوستان میں مختلف تمدنوں کا ایک مجموعہ تیار ہو گیا۔ ہر تمدن ہندوستان کو متاثر کرنے کے بعد خودکسی دوسرے تمدن سے متاثر ہوتا رہا۔ نوحجری عہد میں ہندوستان میں دو قومیں بستی تھیں جس کی یاد گار آج تک نیل گری کی پہاڑیوں میں باقی ہے۔ اس کے بعد کول اور بھیل اقوام نے ہندوستان کو اپنا گھر بنایا۔ صدیوں بعددراوڑوں نے ان قوموں کو جنوب کی طرف دھکیل دیا۔   کول دراوڑ کے قد چھوٹے رنگ کالے پیلے اور ناک چپٹی تھی ۔دراوڑ ابتدا میں شمالی ہندوستان میں آباد ہوئے لیکن آریاؤں نے ان کے ساتھ وہی سلوک کیا جو دراوڑ  کولوں اور بھیلوں سے کر چکے تھے۔ آریاؤں نے دراوڑوں کو شمالی ہندوستان سے نکال دیا۔ وہ جنوبی ہندوستان میں چلے گئے۔ آج جنوبی ہندوستان میں دراوڑوں کی اکثریت ہے ۔ان کی زبانیں ہندی آریائی زبانوں سے مختلف ہیں۔ شمالی ہندوستان میں دراوڑ شہری تمدن کے مدارج تک پہنچ چکے تھے۔ ان کا تمدن سومیری تمدن سے ملتا جلتا تھا۔ ہڑپہ اور موہنجو داڑو کی کھدائیوں نے ان کے تمدن کی عظمت کو ہمارے سامنے دکھا دیا ہے۔ ان شہروں کا تمدن صدیوں کی آغوش میں پلاہو گا۔ مصر ، عراق اور ایران کی تہذیبوں کے پہلو بہ پہلو دراوڑی تہذیب بھی اپنی قدامت اور عظمت کی داستان کھنڈرات کی شکل میں دکھائی دیتی ہے۔ موہنجوداڑواور ہڑپہ آریاؤں کے آنے سے صدیوں پہلے شہرت حاصل کر چکے تھے ۔ سندھ اور پنجاب کا تمدن مصر اور عراق کے ہم عصر تمدن سے کسی طرح پیچھے نہیں تھا۔ ان شہروں کے لوگ سوتی کپڑا بننا جانتے تھے۔ گھروں میں غسل خانے تھے۔ شہریوں کے مکان بہت بلند اور صاف ہوتے تھے۔ ان کا مذہب مصریوں اور سومیریوں سے ملتا جلتا تھا۔ 
  آریا تقریبا  1500 قبل از مسیح یعنی حضرت عیس علیہ السلام سے 1500 سال پہلے  شمالی ہند کی راہ سے  ہندوستان میں داخل ہوے۔ سوم رس پینے والے جو ایک قسم کی شراب تھی جس کے پینے سے آنکھیں چمکدار ہو جاتی تھیں۔   آریا وسط اایشیا  سے ہندوستان میں پیدل ننگے پاوں چل کر آئے ۔ گورا رنگ ساتواں ناک دراز قد جو وسط ایشیا سے ہندوستان کی زرخیزی دیکھ کر وارد ہوے۔  گھوڑے کا گوشت کھانے والے اور گھوڑی کا دودھ پینے والے آریا جفا کش دلیر اور بہادر  تھے۔
  قدیم ہند( بر صغیر)کی تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ برصغیر کے قدیم باشندے چھوٹے قد کے اور سیاہی مائل رنگت کے تھے۔ وسطی ایشیا سے آریا اور راجپوت قبائل ان پر حملہ آور ہوئے اور ان کے مقابلے میں فتح سے ہمکنار ہوئے۔
          اس کے بعد انہوں نے تمام مقامی باشندوں کو مذہبی جبر و تشدد کے ذریعے اپنے مذہب کو اپنانے پر مجبو رکیا اور اس کے ساتھ ہی ذات پات کا نظام رائج کیا۔
  آریاؤں کی آمد کے ساتھ ساتھ یا ان سے پہلے شمالی مشرقی ہندوستان برما بنگال  آسام کے درّوں سے منگولی قومیں بھی ہندوستان میں دا۔خل ہوتی رہیں۔ آریا شمال مغربی ہندوستان کی راہ سے داخل ہوئے۔ شمالی ہندوستان میں وہ صدیوں تک دراوڑوں سے لڑنے کے بعد پنجاب پر قابض ہوئے۔ پنجاب سے وہ گنگا کی وادی میں پہنچے۔ جہاں آریاؤں کی سیاست اور تہذیب اپنے عروج پر پہنچی۔ مگدھ میں ایک عظیم الشان آریہ سلطنت کی بنیاد پڑی۔ مگدھ کی سلطنت کے زمانہ میں گوتم بدھ کا ظہور ہوا۔  گوتم بدھ ہمالیائی ریاست کپل وستو میں پیدا ہوے ۔بدھ نے اپنے زمانہ کی تمام مجلسی برائیوں کے خلاف بغاوت کی۔ اس کا مذہب عوام کی زبان میں عوام کے لئے تھا۔ 
گوتم بدھ کی تعلیمات میں سے ایک بات میٹرک 1965 کی تاریخ میں لکھی ایک بات یاد ہے۔
🌹دنیا دکھوں کا گھر ہے ۔ دکھ خواہشات سے پیدا ہوتے ہیں🌹
ایران کے بادشاہ سارا  نے سندھ اور پنجاب کے کچھ علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ سکندر نے بھی 336 قبل از مسیح میں ہندوستان کا رخ کیا۔ پورس نے اس کا مقابلہ کیا۔  سکندر دل چھوڑ کر یونانی فوجیں جہلم اور بیاس کے کناروں سے واپس ہوئیں۔ پاٹلی پترافتح کرنے کی ہوس لے کر سکندر کو واپس جانا پڑا۔ یونانی تہذیب نے شمالی ہندوستان کو متاثر کیا۔ سکندر کے جانے کے بعد پنجاب سے چند رگپت موریا اُٹھا۔ اس کے وزیر چانکیہ کی ’’ارتھ شاستر‘‘ نظم ونسق حکومت پر غالباً پہلی کتاب ہے۔ موریا خاندان کے شہنشاہ اشوک کا عہد حکومت رفاہ عامہ کے کاموں سے بھرا پڑا ہے۔ موریا سلطنت کی تباہی کے بعد پانچ سوسال تک ہندوستان میں کوئی مرکزی حکومت دکھائی نہیں دیتی۔ اس زمانہ میں ساکا او یوچی قوموں نے ہندوستان پردھاوا بولا۔ساکا قوم کا سب سے مشہور بادشاہ کنشک تھا۔ اسی زمانہ میں بدھ مت اور برہمن مت میں کشمکش ہوئی۔ پُران بھی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔چوتھی صدی عیسوی میں گپت سلطنت قائم ہوئی۔ اب پاٹلی پترا کی جگہ اجین کو ہندوستان کی مرکزیت حاصل ہوئی۔ یہ زمانہ برہمن مت کے انتہائی عروج کا زمانہ ہے۔ بکر ما جیت اسی خاندان کا ایک حکمران تھا۔ گپت خاندان کے عہد حکومت میں ہندوستانی علوم وفنون اور صنعت وحرفت نے خوب ترقی کی ۔ ہندوستان اور روم میں تجارتی تعلقات قائم ہوئے۔ جنوبی ہندوستان کے لوگوں نے جاوا اور سماٹرا میں اپنی نوآبادیاں قائم کیں۔ گپت خاندان کے زوال کے بعد ہندوستان پھر بیرونی حملہ آوروں کا شکار ہوا۔ اب کےسفید ہن قوم نے شمالی ہندوستان کو تخت وتاراج کیا ٹیکسلا کو تبای برباد کیا آج بھی کھنڈرات موجود ہیں ۔ جاٹ اور گوجر اسی قوم کے مشہور قبائل تھے۔ مہر گل ہن قوم کا مشہور بادشاہ تھا۔ وہ ہاتھیوں کوپہاڑوں سے گرا کر ان کے مرنے کا تماشا کرتا اور خوش ہوتا۔ ساتویں صدی میں ہرش وردھن نے ہندوستان کو متحد کرنے کی کوشش کی۔ اس کے نظم ونسق کو ہیون سانگ ہم تک پہنچاتا ہے۔ ہرش وردھن اگر چہ بدھ مت کا پیرو کار  تھا لیکن اس کے عہد میں شمالی ہندوستان میں برہمن مت نے زور پکڑ لیا تھا۔ لگ بھگ 600 عیسوی ہرش وردھن کی موت کے بعد ہندوستان کی مرکزیت ختم ہو گئی۔۔ اسلام اس وقت عرب کے صحراؤں میں پھل پھول رہا تھا۔ 
712 عیسوی میں محمد بن قاسم  دیبل کے راستے غالبا کراچی کی طرف سے سندھ میں داخل ہوا ۔ راجہ داہر کو شکست دی اور ملتان تک پہنچا ۔ لیکن کوئی اسلامی ریاست  نہیں بنائی لیکن سندھ کے لوگوں پر کافی اثر چھوڑا۔ سندھ کے لوگوں نے محمد بن قاسم کی مورتیاں بنا لیں۔ برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اکثریت ان افراد پر مشتمل ہے جنہوں نے ہندو مذہب چھوڑ کر اسلام کو اختیار کیا۔ 
اسکے بعد افغان اور غزنی سے محمود غزنوی نے ہندوستان پر سترہ حملے کئے۔ 
اسکے بعد محمد غوری نے لاہور کے راجہ جے پال کو شکست دے کر نئی سلطنت کی بنیاد ڈالی اور اپنے ایک غلام قطب الدین ایبک کو اس کا سربراہ بنایا۔ یہ پہلی اسلامی ریاست تھی جو خاندان غلاماں کے نام سے مشہور ہوئی ۔ التمش۔ رضیہ سلطانہ اور غیاث الدین بلبن ۔مشہور  باد شاہ تھے۔ 
التمش اور رضیہ سلطانہ کو خلجیوں نے فتح کیا۔ علاؤالدین خلیجی مشہور بادشاہ  تھا۔ خلجیوں کو خاندان تغلق نے فتح کیا  جونا خان محمد بن تغلق اور فیروز شاہ تغلق مشہور بادشاہ تھے۔
۔ جونا خان محمد بن تغلق کے زمانے میں مشہور سیاح ابن بطوطہ ہندوستان آیا۔ اور بہت معلومات اپنے سفر نامے میں لکھیں۔ فیروز تغلق اور غیاث الدین تغلو مشہور بادشاہ تھے 
محمود شاہ تغلق کمزور بادشاہ تھا۔  امیر تیمور کے حملے نے  تغلق خاندان کے وقت کو خاک میں ملا دیا  دہلی کو تیمور لنگ نے تہس نہس کیا۔ اور دہلی میں خون کی ندیاں بہادیں۔ کھوپڑیوں کے مینار بنائے۔ امیر تیمور نے کوئی مستقل حکومت نہیں بنائی لوٹ مار کر کے چلا گیا۔ اور خضر خان نے خاندان سادات کی بنیاد ڈالی۔ سید خاندان کی کمزوری دیکھ کر بہلول لودھی نے دلی پر قبضہ کیا اور لودھی خاندان کی بنیاد ڈالی۔ سکندر لودھی اس خاندان کا مشہور بادشاہ تھا۔ سکندر لودھی نے آگرہ شہر آباد کیا اور آگرہ کو دارلحکومت بنایا ۔  سکندر لودھی کے بعد ایک کمزور حکمران ابراہیم لودھی بادشاہ بنا۔ جس کو بابر نے  پانی پت کے میدان میں شکست دے کر مغلیہ سلطنت کی بنیاد ڈالی۔ 
بابر وسط ایشیا کی ریاست فرغانہ کے امیر عمر شیخ میرزا کا بیٹا تھا۔ والد کی وفات کے وقت بابر کی عمر بارہ سال تھی۔ بھائیوں اور چچا کی مخالفت کی وجہ سے فرغانہ کو چھوڑ کر در بدر پھرتا رہا۔ پتھریلے پہاڑوں پر  ننگے پاوں چلتے ہوے اس کے پاوں اتنے سخت ہو گئے کہ کانٹا چبھتے کا احساس بھی نہیں ہوتا تھا۔ اس نے بارہ ہزار فوج اکٹھی کی اور کابل پر قبضہ کیا ۔ ہندوستان کی زرخیزی  اور دولت دیکھ کر اس نے بارہ ہزار فوج سے ہندوستان پر حملہ کر دیا ۔1526 عیسوی میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کی ایک لاکھ فوج کو شکست دی اور مغلیہ سلطنت کی بنیاد رکھی۔ رانا سانگا کو شکست دی اور اپنی سلطنت کو مظبوط کیا۔ بابر اتنا جفاکش تھا کہ دو آدمیوں کو اٹھا کر قلعے کی دیوار پر دوڑ لگاتا تھا۔  

بابر بڑا مردم شناس تھا۔  ایک دفعہ بابر نے تمام حکومتی امرا؞ کو دعوت دی ۔  دعوت میں شیرشاہ سوری بھی امرا؞ میں شامل تھا ۔ شیرشاہ سوری نے بابر کے سامنے پڑا گوشت کا ٹکڑا اپنا خنجر نکال کر کاٹ کر کھانے لگا۔  دعوت ختم ہونے پر بابر نے اپنے ولی عہد ہمایوں کو تنبیہ کی کہ اس شخص شیرشاہ سوری سے بچ کر رہنا۔ 
پھر ہمایوں کو شیر شاہ سوری نے شکست دی۔ ہمایوں ایران بھاگ گیا۔  جب شیر شاہ کے جانشین کمزور ہوے تو ایرانی بادشاہ کی مدد سے دوبارہ  سوری حکمران پر حملہ  کیا اور اسکو شکست دے کر بادشاہ بنا۔ لیکن پانچ سال کے بعد فوت ہوا۔ 
ہمایوں کے بیٹے اکبر کی عمر بارہ سال تھی۔ اس کے استاد بیرم خان نے جلال الدین اکبر کے نام سے اکبر کو تخت پر بٹھایا اور خود اس کا سرپرست بن گیا۔
اکبر نے پچاس سال حکومت کی دیں الہی کے نام سے ایک نیا دین جاری کیا۔ ہندو عورتوں سے شادی کی جہانگیر ایک ہندو عورت کے بطن سے پیدا ہوا۔ 
اکبر کے بعد جہانگیر تخت پر بیٹھا ۔ تزک جہانگیری میں زنجیر عدل کا ذکر ملتا ہے۔  اسکے بعد شاہ جہاں بادشاہ بنا ۔ شاہ جہاں کو عمارتیں بنانے کا شوق تھا اس کو  انجینیر بادشاہ بھی کہتے ہیں ۔ تاج محل۔ شالیمار باغ اور ٹھٹھہ کی مسجد شاہ جہاں قابل ذکر ہیں۔  شاہ جہان بیمار ہوا تو اس نے بڑے بیٹے داعا شکوہ کو ولی عہد بنایا۔ اورنگزیب عالمگیر دکن میں مرہٹوں سے لڑ رہا ٹھا ۔ اس کو پتہ چلا تو تخت نشیمی کی جنگ چھڑی۔ جس میں اورنگ زیب فتح یاب ہوا۔ شاہجہاں کو قید کرکے بھائیوں کو شکست دی اور تخت پر بیٹھ گیا ۔ اس نے بھی پچاس سال حکومت کی ۔ لاہور کی بادشاہی مسجد اورنگزیب عالمگیر نے بنائی۔ اس کی وفات کے بیڈ جانشین کمزور ہوتے گئے تیمور اور مغل خون میں ملاوٹ کی وجہ سے سست ہو گئے۔ جس نی محمد شاہ رنگیلا جیسے بادشاہ پیدا کیے۔ نادر شاہ نے بھی دلی پر حملہ کیا خوب دولت لوٹی ۔ مشہور کوہ نور ہیرا اور تخت طاؤس بھی ساتھ لے گیا۔ 

ہنوستان  جس کی دولت کے افسانے سکندر کے زمانے سے یورپ جا رہے تھے۔
واسکوڈے گاما ایک عرب ملاح کی مدد سے راس امید  جنوبی افریقہ کا چکر کاٹتا ہوا ہندوستان (برصغیر)کے ساحلی مقام کالی کٹ پر پہنچا۔ ہندوستان کے لوگوںنے اپنی روایتی مہمان نوازی کے پیش نظر اس نوو ار د کا استقبال کیا۔کالی کٹ کے راجہ زیمورن کو کیا خبر تھی کہ بدو کے افسانوی اُشتر کی طرح پرتگیز بھی اسے خیمہ سے باہر نکالنے کی فکر میں ہیں۔ پرتگیزوں نے کالی کٹ میں ایک فیکٹری قائم کی۔ تین سال بعد کالی کٹ کے سینہ پر ایک پرتگیزی قلعہ نظر آیا۔ تھوڑی مدت بعد پرتگیزی عَلم گواکی دیواروں پر لہرایا۔ کالی کٹ کے لزبنی مہمانوں نے زیمورن کے شاہی محلات کو نذر آتش کرنے سے گریز نہ کیا۔ میز بان کی خدمت میں مہمان کا ہدیہ تشکر! پرتگیزی آخر اس ملک کے ساحل پر پہنچ گئے۔
1492 عیسوی میں کولنبس ہندوستان ڈھونڈتا ہوا امریکہ جا نکلا اور نیا بر اعظم امریکہ دریافت ہوا۔ 
اسٹریلیا بھی ایک جہاز ڈان جیمز کک نے دنیا کے گرد چکر پورا کرتے ہوے ڈھونڈ نکالا۔ 
انگریز بھی تجارت کی غرض سے ہندوستان آئے ۔  مغل بادشاہ جہانگیر کو کچھ تحفے تحائف دیے اور تجارت کی اجازت مانگی۔ اجازت ملنے کے کچھ عرصے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کلکتہ میں قائم کی ۔ اور بڑھتے بڑھتے اسی ایسٹ انڈیا کمپنی نے مغلیہ سلطنت  کو کھوکھلی کرنا شروع کر دیا۔ بالآخر 1858 کی جنگ آزادی میں مغلیہ سلطنت کے آخری چشم و چراغ بہادر شاہ ظفر کو جلا وطن کر کے رنگوں بھیج دیا۔ اور وہاں ہی وہ فوت ہو گیا۔ اور انگریز پورے ہندوستان کے مالک بن گئے۔   14اگست 1947 کو آزادی ملی۔ 🌹
🌹تاریخ میں بہت سے حملہ آور آتے رہے اور کچھ لاتے رہے۔ اور کچھ لے کر جاتے رہے ۔ 
آج سے تین ہزار سال پہلے جو لوگ موجود تھے اب ان کی نسلوں میں بہت ملاوٹ ہو گئی ہے۔ جو بھی آیا اپنا نشان چھوڑ گیا۔ خالص کوئی نہیں ۔ اسی طرح راجپوت بھی خالص نہیں رہے ۔ سارے حملہ آور اپنا حصہ ڈالتے رہے۔ 
مغل بھی خالص نہیں رہے۔ بابر چنگیز اور تیمور کا مکسچر تھا۔ اسکے بعد اکبر اعظم  نے ہندووں سے شادی کی تو جہانگیر تو مکسچر تھا۔ آگے والے اسے بھی زیادہ مکسچر تھے۔ انگریزوں نے بھی اپنا حصہ ڈالا۔ اور اینگلو انڈین کے نام سے نئی قوم وجود میں آئی۔ 
آج کے بر صغیر میں دیکھیں تو شمال مغرب کے لوگ گورے چٹے اور ساتواں ناک والے ہیں۔ شائد ہی کوئی پٹھان کالے رنگ کا ہو جو کراس نسل ہے۔  جوں جوں آپ جنوب کی طرف جائیں تو لوگ سانولی رنگت کے نظر آئیں گے ۔ گورے چٹے بھی ہیں۔ اور جنوبی ہندوستان میں کالے اور چپٹی ناک والے زیادہ ںظر آئیں گے۔ شائد ہی کوئی گوڑا اور گندمی ہو ۔ جو کراس نسل سے ہو گا۔ بنگال میں زیادہ تر لوگ کالے چپٹی ناک والے ہونگے۔ لیکن کچھ خوبصورت اور گندمی رنگت والے بھی نظر آئیں گے۔ فلمسٹار شبنم اس کی ایک مثال ہے۔ 
کراچی میں بھی کچھ لوگ حبشی نسل کے گھنگریالے بالوں والے ملیں گے جن کو مکرانی کہتے ہیں۔ یوں بر صغیر میں تمام حملہ آوروں اور باہر سے آنے والوں نے اپنا اثر ڈالا۔  
حملہ آور دورہ خیبر کے ذریعے آتے رہے۔ آریا آئے۔ سکندر آیا منگول آئے۔ افغان۔ لودھی سوری۔ مغل جس راستے سے گزرتے گئے اپنا بیج بوتے گئے۔ کون خالص ہے؟۔ جو آدمی جرمنی سے شادی کرے اور بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص ہے  ؟
اگر کوئی ناروے یا انگلینڈ سے  شادی  کرے ۔ بچے پیدا کرے۔ کیا وہ خالص  ہیں۔؟۔ نہیں مکس ہیں۔ بچے یہاں ایڈجسٹ نہیں ہو  سکتے ۔ہم  سب کراس ہو کر نئی نئی نسلیں نکل رہی ہیں۔ اصلی کوئی نہیں 

صدیاں گزر گئیں ۔ اسلام تو چودہ سو سال پہلے آیا تھا۔ 
لیکن 3000 سال پہلے آریا آئے اور سکندر بھی اسلام سے پہلے آیا  بلکہ حضرت عیس علیہ السلام سے پہلے  بھی کافی حملہ آور  آئے۔ اس وقت نکاح کا کوئی concept نہیں  تھا۔ سب  رل مل  گئے۔ گڈ مڈ ہو گیا۔ کیا خیال ہے۔ 😪 
کراس ہو کر کیا سے  کیا چیز بن رہی ہے ۔ خچر۔ گائے دیسی سے ولائیتی ۔
🌹لال سیب ۔ پیلے سیب۔ کالے سیب ۔۔سفید سیب۔ 
اب شملہ ۔مرچ کو ہی دیکھ لیں۔ سرخ۔ پیلی سبز۔  نیلی۔ جامنوں۔ اسی طرح کراس ہو کر نئی نسلیں  نکل  رہی ہیں۔ امریکہ میں دیکھیں کالے اور گورے  کراس ہو رہے ہیں ہمارے برصغیر شروع سے حملوں کی زد میں رہا۔ سب مکسچر ہیں مغل بابر تو دو قوموں سے تعلق تھا۔ چنگیز اور تیمور اسے آگے چل کر اکبر نے ہندووں سے شادی کی جہانگیر ہندو عورت سے تھا۔ اور آگے جا کر مغل خالص نہیں رہے ۔ اور بادشاہ سست ہو گئے 
محمد شاہ رنگیلا ۔ بہادر شاہ ظفر بابر کی طرح نہیں تھے ۔ ارتقاء اور کیا ہوتا ہے یہی عمل ارتقاء ہے۔ ❤
😪ہمارے آباؤ اجداد  کوئی سعودی عرب سے نہیں آئیے تھے۔ اسلام تو آیا 610 عیسوی میں۔ اور ہمارے پاس دو تین سو سال بعد آیا اسے پہلے لوگ یا بدھ ازم یا ہندو ازم مانتے تھے۔ ابھی بھی ٹیکسلا ۔سوات۔ افغانستان میں مہاتما بدھ کی مورتیاں اور کھنڈرات موجود ہیں۔ ہم ہندوں سے مسلمان ہوے ہیں 🤔
مغل بادشاہ تاج محل قلعے بنواتے۔ اور دال رو ٹی پکتی ۔ اسی روٹی پر گزارا ہوتا۔ فوج میں جو سپاہی لڑتے وہ بھی روٹی دال کی خاطر۔ تنخواہ کا کوئی concept نہیں تھا۔ اور نہ ہی اتوار کی چھٹی۔ 
یہ انگریز دور میں ملزمین کو ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو تنخواہ ملتی تھی اور ہفتے میں ملازمین کو ایک اتوار کی چھٹی ہوتی۔ 
یہ سب میرے والد صاحب بتاتے تھے۔ کہ پہلے انگریزوں کے دور میں بھی کما کر کھاتے ہیں اور آزادی کے بعد بھی کما کر کھاتے ہیں ۔ اور بزرگوں سے بھی یہی سنا۔

پیر، 4 ستمبر، 2023

معلمی کار پیمبری

معلمی کار پیمبری


استاد علم کا سرچشمہ ہوتا ہے۔ قوموں کی تعمیر و ترقی میں اساتذہ کا رول اہمیت کا حامل ہوتاہے۔تعمیر انسانیت اور علمی ارتقاء میں استاد کے کردار سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا ہے ۔ ابتدائے افرینش سے نظام تعلیم میں استاد کو مرکزی مقام حا صل ہے۔اساتذہ کو نئی نسل کی تعمیر و ترقی،معاشرے کی فلاح و بہبود ،جذبہ انسانیت کی نشوونما اور افرادکی تربیت سازی کی وجہ سے قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔استاد اپنے شاگردوں کی تربیت میں اس طرح مگن رہتا ہے جیسے ایک باغبان ہر گھڑی اپنے پیڑپودوں کی نگہداشت میں مصروف رہتا ہے۔ تدریس وہ پیشہ ہے جسے صرف اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کے ہر مذہب اور معاشرے میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ لیکن یہ ایک آفاقی حقیقت ہے کہ دنیائے علم نے استاد کی حقیقی قدر و منزلت کو کبھی اس طرح اجاگر نہیں کیا جس طرح اسلام نے انسانوں کو استاد کے بلند مقام و مرتبے سے آگاہ کیا ہے۔ اسلام نے استاد کو بے حد عزت و احترام عطاکیا ۔اللہ رب العزت نے قرآن میں نبی اکرم ﷺ کی شان بحیثیت معلم بیان کی ہے۔خود رسالت مآب ﷺ نے ’’انمابعثت معلما‘‘(مجھے معلم بنا کر بھیجا گیاہے ) فرما کر اساتذہ کو رہتی دنیاتک عزت و توقیر کے اعلی منصب پر فائز کردیا ہے ۔ اسلام میں استاد کا مقام و مرتبہ بہت ہی اعلی و ارفع ہے۔ استاد کو معلم و مربی ہونے کی وجہ سے اسلام نے روحانی باپ کا درجہ عطا کیا ہے۔آپﷺ نے فرمایا’’انماانا لکم بمنزلۃ الوالد،اعلمکم‘‘(میں تمہارے لئے بمنزلہ والد ہوں،تمہیں تعلیم دیتا ہوں)۔ امیر المومنین حضرت عمرؓ سے پوچھا گیا کہ اتنی بڑی اسلامی مملکت کے خلیفہ ہونے کے باوجود آپؓ کے دل میں کوئی حسرت باقی ہے ۔آپؓ نے فرمایا’’کاش میں ایک معلم ہوتا۔‘‘ استاد کی ذات بنی نوع انسان کے لئے بیشک عظیم اور محسن ہے۔باب العلم خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول استاد کی عظمت کی غمازی کرتا ہے۔’’جس نے مجھے ایک حرف بھی بتا یا میں اس کا غلام ہوں۔ وہ چاہے تو مجھے بیچے ،آزاد کرے یا غلام بنائے رکھے۔‘‘شاعر مشرق مفکر اسلام علامہ اقبال ؒ معلم کی عظمت یو ں بیان کرتے ہیں۔’’استاد دراصل قوم کے محافظ ہیں کیونکہ آئندہ نسلوں کو سنوارنا اور ان کو ملک کی خدمت کے قابل بناناانہیں کے سپرد ہے۔سب محنتوں سے اعلیٰ درجے کی محنت اور کارگزاریوں میں سب سے زیادہ بیش قیمت کارگزاری ملک کے معلموں کی کارگزاری ہے۔معلم کا فرض سب فرائض سے زیادہ مشکل اور اہم ہے۔کیونکہ تمام قسم کی اخلاقی ،تمدنی اور مذہبی نیکیوں کی کلید اس کے ہاتھ میں ہے اور ہر قسم کی ترقی کا سرچشمہ اس کی محنت ہے۔‘‘ معاشرے میں جہاں ایک ماں کی آغوش کو بچے کی پہلی درس گاہ قرار دینے کے ساتھ ایک مثالی ماں کو ایک ہزار اساتذہ پر فوقیت دی گئی ہے وہیں ایک استاد کو اپنی ذات میں ساری کائنات کو بچے کے لئے ایک درس گاہ بنانے کی طاقت رکھنے کی وجہ سے روحانی والد کا درجہ دیا گیا ہے۔باپ بچے کو جہاں اپنی انگلی پکڑ کر چلنا سکھاتا ہے وہیں استاد بچے کو زندگی میں ہمیشہ آگے بڑھنے کی تلقین کرتا ہے۔سکندر اعظم سے کسی نے پوچھا کہ وہ کیوں اپنے استاد کی اس درجہ تعظیم کرتا ہے۔سکندر اعظم نے کہا کہ اس کے والدین اسے آسمانوں سے زمین پر لے آئے ہیں جب کہ استاد اس کو زمین سے آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچاتا ہے۔بطلیموس استا دکی شان یوں بیان کرتاہے ’’استاد سے ایک گھنٹہ گفتگو دس برس کے مطالعے سے مفید ہے۔‘‘
تدریس کا دگر شعبہ جات زندگی سے تعلق؛ زندگی کے تمام پیشے پیشہ تدریس کی کوکھ سے ہی جنم لیتے ہیں۔زندگی کا کوئی بھی شعبہ خواہ عدلیہ ،فوج،سیاست ،بیوروکریسی ،صحت ،ثقافت،تعلیم ہو یا صحافت یہ تمام ایک استاد کی صلاحیتوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ اگر مذکورہ شعبہ جات میں عدل ،توازن اور ہم آہنگی پائی جاتی ہے تو یہ صالح اساتذہ کی تعلیمات کا پرتو ہے اور اگر اساتذہ کی تعلیمات میں کہیں کوئی نقص اور کوئی عنصر خلاف شرافت و انسانیت آجائے تب وہ معاشرہ رشوت خوری ،بدامنی اور نیراج کی منہ بولتی تصویر بن جاتا ہے۔ استاد کو ایک صالح معاشرے کی تعمیر میں کلیدی کردار کی انجام دہی کی وجہ سے ہی معمار قوم کا خطاب عطا کیا گیا ہے۔ استاد معاشرے کی عمدہ اقدار کا امین و نگہبان ہونے کے ساتھ ساتھ ان اقدار کو آنے والی نسلوں تک منتقل کرنے کا ذریعہ بھی ہوتا ہے۔ اساتذہ اپنے فرائض کی ادائیگی میں اگر ذرہ برابر بھی چوک جائیں تب معاشرہ کی بنیادیں اکھڑ جاتی ہیں اور معاشرہ حیوانیت نفس پرستی اور مفاد پرستی کی تصویر بن کر جہنم کا نمونہ پیش کرتا ہے۔تعلیم انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کر تی ہے اور انسان کو معاشرے کا ایک فعال اور اہم جزو بننے میں مدد فراہم کرتی ہے۔استاد کو افراد سازی کے فرائض کی ادائیگی کے سبب معاشرے میں اسے اس کا جائزہ مقام فراہم کیا جانا ضروری ہے۔معاشرتی خدمات کی ادائیگی کے سبب معاشرہ نہ صرف استادکو اعلیٰ اور نمایا ں مقام فراہم کرے بلکہ اس کے ادب اور احترام کو بھی ہر دم ملحوظ خاطر رکھے۔ہر معاشرے اور مذہب میں استاد کو ملنے والی اہمیت اساتذہ سے خود کو ایک رول ماڈل کے طور پر پیش کرنے کا تقاضہ کرتی ہے۔امام اعظم ابوحنیفہؒ سے ان کی عزیز شاگرد حضرت امام یوسف ؒ نے پوچھا کہ ’’ استاد کیسا ہوتا ہے؟‘‘۔ آپ ؒ نے فرمایا ’’استاد جب بچوں کو پڑھا رہا ہوتو غور سے دیکھو ،اگر ایسے پڑھا رہا ہو جیسے اپنے بچوں کو پڑھاتا ہے تو استاد ہے اگر لوگوں کے بچے سمجھ کر پڑھا رہا ہے تو استاد نہیں ہے۔‘‘امام اعظم ؒ کے اس قول کی روشنی میں اگر اساتذہ کو پرکھا جائے تو معاشرے میں مادیت پرستی کا غلبہ ہمیں واضح نظر آئے گا۔استاد معاشرے میں اخلاقی اقدار کو فروغ دینے والا ہوتا ہے لیکن صد افسوس کہ آج یہ پیشہ( چنداستشنات کے)اپنی عظمت اور وقار کو تقریبا کھو چکا ہے۔پیشہ تدریس آج صرف ایک جاب(نوکری)،اسکیل(تنخواہ) اور ترقی کی حد تک محدود ہوچکا ہے۔استاد اور شاگرد کامقدس رشتہ کہیں کھو گیا ہے۔ تاریخ عالم شاہد ہے کہ اس قوم کو عروج اور ترقی نصیب ہوئی جس نے اپنے اساتذہ کی قدر و منزلت کی۔ مشہور پاکستانی ادیب ،دانشور ماہر تعلیم جناب اشفاق احمد صاحب مرحوم جب اٹلی میں اپنی تدریسی خدمات انجام دے رہے تھے تب ٹریفک قانون کی خلاف ورزی کی پاداش میں ان کا چالان کیا گیا ۔اپنی مصروفیت کی وجہ سے جب انھوں نے چالان ادانہ کیا تب ان کو چالان کی عدم ادائیگی اور عدم حاضری کے سبب عدالت میں پیش کیا گیا ۔جج نے چالان کی ادائیگی میں تاخیر کی وجہ دریافت کی تو اشفاق احمد نے بتایا کہ وہ ایک ٹیچر ہیں اور اپنی تدریسی سرگرمیوں کی وجہ سے چالان کی بروقت ادائیگی سے قاصر رہے۔ جج کو جب پتہ چلا کہ وہ ایک ٹیچر ہیں تب وہ اپنی کرسی سے احتراما کھڑا ہو گیا اور حیرت و استعجاب سے کہنے لگا “A teacher in the Court( ایک استاد عدالت میں) ، یہکہتے ہوئے ان کا چالان معاف کردیا۔ اٹلی میں بھی ہمارے وطن عزیز کی طرح اساتذہ کی تنخواہیں دلکش نہیں ہیں لیکن وہاں آج بھی تمام رتبے جج،بیوروکریٹس،تجار،پولیس،سیاستدان وغیرہ سب استاد کے پیچھے یو ں چلتے ہیں جیسے ماضی میں غلام اپنے آقاؤ ں کے پیچھے چلتے تھے۔ استاد کی یہی تعظیم مغربی معاشر ے کی عروج کی داستان ہے۔ وہیں مشرقی معاشرے جو اساتذہ کے ادب و احترام کی بنا بام عروج پر تھے اساتذہ کے ادب و احترام کے اعراض کے سبب تنز ل کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔استاد کا مقام مادیت پرستی اور ماہانہ مشاہیرہ سے بالاہے۔اس سے یہ مراد ہر گز نہ لی جائے کہ اساتذہ کی اپنی ضروریا ت نہیں ہوتی ہیں۔اساتذہ کے ہاتھوں میں معاشرے کے بناؤ اور بگاڑ کی کلید ہونے کی وجہ سے ان کا مقام نمایا ں و بلند ہوتا ہے۔معاشرہ استاد کو ایسے نمایا ں مقام پر فائز کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کرتا ہے کہ وہ دنیا کے باقی شعبوں کی طرح اپنے ہاتھ منفعت اور مراعات کی لالچ میں آلودہ نہ کریں ۔
استا د کی ذمہ داریاں؛ استاد نسل نو کی تربیت کا اہم کام انجام دیتا ہے ۔ہر قوم و مذہب میں استاد کو اس کے پیشے کی عظمت کی وجہ سے اہمیت حاصل ہے۔استاد طلبا کو نہ صرف مختلف علوم و فنون کا علم دیتاہے بلکہ اپنے ذاتی کردار کے ذریعہ ان کی تربیت کا کام بھی انجام دیتا ہے۔معاشرے کی زمام کار سنبھالنے والے افراد خواہ وہ کسی بھی شعبے اور پیشے سے وابستہ ہوں اپنے استاد کی تربیت کے عکاس ہوتے ہیں۔استاد کا اہم اور بنیادی فریضہ انسان سازی ہوتا ہے۔اگرچیکہ اس کام میں نصاب تعلیم اور تعلیمی اداروں کے اثرات بھی شامل ہوتے ہیں لیکن یہ ایک نا قابل تردید حقیقت ہے کہ پورے تعلیمی نظام کا مرکز و محور ایک استاد ہی ہوتا ہے۔نصاب تعلیم جو بھی لیکن استاد اسے جس طرح چاہے پڑھا سکتا ہے۔ایک مسلمان معلم پر عام اساتذہ سے دوگنی ذمہ داری عائد ہوتی ہے چونکہ وہ پہلے تو ایک مسلمان ہے اوردوسرا ایک مدرس بھی۔فلسفہ اسلام کی رو سے استاد ایک مربی ،مزکی ،رہنما و رہبر ہوتاہے۔ جو نہ صرف نسل نو کی تربیت کرتا ہے بلکہ نسل نو کو اسلامی نظریہ حیات اور اسلامی تعلیمی نظریا ت سے وابستہ بھی کرتا ہے۔ کیونکہ نظریہ کے بغیر کوئی بھی قوم حمیت سے عاری بے تربیت افراد کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ مسلم معلمین کے لئے نبی اکرم ﷺ کی سخت وعید ہے ’’جو کوئی بھی مسلمانوں کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنا پھر ان کے لئے ایسی خیر خواہی اور کوشش نہ کی جتنی وہ اپنی ذات کے لئے کرتا ہے تو اللہ تعالی اس کو منہ کے بل جہنم میں ڈال دیں گے۔‘‘ اس فرمان نبوی ﷺ کی روشنی میں اگر مسلم اساتذہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ذرہ بھر بھی کوتاہی برتیں گے تو روز قیامت ان کا سخت مواخذہ کیا جائے گا۔ روز قیامت عدم ساز گار حالات ،مادی وسائل کی کمی،والدین اور طلباء کی عدم توجہی و دیگر عذر مسلم اساتذہ کے لئے کسی کام نہیں آئیں گے۔اساتذہ اپنی اہمیت اور ذمہ دار ی کو محسوس کریں خاص طور پر مسلم اساتذہ اپنے مقام کو پہچانے کہ اول تو وہ مسلمان ہیں اور پھر ا سلامی طرز معاشرت اوردین فطرت کے نفاذ کے لئے نئی نسل کو تیار کرنے والے معلم، استاد مربی او ر رہبر ہیں۔ نامساعد حالات میں بھی مسلم اساتذہ کا منشاء و مقصد نسل نو کی اسلامی تعلیم و تربیت ہوتا ہے۔پیشہ تدریس سے وابستہ افراد کے لئے چار عملی میدان ہوتے ہیں (1) تعمیر ذات (2) اپنے علم میں مسلسل اضافہ (3) طلباء کی شخصیت و کردار سازی اور (4) تعلیم گاہ اور استاد۔

تعمیر ذات:نئی نسل کی تعمیر کا کام انجام دینے والے استاد کے لئے سب سے پہلے اپنی ذات کی تعمیر ضروری ہوتی ہے۔طلباء کے لئے استاد کی ذات افکار و اقدار کا اعلی معیار ہوتی ہے۔اساتذہ اپنی شخصیت کی تعمیر میں نبی اکرم ﷺ کی ذات کو پیش نظر رکھیں۔ہر انسان کے لئے نبی اکرم ﷺ کی ذات پاک بہترین نمونہ ہے۔آپ ﷺ معلم اعظم ہیں اسی لئے اساتذہ اپنے پیشے سے انصاف کرنے کے علاوہ درس و تدریس میں اثر و تاثیر پیدا کرنے کے لئے آپﷺ کے اسوہ حسنہ کی لازمی پیروی کریں۔ایک معلم کا قلب جب رب حقیقی کی عظمت و کبریائی سے معمور ہوگا ،احکام خداوندی کا پابند اور سنت نبویﷺ پر عامل ہوگا تب اس کا درس شاگردوں کے لئے باران رحمت اور زندگی کی نوید بن جائے گا۔معلم کا خوش اخلاق ،نرم خو،خوش گفتار،ملنسار،ہمدرد،رحمدل،غمگسار و مونس اور مدد گار ہونابہت ضروری ہوتا ہے۔استاددرس و تدریس کو صرف حصول معاش کا ذریعہ نہ سمجھے بلکہ اس کو رضائے الہی کا ایک ذریعہ مانے۔اسلامی نقطہ نظر سے حصول علم کا مقصد خو دآگہی اور خدا آگہی ہے ہمیشہ یہ نظریہ اساتذہ کے ذہنوں میں پیوست رہے۔۔علوم کی ترویج و تدریس کو ذریعہ معاش نہ سمجھیں بلکہ علو مکی تدریس، ترویج و اشاعت کو اخلاق کی بلندی اور کردار کی تعمیر کے لئے استعمال کریں۔ایک حقیقی استاد اسلاف سے حاصل شدہ علوم(نظریات،تہذیب،عقائد،افکار،عادات ،رجحانات،اور خصائل) کو بالکل اسی طر ح بغیر کسی کم و کاست اگلی نسلوں کو صحت و عمدگی سے منتقل کر ے۔استاد کمرۂ جماعت یا مدرسہ کی چار دیواری تک ہی استاد نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ ہر پل اپنی رفتار،گفتار،کردار غرض ہر بات میں معلم ہوتا ہے۔معلم کی ہر بات و حرکت طلبا پر اثر انداز ہوتی ہے۔طلباء صرف استاد سے کتاب یا اسباق ہی نہیں پڑھتے ہیں بلکہ وہ استاد کی ذات وہ شخصیت کا بھی مطالعہ کرتے ہیں۔استاد مدرسہ ،کھیل کا میدان، گھر اور بازار ہر جگہ طلباء کے لئے ایک زندہ نمونہ ہوتا ہے۔طلباء کو فسق و فجور سے منع کرنے والا استاد اگر خود ان افعال میں ملوث ہو تب اس کے اعمال خود فسق و فجور کی طلباء کو خاموش تعلیم دیتے ہیں۔ایک بے صبر اور بدمزاج استاد اگر صبر و تحمل کی تعلیم دے تب اس کاعمل طلباء کوچڑچڑے پن اور عدم تحمل کی طرف مائل کرتا ہے۔ایک عظیم استاد اپنی شخصیت کو نہ صرف نکھار تا ہے بلکہ اپنی شخصیت کے ذریعہ معاشرے کوبہتر ین انسان فراہم کرتا ہے۔ایک استاد کوصبر و تحمل ،معاملہ فہمی،قوت فیصلہ،طلبہ سے فکری لگاؤ،خوش کلامی اور موثر اندازبیان جیسی اوصاف سے متصف ہونا چاہیے۔ایک استاد کی شخصیت اور بھی دلکش ہوجاتی ہے جب وہ اخلاص ،لگن ،ہمدردی ،دلسوزی اور اصلاح کے جذبے سے نظم و ضبط قائم کرے (2)علم میں مسلسل اضافے کی جستجو؛ انگریزی کا معروف قول ہے کہ “Teaching is nothing but learning”یہ بالکل حقیقت ہے کہ تدریس کے ذریعہ کئی تعلیمی راز عیا ں ہوتے ہیں اور تدریس ہر پل اساتذہ کے علم میں اضافہ کا باعث ہوتی ہے ۔اس کے باوجود اساتذہ بہتر تدریسی خدمات کی انجام دہی کے لئے جدید معلومات کے حصول کو یقینی بنائیں تاکہ درس و تدریس کے دوران کسی خفت اور تحقیر سے اپنے آپ کو محفوظ رکھ سکیں۔اپنے علم میں اضافے کے ذریعہ اساتذہ نہ صرف اپنی شخصیت کو بہتر بنا سکتے ہیں بلکہ اپنی تدریس کو بھی بااثر بنانے میں کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔عربی کا مقولہ ہے کہ ’’علم حاصل کرو گود سے گور تک ‘‘اساتذہ کو اس قول پر ہمیشہ کار بند رہنا چاہیئے۔استاد میں علمی لیاقت ،تدریسی صلاحیتوں کے ساتھ بچوں کی نفسیات اور طریق تعلیم سے واقفیت بے حد ضروری ہے۔(3) طلباء کی کردار و شخصیت سازی؛تعلیم میں کیرئیر سازی کے رجحان نے طلباء کو علم کے عین مقصد سے دور کردیا ہے۔طلباء کی کردار سازی میں اور شخصیت کے ارتقاء میں معلم کا بہت بڑا دخل ہوتاہے۔ایک اچھا استاد اپنے شاگردوں کی کردار سازی کے لئے ہمہ وقت فکر مند رہتا ہے۔اپنے طلباء کے دلوں سے کدورتوں،آلودگیوں اور تمام آلائشوں کو دور کرتے ہوئے اس کو ایمان ،خوف خدا ،اتباع سنت اور آخرت کی جواب دہی کے احساس سے معمور کرتا ہے۔طلباء کی کرداری سازی کے لئے خود بھی تقوی و پرہیز گاری کو اختیار کرتا ہے اور اپنے شاگردوں کو بھی اس پر عمل پیرا ہونے کی تلقین کرتا ہے۔ایک اچھا معلم اپنے شاگردوں میں مقصد سے لگن و دلچسپی پیدا کرتا ہیطلباء کوبیکار و لایعنی مشاغل سے دور رکھتا ہے۔دنیا سے بے نیازی اور مادہ پرستی سے اجتناب کی تلقین کرتا ہے۔اپنے شاگردوں کو محنت اور جستجو کا عادی بناتا ہے۔کاہلی سستی اور تضیع اوقات سے طلباء کو باز رکھتا ہے۔(4) تعلیم گاہ اور استاد؛آج اسکول ،کالجس ،یونیورسٹیز تعلیم کی اصل غرض و غایت سے انحراف کرتے ہوئے مادہ پرستی کے فروغ میں پیش پیش نظر آرہے ہیں۔یہ ادارے ڈاکٹر ،انجینئر ،سائنسدان ،سیاست دان،پروفیسر،ٹیچرز،اور فلاسفرز بنانے میں تو کامیابی حاصل کر رہے ہیں لیکن ایک آدمی کو انسان بنانے میں (جو کہ تعلیم کا اہم مقصد ہے ) ناکام ہورہے ہیں۔تعلیمی ادارے انسان سازی کے کار حمیدہ سے آج عاری نظر آرہے ہیں اساتذہ کی ان حالات میں ذمہ دار اور بڑھ جاتی ہے کہ وہ طریقہ تعلیم اور نظام تعلیم میں تبدیلی کی سعی و کوشش کریں ۔مادہ پرست نصاب تعلیم و تعلیمی اداراجات میں دانشوری سے تدریس افعال کو انجام دیں تاکہ طلباء میں دہریت اور مادہ پرستی جیسے جذبات سر نہ اٹھا سکیں۔ اپنے عمل و کردار سے تعلیمی اداروں کے انتظامیہ کو مثبت تعلیمی نظام کی طرف راغب کریں۔بنر مندی کے ساتھ دیانت داری اور امانت پسندی کا ایک اعلی نمونہ قائم کریں۔تعلیم ادارہ جات سے دھوکے باز سیاست دانو ں کے بجائے باکردار و امانت دار سیاست دان پیدا کریں۔ایسے انجینئر اور ڈاکٹر تیار کریں جو لوگو ں کے علاج کو نہ صرف اپنا ذریعہ معاش بنائیں بلکہ اس خدمت کو عباد ت کے درجہ تک پہنچادیں۔اساتذہ اپنے شاگردوں کی اس طرح تربیت کر یں کہ وہ اپنے پیشوں میں مہارت پیدا کرنے کے ساتھ انسان بھی باقی رہیں۔اساتذہ تعلیمی ادارجات اور نصاب تعلیم کو بلند مقصد حیات اور فکر سازی کے رجحان سے آراستہ کریں
اساتذہ سے معاشرے کے تقاضے:نوجوان نسل کی کوتاہیاں اپنی جگہ ،والدین کا تغافل نصاب تعلیم اور تعلیمی اداروں کی خامیاں بھی اپنی جگہ مگرکار پیغمبری سے وابستہ ہونے کی وجہ سے اور قوم و ملت کے ایک ذمہ دار منصب پر فائز ہونے کی بناء پر اساتذہ اس بحران کا جائزہ لیں اور خود اپنی کمیوں اور کوتاہیوں کا تعین کریں ۔اگراساتذہ سینکڑوں مسائل اور اسباب و علل کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنی کوتاہیوں کا تھوڑا سابھی ادارک کر لیں تب یقیناًیہ احساس قوم و ملت کی ترقی کی جانب پہلا قدم ہوگا۔